سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:357

كيا انسان كي سعادت اور شقاوت ذاتي ہے؟

قرآن مجيد كے سورہ ہود ميں ارشاد خداوندي ہوتا ہے:
<يَوْمَ يَات لَاتُكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاّٰبِإذْنِہِ فَمِنْھُمْ شَقِيٌّ وَ سَعِيْدٌ>(1)
”اس كے بعد جب وہ دن آجا ئے گا توكو ئي شخص بھي اذن خدا كے بغير كسي سے بات بھي نہ كر سكے گا اس دن كچھ بد بخت ہو ں گے اور كچھ نيك بخت “
يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا يہ آيت انساني سعادت اور شقاوت كے ذاتي ہونے پر دليل نہيں ہے؟
يہاں پر چند نكات پر توجہ كرنا چاہئے:
۱۔ بعض افراد نے مذ كورہ آيت سے انسان كي سعادت و شقاوت كے ذاتي ہونے كو ثابت كرنے كي كوشش كي ہے، حالانكہ مذكورہ آيت نہ صرف اس امر پر دلالت نہيں كرتي بلكہ واضح طور پر ثابت كرتي ہے كہ سعادت و شقاوت اكتسابي ہيں كيونكہ فرماياگيا :”فا ما الذين شقوا“يعني وہ شقي ہوئے اسي طرح فرمايا گيا ہے :”اٴمَّا الذِّيْنَ سَعَدُوا“ يعني وہ لو گ جو سعادت مند ہوئے،اگر شقا وت و سعا د ت ذاتي ہو تيں تو كہنا چا ہئے تھا ”اماالا شقيا ء واما السعد اء“، يا ايسي ہي كوئي اور عبارت ہو تي ۔
اس سے واضح ہو جا تاہے كہ فخر الدين رازي كي يہ بات بالكل بے بنياد ہے جو اس نے ان الفاظ ميں بيان كي ہے:ان آيات ميں خدا ابھي سے يہ حكم لگا رہا ہے كہ قيا مت ميں ايك گروہ سعادت مند ہو گا اورايك شقاوت مند ہو گا اور جنہيں خدا ايسے حكم سے محكو م كرتا ہے اور جانتا ہے كہ آخر كار قيا مت ميں سعيد يا شقي ہوں گے، محال ہے كہ وہ تبديل ہو جا ئيں ورنہ خدا كا جھو ٹي خبر دينا لازم آئے گااور اس كا علم، جہالت ميں تبديل ہو جائے گاجبكہ يہ محال ہے۔
يہ مسئلہ جبر و اختيار ميں”علم خدا“كے حوالے سے مشہور اعتراض ہے كہ جس كا جواب ہميشہ ديا گيا ہے اور وہ يہ كہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افكار كو آيات پر حمل نہ كريں تو ان كے مفا ہيم روشن اور وا ضح ہيں ،يہ آيات كہتي ہيں كہ اس دن ايك گروہ اپنے كردار كے باعث شقي ہوگا اور خدا جانتا ہے كہ كون سے افراد اپنے كردار، خواہش اور اختيار سے سعادت كي راہ اپنائيں گے اور كونسے اپنے ارادہ سے راہ شقاوت پر گامزن ہوں گے، اس بنا پر اگر اس كے كہنے كے برخلاف لوگ يہ راہ منتخب كرنے پر مجبور ہوں تو علم خدا جہل ہوجائے گا كيونكہ سب كے سب اپنے ارادہ و اختيار سے اپني راہ انتخاب كريں گے۔
ہماري گفتگو كي دليل يہ ہے كہ مذكورہ آيات گزشتہ قوموں كے واقعات كے بعدنازل ہوئي ہيں، ان واقعات كے مطابق ان لوگو ں كي بڑي تعداد اپنے ظلم و ستم كي وجہ سے، حق و عدالت كے راستہ سے منحرف ہو نے كے باعث، شديد اخلاقي مفاسد كے سبب اور خدائي رہبروں كے خلاف جنگ كي وجہ سے اس جہان ميںدرد ناك عذابوں ميں مبتلاہوئي، يہ واقعات قرآن نے ہماري تربيت و رہنمائي كے لئے، راہ حق كو باطل سے جدا كركے نماياں كرنے كے لئے اور راہ سعادت كو راہ شقاوت سے جدا كركے دكھانے كے لئے بيان كئے ہيں۔
اصولي طور پر جيسا كہ فخر رازي اور اس كے ہم فكر افراد خيال كرتے ہيں كہ اگر ہم پر ذاتي سعادت و شقاوت كا حكم نافذ ہو اور ہم بغير ارادہ و اختيار كے برائيوں اور نيكيوں كي طرف كھينچے جائيں تو تعليم و تربيت لغو اور بے فائدہ ہو گي،انبيا ء كي بعثت ،كتب آسماني كا نزول، پند و نصيحت، تشويق و توبيخ، سرزنش و ملامت مواخذہ و سوال غرض يہ سزا و جزا سب كچھ بے فائدہ يا ظالمانہ امور شمارہوں گے۔
انسان كو نيك و بد كي انجام دہي ميں مجبور سمجھنے والے ،چاہے اس جبر كو جبر خدائي سمجھيں يا جبر طبيعي، چاہے جبر اقتصادي سمجھيں، يا جبر ماحول، صرف گفتگو اور كتابي دنيا تك اس مسلك كي طرفداري كرتے ہيں ليكن عملي طور پر وہ خود بھي ہرگز يہ عقيدہ نہيں ركھتے، يہي وجہ ہے كہ اگر ان كے حقوق پر تجاوز ہو تو وہ زيادتي كرنے والے كو سرزنش، ملامت اور سزا كا مستحق سمجھتے ہيں اور اس بات كے لئے ہرگز تيار نہيں ہوتے كہ اسے مجبور قرار دے كر اس سے صرف نظر كرليں، يا اس كي سزا كو ظالمانہ خيال كريں يا كہيں كہ وہ يہ كام كرنے پر قدرت نہيں ركھتا تھا چونكہ خدا نے ايسا ہي چاہا تھا يا ماحول اور طبيعت كا جبر تھا، چنانچہ يہ خود اصل اختيار كے فطري ہونے پر ايك دوسري دليل ہے ۔
بہر حال ہميں كوئي جبري مسلك والا ايسا نہيں ملتا جو اپنے روز مرہ كے كاموں ميں اس عقيدہ كا پابند ہو بلكہ وہ تمام افراد سے ان كے آزاد، مسئول، جواب دہ اور مختار ہونے كے لحاظ سے ملتا اور پيش آتا ہے، دنيا كي تمام اقوام نے عدالتيں قائم كر ركھي ہيں، قوانين بنائے ہيں اور ان كي خلاف ورزي كرنے والوں كو سزا دينے كے لئے اقدامات كئے جاتے ہيں، عملي طور پريہ سب چيزيں ثابت كرتي ہيں كہ ارادہ كي آزادي اور انسان كے مختار ہونے كو قبول كيا گيا ہے، دنيا كے تمام تربيتي ادارے ضمني طور پر اس بنيادي نظريہ كو قبول كرتے ہيں كہ انسان اپنے ميل و رغبت اور ارادہ و اختيار سے كام كرتا ہے، اور تعليم و تربيت كے ذريعہ صرف اس كي رہنمائي كي جاسكتي ہے، اور اسے خطاؤں، غلطيوں اور كج فكريوں سے روكا جاسكتا ہے۔
۲۔يہ بات قابل توجہ ہے كہ مذكورہ آيات ميں ”شقوا“ فعل معروف اور ”سعدوا“فعل مجہول كي صورت ميں آيا ہے، ہوسكتا ہے كہ تعبير كا يہ اختلاف شايد اس لطيف نكتہ كي طرف اشارہ ہو كہ انسان راہ شقاوت كو اپنے قدموں سے طے كرتا ہے ليكن راہ سعادت پر چلنے كے لئے جب تك خدائي امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ ميں وہ اس كي نصرت نہ كرے اس وقت تك انسان كامياب نہيں ہوتا، اس ميں شك نہيں ہے كہ يہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں كے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائي قدم اپنے ارادہ و اختيار سے اٹھائے ہوں اور اس طرح ايسي امداد كي اہليت اور صلاحيت پيدا كرلي ہو۔ (غور كيجئے )(2)

(1) سورہٴ ہود ، آيت ۱۰۵
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۲۳۶
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك