سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:298

خلقت انسان كا مقصد كيا ہے؟

يہ سوال اكثر افراد كے ذہن ميں آتا ہے اور بہت سے لوگ يہ سوال كرتے بھي ہيں كہ ہماري خلقت كا مقصد كيا ہے؟ ہم ديكھتے ہيں كہ كچھ لوگ دنيا ميں پيدا ہوتے ہيں اور كچھ لوگ اس دنيا سے چل بستے ہيں اور ہميشہ كے لئے خاموش ہوجاتے ہيں، تو پھر اس آمد و رفت كا مقصد كيا ہے؟۔
اور اگر ہم تمام انسان اس دنيا ميں نہ آتے تو كيا خرابي پيش آتي؟ اور كيا مشكل ہوتي؟ ہميں يہ معلوم ہونا چاہئے كہ ہم اس دنيا ميں كيوں آئے ہيں؟ اور كيوں اس دنيا سے چل بسے ؟ اور اگر ہم اس مقصد كو سمجھنا چاہيں تو كيا ہم ميں سمجھنے كي طاقت ہے؟ اس طرح اس سوال كے بعد انسان كے ذہن ميں بہت سے سوالات پيدا ہوتے ہيں۔
يہ سوال جب ماديوں كي طرف سے كيا جائے تو ظاہراً كوئي جواب نہيں ديا جاسكتا، كيونكہ ”مادہ“ عقل و شعور نہيں ركھتا اسي وجہ سے انھوں نے اپنے كو آسودہ خاطر كرليا ہے اور اس بات كے قائل ہيں كہ ہماري خلقت كا كوئي مقصد نہيں ہے! اور واقعاً كس قدر تعجب كي بات ہے كہ انسان اپني زندگي ميں چھوٹے چھوٹے كاموں كے لئے ہدف او رمقصد معين كرے اور اپني زندگي كے لئے منصوبہ بندي كرے مثال كے طور پر تعليم، كاروبار، ورزش اور علاج وغيرہ كے لئے انسان كا ايك مقصد ہو، ليكن ان تمام كے مجموعہ كو بے ہدف اور بے معني شمار كيا جائے!
لہٰذا جائے تعجب نہيں ہے كہ جب يہ لوگ اپني بے معني اور بے مقصد زندگي كے در پيش مشكلات پر غور كرتے ہيں تو اپني زندگي سے سير ہوجاتے ہيں اورخود كشي كرليتے ہيں۔
ليكن جب ايك خدا پرست انسان يہي سوال خود اپنے سے كرتا ہے تو لاجواب نہيں ہوتا،كيونكہ ايك طرف تو وہ جانتا ہے كہ اس كائنات كا خالق حكيم ہے لہٰذا اس كي خلقت كا كوئي مقصد ضرور ہوگا اگرچہ ہميں معلوم نہيں ہے، اور دوسري طرف جب انسان اپنے اعضا وجوارح كے بارے ميں غور و فكر كرتا ہے تو ان ميں سے ہر ايك كسي نہ كسي مقصد كے لئے خلق ہوا ہے، نہ صرف دل و دماغ اور اعصاب جيسے اعضا با مقصد خلق كئے گئے ہيں بلكہ ناخن، پلكيں اور انگليوں كي لكيريں، ہتھيلي اور پيروں كي گہرائي وغيرہ ان سب كا ايك فلسفہ ہے جن كے بارے ميں آج كل سائنس نے بھي تائيدكي ہے۔
كتنے سادہ فكر لوگ ہيں كہ ان سب چيزوں كے لئے تو ہدف او رمقصد كے قائل ہيں ليكن ان تمام كے مجموعہ كو بے ہدف تصور كرتے ہيں!
واقعاً كس قدر سادہ لوحي ہے كہ ہم ايك شہر كي عمارتوں كے لئے تو منصوبہ بندي اور ہدف كے قائل ہوں ليكن پوري دنيا كوبے مقصد تصور كريں!
كيا يہ ممكن ہے كہ ايك انجينئركسي عمارت كے كمروں، دروازوں، كھڑكيوں ،ہال اور چمن كے لئے حساب و كتاب كے ساتھ اور خاص مقصد كے لئے بنائے، ليكن ان تمام كے مجموعہ كا كوئي ہدف اور مقصد نہ ہو؟!
يہي تمام چيزيں ايك خدا پرست اور مومن انسان كو اطمينان دلاتي ہيں كہ اس كي خلقت كا ايك عظيم مقصد ہے، جس كے سلسلہ ميں كوشش كي جائے اور علم و عقل كے ذريعہ اس مقصد كو حاصل كيا جا ئے۔
عجيب بات تو يہ ہے كہ خلقت كو بے ہدف بتانے والے لوگ سائنس كے سلسلہ ميں مختلف نئي چيزوں كے لئے ايك ہدف ركھتے ہيں اور جب تك اس مقصد تك نہيں پہنچ جاتے سكون سے نہيں بيٹھتے ،يہاں تك كہ بدن كے كسي حصے ميں ايك غدے كو بے كار اور بے مقصد ماننے كے لئے تيار نہيں ہيں، اور اس كے فلسفہ كے لئے برسوں تحقيق اور آزمائش كرتے ہيں، ليكن جس وقت انسان كي خلقت كي بات آتي ہے تو واضح طور پر كہتے ہيں كہ انسان كي خلقت كا كوئي مقصد نہيں ہے!
واقعاً ان باتوں ميں كس قدر تضاد و اختلاف پايا جاتا ہے ؟!
بہر حال،ايك طرف حكمت خدا پر ايمان اور دوسري طرف انسان كے اعضا و جوارح كے فلسفہ پر توجہ، انسان كو يقين كي منزل تك پہنچا ديتي ہيں كہ انسان كي خلقت كا ايك عظيم مقصد ہے۔
اب ہميں اس ہدف كو تلاش كرنا چاہئے اور جہاں تك ممكن ہو اس ہدف كو معين كريں اور اس راستہ ميں قدم بڑھائيں۔
ايك بنيادي نكتہ پر توجہ كرنے سے ہميں راستہ ميں روشني ملتي ہے ۔
ہم ہميشہ اپنے كاموں ميں ايك ہدف اور مقصد ركھتے ہيں،عام طور پر يہ ہدف ہماري كميوں كو ختم اور ضرورتوں كو پورا كرتا ہے، يہاں تك كہ اگر كسي پريشاں حال كي مدد كرتے ہيں يا اس كو مشكلات سے نجات دلاتے ہيں يا اگر كسي كے لئے ايثار و قرباني كرتے ہيں تو يہ بھي ايك طرح سے معنوي خاميوں كو بر طرف كرنے كے لئے ہے،جن سے ہماري روحاني ضرورتيں پوري ہوتي ہيں۔
اور چونكہ خداوندعالم كي صفات اور اس كے افعال كو معمولاًہم اپنے سے مو ازنہ كرتے ہيں ، جس كي وجہ سے يہ تصور ذہن ميں آسكتا ہے كہ خدا كے پاس كيا چيز كم تھي جو انسان كي خلقت سے پوري ہوجاتي؟! اور اگر قرآني آيات ميں پڑھتے ہيں كہ انسان كي خلقت كا ہدف عبادت خداوندي ہے، تو اسے ہماري عبادت كي كيا ضرورت تھي؟
حالانكہ يہ طرز فكر اسي وجہ سے ہے كہ صفاتِ خالق كو صفاتِ مخلوق اور صفات واجب الوجود كا ممكن الوجود سے مو ازنہ كرتے ہيں۔
ہمارا وجود چونكہ محدود ہے تو اپني كمي اور خامي كو دور كرنے كے لئے كوشش كرتے ہيں اور ہمارے اعمال بھي اسي راہ كا ايك قدم ہوتے ہيں، ليكن ايك نا محدود وجود كے لئے يہ معني ممكن نہيں ہے، لہٰذا اس كے افعال كے مقصد كواس كے وجود كے علاوہ تلاش كريں۔
وہ چشمہٴ فياض اور ايسا نعمت آفرين مبدا ہے جس نے تمام موجوادت كو اپنے سايہٴ رحمت ميں جگہ دے ركھي ہے اور ان كي پرورش كرتا ہے، ان كي كمي اور خامي كو دور كرتا ہے اور كمال كي منزل پر پہنچانا چاہتا ہے، اور يہي عبادت اور بندگي كا حقيقي ہدف اور مقصدہے، اور يہي عبادات اور دعا كا فلسفہ ہے جو ہماري تربيت اور تكامل و ترقي كے لئے ايك درس گاہ ہے۔
لہٰذا ہم يہ نتيجہ حاصل كرتے ہيں كہ ہماري خلقت كا مقصد ہماري ترقي اور كمال ہے۔
بنيادي طور پر اصل خلقت ايك عظيم الشان تكاملي و ارتقائي قدم ہے، يعني كسي چيز كو عدم سے وجود كي منزل تك لانا، اور نيستي سے ہستي كے مرحلہ ميں لانا اور صفر سے عدد كے مرحلہ تك پہچانا ہے۔
اور اس عظيم مرحلہ كے بعد كمال و ترقي كے دوسرے مراحل شروع ہوتے ہيں اور تمام ديني احكام و قوانين اسي راستہ ميں قرار پاتے ہيں۔(1)

(1)تفسير نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۳۸۹
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك