سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:365

محارم سے شادي كي حرمت كا فلسفہ كيا ہے؟

جيسا كہ ہم قرآن مجيد ميں پڑھتے ہيں:
<حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اٴُمَّہَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَاٴَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ وَاٴُمَّہَاتُكُمْ اللاَّتِي اٴَرْضَعْنَكُمْ وَاٴَخَوَاتُكُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَاٴُمَّہَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمْ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ اللاَّتِي دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ اٴَبْنَائِكُمْ الَّذِينَ مِنْ اٴَصْلاَبِكُمْ وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْاٴُخْتَيْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا>(1)
”تمہارے اوپر تمہاري مائيں، بيٹياں ،بہنيں، پھوپھياں، خالائيں، بھتيجياں، بھانجياں، وہ مائيں جنھوں نے تمہيں دودھ پلايا ہے تمہاري رضاعي (دودھ شريك) بہنيں، تمہاري بيويوں كي مائيں، تمہاري پروردہ عورتيں جو تمہاري آغوش ميں ہيں اور ان عورتوں كي اولاد جن سے تم نے دخول كيا ہے، ہاں اگر دخول نہيں كيا ہے تو كوئي حرج نہيں ہے، اور تمہارے فرزندوں كي بيوياں جو فرزند تمہارے صلب سے ہيں اور دو بہنوں كا ايك ساتھ جمع كرنا سب حرام كرديا گيا ہے، علاوہ اس كے جو اس سے پہلے ہوچكا ہے كہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے“۔
اس آيہٴ شريفہ ميں يہ بيان ہوا كہ محرم عورتيں كون كون ہے جن سے شادي كرنا حرام ہے، اور اس لحاظ سے تين طريقوں سے محرميت پيدا ہوسكتي ہے:
۱۔ ولادت كے ذريعہ، جس كو ”نسبي رشتہ“ كہا جاتا ہے۔
۲۔ شادي بياہ كے ذريعہ، جس كو ”سببي رشتہ“ كہا جاتا ہے۔
۳۔ دودھ پلانے كے ذريعہ ، جس كو ”رضاعي رشتہ“ كہتے ہيں۔
پہلے نسبي محارم كا ذكر كيا گيا ہے جن كي سات قسميں ہيں، جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے:
<حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اٴُمَّہَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَاٴَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَا تُكُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ>
”تمہارے اوپر تمہاري مائيں، بيٹياں ،بہنيں، پھوپھياں، خالائيں، بھتيجياں، بھانجياں حرام ہيں“۔
يہاں پر يہ توجہ رہے كہ ماں سے مراد صرف وہ ماں نہيں ہے جس سے انسان پيدا ہوتا ہے، بلكہ دادي ، پردادي، ناني اور پر ناني كو بھي شامل ہے، اسي طرح بيٹيوں سے مراد اپني بيٹي مراد نہيں ہے بلكہ ، پوتي اور نواسي اور ان كي بيٹياں بھي شامل ہيں، اسي طرح دوسري پانچ قسموں ميں بھي ہے۔
يہ بات يونہي واضح ہے كہ سبھي اس طرح كي شاديوں سے نفرت كرتے ہيں اسي وجہ سے تمام قوم و ملت (كم لوگوں كے علاوہ) محارم سے شادي كو حرام جانتے ہيں، يہاں تك كہ مجوسي جو اپني كتابوں ميں محارم سے شادي كو جائزما نتے تھے، ليكن آج كل وہ بھي انكار كرتے ہيں۔
اگرچہ بعض لوگوں كي كوشش يہ ہے كہ اس موضوع كو ايك پراني رسم و رواج تصور كريں، ليكن ہم يہ بات جانتے ہيں كہ تمام نوعِ بشر ميں قديم زمانہ سے ايك عام قانون كا پايا جانا اس كے فطري ہونے كي عكاسي كرتا ہے، كيونكہ رسم و رواج ايك عام اور دائمي صورت ميں نہيں ہوسكتا۔
اس كے علاوہ آج يہ حقيقت ثابت ہوچكي ہے كہ ہم خون كے ساتھ شادي كرنے ميں بہت سے نقصانات پائے جاتے ہيں يعني پوشيدہ اور موروثي بيمارياں ظاہر اور شديد ہوجاتي ہيں، (نہ يہ كہ خود ان سے بيماري پيدا ہوتي ہے) يہاں تك كہ بعض محارم كے علاوہ ديگر رشتہ داري ميں شادي كو اچھا نہيں مانتے جيسے دو بھائيوں كي لڑكي لڑكا شادي كريں، دانشوروں كا ماننا ہے كہ اس طرح كي شاديوں ميں ارثي بيماريوں ميں شدت پيدا ہوتي ہے(2)
ليكن يہ مسئلہ دور كي رشتہ داريوں ميں كوئي مشكل پيدا نہيں كرتا (جيسا كہ معمولاً نہيں كرتا) البتہ قريبي رشتہ داري (يعني ايك خون )ميں بہت سي مشكلات پيدا ہوتي ہيں۔
اس كے علاوہ محارم كے درميان معمولاً جنسي جذابيت اور كشش نہيں پائي جاتي كيونكہ غالباً محارم ايك ساتھ بڑے ہوتے ہيں، اور ايك دوسرے كے لئے عام طريقہ سے ہوتے ہيں، مگر بعض نادر اور استثنائي موارد ميں جن كو عام قوانين كا معيار نہيں بنايا جاسكتا، اور يہ بات بھي مسلم ہے كہ جنسي خواہشات شادي بياہ كے برقرار رہنے كے لئے ضروري ہے، لہٰذا اگر محارم كے ساتھ شادي ہو بھي جائے تو ناپائيدار اور غير مستحكم ہوگي۔
اس كے بعد رضاعي محارم كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: < وَاٴُمَّہَاتُكُمْ اللاَّتِي اٴَرْضَعْنَكُمْ وَاٴَخَوَاتُكُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ> ”وہ مائيں جنھوں نے تمہيں دودھ پلايا ہے، اور تمہاري رضاعي (دودھ شريك) بہنيں تم پر حرام ہيں“۔
اگرچہ آيت كے اس حصہ ميں صرف رضاعي ماں اور بہن كي طرف اشارہ ہوا ہے ليكن متعددروايات معتبر كتابوں ميں موجود ہيں جن ميں بيان ہو ا ہے كہ رضاعي محرم صرف انھيں دو ميں منحصرنہيں ہے بلكہ پيغمبر اكرم (ص) كي مشہور و معروف حديث كے پيش نظر دوسرے افراد ميں شامل ہيں، جيسا آنحضرت (ص)نے ارشاد فرمايا: ”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“ (يعني تمام وہ افراد جو نسب كے ذريعہ حرام ہوتے ہيں (رضاعت) دودھ كے ذريعہ بھي حرام ہوجاتے ہيں)
البتہ محرميت ايجاد ہونے كے لئے كتني مقدار ميں دودھ پلايا جائے اس كي كيفيت كيا ہوني چاہئے اس كي تفصيل كے لئے فقہي كتابوں (ياتوضيح المسائل وغيرہ) كا مطالعہ فرمائيں۔
رضاعي محارم كي حرمت كا فلسفہ يہ ہے كہ دودھ كے ذريعہ انسان كے گوشت اور ہڈياں مضبوط ہوتي ہيں لہٰذا اگر كوئي عورت كسي بچہ كو دودھ پلاتي ہے تووہ اس كي اولاد جيسي ہوجاتي ہے، مثال كے طور پر اگر كوئي عورت كسي بچہ كو ايك مخصوص مقدار ميں دودھ پلائے تو اس دودھ سے اس بچہ كے بدن ميں رشد و نمو ہوتا ہے جس سے اس بچہ اور اس عورت كے بچوں ميں شباہت پيدا ہوتي ہے، در اصل دونوں اس عورت كے بدن كا ايك حصہ شمار ہوں گے جس طرح دو نسبي بھائي۔
اس كے بعد قرآن مجيد نے محارم كي تيسري قسم كي طرف اشارہ كيا ہے اور اس كو چند عنوان كے تحت بيان كيا ہے:
۱۔ وَ اٴمِّہَاتُ نِسَائِكُمْ: ”تمہاري بيويوں كي مائيں“ يعني جب انسان كسي عورت سے نكاح كرتا ہے اور صيغہ عقد جاري كرتا ہے تو اس عورت كي ماں اور اس كي ماں كي ماں اس پر ہميشہ كے لئے حرام ہوجاتي ہيں۔
۲۔ <وَرَبَائِبُكُمْ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ اللاَّتِي دَخَلْتُمْ بِہِنَّ>”تمہاري پروردہ لڑكياں جو تمہاري آغوش ميں ہيں يعني تمہاري ان بيويوں كي اولاد جن سے تم نے دخول كيا ہے، وہ تم پر حرام ہيں“ گويا اگركسي عورت سے صرف نكاح كيا ہے اور اس كے ساتھ ہمبستري نہيں كي اور اس عورت كي پہلے شوہر سے كوئي لڑكي ہو تو وہ حرام نہيں ہوگي،مگر اس بيوي سے ہمبستري كي ہو تو اس صورت ميں وہ لڑكي بھي حرام ہوجائے گي، يہاں اس قيد كا ہونا اس بات كي تائيد كرتا ہے كہ ساس (خوش دامن)كے سلسلہ ميں يہ شرط نہيں ہے (كيونكہ خوشدامن اس صورت ميں حرام ہوتي ہے كہ جب بيوي كے ساتھ ہمبستري كي ہو) لہٰذا وہاں حكم مطلق ہے يعني چاہے اپني بيوي سے ہمبستري كي ہو يا نہ كي ہو ہر صورت ميں ساس حرام ہے۔
اگرچہ ”فِي حُجُورِكُمْ“ كي ظاہري قيد (يعني تمہارے گھر ميں ہو) سے يہ سمجھ ميں آتا ہے كہ اگر بيوي كے پہلے شوہر سے لڑكي ہو ، اور وہ تمہارے گھر ميں پرورش نہ پائے تو وہ اس صورت ميں حرام نہيں ہے، ليكن دوسري روايات كے قرينہ اور اس حكم كے قطعي ہونے كي بنا پر يہ ”قيد احترازي“ نہيں ہے ، ( يعني يہ قيد موضوع كو محرز اور معين كرنے كے لئے نہيں ہے) بلكہ اس سے حرمت كي طرف اشارہ ہے كيونكہ اس جيسي لڑكيوں كي عمر كم ہوتي ہے جن كي مائيں دوبارہ شادي كرتي ہيں اور وہ معمولاً سوتيلے باپ كي گھر ميں اس كي لڑكيوں كي طرح پرورش پاتي ہيں، آيہٴ شريفہ كہتي ہے كہ در اصل يہ تمہاري بيٹيوں كي طرح ہيں، كيا كوئي اپني بيٹي سے شادي كرتا ہے؟! چنانچہ اسي وجہ سے انھيں ”ربيبہ“ كہا گيا ہے جس كے معني پرورش پانے والي ہے۔
اس حصہ ميں اس كي مزيد تاكيد ہوتي ہے كہ اگر اس زوجہ سے ہمبستري نہ كي ہو تو ان كي لڑكياں تم پر حرام نہيں ہيں، <فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَيْكُمْ >
۳۔ <وَحَلاَئِلُ (1) اٴَبْنَائِكُمْ الَّذِينَ مِنْ اٴَصْلاَبِكُمْ >”اور تمہارے فرزندوں كي بيوياں جو فرزند تمہارے صلب سے ہيں “
در اصل ”مِنْ اٴَصْلاَبِكُمْ “ (تمہارے صلب سے ہو نے ) كي قيد دور ِجاہليت كي ايك غلط رسم كو ختم كرنے كے لئے ہے كيونكہ اس زمانہ ميں رائج تھا كہ بعض افراد كو اپنا بيٹا بنا ليتے تھے، يعني اگر
(1) ”حلائل “جمع” حليلہ“مادہ ”حل“سے ہے اور اس سے وہ عورت مراد ہے جو انسان پر حلال ہے ،يا مادہ” حلول “ سے ہے جس سے مراد وہ عورت ہے جو ايك انسان كے پاس ايك ساتھ زندگي گزارتي ہو اور اس سے جنسي تعلقات ركھتي ہو
كوئي كسي دوسرے كے بيٹے كو اپنا بيٹا بنالے تو اس پر حقيقي بيٹے كے تمام احكام نافذ كيا كرتے تھے، اسي وجہ سے منھ بولے بيٹے كي بيوي سے نكاح نہيں كرتے تھے، ليكن اسلام نے منھ بولے بيٹے كو بيٹا قرار نہيں ديا اور اس غلط رسم و رواج كو بے بنياد قرار ديديا۔
۴۔ <وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْاٴُخْتَيْنِ > ”اور تمہارے لئے دو بہنوں كا ايك ساتھ جمع كرنا حرام كرديا گيا ہے“، يعني ايك وقت ميں دو بہنوں كا ركھنا جائز نہيں ہے، ليكن اگر دو بہنوں سے مختلف زمانہ ميں اور پہلي بہن كي جدائي كے بعد نكاح كيا جائے تو كوئي حرج نہيں ہے۔
كيونكہ دور جاہليت ميں دو بہنوں كو ايك ساتھ ركھنے كا رواج تھا اور چونكہ بعض لوگ ايسا كئے ہوئے تھے لہٰذا قرآن مجيد ميں اضافہ كيا گيا: <إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ>”علاوہ اس كے جو اس سے پہلے ہوچكا ہے “ ، يعني يہ حكم (دوسرے احكام كي طرح) گزشتہ پر عطف نہيں كيا جائے گا اور جن لوگوں نے اس حكم كے نازل ہونے سے پہلے ايسا كيا ہے ان كو كوئي سزا نہيں دي جائے گي اگرچہ اب ان دونوں ميں سے ايك بيوي كا انتخاب كرے اور دوسري كو آزاد كردے۔
اور شايد اس طرح كي شادي سے روكنے كا راز يہ ہو كہ دو بہنيں نسبي لحاظ سے ايك دوسرے سے بہت زيادہ محبت اور تعلق ركھتي ہيں، ليكن جس وقت ايك دوسرے كي رقيب ہوجائيں تو پھر اس گزشتہ رابطہ كو محفوظ نہيں ركھ سكتيں، اس طرح ان كي ”محبت ميں تضاد“ پيدا ہوجائے گا جو ان كي زندگي كے لئے نقصان دہ ہے، كيونكہ ”محبت“ اور ”رقابت“ ميں ہميشہ كشمكش اور مقابلہ پايا جاتا ہے۔(3)

(1)سورہٴ نساء آيت۲۳
(2)البتہ اسلام نے چچا زاد بھائي بہن ميں شادي كو حرام قرار نہيں ديا ہے، كيونكہ ان كي شادي محارم سے شادي كي طرح نہيں ہے، اور اس طرح كي شاديوں ميں خطرہ كم پايا جاتا ہے، اور ہم نے اس طرح كي بہت سي شادي ديكھي ہيں جن كے بچے صحيح و سالم ہيں اور استعداد و صلاحيت كے لحاظ سے بھي كوئي مشكل نہيں ہے
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۲۶
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك