سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:644

شراب كي حرمت كا فلسفہ كيا ہے؟

انسان كي عمر پرشراب كا اثر
ايك مغربي دانشور كا كہنا ہے كہ ۲۱/ سے ۲۳/ سالہ جوانوں ميں ۵۱/ في صد شراب كے عادي مرجاتے ہيں جبكہ شراب نہ پينے والوں ميں سے ۱۰ /افراد بھي نہيں مرتے۔
ايك دوسرے مشہور دانشور نے كہا: بيس سالہ جوان جن كے بارے ميں ۵۰/ سال تك زندہ رہنے كي توقع كي جاتي ہے وہ شراب كي وجہ سے ۳۵/ سال سے زيادہ زندہ نہيں رہ سكتے۔
بيمہ كمپنيوں كے تجربات سے ثابت ہوچكا ہے كہ شرابيوں كي عمر دوسروں كي نسبت ۲۵/ سے ۳۰/فيصد كم ہوتي ہے۔ ايك دوسرے اعداد و شمار سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ شرابيوں كي اوسط عمر ۳۵/ سے ۵۰/ سال ہے، جبكہ اصول صحت كا يہ اوسط ۶۰/ سال سے زيادہ ہے۔
انساني نسل ميں شراب كي تاثير
انعقاد نطفہ كے وقت اگر مرد نشہ ميں تو ”الكلسيم حاد “ (Alcoalism) كي ۳۵/ فيصد بيمارياں بچہ ميں منتقل ہوتي ہيں اور اگر مرد اور عورت دونوں نشہ ميں ہوں تو ”الكلسيم حاد “ (Alcoalism)كي سو فيصد بيمارياں بچہ ميں ظاہر ہوتي ہيں، اس بنا پر اولاد كے بارے ميں شراب كي تاثير پر زيادہ توجہ دينا ضروري ہے، ہم يہاں كچھ مزيد اعداد و شمار پيش كرتے ہيں:
طبيعي وقت سے پہلے پيدا ہونے والے بچوں ميں ۴۵/ فيصد ماں باپ دونوں كي شراب نوشي كي وجہ سے پيدا ہوتے ہيں، ۳۱/ فيصد ماں كي شراب نوشي كے باعث ہوتے ہيں اور ۱۷/ فيصد باپ كے شرابي ہونے كي وجہ سے، پيدائش كے وقت زندگي كي توانائي سے عاري سو بچوں ميں ۶ شرابي باپ كي وجہ سے اور ۴۵/ فيصد شرابي ماں كي وجہ سے ايسے ہوتے ہيں، شرابي ماں كي وجہ سے ۷۵ فيصد اور شرابي باپ كي وجہ سے ۴۵ فيصد بچے پست قد پيدا ہوتے ہيں شرابي ماؤں كي وجہ سے ۷۵ فيصد اور شرابي باپ كي وجہ سے بھي ۷۵ فيصد بچے كافي عقلي اور روحاني طاقت سے محروم ہوتے ہيں۔
اخلاق پر شراب كا اثر شرابي شخص گھروالوں سے ہمدردي اور اہل و عيال سے كم محبت كرتا ہے بارہا ديكھا گيا ہے كہ شرابي باپ نے اپني اولاد كو قتل كرديا ۔
شراب كے اجتماعي نقصانات
ايك انسٹيٹيوٹ كے ڈاكٹر كے مہيا كردہ اعداد و شمار كے مطابق ۱۹۶۱ءء ميں ”نيون“ شہر كے شرابيوں كے اجتماعي جرائم كچھ اس طرح ہيں:
عام قتل : ۵۰ في صد مار پيٹ اور زخم وارد كرنے كے جرائم ۸/۷۷ فيصد
جنسي جرائم ۸/۸۸ فيصد۔
ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے كہ بڑے بڑے جرائم زيادہ ترنشہ كي حالت ميں انجام پاتے ہيں۔
شراب كے اقتصادي نقصانات
نفسياتي امراض كے ايك ڈاكٹر كا كہنا ہے: ” افسوس كے ساتھ يہ كہنا پڑ رہا ہے كہ حكومتيں شراب كے ٹيكس اور منافع كا حساب تو كرتي ہيں ليكن ان اخراجات كو نظر ميں نہيں ركھتي جو شراب كے بُرے اثرات كي روك تھام پر ہوتے ہيں، نفسياتي بيماريوں كي زيادتي، ايسے بُرے معاشرہ كے نقصانات، قيمتي اوقات كي بربادي، حالت نشہ ميں ڈرائيورنگ حادثات، پاك نسلوں كي تباہي، سستي، بے راہ روي، ثقافت و تمدن كي پسماندگي، پوليس كي زحمتيں اور گرفتاري، شرابيوں كي اولاد كے لئے پرورش گاہيں اور ہسپتال، شراب سے متعلقہ جرائم كے لئے عدالتوں كي مصروفيات، شرابيوں كے لئے قيد خانے مختصر يہ كہ اگر شراب نوشي سے ہونے والے ديگر نقصانات كو جمع كيا جائے تو حكومتوں كو معلوم ہوگا كہ وہ آمدني جو شراب سے ہوتي ہے وہ مذكورہ نقصانات كے مقابلہ ميں كچھ بھي نہيں ہے۔
ان كے علاوہ شراب نوشي كے افسوسناك نتائج كا موازنہ نہ صرف ڈالروں سے نہيں كيا جاسكتا بلكہ احساسات كي موت، گھروں كي تباہي، آرزوؤں كي بربادي اور صاحبان فكر افراد كي دماغي صلاحيتوں كا نقصان، يہ سب كچھ پيسے كے مقابل نہيں لائے جاسكتے۔
خلاصہ يہ كہ شراب كے نقصانات اتنے زيادہ ہيں كہ ايك دانشور كے بقول اگر حكومتيں يہ ضمانت ديں كہ وہ شراب خانوں كا آدھا دروازہ بند كرديں تو يہ ضمانت دي جاسكتي ہے كہ ہم آدھے ہسپتالوں اور آدھے پاگل خانوں سے بے نياز ہوجائيں گے۔
اگر شراب كي تجارت ميں نوعِ بشر كے لئے كوئي فائدہ ہو يا فرض كريں كہ چند لمحوں كے لئے انسان اس كي وجہ سے اپنے غموں سے بے خبر ہوجاتا ہے تب بھي اس كا نقصان كہيں زيادہ، بہت وسيع ہے كہ اس كے فوائد اور نقصانات كا آپس ميں موازنہ نہيں كيا جاسكتا۔(1)
ہم يہاں پر ايك اور نكتہ كا ذكر كرنا مناسب سمجھتے ہيں، يہ نكتہ مختلف اعداد و شمار كا ايك مجموعہ ہے جن ميں سے ہر ايك تفصيلي بحث كا محتاج كرتا ہے جس سے شراب كے نقصانات كا اندازہ ہوتا ہے۔
۱۔ برطانيہ ميں شرابيوں كے ديوانہ پن كے سلسلہ ميں ايك اعداد و شمار كے مطابق اس جنون كا دوسرے جنونوں سے مو ازنہ كيا گيا تو اس كا نتيجہ يہ نكلا كہ۲۲۴۹/ ديوانوں ميں سے صرف ۵۳ ديوانے دوسري وجوہات كي بنا پر ديوانگي كا شكار ہوئے ہيں، اور باقي سب شراب كي وجہ سے ديوانہ ہوئے ہيں۔(2)
۲۔ امريكہ كے ہسپتالوں كے ايك اعداد و شمار كے مطابق نفسياتي بيماروں ميں ۸۵ في صد صرف شرابي تھے۔(3)
۳۔ برطانوي دانشور ”بنٹم“ لكھتا ہے: شراب ؛ انسان كے اندر شمالي ممالك ميں كم عقلي اور بے وقوفي اور جنوبي ممالك ميں اس كے اندر ديوانہ پن پيدا كرتي ہے، اس كے بعد كہتا ہے كہ اسلامي قوانين نے ہر طرح كي شراب كو حرام قرار ديا ہے اور يہ اسلام كا ايك امتياز ہے۔(4)
۴۔ اگر ان لوگوں كے اعداد و شمار كو جمع كيا جائے جنھوں نے نشہ كي حالت ميں خود كشي، ظلم و جنايت،گھروں كي بربادي اور عورتوں كي عصمت دري كي ہے تو واقعاً انسان كے ہوش اڑ جائيں گے۔(5)
۵۔ فرانس ميں ہر روز ۴۴۰/ لوگ شراب پر اپني جان قربان كرتے ہيں
۶۔ امريكہ كے ہسپتالوں ميں نفسياتي بيماريوں كي وجہ سے ايك سال ميں مرنے والوں كي تعداد”دوسري عالمي جنگ“ كے دو برابر ہے، امريكہ ميں ڈاكٹروں كے كہنے كے مطابق نفسياتي بيماريوں ميں ”شراب“ اور ”سگريٹ“ بنيادي وجہ ہے۔(۶)
۷۔ ”ماہنامہ علوم ابزار“ كي بيسوي سالگرہ كي مناسبت سے”ہوگر“ نامي دانشور كے اعداد و
شمار كے مطابق : ۶۰/ في صد عمدي قتل، ۷۵/ في صد مار پيٹ اور زخمي كرنا، ۳۰/ فيصد اخلاقي جرائم (منجملہ ماں بہن كے ساتھ زنا!) ۲۰/ في صد چوري شرابي پينے والوں سے متعلق ہيں، اور اسي دانشور كي تحقيق كے مطابق ۴۰/ فيصد مجرم بچوں ميں شراب كا سابقہ پايا جاتا ہے۔(7)
۸۔اقتصادي لحاظ سے صرف برطانيہ ميں شراب پينے والے ملازمين كي غير حاضري كي وجہ سے ۵۰ ملين ڈالر (225.000.000روپيہ) كا نقصان ہوا ہے، جس رقم سے بچوں كے لئے ہزاروں اسكول اور كالج بنائے جا سكتے ہيں۔(8)
۹۔ فرانس ميں ايك اعداد و شمار كے مطابق شراب كي وجہ سے ہونے والے نقصانات كي شرح اس طرح ہے: شراب كي وجہ سے ۱۳۷ / ارب فرانك فرانس كے بجٹ ميں اضافہ كرنا پڑا:۶۰/ ارب فرانك ، كورٹ اور قيد خانوں كا خرچ۔
۴۰/ ارب فرانك ، عمومي فا ئد ہ مند اموركے لئے تعاون۔
۱۰/ ارب فرانك ، شرابيوں كے ہسپتالوں كا خرچ۔
۷۰/ ارب فرانك ، اجتماعي امنيت كے لئے خرچ۔
اس لحاظ سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ رو حا ني بيماروں ، ہسپتالوں، قتل و غارت، لڑائي جھگڑوں، چوري اور ايكسيڈنٹ وغيرہ كي تعداد براہ راست شراب خانوں كي تعداد سے متعلق ہے۔(9)(10)
 

(1) كتاب سمپوزيوم الكل ، صفحہ ۶۵
(۲) كتاب سمپوزيوم الكل، صفحہ ۶۵
(۳) تفسير طنطاوي ، جلد اول، صفحہ ۱۶۵
(4) دائرة المعارف ،فريد وجدي ، جلد ۳، صفحہ (5) مجمو عہ انتشارات جوان
(6) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۷۴ 
(7) كتاب سمپوزيوم الكل، صفحہ ۶۶
(8) مجموعہ انتشارات نسل جوان ، سال دوم صفحہ ۳۳۰
(9) نشريہ مر كز مطالعہ پيشرفتہاي ايران (دربارہ الكل و قمار)
(10) تفسير نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۷۴
دن كي تصوير
گنبد حرم كاظمين عليهما السلام   
ويڈيو بينك