سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:256

ہم جنس بازي كي حرمت كا فلسفہ كيا ہے؟

اگرچہ مغربي دنيا ميں جہاں جنسي بے راہ روي بہت زيادہ رائج ہے ايسي برائيوں سے نفرت نہيں كي جاتي ، يہاں تك كہ سننے ميں آيا ہے كہ بعض ممالك مثلاً برطانيہ ميں پارليمنٹ نے اس كام كو انتہائي بے شرمي سے قانوني جواز دے ديا ہے، ليكن ان برائيوں كے عام ہونے سے ان كي برائي اور قباحت ميں ہرگز كوئي كمي نہيں آتي، اور اس كے اخلاقي، نفسياتي اور اجتماعي مفاسد اپني جگہ پر ثابت ہيں۔
بعض اوقات مادي مكتب كے بعض پيرو جو اس قسم كي آلودگيوں ميں مبتلا ہيں اپنے عمل كي توجيہ كرنے كے لئے كہتے ہيں كہ اس ميں طبي نكتہ نظر سے كوئي خرابي نہيں ہے ليكن وہ يہ بات بھول چكے ہيں كہ اصولي طور پر ہر قسم كا جنسي انحراف انساني وجود كے تمام ڈھانچے پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس كا اعتدال درہم و برہم كرديتا ہے۔
اس كي وضاحت يہ ہے كہ انسان فطري اور طبيعي طور پر صنف مخالف كي طرف زيادہ ميلان ركھتا ہے اور يہ ميلان انساني فطرت ميں بہت مضبوط جڑيں ركھتا ہے اور انساني نسل كي بقا كا ضامن ہے، ہر وہ كام جو طبيعي ميلان سے ہٹ كر انجام پذير ہوتا ہے وہ انسان ميں ايك قسم كي بيماري اور نفسياتي انحراف پيدا كرتا ہے۔
وہ مرد جو جنسِ موافق كي طرف ميلان ركھتا ہے اور وہ مرد جو اپنے كو اس كام كے لئے پيش كرتا ہے ہرگز كامل مرد نہيں ہے، جنسي امور كي كتاب ميں ہم جنس بازي كو ايك اہم ترين انحراف قرار ديا گيا ہے۔
اگر يہ سلسلہ جاري رہے تو انسان ميں جنس مخالف كا ميلان آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور اس كام كے مفعول ميں آہستہ آہستہ زنانے احساسات پيدا ہونے لگتے ہيں اور دونوں ميں بہت زيادہ جنسي ضعف پيدا ہوتا ہے جسے اصطلاح كے مطابق ”سرد مزاجي“ كہا جاتا ہے، اس طرح سے كہ ايك مدت كے بعدوہ (جنس مخالف سے) طبيعي اور فطري ملاپ كرنے پر قادر نہيں رہتے۔
اس چيز كے پيش نظر كہ مرد اور عورت كے جنسي احساسات جہاں ان كے بدن كے ارگانيزم (Organism)ميں موثر ہيں وہاں ان كے روحاني اور مخصوص اخلاقي پہلوؤں پر بھي اثر انداز ہوتے ہيں، يہ بات واضح ہے كہ طبيعي اور فطري احساسات سے محروم ہوكر انسان كے جسم اور روح پر كس قدر ضرب پڑتي ہے، يہاں تك كہ ممكن ہے كہ اس طرح كے انحراف ميں مبتلا افراد اس قدر سرد مزاجي كا شكار ہوجائيں كہ پھر اولاد پيدا كرنے كي طاقت سے بھي محروم ہوجائيں۔
اس قسم كے افراد عموماً نفسياتي طور پر صحيح و سالم نہيں ہوتے اور اپني ذات ميں اپنے آپ سے ايك طرح كي بيگانگي محسوس كرتے ہيں اور جس معاشرہ ميں رہتے ہيں اس سے خود كو لاتعلق سا محسوس كرنے لگتے ہيں، ايسے افراد قوت ارادي جو ہر قسم كي كاميابي كي شرط ہے آہستہ آہستہ كھو بيٹھتے ہيں اور ان كي روح ميں حيراني و سرگرداني آشيانہ بناليتي ہے۔
ايسے فراد اگر جلد اپني اصلاح كا ارادہ نہ كريں بلكہ لازمي طور پر جسماني اور روحاني طبيب سے مدد نہ ليں اور يہ عمل ان كي عادت ميں شامل ہوجائے تو اس بُري عادت كا ترك كرنا مشكل ہوجائے گا، بہر حال اگر مصمم ارادہ كرليا جائے تو كسي بھي حالت ميں اس عادت كو ترك كرنے ميں دير نہيں لگتي، بہر صورت مستحكم ارادہ ہونا ضروري ہے۔
بہر حال نفسياتي سرگرداني انھيں آہستہ آہستہ منشيات اور شراب كي طرف لے جاتي ہے اور ايسے لو گ مزيد اخلاقي انحراف كا شكار ہوجاتے ہيں، يہ ايك اور بڑي بد بختي ہے۔
يہ بات جاذبِ نظر ہے كہ اسلامي روايات ميں مختصر اور پُر معني عبارات كے ذريعہ ان مفاسد كي طرف اشارہ كيا گيا ہے ان ميں ايك روايت حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے، كسي نے امام عليہ السلام سے سوال كيا: خدا نے لواط كو كيوں حرام كيا ہے؟ تو آپ نے فرمايا: ”اگر لڑكوں سے ملاپ حلال ہوتا تو مرد عورتوں سے بے نياز ہوجاتے (اور ان كي طرف مائل نہ ہوتے) اور يہ چيز نسلِ انساني كے منقطع ہونے كا باعث بنتي، اور جنس مخالف سے فطري ملاپ كے ختم ہونے كا باعث بنتي، اور يہ كام بہت سي اخلاقي اور اجتماعي خرابيوں كا سبب بنتا۔(1)
يہ نكتہ بھي قابل ذكر ہے كہ اسلام ايسے افراد كے لئے جن سزاؤں كا قائل ہے ان ميں سے ايك يہ ہے كہ فاعل پر مفعول كي بہن، ماں اور بيٹي سے نكاح حرام ہے يعني اگر يہ كام نكاح سے پہلے ہوا ہو تو يہ عورتيں اس كے لئے ہميشہ كے لئے حرام ہوجاتي ہيں۔(2)

(1) وسائل الشيعہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۲۵۲
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۱۹۴
دن كي تصوير
ويڈيو بينك