سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:391

زنا كي حرمت كا فلسفہ كيا ہے؟

۱۔ زنا كے ذريعہ خانداني نظام درہم و برہم ہوجاتاہے، ماں باپ اوراولادكے درمےان رابطہ ختم ہوجاتاہے جبكہ يہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے كي شناخت كا سبب ہے بلكہ خود اولاد كي نشو ونما كا موجب بھي ہے، يہي رابطہ ساري عمر محبت كے ستونوں كو قائم ركھتا ہے اور انہيں دوام بخشتاہے۔
المختصر : جس معاشرے ميںغير شرعي اور بے باپ كي او لاد زيادہ ہواس كے اجتماعي روابط سخت متزلزل ہوجاتے ہيں كيونكہ ان روابط كي بنياد خانداني روابط ہي ہوتے ہيں۔
اس مسئلہ كي اہميت سمجھنے كے لئے ايك لمحہ اس بات پر غور كرنا كافي ہے كہ اگر سارے انساني معاشرے ميں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادي بياہ كا قانون ختم كرديا جائے تو ان حالات ميں غير معين اور بے ٹھكانہ اولاد پيدا ہوگي، اس اولاد كو كسي كي مدد اور سر پرستي حاصل نہ ہوگي، اسے نہ پيدائش كے وقت كوئي پوچھے گا اور نہ بڑا ہونے كے بعد۔
اس سے قطع نظر برائيوں، سختيوں اور مشكلات ميں محبت كي تاثير تسليم شدہ ہے جبكہ ايسي اولاد اس محبت سے بالكل محروم ہوجائے گي، اور انساني معاشرہ پوري طرح تمام پہلوؤں سے حيواني زندگي كي شكل اختيار كرلے گا۔
۲۔ يہ شرمناك اور قبيح عمل ہوس باز لوگوں كے درميان طرح طرح كے جھگڑوں اور كشمكش كا باعث ہوگا، وہ واقعات جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراكز كي داخلي كيفيت كے بارے ميں لكھے ہيں ان سے يہ حقيقت بالكل واضح ہوجاتي ہے كہ جنسي بے راہ روي بدترين جرائم كو جنم ديتي ہے۔
۳۔ يہ بات علم اور تجربہ نے ثابت كردي ہے كہ زنا طرح طرح كي بيمارياں پھيلانے كا سبب بنتا ہے، چنانچہ اسي بنا پر اس كے بُرے نتائج كي روك تھا م كے لئے آج كے دور ميں بہت سے اداروں كي بنا ركھي گئي ہے اور بہت سے اقدامات كئے گئے ہيں، مگر اس كے باوجود اعداد وشمار نشاندہي كرتے ہيں بہت سے افراد اس راستہ ميں اپني صحت و سلامتي كھو بيٹھے ہيں۔
۴۔ اكثر اوقات يہ عمل اسقاط حمل، قتل ِ اولاد اور نسل كے قطع ہونے كا سبب بنتا ہے كيونكہ ايسي عورتيں ايسي اولاد كي نگراني كے لئے ہرگز تيار نہيں ہوتيں، اصولاً اولاد ان كے لئے ايسا منحوس عمل جاري ركھنے ميں بہت بڑي ركاوٹ ہوتي ہے، لہٰذا وہ ہميشہ اسے پہلے سے ختم كردينے كي كوشش كرتي ہيں۔
يہ فرضيہ بالكل خيال خام ہے كہ ايسي اولاد حكومت كے زير اہتمام چلنے والے اداروں ميں ركھي جاسكتي ہے كيو نكہ اس فرض كي ناكامي عملي طور پر واضح ہوچكي ہے اور ثابت ہوچكا ہے كہ اس صورت ميں بن باپ كي اولاد كي پرورش كس قدر مشكلات كا باعث ہے، اور نتيجتاً بہت ہي نامطلوب اور غير پسنديدہ ہے، ايسي اولاد سنگدل، مجرم، بے حيثيت اور ہر چيز سے عاري ہوتي ہے۔
۵۔ اس بات كو ياد ركھنا چاہئے كہ شادي بياہ كا مقصد صرف جنسي تقاضے پورے كرنا نہيں ہے بلكہ ايك مشتركہ زندگي كي تشكيل ، روحاني محبت، فكري سكون، اولاد كي تربيت اور زندگي كے ہر موڑ پر ايك دوسرے كي ہر ممكن مدد كرنا شادي كے نتائج ميں سے ہيں، اور ايسا بغير اس كے نہيں ہوسكتا كہ عورت اور مرد ايك دوسرے سے مخصوص ہوں اور عورتيں دوسروں پر حرام ہوں۔
حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام ايك حديث ميں فرماتے ہيں: ”ميں نے پيغمبر اكرم سے سنا كہ آپ نے فرمايا: زنا كے چھ بُرے اثرات ہيں، ان ميں سے تين دنيا سے متعلق ہيں اور تين آخرت سے:
دنياوي برے اثراث يہ ہيں كہ يہ عمل ،انسان كي نورانيت كو چھين ليتا ہے، روزي منقطع كرديتا ہے اور موت كو نزديك كر ديتا ہے۔
اور اُخروي آثار يہ ہيں كہ يہ عمل پروردگار كے غضب ، حساب و كتاب ميں سختي اور آتش جہنم ميں داخل ہونے (يا اس ميں دوام) كا سبب بنتا ہے۔(1)(2)

(1)مجمع البيان ، جلد ۶، صفحہ ۴۱۴
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۰۳
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك