سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:506

غنا؛ كيا ہے اور اس كي حرمت كا فلسفہ كيا ہے؟

غنا (گانا) كي حرمت ميں كوئي خاص مشكل نہيں ہے ، صرف موضوعِ غنا كو معين كرنا مشكل ہے۔
آيا ہر خوش آواز اور مترنم لہجہ غنا ہے؟
مسلّم طور پر ايسا نہيں ہے، كيونكہ اسلامي روايات ميں بيان ہوا ہے اور مسلمين كي سيرت اس بات كي حكايت كرتي ہے كہ قرآن اور اذان وغيرہ كو بہترين آواز اور خوش لہجہ ميں پڑھا جائے۔
كيا ہر وہ آواز جس ميں ”ترجيع“ (گٹگري) يعني آواز كا اتار چڑھاؤ پايا جاتا ہو، وہ غنا ہے؟ يہ بھي ثابت نہيں ہے۔
اس سلسلہ ميں شيعہ اور اہل سنت كے فقہا كے بيان سے جو نتيجہ نكلتا ہے وہ يہ ہے كہ غنا، طرب انگيز آواز اور لہو باطل ہے۔
واضح الفاظ ميں يوں كہا جائے: غنا اس آہنگ اور طرز كو كہا جاتا ہے جو فسق و فجور اور گناہگاروں، عياشوں اور بدكاروں كي محفلوں سے مطابقت ركھتا ہو۔
يا اس كے لئے يوں بھي كہا جاسكتا ہے كہ غنا اس آواز اور طرز كو كہا جاتا ہے جس سے انسان كي شہواني طاقت ہيجان ميں آجائے، اور انسان اس حال ميں احساس كرے كہ اگر اس طرز اور آواز كے ساتھ شراب اور جنسي لذت بھي ہوتي تو كتنا اچھا ہوتا!۔
يہ نكتہ بھي قابل توجہ ہے كہ كبھي ايك ”آہنگ“ اور ”طرز“ خود بھي غنا اور لہو و باطل ہوتا ہے اور اس كے الفاظ اور مفہوم بھي، اس لحاظ سے عاشقانہ فتنہ انگيز اشعار كو مطرب طرز ميں پڑھا جاتا ہے، ليكن كبھي صرف آہنگ اور طرز غنا ہوتا ہے ليكن اشعار يا قرآني آيات يا دعا اور مناجات كو ايسي طرز سے پڑھيں جو عياشوں اور بدكاروں كي محفلوں سے مناسب ہے، لہٰذا يہ دونوں صورتيں حرام ہيں۔ (غور كيجئے )
اس نكتہ كا ذكر كرنا ضروري ہے كہ غنا كے سلسلہ ميں دو معني بيان كئے گئے ہيں: ”عام معني“ ، ”خاص معني“ ، معني خاص وہي ہيں جو ہم نے اوپر بيان كئے ہيں يعني شہواني طاقت كو ہيجان ميں لانے والي اور فسق و فجور كي محافل كے موافق طرز اور آواز ۔
ليكن عام معني : ہر بہترين آواز كو غنا كہتے ہيں، لہٰذا جن حضرات نے غنا كے عام معني كئے ہيں انھوں نے غنا كي دو قسميں كي ہيں، ”حلال غنا “، ”حرام غنا “۔
حرام غنا سے مراد وہي ہے جو ہم نے بيان كيا ہے اور حلال غنا سے ہر وہ دلكش اور بہترين آواز ہے جو مفسدہ انگيز نہ ہو اور محافل فسق و فجور سے مناسبت نہ ركھتي ہو۔
اس بنا پر غنا كي حرمت تقريباً اختلافي نہيں ہے، بلكہ اس كے معني ميں اختلاف ہے۔
اگرچہ ”غنا“ كے كچھ مشكوك موارد بھي ہيں (دوسرے تمام مفاہيم كي طرح) جس ميں انسان كو معلوم نہيں ہوتا كہ فلاں طرز يا فلاں آواز فسق و فجور كي محفلوں سے مناسبت ركھتي ہے يا نہيں؟ اس صورت ميں يہ آواز ”اصل برائتكے تحت  جواز كا حكم ركھتي ہے (البتہ غنا كي مذكورہ تعريف كے پيش نظر اس كے مفہوم سے كافي معلومات كے بعد)
يہيں سے يہ بات بھي روشن ہوجاتي ہے كہ وہ رزميہ ترانہ جو ميدان جنگ اور ورزش كے وقت مخصوص آہنگ و آواز كے ساتھ پڑھا جاتا ہے اس كے حرام ہونے پر كوئي دليل نہيں ہے۔
البتہ غنا كے سلسلہ ميں دوسري بحثيں بھي پائي جاتي ہيں جيسے غنا سے كيا كيا مستثنيٰ ہيں؟ اس سلسلہ ميں كہ كس نے كس كو قبول كيا ہے اور كس نے كس كا انكار كيا ہے، فقہي كتابوں كي طرف رجوع كيا جائے۔
يہاں پر جس آخري بات كا ذكر ضروري ہے وہ يہ ہے كہ ہم نے جو كچھ اوپر بيان كيا ہے وہ پڑھنے سے متعلق ہے، ليكن موسيقي كے آلات اور ساز و سامان كي حرمت كے بارے ميں دوسري بحث ہے جس كا ہماري بحث سے تعلق نہيں ہے۔
حرمت غنا كا فلسفہ
مذكورہ شرائط كے ساتھ ”غنا“ كے معني اور مفہوم ميں غور و فكر كرنے سے غنا كي حرمت كا فلسفہ بخوبي واضح ہوجاتا ہے۔
ہم يہاں پر ايك مختصر تحقيق كي بنا پر اس كے مفاسد اور نقصانات كو بيان كرتے ہيں:
الف: برائيوں كي طرف رغبت تجربات اس بات كي نشاندہي كرتے ہيں (اور تجربات بہترين شاہد اور گواہ ہوتے ہيں) كہ غنا (يعني ناچ گانے) سے متاثر ہونے والے افراد تقويٰ اور پرہيزگاري كي راہ كو ترك كركے جنسي بے راہ روي كے اسير ہوگئے ہيں۔
غنا كي محفليں عام طور پر فساد كے مركز ہوتي ہيں، يعني اكثر گناہوں اور بدكاريوں كي جڑ يہي غنا اور ناچ گانا ہوتا ہے۔
بيروني جرائد كي بعض رپورٹوں ميں ہم پڑھتے ہيں كہ ايك پروگرام ميں لڑكے اور لڑكياں شريك تھيں وہاں ناچ گانے كا ايك مخصوص ”شو“ ہوا جس كي بنا پر لڑكوں اور لڑكيوں ميں اس قدر ہيجان پيدا ہوا كہ ايك دوسرے پر حملہ آور ہوگئے اور ايسے واقعات پيش آئے جن كے ذكر كرنے سے قلم كو شرم آتي ہے۔
تفسير ”روح المعاني“ ميں ”بني اميہ“ كے ايك عہدہ دار كے حوالہ سے نقل ہوا ہے جو كہتا تھا: غنا اور ناچ گانے سے پرہيز كرو، كيونكہ اس سے حيا كم ہوتي ہے، شہوت ميں اضافہ ہوتا ہے، انسان كي شخصيت پامال ہوتي ہے، اور (يہ ناچ گانا) شراب كا جانشين ہوتا ہے، كيونكہ ايسا شخص وہ سب كام كرتا ہے جو ايك مست انسان (شراب كے نشہ ميں) انجام ديتا ہے۔(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ لوگ بھي ناچ گانے كے فسادات اور نقصانات سے واقف تھے۔اور اگر ہم ديكھتے ہيں كہ اسلامي روايات ميں بارہا بيان ہوا ہے كہ ناچ گانے كے ذريعہ انسان كے دل ميں روحِ نفاق پرورش پاتي ہے، تو يہ اسي حقيقت كي طرف اشارہ ہے، روح نفاق وہي گناہوں اور برائيوں سے آلودہ ہونا اور تقويٰ و پرہيزگاري سے دوري كا نام ہے۔
نيز اگر روايات ميں بيان ہوا ہے كہ جس گھر ميں غنا اور ناچ گانا ہوتا ہے اس ميں فرشتے داخل نہيں ہوتے تو يہ بھي انھيں فسادات سے آلودگي كي وجہ سے ہے كيونكہ فرشتے پاك و پاكيزہ ہيں اور پاكيزگي كے طالب ہيں نيز آلودہ فضا سے بيزار ہيں۔
ب: ياد خدا سے غفلت
بعض اسلامي روايات ميں ”غنا“ كے معني ميں ”لہو “ كا استعمال ہونے والا لفظ اسي حقيقت كي طرف اشارہ ہے كہ غنا اور ناچ گانے كے ذريعہ انسان اتنا مست ہوجاتا ہے كہ ياد خداسے غافل ہوجاتا ہے۔
حضرت امام علي عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں بيان ہوا ہے: ”كل ما الہي عن ذكر الله فہو من الميسر“ (2)(ياد خدا سے غافل كرنے والي (اور شہوت ميں غرق كرنے والي) ہر چيز جوے كا حكم ركھتي ہے۔
ج۔ اعصاب كے لئے نقصان دہ آثار
غنا اور ناچ گانا نيز موسيقي، در اصل انساني اعصاب كے نشہ كے عوامل ميں سے ہے، يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ نشہ كبھي منھ كے ذريعہ انسان كے بدن ميں پہنچتا ہے (جيسے شراب)
اور كبھي حس شامہ اور سونگھنے سے ہوتا ہے (جيسے ہيروئن)
اور كبھي انجكشن كے ذريعہ ہوتا ہے (جيسے مرفين)
اور كبھي حس سامعہ يعني كانوں كے ذريعہ نشہ ہوتا ہے (جيسے غنا اور موسيقي)
اسي وجہ سے كبھي كبھي غنا اور ناچ گانے كے ذريعہ انسان بہت زيادہ مست ہوجاتا ہے، اگرچہ كبھي اس حد تك نہيں پہنچتا ليكن پھر بھي نشہ كا تھوڑا بہت اثر ہوتا ہے۔
اور اسي وجہ سے غنا ميں نشہ كے بہت سے مفاسد موجود ہيں چاہے اس كا نشہ كم ہو يا زيادہ۔
” اگر مشہور موسيقي داں افراد كي زندگي پر دقيق توجہ كي جائے تو معلوم ہوگا كہ وہ آہستہ آہستہ اپني عمر ميں نفسياتي مشكلات ميں گرفتار ہوجاتے ہيں يہاں تك كہ ان كے اعصاب جواب دے ديتے ہيں، اور بہت سے افراد نفسياتي بيماريوں ميں مبتلا ہوجاتے ہيں، بعض لوگ اپني عقل و شعور كھو بيٹھتے ہيں اور پاگل خانوں كے مہمان بن جاتے ہيں، بعض لوگ مفلوج اور ناتواں ہوجاتے ہيں، يہاں تك بعض لوگوں كا موسيقي كا پروگرام كرتے ہوئے بلڈ پريشر ہائي ہوجاتا ہے اور وہ موقع پر ہي دم توڑ جاتے ہيں“۔(3)
مختصر يہ كہ غنا اور موسيقي كے آثار جنون كي حد تك ، بلڈ پريشر كا بڑھنا اور دوسرے خطرناك آثار اس درجہ ہيں كہ اس كے بيان كي كوئي ضرورت ہي نہيں ہے۔
عصر حاضر ميں ناگہاني اموات كے سلسلہ ميں ہونے والے اعداد و شمار سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ گزشتہ كي بنسبت اس زمانہ ميں ناگہاني اموات ميں بہت زيادہ اضافہ ہوگيا ہے، جس كي مختلف وجوہات ہيں ان ميں سے ايك وجہ يہي عالمي پيمانہ پر غنا اور موسيقي كي زيادتي ہے۔
د۔ غنا ،استعمار كا ايك حربہ عالمي پيمانہ پر استعمار ،عام لوگوں خصوصاً نسل جوان كي بيداري سے خوف زدہ ہے، اسي وجہ سے استعمار كے پاس اپنے ناپاك ارادوں كو عملي جامہ پہنانے كے لئے اپني منصوبہ بندي ہے كہ جس سے مختلف قوموں كوجہالت اور غفلت ميں ركھنے كے لئے غلط سرگرميوں كو رائج كرے۔
عصر حاضر ميں منشيات صرف تجارتي پہلو نہيں ركھتي، بلكہ ايك اہم سياسي حربہ ہے يعني استعمار كي ايك اہم سياست ہے، فحاشي كے اڈّے، جوے خانے اور دوسري غلط سرگرمي، منجملہ غنا اور موسيقي كو وسيع پيمانہ پر رائج كرنا استعمار كا ايك اہم ترين حربہ ہے، تاكہ عام لوگوں كے افكار كو منحرف كرديں، اسي وجہ سے دنيا بھر كي ريڈيو سرويسوں ميں زيادہ تر موسيقي ہوتي ہے، اسي طرح ٹيلي ويژن وغيرہ ميں بھي موسيقي كي بھر مار ہے۔(4)

(1) يہ قاعدہ علم اصول ميں ثابت ہے كہ اگر كسي كام كي حرمت پر كوئي دليل نہ ہو تو اصل برائت جاري كي جائے گي يعني وہ كام جائز ہے۔ (مترجم)
(2) تفسير روح المعاني ، جلد ۲۱، صفحہ ۶۰
(3) تاثير موسيقي بر روان و اعصاب، صفحہ ۲۶
(4)تفسير نمونہ ، جلد ۱۷ صفحہ ۲۲
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك