سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:369

عدّہ كا فلسفہ كيا ہے؟

جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوا : < وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ>(1) ”مطلقہ عورتيں تين حيض تك انتظار كر يں گي، (اور عدہ ركھيں گي)“۔
يہاں پر سوال يہ ہوتا ہے كہ اس اسلامي قانون كا فلسفہ كيا ہے؟
چونكہ طلاق كے ذريعہ معمولاً گھر اجڑنے لگتا ہے اور معاشرہ كا ناقابل تلافي نقصان ہوتا ہے، اسي وجہ سے اسلام نے ايسا قانون پيش كيا ہے تاكہ آخري منزل تك طلاق سے روك تھام ہو سكے، ايك طرف تو ”اس كوجائز كاموں ميں سب سے زيادہ قابل نفرت“ قرار ديا گيا ہے اور دوسري طرف شادي بياہ كے مسائل ميں اختلاف كي صورت ميں طرفين ميں صلح و مصالحت كے اسباب فراہم كرنے كي كوشش كي ہے تاكہ حتي الامكان اس كام سے روك تھام ہو سكے۔
انہي قوانين ميں سے طلاق ميں تاخير اور خود طلاق كو متزلزل كرنا ہے يعني طلاق كے بعد عدہ كو واجب كيا ہے جس كي مدت تين ”طہر“ يعني عورت كا تين مرتبہ خون حيض سے پاك ہونا۔
”عدّہ“ يا صلح و مصالحت اور واپس پلٹنے كا وسيلہ كبھي كبھي بعض وجوہات كي بنا پر انسان ميں ايسي حالت پيدا ہوجاتي ہے كہ ايك چھوٹے سے اختلاف يا معمولي تنازع سے انتقام كي آگ بھڑك جاتي ہے اورعقل وجدان پر غالب آجاتي ہے۔
معمولاً گھريلو اختلاف اسي وجہ سے پيش آتے ہيں، ليكن اس كشمكش كے كچھ ہي بعد مياں بيوي ہوش ميں آتے ہيں اور پشيمان ہوجاتے ہيں، خصوصاً جب يہ ديكھتے ہيں كہ ان كے بچے پريشان ہيں تو مختلف پريشانياں لاحق ہوتي ہيں۔اس موقع پر مذكورہ آيت كہتي ہے: عورتيں ايك مدت عدّہ ركھيں تاكہ اس مدت ميں غصہ كي جلد ختم ہوجانے والي لہريں گزر جائيں اور ان كي زندگي ميں دشمني كے سياہ بادل چھٹ جائيں۔
خصوصاً اسلام نے اس عدّہ كي مدت ميں عورت كو حكم ديا ہے كہ گھر سے باہر نہ نكلے، جس كے پيش نظر اس عورت كوغور فكر كا مو قع ملتا ہے جو مياں بيوي ميں تعلقات بہتر ہونے كے لئے ايك موثر قدم ہے۔لہٰذا سورہ طلاق كي پہلي آيت ميں پڑھتے ہيں: < لَا تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُيُوتِہِن لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ اٴَمْرًا> ”ان كو گھروں سے نہ نكالو تم كيا جانو شايد خداوندعالم كوئي ايسا راستہ نكال دے كہ جس سے آپس ميں صلح و مصالحت ہوجائے“۔ اكثر اوقات طلاق سے پہلے كے خوشگوار لحظات ، محبت اور پيار كے گزرے ہوئے لمحات كو ياد كرلينا كافي ہوجاتا ہے اور پھيكي پڑجانے والي محبت ميں نمك پڑ جاتا ہے۔
عدّہ؛ نسل كي حفاظت كا وسيلہ
عدّہ كا دوسرا فلسفہ يہ ہے كہ عدہ كے ذريعہ يہ معلوم ہوجاتا ہے كہ طلاق شدہ عورت حاملہ ہے يا نہيں؟ يہ صحيح ہے كہ ايك دفعہ حيض ديكھنا حاملہ نہ ہونے كي دليل نہيں ہے، ليكن بسا اوقات ديكھا گيا ہے كہ عورت حاملہ ہونے كي صورت ميں بھي شروع كے چند ماہ تك حيض ديكھتي ہے، لہٰذا اس موضوع كي مكمل رعايت كا حكم ديا گيا ہے كہ عورت تين دفعہ تك حيض ديكھے اور پاك ہوجائے، تاكہ يہ يقين ہوجائے كہ اپنے گزشتہ شوہر سے حاملہ نہيں ہے، پھر اس كے بعد دوبارہ نكاح كرسكتي ہے۔(2)

(1)سورہٴ بقرہ ، آيت۲۲۸
(2) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۶
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك