سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:484

فلسفہ متعہ كيا ہے؟

يہ ايك عام اور كلي قانون ہے كہ اگر انسان كي طبيعي خواہشات صحيح طريقہ سے پوري نہ ہوں تو پھر اس كو پورا كرنے كے لئے غلط راستہ اپنانا پڑتا ہے، كيونكہ اس حقيقت كا انكار نہيں كيا جاسكتا كہ طبيعي خواہشات كا گلا نہيں گھوٹا جاسكتا ، اور اگر بالفرض ايسا كربھي ليا جائے تو ايسا كام عقلي نہيں ہے، كيونكہ يہ كام ايك طرح سے قانونِ خلقت سے جنگ ہے۔
اس بنا پر صحيح راستہ يہ ہے كہ اس كو معقول طريقہ سے پورا كيا جائے اور اس سے زندگي بہتربنانے كے لئے فائدہ اٹھايا جائے۔
اس بات كا بھي انكار نہيں كيا جاسكتا كہ جنسي خواہش انسان كي بہت بڑي خواہش ہوتي ہے، يہاں تك كہ بعض ماہرين كا كہنا ہے كہ جنسي خواہش ہي انسان كي اصل خواہش ہوتي ہے اور باقي دوسري خواہشات كي بازگشت اسي طرف ہوتي ہيں۔
اب يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ بہت سے مواقع ايسے ہيں جن ميں انسان خاص عمر ميں شادي نہيں كرسكتا، يا شادي شدہ انسان طولاني سفر ميں يہ جنسي خواہش پوري نہيں كرسكتا۔
يہ موضوع خصوصاً ہمارے زمانہ ميں تعليم كي مدت طولاني ہونے كے سبب اور بعض ديگرمسائل اور مشكلات كي بنا پر شادي دير سے ہوتي ہے، اور بہت ہي كم نوجوان ايسے ہيں جو جواني كے شروع اور اس خواہش كے شباب كے وقت شادي كرسكتے ہيں، لہٰذا يہ مسئلہ بہت مشكل بن گيا ہے۔ اس موقع پر كيا كيا جائے؟ كياايسے مواقع پر لوگوں كي اس خواہش كا (راہبوں كي طرح) گلا گھوٹ ديا جائے ؟ يا يہ كہ ان كو جنسي آزادي دے دي جائے اور عصر حاضر كي شرمناك حالت كو ان كے لئے جائز سمجھ ليا جائے؟
ياايك تيسرا راستہ اپنايا جائے جس ميں نہ شادي جيسي مشكلات ہوں اور نہ ہي جنسي آزادي؟
المختصر: ”دائمي ازدواج“ (شادي) نہ گزشتہ زمانہ ميں تمام لوگوں كي اس خواہش كا جواب بن سكتي تھي اور نہ آج، اور ہم ايك ايسے مقام پر كھڑے ہيں جہاں سے دو راستے نكلتے ہيں، يا ”فحاشي“ كو جائز مان ليں، (جيسا كہ مغربي ممالك ميں آج كل رسمي طور پر صحيح مانا جارہا ہے) يا ”وقتي ازواج“ (يعني متعہ)كوقبول كريں، معلوم نہيں ہے جو لوگ متعہ كے مخالف ہيں انھوں نے اس سوال كے لئے كيا جواب سوچ ركھا ہے؟!
متعہ كا مسئلہ نہ تو شادي جيسي مشكلات ركھتا ہے كہ انسان كو اقتصادي يا تعليمي مسائل اجازت نہيں ديتے كہ فوراً شادي كرلے اور نہ ہي اس ميںفحاشي كے درد ناك حادثات پيش آتے ہيں۔
متعہ پر ہونے والے اعتراضات
ہم يہاں متعہ كے سلسلہ ميں كئے گئے كچھ اعتراضات كا مختصر جواب پيش كرتے ہيں:
۱۔ كبھي تو يہ كہا جاتا ہے كہ ”متعہ“ اور ”فحاشي“ ميں كيا فرق ہے؟ دونوں ايك خاص مَبلَغ كے عوض”جسم فروشي“ ہي توہيں، در اصل يہ تو فحاشي اور جنس بازي كے لئے ايك نقاب ہے ، صرف ان دونوں ميں چند صيغوں كا فرق ہے!!۔
جواب: ان لو گوں كے اعتراض سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ يہ لوگ متعہ كے سلسلہ ميں معلومات نہيں ركھتے، كيونكہ متعہ صرف دو جملہ كہنے سے تمام نہيں ہوتابلكہ بعض قوانين، شادي كي طرح ہوتے ہيں، يعني ايسي عورت متعہ كي مدت ميں صرف اسي مرد سے مخصوص ہے، اور مدت تمام ہونے كے بعد عدہ ركھنا ضروري ہے يعني كم سے كم ۴۵ دن تك كسي دوسرے سے شادي يا متعہ نہيں كرسكتي، تاكہ اگر پہلے شوہر سے حاملہ ہوگئي ہے توواضح ہوجائے، يہاں تك كہ اگر مانعِ حمل چيزيں استعمال كي ہوں تو اس مدت كي رعايت كرنا واجب ہے، اور اگر اس مرد سے حاملہ ہوگئي ہے تو يہ بچہ اس مرد كا ہوگا اور اولاد كے تمام مسائل اس پر نافذ ہوں گے، جبكہ فحاشي ميں اس طرح كي كوئي قيد و شرط نہيں ہے، پس معلوم يہ ہوا كہ دونوں ميں بہت بڑا فرق ہے۔
اگرچہ (مياں بيوي كے درميان) ميراث ، خرچ اور دوسرے احكام ميں شادي اور متعہ ميں فرق پايا جاتا ہے، (1)ليكن اس فرق كي وجہ سے متعہ كو فحاشي كي صف ميں قرار نہيں ديا جاسكتا، بہر حال يہ بھي شادي كي ايك قسم ہے اور شادي كے متعدد قوانين اس پر نافذ ہوتے ہيں۔
۲۔ متعہ پر دوسرا اعتراض يہ ہوتا ہے كہ اس قانون كے پيچھے بہت سے عياش لوگ غلط فائدہ اٹھا سكتے ہيں، اور متعہ كي آڑ ميں ہر طرح كي فحاشي كرسكتے ہيں، جبكہ اس كي اجازت نہ ہونے كي صورت ميں بعض شريف انسان متعہ سے دور رہتے ہيں، اور شريف خواتين اس سے پرہيز كرتي ہيں۔
جواب: دنيا ميں كس قانون سے غلط فائدہ نہيں اٹھايا جارہا ہے؟ كيا ہر فطري قانون كو اس لئے ختم كرديا جائے كہ اس سے غلط فائدہ اٹھايا جارہا ہے! ہميں غلط فائدہ اٹھانے والوں كو روكنا چاہئے۔
مثال كے طور پر اگر بہت سے لوگ حج كے موقع سے غلط فائدہ اٹھانا چاہيں (جيسا كہ ديكھا گيا ہے) اور اس مبارك سفر ميں منشيات كي تجارت كے لئے جائيں، تو كيا اس صورت ميں لوگوں كو حج سے روكا جائے يا غلط فائدہ اٹھانے والوں كو روكا جائے؟!
۳۔ اعتراض كرنے والے كہتے ہيں: متعہ كي وجہ سے معاشرہ ميں (ناجائز بچوں كي طرح) بے سرپرست بچوں كي تعداد ميں اضافہ ہوجائے گا۔
جواب: ہماري مذكورہ گفتگو مكمل طور پر اس اعتراض كا جواب ہے، كيونكہ ناجائز بچے قانوني لحاظ سے نہ باپ سے ملحق ہيں اور نہ ماں سے، جبكہ متعہ كے ذريعہ پيدا ہونے والے بچوں ميں ميراث اور اجتماعي حقوق كے لحاظ سے شادي سے پيدا ہونے والے بچوں سے كوئي فرق نہيں ہے، گويا اس حقيقت پر توجہ نہ كرنے كي وجہ سے مذكورہ اعتراض كيا گيا ہے۔
”راسل“ اور ”وقتي شادي“
آخر كلام ميں مناسب معلوم ہوتا ہے كہ اس بات كي ياد دہاني كرادي جائے كہ مشہور و معروف انگريزي دانشور ”برٹرانڈ راسل “ كتاب ”زنا شوئي و اخلاق“ ميں ”آزمائشي شادي“ كے عنوان سے اسي بات كي طرف اشارہ كرتا ہے۔
وہ ايك جج بنام ” بن بي لينڈسي“ كي تجويز ”دوستانہ شادي“ يا ”آزمائشي شادي“ كا ذكر كرنے كے بعد كہتا ہے:
جج صاحب موصوف كي تجويز كے مطابق جوانوں كو يہ اختيار ملنا چاہئے كہ ايك نئي قسم كي شادي كرسكيں جو عام شادي (دائمي نكاح) سے تين امور ميں مختلف ہو:
الف: طرفين كا مقصد صاحب اولاد ہونا نہ ہو، اس سلسلہ ميں ضروري ہے كہ انھيں حمل روكنے كے طريقہ سكھائے جائيں۔
ب۔ ان كي جدائي آساني كے ساتھ ہوسكے۔
ج۔ طلاق كے بعد عورت كسي قسم كا نان و نفقہ كا حق نہ ركھتي ہو۔
راسل جج لينڈسي كا مقصد بيان كرنے كے بعد كہتا ہے: ”ميرا خيال ہے كہ اس قسم كي شادي كو قانوني حيثيت دے دي جائے تو بہت سے نوجوان خصوصاً كالجوں اور يونيورسٹيوں كے طالب علم وقتي نكاح پر تيار ہوجائيں گے اور وقتي مشترك زندگي ميں قدم ركھيں گے، ايسي زندگي سے جو ان كي آزادي كا سبب بنے، تو اس طرح معاشرہ كي بہت سي خرابيوں، لڑائي جھگڑوں خصوصاً جنسي بے راہ روي سے نجات مل جائے گي۔(2)
بہر حال جيسا كہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمايا كہ وقتي شادي كے بارے ميں مذكورہ تجويز كس لحاظ سے اسلامي حكم كي طرح ہے، ليكن جو شرائط اور خصوصيات اسلام نے وقتي شادي كے لئے تجويز كي ہيں وہ كئي لحاظ سے زيادہ واضح اور مكمل ہيں، اسلامي وقتي شادي ميں اولاد نہ ہونے كو ممنوع نہيں كيا گيا ہے اور فريقين كا ايك دوسرے سے جدا ہونا بھي آسان ہے، جدائي كے بعد نان و نفقہ بھي نہيں ہے۔(3)
متعہ كي تاريخي حيثيت
علمائے اسلام كا اتفاق ہے بلكہ دين كے ضروري احكام ميں سے ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں ”متعہ“ تھا، (اور سورہ نساء كي آيہٴ شريفہ <فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ
اٴُجُورَہُنَّ فَرِيضَة>(4) متعہ كے جواز پر دليل ہے ، كيونكہ مخالف اس بات پر عقيدہ ركھتے ہيں كہ متعہ كا جواز سنت پيغمبر سے ثابت ہے) يہاں تك صدر اسلام ميں مسلمان اس پر عمل كيا كرتے تھے ، چنانچہ حضرت عمر كا يہ مشہور و معروف قول مختلف كتابوں ميں ملتا ہے : ”مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَي عَھْدِ رَسُولِ الله وَاٴنَا اُحرِّمُھُمَا وَ مُعَاقِب عَلَيْھِمَا: مُتعَةُ النِّسَاءِ وَ مُتْعَةُ الحجِّ“(5)”دو متعہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں رائج تھے اور ميں ان كو حرام قرار ديتا ہوں، اورانجام دينے والوں كو سزا دوں گا، متعة النساء اور حج تمتع (جو حج كي ايك خاص قسم ہے)، چنانچہ حضرت عمر كا يہ قول اس بات كي واضح دليل ہے كہ متعہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں ہوتا تھا، ليكن اس حكم كے مخالف كہتے ہيں كہ يہ حكم بعد ميں نسخ ہوگيا ہے اور حرام قرار ديا گيا ہے۔
ليكن قابل توجہ بات يہ ہے كہ جن روايات كو ”حكم متعہ كے نسخ“ كے لئے دليل قرار ديا جاتا ہے ان ميں بہت اختلا ف پايا جا تا ہے، چنانچہ بعض روايات كہتي ہيں كہ خود پيغمبر اكرم (ص) نے اس حكم كو نسخ كيا ہے، لہٰذا اس حكم كي ناسخ خود پيغمبر اكرم (ص) كي سنت اور حديث ہے، بعض كہتي ہيں كہ اس حكم كي ناسخ سورہ طلاق كي درج ذيل آيت ہے:
< إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاٴَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ رَبَّكُمْ>(6)
”جب تم لو گ عورتوں كو طلاق دو تو انھيں عدت كے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت كا حساب ركھو اور اللہ سے ڈرتے رہو“۔
حالانكہ اس آيہٴ شريفہ كا محل بحث سے كوئي تعلق نہيں ہے، كيونكہ اس آيت ميں طلاق كي گفتگو ہے، جبكہ متعہ ميں طلاق نہيں ہوتي متعہ ميں مدت ختم ہونے سے جدائي ہوجاتي ہے۔
يہ بات مسلم ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں متعہ قطعي طور پر پايا جاتا تھا، اور اس كے نسخ ہونے پر كوئي محكم دليل ہمارے پاس نہيں ہے، لہٰذا علم اصول كے قانون كے مطابق اس حكم كے باقي رہنے پر حكم كيا جائے گا، (جسے علم اصول كي اصطلاح ميں استصحاب كہا جاتا ہے)۔
حضرت عمر سے منقول جملہ بھي اس حقيقت پر واضح دليل ہے كہ متعہ كا حكم پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں نسخ نہيں ہوا تھا۔
اور يہ بات بھي واضح ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے علاوہ كوئي بھي شخص احكام كو نسخ كرنے كا حق نہيں ركھتا، اور صرف آنحضرت (ص) كي ذات مبارك ہي حكم خدا كے ذريعہ بعض احكام كو نسخ كرسكتي ہے، پيغمبر اكرم (ص) كي وفات كے بعد باب نسخ بالكل بند ہوچكا ہے ، اور اگر كوئي اپنے اجتہاد كے ذريعہ بعض احكام كو منسوخ كرے تو پھر اس دائمي شريعت ميں كوئي چيز باقي نہيں رہے گي ، اور اصولي طور پر پيغمبر اكرم (ص) كي گفتگو كے مقابل اجتہاد كرے تو يہ ”اجتہاد مقابلِ نص“ ہوگا جس كا كوئي اعتبار نہيں ہے۔
مزے كي بات تو يہ ہے كہ صحيح ترمذي جو اہل سنت كي مشہور صحيح ترين كتابوں ميں سے ہے،اور”دار قطني“  ميں تحرير ہے: ”ايك شامي شخص نے عبد اللہ بن عمر سے”حج تمتع“ كے بارے ميں سوال كيا توعبد اللہ بن عمر نے كہا: يہ كام جائز اور بہتر ہے ، اس شامي نے كہا: تمہارے باپ نے اس كو ممنوع قرارديا ہے، تو عبداللہ بن عمر بہت ناراض ہوئے اور كہا: اگر ميرا باپ كسي كام سے نہي كرے، جبكہ پيغمبر اكرم (ص) نے اس كي اجازت دي ہو تو كيا تم لوگ سنت پيغمبر كو چھوڑ كر ميرے باپ كي پيروي كروگے؟ يہاں سے چلے جاؤ۔(7)
متعہ كے سلسلہ ميں اسي طرح كي روايت”عبد اللہ بن عمر “ سے صحيح ترمذي ميں بھي نقل ہوئي ہے، 8)
اور ”محاضرات“ راغب سے نقل ہوا ہے كہ ايك مسلمان نے متعہ كيا تو لوگوں نے سوال كيا كہ اس كام كے جوازكا حكم كس سے حاصل كيا ہے؟ تو اس نے كہا: ”عمر“ سے! لوگوں نے تعجب كے ساتھ سوال كيا: يہ كيسے ممكن ہوسكتا ہے جبكہ خود عمر نے اس كام سے روكا ہے يہاں تك كہ انجام دينے والے كے لئے سزا كا وعدہ كيا ہے؟ تو اس نے كہا: ٹھيك ہے، ميں بھي تو اسي وجہ سے كہتا ہوں، كيونكہ عمر نے كہا: پيغمبر اكرم (ص)نے اس كو حلال كيا تھاليكن ميں اس كو حرام كرتا ہوں، ميں نے اس كا جواز پيغمبر اكرم (ص) سے ليا، ليكن اس كي حرمت كسي سے قبول نہيں كروں گا!(9)
يہاں پر اس بات كي ياد دہاني ضروري ہے كہ اس حكم كے منسوخ ہونے كا دعويٰ كرنے والے بھي متضاد بيانات ركھتے ہيں اور تناقض اور تضاد گوئي كے شكار نظر آتے ہيں:
اہل سنت كي معتبر كتابوں ميں متعدد روايات اس بات كي وضاحت كرتي ہيں كہ يہ حكم پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں ہرگز منسوخ نہيں ہوا تھا، بلكہ عمر نے اس كو ممنو ع قرار دياہے، لہٰذا اس حكم كو
(1) ”متعہ ٴ حج“ سے مراد جس كو عمر نے حرام قرار ديا تھا يہ ہے كہ اس حج تمتع سے قطع نظر كي جائے ، حج تمتع يہ ہے كہ انسان حج كے لئے جاتا ہے تو پہلے محرم ہوتا ہے اور ”عمرہ“ انجام دينے كے بعد احرام سے آزاد ہوجاتا ہے(اور اس كے لئے حالت احرام كي حرام چيزيں يہاں تك كہ ہمبستري بھي جائز ہوجاتي ہے) اور اس كے بعد دوبارہ حج كے دوسرے اعمال نويں ذي الحجہ كو انجام ديتا ہے، دور جاہليت ميں اس كام كو صحيح نہيں سمجھا جاتا تھا اور تعجب كيا جاتا تھا كہ جو شخص ايام حج ميں مكہ معظمہ ميں وارد ہوا ہو اور حج انجام دينے سے پہلے عمرہ بجالائے، اور اپنا احرام كھول دے، ليكن اسلام نے واضح طور پر اس بات كي اجازت ديدي، اور سورہ بقرہ ، آيت ۱۸۶ ميں اس موضوع كي وضاحت فرمادي
منسوخ ماننے والي ان تمام روايات كا جواب ديں، ان روايات كي تعداد ۲۴ ہے، جن كو علامہ اميني عليہ الرحمہ نے اپني نامور كتاب ”الغدير“ كي چھٹي جلد ميں تفصيل كے ساتھ بيان كيا ہے،ہم يہاں پر ان ميں سے دو نمونے پيش كرتے ہيں:
۱۔ صحيح مسلم ميں جابر بن عبد اللہ انصاري سے نقل ہوا ہے كہ انھوں نے كہا: ہم پيغمبر اكرم كے زمانہ ميں بہت آساني سے متعہ كرليتے تھے، اور اسي طرح يہ سلسلہ جاري رہا يہاں تك كہ عمر نے ”عمر بن حريث“ كے مسئلہ ميں اس كام سے بالكل روك ديا۔(10)
۲۔ دوسري حديث كتاب ”موطاٴ بن مالك“، ”سنن كبريٰ بيہقي“ اور ”عروہ بن زبير“ سے نقل ہوئي ہے كہ ”خولہ بن حكيم“ نامي عورت حضرت عمر كے زمانہ خلافت ميں دربار ميں حاضر ہوئي اور اس نے خبر دي كہ مسلمانوں ميں ايك شخص ”ربيعہ بن اميہ“ نامي نے متعہ كيا ہے، تو يہ سن كر حضرت عمر نے كہا: اگر پہلے سے اس كام كي نہي كي ہوتي تو اس كو سنگسار كرديتا ،(ليكن آج سے اس كام پر پابندي لگاتا ہوں!)(11)
كتاب بداية المجتہد، تاليف ابن رشد اندلسي ميں بھي تحرير ہے كہ جابر بن عبد اللہ انصاري كہتے ہيں: ”پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں اور ”ابوبكر“ كي خلافت اور”عمر“ كي آدھي خلافت تك متعہ پر عمل ہو تا تھا اس كے بعد عمر نے منع كرديا“۔(12)
دوسري مشكل يہ ہے كہ اس حكم كے منسوخ ہونے كي حكايت كرنے والي روايات ميں ضد ونقيض باتيں ہيں، بعض كہتي ہيں: يہ حكم جنگ خيبر ميں منسوخ ہوا ہے، بعض كہتي ہيں كہ ”روز فتح مكہ“
منسوخ ہوا اور بعض كہتي ہيں جنگ تبوك ميں، نيز بعض كہتي ہيں كہ جنگ اوطاس ميں منسوخ ہوا، لہٰذا ان تمام چيزوں سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ يہ تمام روايات جعلي ہيں جن ميں اس قدر تناقض اور ٹكراؤ پايا جاتا ہے۔
(قارئين كرام!) ہماري گفتگو سے يہ بات روشن ہوجاتي ہے كہ صاحب تفسير المنار (دور حاضر كے سني عالم ) كي گفتگو تعصب اور ہٹ دھرمي پر مبني ہے، جيسا كہ موصوف كہتے ہيں: ”ہم نے پہلے تفسير المناركي تيسري اور چوتھي جلد ميں اس بات كي وضاحت كي تھي كہ عمر نے متعہ سے منع كيا ہے ليكن بعد ميں ايسي روايات ملي ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ متعہ كا حكم خود پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں منسوخ ہوگيا تھا نہ كہ زمانہ عمر ميں منسوخ ہوا، لہٰذا اپني گزشتہ بات كي اصلاح كرتے ہيں اور اس سے استغفار كرتے ہيں“۔(13) يہ تعصب نہيں تو اور كيا ہے؟! كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں متعہ كا حكم منسوخ ہونے كي حكايت كرنے والي ضد و نقيض روايات كے مقابل ايسي روايات موجود ہيں جو اس بات كي حكايت كرتي ہيں كہ يہ حكم حضرت عمر كے زمانہ ميں بھي تھا، لہٰذا نہ تو معافي كي گنجائش ہے اور نہ توبہ و استغفار كي ، اور جيسا كہ ہم نے پہلے بھي عرض كيا كہ اس معاصر كا پہلا نظريہ حقيقت ہے اور دوسرے نظريہ ميں حقيقت كو چھپانے كي ناكام كوشش كي ہے!
يہ بات يونہي ظاہر ہے كہ نہ تو ”عمر“ اور نہ كوئي دوسرا شخص يہاں تك ائمہ معصومين عليہم السلام جو كہ پيغمبر اكرم (ص) كے حقيقي جانشين ہيں، كسي كو يہ حق نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں موجود احكام كو منسوخ كرے، اور اصولي طور پر آنحضرت (ص) كي وفات كے بعد اور وحي كا سلسلہ بند ہونے كے بعد نسخ معني نہيں ركھتا، اور جيسا كہ بعض لوگوں نے ”كلامِ عمر“ كو اجتہاد پر حمل كيا ہے كہ يہ حضرت عمر كا اجتہاد ہے، يہ بھي تعجب كا مقام ہے كيونكہ ”نص“ كے مقابلہ ميں ”اجتہاد“ ممكن ہي نہيں۔(14)

(1) اسلام كا يہ مسئلہ ہے كہ متعہ سے پيدا ہونے والے بچوں كے احكام شادي سے پيدا ہونے والے بچوں كي طرح ہيں، ان ميں كوئي فرق نہيں پايا جاتاور اگر ہم ديكھتے ہيں كہ آج شريف انسان اس اسلامي قانون سے پرہيز كرتے ہيں، تو يہ قانون كا نقص نہيں ہے بلكہ قانون پر عمل كرنے والوں يا غلط فائدہ اٹھانے والوں كا نقص ہے، اگر آج ہمارے معاشرہ ميں صحيح طريقہ پر متعہ كا رواج ہوجائے اور اسلامي حكومت خاص قوانين كے تحت اس سلسلہ ميںصحيح منصوبہ بندي كرے ، تو اس صورت ميں غلط فائدہ اٹھانے والوں كي روك تھام ہوسكتي ہے (اور ضرورت كے وقت ) شريف لوگ بھي اس سے كراہت نہيں كريں گے۔
(2) كتا ب زنا شوئي و اخلاق صفحہ ۱۸۹و ۱۹۰
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۴۱
4)سورہٴ نساء ، آيت ۲۴ ”جو بھي ان عورتوں سے تمتع كرے ان كي اجرت بطور فريضہ دے دے“۔
(5) كنز العرفان ، جلد دوم، صفحہ ۱۵۸، اور تفسير قرطبي ، تفسير طبري ميں مذكورہ جملہ كے مانند تحرير نقل ہوئي ہے، نيز سنن بيہقي ، جلد ۷ كتاب نكاح ميں بھي وہ جملہ ذكر ہوا ہے
(6) سورہ طلاق ، پہلي آيت
(7)تفسير قرطبي ، جشلد ۲ ، صفحہ ۷۶۲ ، سورہٴ بقرہ، آيت ۱۹۵ كے ذيل ميں
(8) الغدير ، جلد ۶، صفحہ ۲۰۶
(9)الغدير ، جلد ۶، صفحہ ۲۱۰
(10) بداية المجتہد ،كتاب النكاح
(11) شرح لمعہ ، جلد ۲ ،كتاب النكاح
(12) كنز العرفان ، جلد دوم، صفحہ ۱۵۹(حاشيہ)
(13)تفسير المنار ، جلد ۵، صفحہ ۱۶
(14) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۳۷
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك