سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:325

ميراث ميں مرد كا حصہ عورت كے دو برابر كيوں ہے؟

اگرچہ ميراث ميں مرد كا حصہ عورت كے دو برابر ہے ، ليكن اگر غور و فكر كريں تو معلوم ہوگا كہ عورتوں كا حصہ مردوں كے دو برابر ہے! اور يہ اس وجہ سے ہے كہ اسلام نے عورتوں كے حقوق كي حمايت كي ہے۔
وضاحت: اسلام نے مرد كے كاندھوں پر ايسي ذمہ داري ركھي ہے جس سے اس كي در آمد كا آدھا حصہ عورتوں پر خرچ ہوتا ہے، جبكہ عورتوں كے ذمہ كوئي خرچ نہيں ہے،چنا نچہ ايك شوہر پر واجب ہے كہ اپني زوجہ كو ؛ مكان، لباس، كھانا اور دوسري چيزوں كا خرچ ادا كرے، اور اپنے بچوں كا خرچ بھي اسي كي گردن پر ہے، جبكہ عورتوں پر كسي طرح كا كوئي خرچ نہيں ہے يہاں تك كہ اپنا ذاتي خرچ بھي اس كے ذمہ نہيں ہے، لہٰذا ايك عورت ميراث سے اپنا پورا حصہ بچا كر بينك ميں ركھ سكتي ہے، جبكہ مرد اپنے حصہ كو بيوي بچوں پر خرچ كرتا ہے، جس كا نتيجہ يہ ہوگا كہ مرد كي آمدني كا آدھا حصہ اہل و عيال پر خرچ ہوگا، اور آدھا اس كے لئے باقي رہے گا، جبكہ عورت كا حصہ اسي طرح محفوظ رہے گا۔
يہ مسئلہ وا ضح ہو نے كے لئے اس مثال پر توجہ كريں: فرض كريں كہ پوري دنيا كا مال و دولت ۳۰ / ارب روپيہ ہے، جو ميراث كے عنوان سے مردووں اور عورتوں ميں تقسيم ہونا ہے، تو اس ميں ۲۰/ ارب مردوں كا اور ۱۰/ ارب عورتوں كا حصہ ہوگا، ليكن عورتيں عام طور پر شادي كرتي ہيں اور ان كي زندگي كا خرچ مردوں كے ذمہ ہوتا ہے، تو اس صورت ميں عورتيں اپنے ۱۰/ ارب كو بينك ميں جمع كر سكتي ہيں، اور عملي طور پر مردوں كے حصہ ميں شريك ہوتي ہيں، كيونكہ خود ان پر اور بچوں پر بھي مرد ہي كا حصہ خرچ ہوگا۔ اس بنا پر حقيقت ميں مردوں كا آدھا حصہ يعني ۱۰/ ارب عورتوں پر خرچ ہوگا، اور وہ دس ارب جو ان كے پاس محفوظ ہے سب ملاكر ۲۰/ ارب (يعني دو تہائي) عو رتوں كے اختيار ميں ہوگا، جبكہ عملي طور پر مردوں كے خرچ كے لئے صرف دس ارب ہي باقي رہے گا۔
نتيجہ يہ ہوا كہ عورتوں كا حقيقي خرچ اور فائدہ كے لحاظ سے مردوں كے دو برابر ہے، اور يہ فرق اس وجہ سے ہے كہ ان كے يہاں كاروبار كرنے كي قدرت كم پائي جاتي ہے، اور يہ ايك طرح سے منطقي اور عادلانہ حمايت ہے جس پر اسلام نے عورتوں كے لئے توجہ دي ہے، حقيقت ميں ان كا حصہ زيادہ ركھا ہے، اگرچہ ظاہري طور پر ان كا حصہ مردوں سے آدھا ركھا ہے۔
اسلامي روايات كے پيش نظر يہ معلوم ہوتا ہے كہ مذكورہ سوال پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ سے لوگوں كے ذہن ميں موجود تھا جس كي بنا پر ديني رہبروں سے يہ سوال ہوتا رہا ہے، اور ائمہ معصومين عليہم السلام كي طرف سے اس كا جواب ديا گيا ہے جن ميں سے اكثر كا مضمون ايك ہي ہے، اور وہ جواب يہ ہے: ”خداوندعالم نے زندگي كا خرچ اور مہر مرد كے ذمہ ركھا ہے، اسي وجہ سے ان كا حصہ زيادہ قرار ديا ہے“۔
كتاب ”معاني الاخبار“ ميں حضرت امام رضا عليہ السلام سے منقول ہے كہ اس سوال كے جواب ميں آپ نے فرمايا: ”ميراث ميں عورتوں كا حصہ مردوں كے حصہ سے آدھا اس وجہ سے ركھا گيا ہے كہ عورت جب شادي كرتي ہے تو وہ مہر ليتي ہے اور مرد ديتا ہے، اس كے علاوہ بيوي كا خرچ شوہر پر ہے، جبكہ عورت خود اپني اور شوہر كي زندگي كے خرچ كے سلسلہ ميں كوئي ذمہ داري نہيں ركھتي“۔(1)

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۲۹۰
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك