سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:506

پردہ كا فلسفہ كيا ہے

بے شك عصر حاضر ميں جس كو بعض لوگوں نے عرياني اور جنسي آزادي كا زمانہ قرار ديا ہے، اور مغرب نواز لوگوں نے اس كو عورتوں كي آزادي كا ايك حصہ قرار ديا ہے، لہٰذا ايسے لوگ پردہ كي باتوں كو سن كر منہ بناتے ہيں اور پردہ كو گزشتہ زمانہ كا ايك افسانہ شمار كرتے ہيں۔
ليكن اس آزادي اور بے راہ روي سے جس قدر فسادات اور برائياں بڑھتي جارہي ہيں اتنا ہي پردہ كي باتوں پر توجہ كي جارہي ہے۔
البتہ اسلامي اور مذہبي معاشرہ ميں خصوصاً ايراني انقلاب كے بعد بہت سے مسائل حل ہوچكے ہيں اور بہت سے سوالات كا اطمينان بخش جواب ديا جا چكا ہے، ليكن چونكہ يہ مسئلہ بہت اہم ہے لہٰذا اس مسئلہ پر مزيد بحث و گفتگو كي ضرورت ہے۔
مسئلہ يہ ہے كہ (بہت ہي معذرت كے ساتھ)كيا عورتوں سے (ہمبستري كے علاوہ) سننے ، ديكھنے اور لمس كرنے كي دوسري لذتيں تمام مردوں كے لئے ہيں يا صرف ان كے شوہروں سے مخصوص ہيں؟!
بحث اس ميں ہے كہ عورتيں اپنے جسم كے مختلف اعضا كي نمائش كے ايك بے انتہا مقابلہ ميں جوانوں كي شہوتوں كو بھڑكائيں اور آلودہ مردوں كي ہوس كا شكار بنيں يا يہ مسائل شوہروں سے متعلق ہيں؟!
اسلام اس دوسري قسم كا طرف دار ہے ، اور حجاب كو اسي لئے قرار ديا ہے، حالانكہ مغربي ممالك اور مغرب نواز لوگ پہلے نظريہ كے قائل ہيں۔
اسلام كہتا ہے كہ جنسي لذت اور ديكھنے ، سننے اور چھونے كي لذت شوہر سے مخصوص ہے اس كے علاوہ دوسرے كے لئے گناہ، آلودگي اور معاشرہ كے لئے ناپاكي كا سبب ہے۔
فلسفہ حجاب كوئي مخفي اور پوشيدہ چيز نہيں ہے، كيونكہ:
۱۔ بے پردہ عورتيں معمولاً بناؤ سنگار اور ديگر زرق و برق كے ذريعہ جوانوں كے جذبات كو ابھارتي ہيں جس سے ان كے احساسات بھڑك اٹھتے ہيں اور بعض اوقات نفسياتي امراض پيدا ہوجاتے ہيں،انسان كے احساسات كتنے ہيجان آور وزن كو برداشت كرسكتے ہيں؟ كيا نفسياتي ڈاكٹر يہ نہيں كہتے كہہميشہ انسان ميں ہيجان سے بيمارياں پيدا ہوتي ہيں۔
خصوصاً جب يہ بھي معلوم ہو كہ جنسي غريزہ انسان كي سب سے بنيادي فطرت ہوتي ہے جس كي بنا پر تاريخ ميں ايسے متعددخطر ناك حوادث اور واقعات ملتے ہيں جس كي بنياد يہي چيز تھي،يہاں تك بعض لوگوں كا كہنا ہے: ”كوئي بھي اہم واقعہ نہيں ہوگا مگر يہ كہ اس ميں عورت كا ہاتھ ضرور ہوگا“!
ہميشہ بازاروں اور گلي كوچوں ميں عرياں پھر كر احساس كو بھڑكانا؛ كيا آگ سے كھيلنا نہيں ہے؟ اور كيا يہ كام عقلمندي ہے؟!
اسلام تو يہ چاہتا ہے كہ مسلمان مرد اور عورت چين و سكون كے ساتھ زندگي بسر كريں اور ان كي آنكھيں اور كان غلط كاموں سے محفوظ رہيں اور اس لحاظ سے مطمئن طور پر زندگي بسر كريں، پردہ كا ايك فلسفہ يہ بھي ہے۔
۲۔ مستند اور قطعي رپورٹ اس چيزكي گواہي ديتي ہيں كہ دنيا بھر ميں جب سے بے پردگي بڑھي ہے اسي وقت سے طلاقوں ميں بھي روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، كيونكہ ”ہر چہ ديدہ بيند دل كند ياد“ انسان جس كا عاشق ہوجاتا ہے اس كو حاصل كرنے كي كوشش كرتا ہے لہٰذا انسان ہر روز ايك دلبركو تلاش كرتا ہے تو دوسرے كو الوداع كہتا ہوا نظر آتا ہے۔
جس معاشرہ ميں پردہ پايا جاتا ہے (اور اسلامي ديگر شرائط كي رعايت كي جاتي ہے) اس ميں يہ رشتہ صرف مياں بيوي ميں ہوتا ہے ان كے احساسات، عشق اور محبت ايك دوسرے كے لئے مخصوص ہوتے ہيں۔
ليكن ”اس آزادي كے بازار“ ميں جبكہ عورتيں ؛ عملي طور پر ايك سامان كي حيثيت ركھتي ہيں (كم از كم جنسي ملاپ كے علاوہ) تو پھر ان كے لئے مياں بيوي كا عہد و پيمان كوئي مفہوم نہيں ركھتا، اور بہت سي شادياں مكڑي كے جالے كي طرح بہت جلد ہي جدائي كي صورت اختيار كرليتي ہيں، اور بچے بے سر پرست ہوجاتے ہيں۔
۳۔ فحاشي كا اس قدر عام ہوجانا اور نا جائز اولاديں پيدا ہونا؛ بے پردگي كے نتيجہ كا ايك معمولي سا درد ہے، جس كے بارے ميں بيان كرنے كي كوئي ضرورت نہيں ہے، يہ مسئلہ خصوصاً مغربي ممالك ميں اس قدر واضح ہے جس كے بارے ميں بيان كرناسورج كو چرا غ دكھاناہے، سبھي لوگ اس طرح كي چيزوں كے بارے ميں ذرائع ابلاغ سے سنتے رہتے ہيں۔
ہم يہ نہيں كہتے كہ فحاشي اور نا جائز بچوں كي پيدائش كي اصل وجہ يہي بے حجابي ہے،ہم يہ نہيں كہتے كہ مغربي ماحول اور غلط سياسي مسائل اس ميں موثر نہيں ہے، بلكہ ہمارا كہنا تو يہ ہے كہ عرياني اور بے پردگي اس كے موثر عوامل اور اسباب ميں سے ايك ہے۔
فحاشي اور ناجائز اولاد كي پيداوار كي وجہ سے معاشرہ ميں ظلم و ستم اور خون خرابہ ميں اضافہ ہوا ہے، جس كے پيش نظر اس خطرناك مسئلہ كے پہلو واضح ہوجاتے ہيں۔
جس وقت ہم سنتے ہيں كہ ايك رپورٹ كے مطابق انگلينڈ ميں ہر سال پانچ لاكھ بچے ناجائز طريقے سے پيدا ہوتے ہيں، اور جب ہم سنتے ہيں كہ انگلينڈ كے بہت سے دانشوروں نے حكومتي عہدہ داروں كو يہ چيلنج ديا ہے كہ اگر يہ سلسلہ جاري رہا تو ملك كي امنيت كو خطرہ ہے، (انھوں نے اخلاقي اور مذہبي مسائل كي بنياد پر يہ چيلنج نہيں كيا ہے) بلكہ صرف اس وجہ سے كہ حرام زادے بچے معاشرہ كے امن و امان كے لئے خطرہ بنے ہوئے ہيں، كيونكہ جب ہميں معلوم ہوتا ہے كہ عدالت كے مقدموں ميں اس طرح كے افراد كا نام پايا جاتا ہے، تو واقعاً اس مسئلہ كي اہميت كا اندازہ ہوتا ہے كہ جو لوگ دين و مذہب كو بھي نہيں مانتے ،اس برائي كے پھيلنے سے وہ بھي پريشان ہيں، لہٰذامعاشرہ ميں جنسي فساد كو مزيد پھيلانے والي چيزمعاشرہ كي امنيت كے لئے خطرہ شمار ہوتي ہے اور اس كے خطر ناك نتائج ہر طرح سے معاشرہ كے لئے نقصان دہ ہيں۔
تربيتي دانشوروں كي تحقيق بھي اسي بات كي عكاسي كرتي ہے كہ جن كالجوں ميں لڑكے اور لڑكياں ايك ساتھ پڑھتے ہيں يا جن اداروں ميں مرد اور عورت ايك ساتھ كام كرتے ہيں اور ان كو ہر طرح كي آزادي ہے تو ايسے كالجوں ميں پڑھائي كم ہوتي ہے اور اداروں ميں كام كم ہوتا ہے اور ذمہ داري كا احساس بھي كم پايا جاتا ہے۔
۴۔ بے پردگي اور عرياني عورت كي عظمت كے زوال كا بھي باعث ہے، اگر معاشرہ عورت كو عرياں بدن ديكھنا چاہے گا تو فطري بات ہے كہ ہر روز اس كي آرائش كا تقاضا بڑھتا جائے گا اور اس كي نمائش ميں اضافہ ہوتا جائے گا، جب عورت جنسي كشش كي بنا پر ساز و سامان كي تشہير كا ذريعہ بن جائے گي ، انتظار گاہوں ميں دل لگي كا سامان ہوگي اور سيّاحوں كو متوجہ كرنے كا ذريعہ بن جائے گي تو معاشرہ ميں اس كي حيثيت كھلونے يا بے قيمت مال و اسباب كي طرح گرجائے گي، اور اس كے شايانِ شان انساني اقدار فراموش ہوجائيں گے، اور اس كا افتخار صرف اس كي جواني، خوبصورتي اور نمائش تك محدود ہوكر رہ جائے گا۔
اس طرح سے وہ چند ناپاك فريب كار انسان نما درندوں كي سر كش ہواو ہوس پوري كرنے كے آلہٴ كار ميں بدل جائے گي!۔
ايسے معاشرہ ميں ايك عورت اپني اخلاقي خصوصيات، علم و آگہي اور بصيرت كے جلووں كو كيسے پورا كرسكتي ہے اور كوئي بلند مقام كيسے حاصل كرسكتي ہے؟!
واقعاً يہ بات كتني تكليف دِہ ہے كہ مغربي اور مغرب زدہ ممالك ميں عورت كا مقام كس قدر گرچكا ہے خود ہمارے ملك ايران ميں انقلاب سے پہلے يہ حالت تھي كہ نام، شہرت، دولت اور حيثيت ان چند ناپاك اور بے لگام عورتوں كے لئے تھي جو ”فنكار“ اور آرٹسٹ كے نام سے مشہور تھيں، جہاں وہ قدم ركھتي تھيں اُس گندے ماحول كے ذمہ دار اُن كے لئے آنكھيں بچھاتے تھے اور انھيں خوش آمديد كہتے تھے۔
اللہ كا شكر ہے كہ ايران ميں وہ سب گندگي ختم كردي گئي اور عورت اپنے اس دور سے نكل آئي ہے جس ميں اسے رُسوا كرديا گيا تھا، اور وہ ثقافتي كھلونے اور بے قيمت ساز و سامان بن كر رہ گئي تھي، اب اس نے اپنا مقام و وقار دوبارہ حاصل كرليا ہے اور اپنے كو پردہ سے ڈھانپ ليا ہے ليكن ايسا نہيں ہے كہ وہ گوشہ نشين ہوگئي ہو، بلكہ معاشرہ كے تمام مفيد اور اصلاحي كاموں ميں يہاں تك كہ ميدان جنگ ميں اسي اسلامي پردے كے ساتھ بڑي بڑي خدمات انجام دے رہي ہيں۔
حجاب كے مخالفين كے اعتراضات
(قارئين كرام!) ہم يہاں پر حجاب كے مخالفين كے اعتراضات كو بيان كرتے ہيں اور مختصر طور پر ان كے جوابات بھي پيش كرتے ہيں:
۱۔ حجاب كے مخالفين كا سب سے بڑا اعتراض يہ ہے كہ معاشرہ ميں تقريباً نصف عورتيں ہوتي ہيں ليكن حجاب كي وجہ سے يہ عظيم جمعيت گوشہ نشين اور طبعي طور پر پسماندہ ہوجائے گي ، خصوصاً جب انسان كو كاروبار كي ضرورت ہوتي ہے اور انساني كار كردگي كي ضرورت ہوتي ہے، تو اگر عورتيں پردہ ميں رہيں گي تو اقتصادي كاموں ميں ان سے فائدہ نہيں اٹھايا جاسكتا، نيز ثقافتي اور اجتماعي اداروں ميں ان كي جگہ خالي رہے گي! اس طرح وہ معاشرہ ميں صرف خرچ كريں گي اور معاشرہ كے لئے بوجھ بن كر رہ جائيں گي۔
ليكن جن لوگوں نے يہ اعتراض كيا ہے وہ چند چيزوں سے غافل ہيں يا انھوں نے اپنے كو غافل بنا ليا ہے، كيونكہ:
اولاً : يہ كون كہتا ہے كہ اسلامي پردہ كي وجہ سے عورتيں گوشہ نشين اور معاشرہ سے دور ہوجائيں گي؟ اگر گزشتہ زمانہ ميں اس طرح كي دليل لانے ميں زحمت تھي تو آج اسلامي انقلاب (ايران) نے ثابت كر دكھايا ہے كہ عورتيں اسلامي پردہ ميں رہ كر بھي معاشرہ كے لئے بہت سے كام انجام دے سكتي ہيں، كيونكہ ہم نے خود اپني آنكھوں سے ديكھا ہے كہ خواتين ؛اسلامي پردہ كي رعايت كرتے ہوئے معاشرہ ميں ہر جگہ حاضر ہيں، اداروں ميں، كار خانوں ميں، سياسي مظاہروں ميں، ريڈيو اور ٹيلي ويژن ميں، ہسپتالوں ميں، كلينكوں ميں، خصوصاً جنگ كے دوران جنگي زخميوں كي مرہم پٹي اور ان كي نگہداشت كے لئے، مدرسوں اور يونيورسٹيوں ميں، دشمن كے مقابلہ ميں ميدان جنگ ميں، خلاصہ ہر مقام پر عورتوں نے اپنا كردار ادا كيا ہے۔
مختصر يہ كہ موجودہ حالات خوداس اعتراض كا دندان شكن جواب ہيں، اگرچہ ہم گزشتہ زمانہ ميں ان جوابات كے لئے ”امكان“ كي باتيں كرتے تھے (يعني عورتيں پردہ ميں رہ كر كيا اجتماعي امور كو انجام دے سكتي ہيں) ليكن آج كل يہ ديكھ رہے ہيں، اور فلاسفہ كا كہنا ہے كہ كسي چيز كے امكان كي دليل خود اس چيز كا واقع ہونا ہے، يہ بات خود آشكار ہے اس كے بيان كرنے كي ضرورت نہيں ہے۔
ثانياً: اگر ان چيزوں سے قطع نظر كريں تو كيا عورتوں كے لئے گھر ميں رہ كر بچوں كي تربيت كرنا اور ان كو آئندہ كے لئے بہترين انسان بنانا تاكہ معاشرہ كے لئے بہترين اور مفيد واقع ہوں، كيا يہ ايك بہتر ين اور مفيد كام نہيں ہے؟
جو لوگ عورتوں كي اس ذمہ داري كو مثبت اور مفيد كام نہيں سمجھتے، تو پھر وہ لوگ تعليم و تربيت، صحيح و سالم اور پر رونق معاشرہ كي اہميت سے بے خبر ہيں، ان لوگوں كا گمان ہے كہ مردو عورت مغربي ممالك كي طرح اداروں اور كارخانوں ميں كام كرنے كے لئے نكل پڑيں اور اپنے بچوں كو شير خوار گاہوں ميں چھوڑ ديں، يا كمرہ ميں بند كركے تالا لگا ديا جائے اور ان كو اسي زمانہ سے قيد كي سختي كا مزا چكھاديں۔
وہ لوگ اس چيز سے غافل ہيں كہ اس طرح بچوں كي شخصيت اور اہميت درہم و برہم ہوجاتي ہے، بچوں ميں انساني محبت پيدا نہيں ہوتي،جس سے معاشرہ كو خطرہ در پيش ہوگا۔
۲۔ پردہ كے مخالفين كا دوسرا اعتراض يہ ہے كہ پردہ كے لئے برقع يا چادر كے ساتھ اجتماعي كاموں كو انجام نہيں ديا جاسكتا خصوصاً آج جبكہ ماڈرن گاڑيوں كا دور ہے، ايك پردہ دار عورت اپنے كو سنبھالے يا اپني چادر كو ، يا اپنے بچہ كو يا اپنے كام ميں مشغول رہے؟!۔
ليكن يہ اعتراض كرنے والے اس بات سے غافل ہيں كہ حجاب ہميشہ برقع ياچادر كے معني ميں نہيں ہے بلكہ حجاب كے معني عورت كا لباس ہے اگر چادر سے پردہ ہوسكتا ہو تو بہتر ہے ورنہ اگر امكان نہيں ہے تو صرف اسي لباس پر اكتفا كرے (يعني صرف اسكاف كے ذريعہ اپنے سر كے بال اور گردن وغيرہ كو چھپائے ركھيں)
ہمارے ديہي علاقوں كي عورتوں نے زراعتي كاموں ميں اپنا پردہ با قي ركھتے ہو ئے يہ ثابت كردكھايا ہے كہ ايك بستي كي رہنے والي عورت اسلامي پردہ كي رعايت كرتے ہوئے بہت سے اہم كام بلكہ مردوں سے بہتر كام كرسكتي ہيں، اور ان كا حجاب ان كے كام ميں ركاوٹ نہيں بنتا۔
۳۔ ان كا ايك اعتراض يہ ہے كہ پردہ كي وجہ سے مرد اور عورت ميں ايك طرح سے فاصلہ ہوجاتا ہے جس سے مردوں ميں ديكھنے كي طمع بھڑكتي ہے، اور ان كے جذبات مزيد شعلہ ور ہوتے ہيں كيونكہ ”الإنسَانُ حَرِيصٌ عَلٰي مَا مُنِعَ“!( جس چيز سے انسان كو روكا جاتا ہے اس كي طرف مزيد دوڑتا ہے) اس اعتراض كا جواب يا صحيح الفاظ ميں يہ كہا جائے كہ اس مغالطہ كا جواب يہ ہے كہ آج كے معاشرہ كا شاہ كے زمانہ سے موازنہ كيا جائے آج ہر ادارہ ميں پردہ حكم فرما ہے، اور شاہ كے زمانہ ميں عورتوں كو پردہ كرنے سے روكا جاتا تھا۔
اس زمانہ ميں ہر گلي كوچہ ميں فحاشي كے اڈے تھے، گھروں ميں بہت ہي عجيب و غر يب ماحول پايا جاتا تھا، طلاق كي كثرت تھي ناجائز اولاد كي تعداد زيادہ تھي، وغيرہ وغيرہ۔
ہم يہ نہيں كہتے كہ اب يہ تمام چيزيں بالكل ختم ہوگئي ہيں ليكن بے شك اس ميں بہت كمي واقع ہوئي ہے، ہمارے معاشرہ ميں بہت سدھار آيا ہے اور اگر فضل خدا شامل حال رہا اور يہي حالات باقي رہے اور دوسري مشكلات بر طرف ہو گئي تو ہمارا معاشرہ اس برائي سے بالكل پاك ہوجائے گا اور عورت كي اہميت اجاگر ہوتي جائے گي۔(1)

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۴۴۲
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك