سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:691

اسلام خواتين كے لئے كن حقوق كا قائل ہے؟

ظہور اسلام اور اس كي مخصوص تعليمات كے ساتھ عورت كي زندگي ايك نئے مرحلہ ميں داخل ہوئي جوپہلے مراحل سے بہت مختلف تھي، يہ وہ دور تھا جس ميں عورت مستقل اور تمام انفرادي، اجتماعي اور انساني حقوق سے فيض ياب ہوئي، عورت كے سلسلہ ميں اسلام كي بنيادي تعليمات وہي ہيں جن كا ذكر قرآني آيات ميں ہوا ہے، جيسا كہ ارشاد خداوندي ہوتا ہے: <لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْہِنَّ بِالْمَعْرُوف>(1) ” عورتوں كے لئے ويسے ہي حقوق بھي ہيں جيسي ذمہ دارياں ہيں“۔
اسلام عورت كو مرد كي طرح كامل انساني روح ،ارادہ اور اختيار كا حامل سمجھتا ہے اور اسے سيرِ تكامل اور ارتقا كے عالم ميں ديكھتا ہے جو مقصد خلقت ہے، اسي لئے اسلام دونوں كو ايك ہي صف ميں قرار ديتا ہے اور دونوں كو ”يا ايہا الناس“ اور ”يا ايہا الذين آمنوا“ كے ذريعہ مخاطب كرتا ہے، اسلام نے دونوں كے لئے تربيتي، اخلاقي اور عملي پروگرام لازمي قرار دئے ہيں، ارشاد الٰہي ہوتا ہے:
<وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ اٴَوْ اٴُنْثَي وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ>(2)
”اور جو نيك عمل كرے گا چاہے وہ مرد ہو يا عورت بشرطيكہ صاحب ايمان بھي ہو اسے جنت ميں داخل كيا جائے گا“۔
ايسي سعادتيں دونوں صنف حاصل كرسكتي ہيں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
< مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ اٴَوْ اٴُنثَي وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّہُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّہُمْ اٴَجْرَہُمْ بِاٴَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ>(3)
”جو شخص بھي نيك عمل كرے گا وہ مرد ہو يا عورت بشرطيكہ صاحب ايمان ہو ہم اسے پاكيزہ حيات عطا كريں گے اور انھيں ان اعمال سے بہتر جزا ديں گے جو وہ زندگي ميں انجام دے رہے تھے“۔
مذ كورہ آيات اس بات كو واضح كرديتي ہيں كہ مرد ہو يا عورت اسلامي قوانين و اعمال پر عمل كرتے ہوئے معنوي اور مادي كمال كي منزلوں پر فائز ہوسكتے ہيں اور ايك طيب و طاہر زندگي ميں قدم ركھ سكتے ہيں جو آرام و سكون كي منزل ہے۔
اسلام عورت كو مرد كي طرح مكمل طور پر آزاد سمجھتا ہے ، جيسا كہ ارشاد الٰہي ہوتا ہے:
<كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَہِينَةٌ > (4)”ہر نفس اپنے اعمال كا رہين ہے“۔
يا ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اٴَسَاءَ فَعَلَيْہَا>(5)”جو بھي نيك عمل كرے گا وہ اپنے لئے كرے گا اور جو بُرا كرے گا اس كا ذمہ دار بھي وہ خود ہي ہوگا“۔
اسي طرح يہ آيت بھي مرد اور عورت دونوں كے لئے ہيں، اسي لئے سزا كے بارے ميں قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
<الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِاٴةَ جَلْدَةٍ>(6)
”زنا كار عورت اور زنا كار مرد دونوں كو سو سو كوڑے لگائے جا ئيں“۔
اس كے علاوہ ديگر آيات ميں بھي ايك جيسے گناہ پردونوں كے لئے ايك جيسي سزا كا حكم سنايا گيا ہے۔
ارادہ و اختيار سے استقلال پيدا ہوتا ہے، اور اسلام يہي استقلال اقتصادي حقوق ميں بھي نافذ كرتا ہے، اسلام بغير كسي ركاوٹ كے عورت كو اس بات كي اجازت ديتا ہے كہ وہ ہر قسم كے مالي معاملات انجام دے اور عورت كو اس سرمايہ كا مالك شمار كرتا ہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
<ٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ>(7)
”مردوں كے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے كمايا ہے اور عورتوں كے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے كمايا ہے“۔
لغت ميں ”اكتساب“ كے معني كسب اور حاصل كرنے كے ہيں،(8) اسي طرح ايك دو سرا قانون كلي ہے:
”النَّاسُ مُسَلِّطُونَ عَلَي اٴمْوَالِھِمْ“ يعني تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہيں۔
اس قانون كے پيش نظر يہ معلوم ہوتا ہے كہ اسلام عورت كے اقتصادي استقلال كا احترام كرتا ہے اور عورت مرد ميں كسي فرق كا قائل نہيں ہے۔
خلاصہ يہ كہ اسلام كي نظر ميں عورت؛ معاشرہ كا ايك بنيادي ركن ہے اسے ايك بے ارادہ، محكوم ، سر پرست كا محتاج سمجھنا خيال خام ہے۔
مساوات كے معني ميں غلط فہمي نہ ہو:
اسلام نے مساوات كي طرف خاص توجہ دي ہے اور ہميں بھي متوجہ ہونا چاہئے ليكن خيال رہے كہ بعض لوگ بے سوچے سمجھے جذبات ميں آكر افراط و تفريط كا شكار ہوجاتے ہيں اور مرد و عورت كے روحاني و جسماني فرق اور ان كي ذمہ داريوں كے اختلاف تك سے انكار كر بيٹھتے ہيں۔
ہم جس چيز كا چاہيں انكار كريں تاہم اس حقيقت كا انكار نہيں كرسكتے كہ دو صنفوں ميں جسماني اور روحاني طور پر بہت فرق ہے، مختلف كتابوں ميں اس كي تفصيلات موجود ہيں ،يہاں اس كي تكرار كي ضرورت نہيں، خلاصہ يہ كہ عورت وجودِ انساني كي پيدائش كا ظرف ہے، نونہالوں كا رشد اسي كے دامن ميں ہوتا ہے، جيسے وہ جسماني طور پر آنے والي نسلوں كي پيدائش ،تربيت اور پرورش كے لئے پيدا كي گئي ہے اسي طرح روحاني طور پر بھي اسے عواطف ،احساسات اور جذبات كا زيادہ حصہ ديا گيا ہے ۔
ان وسيع اختلافات كے باوجود كيا يہ كہا جا سكتا ہے كہ مرد عورت كو تمام حالات ميں ہم قدم ہونا چاہئے اور تمام كاموں ميں سو فيصد مساوي ہونا چاہئے ؟!
كيا عدالت اور مساوات كے حاميوں كو معاشرے كے تقاضوں كے حوالے سے بات كرنا چاہئے ؟كيا يہ عدالت نہيں ہے كہ ہر شخص اپني ذمہ داري پوري كرے اوراپنے وجود كي نعمتوں اور خوبيوں سے فيض ياب ہو؟اس لئے كيا عورت كا ايسے كاموں ميں دخل اندازي كرنا جو اس كي روح اورجسم سے مناسبت نہيں ركھتے ،خلاف ِعدالت نہيںہے!
يہي وہ مقام ہے جہاں ہم ديكھتے ہيں كہ اسلام جو عدالت كا طرفدار ہے كئي ايك اجتماعي كاموں ميں سختي يا زيادہ دقتِ نظروالے كاموں مثلاً گھر كے معاملات كي سر پرستي وغيرہ ميں مرد كو مقدم ركھتا ہے اور معاونت وكمك كا مقام عورت كے سپرد كر ديتا ہے ۔
ايك گھر اور ايك معاشرے كومنتظم ہونے كي ضرورت ہو تي ہے اور نظم و ضبط كا آخري مرحلہ ايك ہي شخص كے ذريعہ انجام پانا چاہئے ورنہ كشمكش اور بے نظمي پيدا ہوگي۔
اگر تمام تعصبات سے بے نياز ہو كر غور كيا جائے تو يہ واضح ہو جا ئے گا كہ مرد كي ساخت كے پيش نظر ضروري ہے كہ گھر كي سر پرستي اس كے ذمہ كي جائے اور عورت اس كي معاون ہو، اگر چہ كچھ لوگ ان حقائق سے چشم پوشي اختيار كرنے پرمُصر ہيں۔
آج كي دنيا ميں بھي بلكہ ان اقوام ميں بھي جو عورتوں كو مكمل آزادي ومساوات دينے كا دعويٰ كرتے ہيں،خارجي حالات زندگي اس بات كي نشاندہي كرتے ہيں كہ عملي طور پر وہي بات ہے جوہم بيان كر چكے ہيں اگر چہ باتيں اس كے برخلاف بناتے ہيں۔(9)
عورت اور مرد كے معنوي اقدار قرآن مجيد نے مرد و عورت كو بارگاہ خداوندي اور معنوي مقامات كے لحاظ سے برابر شمار كيا ہے، اور جنس و جسماني اختلاف ، نيزاجتماعي ذمہ داريوں كے اختلاف كو ترقي و كمال كي منزل حاصل كرنے كے لئے دليل شمار نہيں كيا ہے بلكہ اس لحاظ سے دونوں كو بالكل برابر قرار ديا ہے، اسي وجہ سے دونوں كا ايك ساتھ ذكر كيا ہے، قرآن مجيد كي بہت سي آيات اس وقت نازل ہوئي ہيں جس زمانہ ميں متعدد اقوام و ملل عورت كو انسان سمجھنے ميں شك كرتي تھيں اور اس كو نفرت و ذلت كي نگاہ سے ديكھا جاتا تھا نيز عورت كو گناہ ، انحراف اور موت كا سر چشمہ سمجھا جاتا تھا!!
بہت سي گزشتہ اقوام تو يہاں تك مانتي تھي كہخداوندعالم كي بارگاہ ميں عورت كي عبادت قبول نہيں ہے، بہت سے يوناني عورت كے وجود كو پست و ذليل اور شيطاني عمل جانتے تھے، روميوں اور بعض يونانيوں كايہ بھي عقيدہ تھا كہ عورت ميں انسان كي روح نہيں ہوتي بلكہ انساني روح صرف اور صرف مرد ميں ہوتي ہے۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ انھيں آخري صديوں ميں اسپين كے عيسائي علمااس سلسلہ ميں بحث و گفتگو كرتے تھے كہ كيا عورت؛ مرد كي طرح انساني روح ركھتي ہے يا نہيں يا مرنے كے بعد اس كي روح جاويداں ہوجاتي ہے يا نہيں؟ اور بحث و گفتگو كے بعد اس نتيجہ پر پہنچے : چونكہ عورت كي روح؛ انسان و حيوان كے درميان برزخ ہے (يعني ايك حصہ انساني روح ہے تو ايك حصہ حيواني روح) لہٰذا اس كي روح جاويداني نہيں ہے سوائے جناب مريم كے۔(10)
يہاں سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ يہ تہمتيں جيسا كہ اسلام كو صحيح طور پر نہ سمجھنے والے افراد اعتراض كرديتے ہيں كہ اسلام تو صرف مردوں كا دين ہے ، عورتوں كا نہيں، واقعاً يہ بات كس قدر بيہودہ ہے، اصولي طور پر اگر عورت مرد كے جسمي اور عاطفي اور اجتماعي ذمہ داري كے فرق كے پيش نظر اسلامي قوانين پر غور و فكر كيا جائے تو عورت كي اہميت اور عظمت پر ذرا بھي حرف نہيں آئے گا، اور اس لحاظ سے عورت مرد ميں ذرا بھي فرق نہيں پايا جاتا، سعادت و خوشبختي كے دروازے دونوں كے لئے كھلے ہيں جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: <بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ> (سب ايك جنس اور ايك معاشرہ سے تعلق ركھتے ہيں)(11)

(1) سورہ بقرہ ،آيت۲۲۸ (2)سور ہ ٴغافر(مومن)، آيت ۴۰
(3)سورہٴ نحل ، آيت ۹۷
(4)سورہ مدثر ، آيت ۳۸
(5) سورہ فصلت ، آيت ۴۶
(6) سورہ نور ، آيت نمبر ۲
(7) سورہ نساء ، آيت ۳۲
(8)ديكھئے مفردات راغب اصفہاني ،البتہ يہ نكتہ اس وقت ہے جب ”كسب“ اور ”اكتساب“ايك ساتھ استعمال ہو
(9) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۱۳
(10) ”و سٹر مارك“ ، عذر تقصير بہ پيشگاہ محمد (ص)، اور ”حقوق زن در اسلام“ اور اس سلسلہ ميں دوسري كتابيں ديكھٴے
(11) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۲۲۳
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك