سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:363

جہاد كا مقصد كيا ہے؟ اور ابتدائي جہاد كس لئے؟

اسلامي جہاد كو تين حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے۔
۱۔ ابتدائي جہاد (آزادي كے لئے)
خداوندعالم نے انسان كي سعادت و خوشبختي، آزادي اور كمال تك پہنچنے كے لئے احكام بيان كئے ہيں، اور اپنے مرسلين كو ذمہ داري دي ہے تاكہ يہ احكام لوگوں تك پہنچائيں، اب اگر كوئي شخص يا كوئي گروہ اسلامي احكام كو اپنے منافع ميں مزاحم سمجھے اور ان كے پہچانے ميں مانع اور ركاوٹ بنے تو انبياء عليہم السلام كو اس بات كا حق ہے كہ پہلے انھيں گفتگو كے ذريعہ سمجھائے اور اگر ايسا ممكن نہ ہو تو طاقت كے ذريعہ ان كو راستہ سے ہٹا ديں اور آزاد طريقہ سے تبليغ كے فر ائض انجام ديں۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ ہر معاشرہ كے لوگوں كا حق ہے كہ وہ راہ حق كے منادي افراد كي ندا كو سنيں اور اس دعوت كے قبول كرنے ميں آزاد ہوں، لہٰذا اگر كوئي ان كو اس جائز حق سے محروم كرنا چاہے اور ان كو راہ خدا كے منادي افرادكي آواز سننے سے روكے ، تو ان كو يہ حق ہے كہ اس آزادي كو حاصل كرنے كے لئے كسي بھي طاقت كا سہار ا ليں، يہيں سے اسلام اور ديگر آسماني اديان ميں ”ابتدائي جہاد “ كي ضرورت واضح و روشن ہوجاتي ہے۔
اور اسي طرح اگر كچھ لوگ مومنين پر دباؤ ڈاليں كہ وہ اپنے گزشتہ مذہب كي طرف لوٹ جائيں تو اس موقع پر بھي كسي طاقت كا سہارا ليا جاسكتا ہے۔
۲۔ دفاعي جہاد :
اگر كسي شخص يا گروہ پر دشمن كي طرف سے حملہ كيا جاتا ہے تو اس موقع پر تمام آسماني اور انساني قوانين اس بات كا حق ديتے ہيں كہ انسان اپنے دفاع كے لئے اٹھ كھڑا ہو اور اپنے دفاع كے لئے اپني پوري طاقت لگادے، اور اپني حفاظت كے لئے كوئي بھي حربہ اپنانے ميں چون و چرانہ كرے، اس قسم كے جہاد كو ”دفاعي جہاد“ كہا جاتا ہے، اسلام كي مختلف جنگيں اسي طرح كي تھيں جيسے جنگ احزاب، جنگ احد، جنگ موتہ، جنگ تبوك، جنگ حنين وغيرہ، يہ تمام جنگيں دفاعي پہلو ركھتي تھيں۔
۳۔ كفر اور شرك كي نابودي كے لئے جہاد
اسلام ؛ اگرچہ دنيا بھر كے لوگوں كو اس دين (جو سب سے عظيم اور آخر ي دين ہے)كے انتخاب كے لئے دعوت ديتا ہے ليكن ان كے عقيدہ كي آزادي كا احترام كرتا ہے اسي وجہ سے جو اقوام آسماني كتاب ركھتي ہيں ان كو اسلام قبول كرنے كے لئے غور و فكر كے لئے كافي فرصت ديتا ہے، او راگر انھوں نے اسلام قبول نہ كيا تو ان كے ساتھ ايك ”ہم پيمان اقليت“ كے عنوان سے معاملہ كرتا ہے اور خاص شرائط كے تحت (جو نہ مشكل ہيں اور نہ پيچيدہ) ان كے ساتھ آرام و سكون كي زندگي بسر كرنے كا سبق ديتا ہے۔
ليكن كفر و شر ك نہ دين ہے ،نہ كوئي مذہب اور نہ ہي قابل احترام ہے، بلكہ ايك قسم كي خرافات، انحراف اور حماقت ہے، در اصل ايك فكري اور اخلاقي بيماري ہے جس كو كسي نہ كسي طرح ختم ہونا چاہئے۔
دوسروں كي ”آزادي“ اور ”احترام“كي بات ان مقامات پركيجا تي ہے جہاں فكر و عقيدہ ميں كوئي ايك صحيح اصل پائي جاتي ہو ليكن انحرافات، گمراہي اور فكري بيماري قابل احترام نہيں ہے اسي وجہ سے اسلام كا حكم ہے كہ كفر و شرك كا دنيا بھر سے نام و نشان تك مٹا ديا جائے ،چاہے جنگ كرني پڑے، اگر بت پرستي كے بُرے آثار گفتگو كے ذريعہ ختم نہ ہوں تو جنگ كے ذريعہ ان كا خاتمہ كرديا جائے۔(1)
ہماري مذكورہ باتوں سے گرجا گھروں كے زہريلے پروپيگنڈے كا جواب بھي واضح ہوجاتا ہے كيونكہ اس سلسلہ ميں <لاَ اِكْرَاہَ فِي الدِّينِ>(2)سے واضح آيت قرآن مجيد ميں موجود نہيں ہے۔
البتہ وہ لوگ اسلامي جہاد اور اسلامي جنگوں ميں تحريف كرنے كے لئے مختلف بہانہ بازي كرتے ہيں جبكہ اسلامي جنگوں كي تحقيق سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ ان ميں سے بہت سي جنگيں دفاعي پہلو ركھتي تھيں اور بعض وہ جنگيں جو ”ابتدائي جہاد “ كي صورت ميں تھيں وہ بھي دوسرے ملكوں پر غلبہ كرنے اور مسلمانوں كو طاقت كے بل پر اسلام قبول كرانے كے لئے نہيں تھي بلكہ اس ملك ميں حكم فرما ظالمانہ نظام كے خاتمہ كے لئے تھيں تاكہ اس ملك كے با شندے مذہب قبول كرنے ميں آزاد رہيں۔
اس گفتگو پر تاريخ اسلام گواہ ہے،جن ميں يہ بات بارہا بيان كي گئي ہے كہ جب مسلمان كسي ملك كو فتح كرتے تھے تودوسرے مذاہب كے پيرووٴں كو مسلمانوں كي طرح آزادي ديتے تھے اور اگر ان سے ايك معمولي جزيہ حاصل كرتے تھے جو امنيت اور حافظ امنيت لشكر كے خرچ كے لئے ہوتا تھا كيونكہ ان كي جان و مال اور ناموس اسلام كي حفاظت ميں تھي يہاں تك كہ وہ اپنے ديني پروگرام كرنے ميں بھي آزاد تھے۔
تاريخ اسلام كا مطالعہ كرنے والے افراد اس حقيقت كو جانتے ہيں يہاں تك كہ اسلام كے بارے ميں تحقيق كرنے والے اور كتاب لكھنے والے عيسائي محققين نے بھي اس حقيقت كا اعتراف كيا ہے مثلاً كتاب ”تمدن اسلام و عرب“ ميں تحرير ہے: ”دوسرے مذاہب كے ساتھ مسلمانوں كا طريقہٴ كار اتنا ملائم تھا كہ مذہبي روٴساء كو مذہبي پروگرام كرنے كي اجازت تھي“۔
يہاں تك كہ بعض اسلامي تاريخ ميں يہ بھي بيان ہوا ہے كہ جو عيسائي اسلامي تحقيق كے لئے پيغمبر اكرم (ص) كي خدمت ميںحاضر ہوتے تھے اپني مذہبي دعاؤں كا پروگرام آزادطريقے سے مسجد النبي(مدينہ) ميں انجام ديا كرتے تھے۔(3)

(1) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۵
(2) سورہ بقرہ ، آيت ۲۵۶، ترجمہ: ”دين (قبول كرنے) ميں كوئي جبر نہيں ہے“
(3) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۲۰۵
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك