سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:420

فلسفہ اور اسرار حج كيا ہيں؟

حج كے يہ عظيم الشان مناسك در اصل چار پہلو ركھتے ہيں، ان ميں سے ہر ايك دوسرے سے اہم اور مفيد تر ہے:
۱۔ حج كا اخلاقي پہلو: حج كا سب سے مہم ترين فلسفہ يہي اخلاقي انقلاب ہے جو حج كرنے والے ميںرونما ہوتا ہے، جس وقت انسان ”احرام“ باندھتا ہے تو ظاہري امتيازات، رنگ برنگ كے لباس اور زر و زيور جيسي تمام ماديات سے باہر نكال ديتا ہے، لذائذ كا حرام ہونا اور اصلاح نفس ميں مشغول ہونا (جو كہ مُحرِم كا ايك فريضہ ہے) انسان كو ماديات سے دور كرديتا ہے اور نور و پاكيزگي اور روحانيت كے عالم ميں پہنچا ديتا ہے اور عام حالات ميں خيالي امتيازات اور ظاہري افتخارات كے بوجھ كو اچانك ختم كرديتا ہے جس سے انسان كو راحت اور سكون حا صل ہوتاہے۔
اس كے بعد حج كے دوسرے اعمال يكے بعد ديگرے انجام پاتے ہيں، جن سے انسان ،خدا سے لمحہ بہ لمحہ نزديك ہوتا جاتا ہے اور خدا سے رابطہ مستحكم تر ہوتا جاتا ہے، يہ اعمال انسان كوگزشتہ گناہوں كي تاريكي سے نكال كر نور وپاكيزگي كي وادي ميں پہنچا ديتے ہيں۔
حج كے تمام اعمال ميں قدم قدم پر بت شكن ابراہيم، اسماعيل ذبيح اللہ اور ان كي مادر گرامي جناب ہاجرہ كي ياد تازہ ہوتي ہے جس سے ان كا ايثار اور قرباني انسان كي آنكھوں كے سامنے مجسم ہوجاتي ہے ، اور اس بات پر بھي توجہ كہ رہے سرزمين مكہ عام طور پر اور مسجد الحرام و خانہ كعبہ خاص طور پر پيغمبر اسلام (ص) ،ائمہ عليہم السلام اور صدر اسلام كے مسلمانوں كے جہاد كي ياد تازہ كرديتے ہيں،چنانچہ يہ اخلاقي انقلاب عميق تر ہوجاتا ہے گويا انسان مسجد الحرام اور سر زمين مكہ كے ہر طرف اپنے خيالات ميں پيغمبر اكرم (ص) ،حضرت علي عليہ السلام اور ديگر ائمہ عليہم السلام كے نوراني چہروں كي زيارت كرتا ہے اور ان كي دل نشين آواز كو سنتا ہے۔
جي ہاں! يہ تمام چيزيں مل كر انسان كے دل ميں ايك روحي اور اخلاقي انقلاب پيدا كرديتي ہيں گويا انساني زندگي كي ناگفتہ بہ حالت كے صفحہ كو بند كرديا جاتا ہے اور اس كي بہترين زندگي كا نيا صفحہ كھل جاتا ہے۔
يہ بات بلا وجہ اسلامي روايات ميں بيان نہيں ہوا ہے كہ ”يُخْرِجُ مِنْ ذُنُوبِہِ كَھَيئَتہ يَوم وُلِدتُّہُ اٴُمُّہُ!“(1) ”حج كرنے والا اپنے گناہوں سے اس طرح پاك ہوجاتا ہے جيسے ابھي شكم مادر سے پيدا ہوا ہو“۔
جي ہاں! حج مسلمانوں كے لئے ايك نئي پيدائش ہے جس سے انسان كي زندگي كا نيا دور شروع ہوتا ہے۔
البتہ يہ تمام آثار و بركات ان لوگوں كے لئے نہيں ہيں جن كا حج صرف ظاہري پہلو ركھتا ہے جو حج كي حقيقت سے دور ہبں، اور نہ ہي ان لوگوں كے لئے جو حج كو ايك سير و تفريح سمجھتے ہيں يا رياكاري اور سامان كي خريد و فرو خت كے لئے جاتے ہيں ، اور جنھيں حج كي حقيقت كا علم نہيں ہے، ايسے لوگوں كا حج ميں وہي حصہ ہے جو انھوں نے حاصل كرليا ہے!
۲۔ حج كا سياسي پہلو: ايك عظيم الشان فقيہ كے قول كے مطابق : حج در عين حال كہ خالص ترين اور عميق ترين عبادت ہے، اس كے ساتھ اسلامي اغراض و مقاصد تك پہنچنے كے لئے بہترين وسيلہ ہے۔
روحِ عبادت ،خدا پر توجہ كرنا،روحِ سياست يعني خلق خدا پر توجہ كرنا ہے اور يہ دونوں چيزيں حج كے موقع پر ايك دوسرے كے ساتھ متحد ہيں!
حج مسلمانوں كي صفوں ميں اتحاد كا بہترين سبب ہے۔
حج نسل پرستي اور علاقائي طبقات كے فرق كو ختم كرنے كے لئے بہترين ذريعہ ہے۔
حج اسلامي ممالك ميں فوجي ظلم و ستم كے خاتمہ كا وسيلہ ہے۔
حج اسلامي ممالك كي سياسي خبروں كو دوسرے مقامات تك پہنچانے كا وسيلہ ہے، خلاصہ يہ كہ حج؛ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور استعمار كي زنجيروں كو كاٹنے اور مسلمانوں كو آزادي دلانے كا بہترين ذريعہ ہے۔
اور يہي وجہ ہے كہ حج كے موسم ميں بني اميہ اور بني عباس جيسي ظالم و جابر حكومتيں اس موقع پر حجاج كي ملاقاتوں پر نظر ركھتي تھيں تاكہ آزادي كي تحريك كو وہيں كچل ديا جائے، كيونكہ حج كا موقع مسلمانوں كي آزادي كے لئے بہترين دريچہ تھا تاكہ مسلمان جمع ہوكر مختلف سياسي مسائل كو حل كريں۔
حضرت امير المومنين علي عليہ السلام جس وقت فرائض اور عبادات كا فلسفہ بيان كرتے ہيں تو حج كے بارے ميں فرماتے ہيں: ”الحَجُّ تَقْوِيَةُ لِلدِّينِ“(2) (خداوندعالم نے حج كو آئين اسلام كي تقويت كے لئے واجب قرار ديا ہے)
بلا وجہ نہيں ہے كہ ايك غير مسلم سياست داں اپني پُر معني گفتگو ميں كہتا ہے: ”وائے ہو مسلمانوں كے حال پر اگر حج كے معني كو نہ سمجھيں اور وائے ہو اسلام كے دشمنوں پر كہ اگر حج كے معني كوسمجھ ليں“!
يہاں تك اسلامي روايات ميں حج كو ضعيف او ركمزور لوگوں كا جہاد قرار ديا گيا ہے اور ايك ايسا جہاد جس ميں كمزور ضعيف مرد اور ضعيف عورتيں بھي حاضر ہوكر اسلامي شان و شوكت ميں اضافہ كرسكتي ہيں، اور خانہ كعبہ ميں نماز گزراوں ميں شامل ہوكر تكبير اور وحدت كے نعروں سے اسلامي دشمنوں كو خوف زدہ كرسكتے ہيں۔
۳۔ ثقافتي پہلو: مسلمانوں كا ايام حج ميں دنيا بھر كے مسلمانوں سے ثقافتيرابطہ اور فكر و نظر كے انتقال كے لئے بہترين اور موثر ترين عامل ہوسكتا ہے۔
خصوصاً اس چيز كے پيش نظر كہ حج كا عظيم الشان اجتماع دنيا بھر كے مسلمانوں كي حقيقي نمائندگي ہے (كيونكہ حج كے لئے جانے والوں كے درميان كوئي مصنوعي عامل موثر نہيں ہے، اور تمام قبائل، تمام زبانوں كے افراد حج كے لئے جمع ہوتے ہيں)
جيسا كہ اسلامي روايات ميں بيان ہوا ہے كہ حج كے فوائد ميں سے ايك فائد ہ يہ ہے كہ اس كے ذريعہ پيغمبر اكرم (ص) كي احاديث اور اخبار ؛عالم اسلام ميں نشر ہوں۔
”ہشام بن حكم“ حضرت امام صادق عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ہيں كہتے ہيں: ميں نے امام عليہ السلام سے فلسفہٴ حج اور طواف كعبہ كے بارے ميں سوال كيا تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”خداوندعالم نے ان تمام بندوں كو پيدا كيا ہے اور دين و دنيا كي مصلحت كے پيش نظر ان كے لئے احكام مقرر كئے، ان ميں مشرق و مغرب سے (حج كے لئے) آنے والے لوگوں كے لئے حج واجب قرار ديا تاكہ مسلمان ايك دوسرے كو اچھي طرح پہچان ليں اور اس كے حالات سے باخبر ہوں، ہر گروہ ايك شہر سے دوسرے شہر ميں تجارتي سامان منتقل كرے اور پيغمبر اكرم (ص) كي احاديث و آثار كي معرفت حاصل ہو اور حجاج ان كو ذہن نشين كرليں ان كو كبھي فراموش نہ كريں، (اور دوسروں تك پہونچائيں)(3)
اسي وجہ سے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطين ؛مسلمانوں كو ان چيزوں كے نشر كرنے كي اجازت نہيں ديتے تھے ، وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپني مشكلوں كو دور كرتے تھے اور ائمہ معصومين عليہم السلام اور بزرگ علمائے دين سے ملاقات كركے قوانين اسلامي اور سنت پيغمبر پر پردہ ڈالتے تھے۔
اس كے علا وہ حج ؛عالمي پيمانہ پر ايك عظيم الشان كانفرنس كا نام ہے جس ميں دنيا بھر كے تمام مسلمان مكہ معظمہ ميں جمع ہوتے ہيں اور اپنے افكار اورابتكارات كو دوسرے كے سامنے پيش كرتے ہيں۔
اصولي طور پر ہماري سب سے بڑي بد بختي يہ ہے كہ اسلامي ممالك كي سرحدوں نے مسلمانوں كي ثقافت ميں جدائي ڈال دي ہے، ہر ملك كا مسلمان صرف اپنے بارے ميں سوچتا ہے، جس سے اسلامي معاشرہ كي وحدت نيست و نابود ہوگئي ہے، ليكن حج كے ايام ميں اس اتحاد اور اسلامي ثقافت كا مظاہرہ كيا جاسكتا ہے۔
چنانچہ حضرت امام صادق عليہ السلام نے كيا خوب فرمايا ہے (اسي ہشام بن حكم كي روايت كے ذيل ميں): جن قوموں نے صرف اپنے ملك ،شہروں اور اپنے يہاں در پيش مسائل كي گفتگو كي تو وہ ساري قوميں نابود ہوجائيں گي اور ان كے ملك تباہ و برباد اور ان كے منافع ختم ہوجائيں گے اور ان كي حقيقي خبريں پشتِ پردہ رہ جائيں گي۔(4)
۴۔ حج كا اقتصادي پہلو: بعض لوگوں كے نظريہ كے برخلاف ؛ حج كا موسم اسلامي ممالك كي اقتصادي بنياد كو مستحكم بنانے كے لئے نہ صرف ”حقيقتِ حج“ سے كوئي منافات نہيں ركھتا بلكہ اسلامي روايات كے مطابق؛ حج كا ايك فلسفہ ہے۔
اس ميں كيا حرج ہے كہ اس عظيم الشان اجتماع ميں اسلامي مشترك بازار كي بنياد ڈاليں اور تجارتي اسباب و وسائل كے سلسلہ ميں ايسا قدم اٹھائيں جس سے دشمن كي جيب ميں پيسہ نہ جائے اور نہ ہي مسلمانوں كا اقتصاد دشمن كے ہاتھوں ميں رہے، يہ دنيا پرستي نہيں ہے بلكہ عين عبادت اور جہاد ہے۔
ہشام بن حكم كي اسي روايت ميں حضرت امام صادق عليہ السلام نے حج كے فلسفہ كو بيان كرتے ہوئے صاف صاف اس موضوع كي طرف اشارہ كيا ہے كہ مسلمانوں كي تجارت كو فروغ دينا اور اقتصادي تعلقات ميں سہولت قائم كرنا ؛حج كے اغراض و مقاصدميں سے ہے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے آيہٴ شريفہ <لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ>(5) كے ذيل ميں بيان ہوا ہے كہ آپ نے فرمايا: اس آيت سے مراد كسب روزي ہے، ”فاذااحل الرجل من احرامہ و قضي فليشتر وليبع في الموسم“() ”جس وقت انسان احرام سے فارغ ہوجاتا ہے اور مناسكِ حج كو انجام دے ليتا ہے تو اسي موسم حج ميں خريد و فروخت كرے (اور يہ چيز نہ صرف حرام نہيں ہے بلكہ اس ميں ثواب بھي ہے)(6)
اور حضرت امام رضا عليہ السلام سے منقول فلسفہٴ حج كے بارے ميں ايك تفصيلي حديث كے ذيل ميںيہي معني بيان ہوئے ہيں جس كے آخر ميں ارشاد ہوا ہے:”لِيَشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُم“(7)
آيہٴ شريفہ”ليشھدوا منافع لھم“ معنوي منافع كو بھي شامل ہوتي ہے اور مادي منافع كو بھي، ليكن ايك لحاظ سے دونوں معنوي منافع ہيں۔
مختصر يہ كہ اگر اس عظيم الشان عبادت سے صحيح اور كامل طور پر استفادہ كيا جائے ، اور خانہ خدا كے زائرين ان دنوں ميں جبكہ وہ اس مقدس سر زمين پر بڑے جوش و جذبہ كے ساتھ حاضر ہيں اور ان كے دل آمادہ ہيں تو اسلامي معاشرہ كي مختلف مشكلات دور كرنے كے لئے سياسي، ثقافتي اور اقتصادي كانفرنس كے ذريعہ فا ئدہ اٹھائيں، يہ عبادت ہر پہلو سے مشكل كشا ہوسكتي ہے، اور شايد اسي وجہ سے حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: ”لايزال الدين قائما ما قامت الكعبة“(8) ”جب تك خانہٴ كعبہ باقي ہے اس وقت تك اسلام بھي باقي رہے گا“۔
اور اسي طرح حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: خانہ خدا كو نہ بھلاؤ كہ اگر تم نے اسے بھلا ديا تو ہلاك ہوجاؤ گے، ” الله الله فِي بَيتِ ربّكُم لاتَخْلُوہُ مَا بَقِيتُمْ فَإنّہُ إنْ َترَكَ لَم تَنَاظَرُوا“(42) (خدا كے لئے تمہيں خانہ خدا كے بارے ميں تلقين كرتا ہوں اس كو خالي نہ چھوڑ نا، اور اگر تم نے چھوڑ ديا تو مہلت الٰہي تم سے اٹھالي جائے گي۔)
اور اس موضوع كي اہميت كے پيش نظر اسلامي روايات ميں ايك فصل اس عنوان سے بيان كي گئي كہ اگر ايك سال ايسا آجائے كہ مسلمان حج كے لئے نہ جا ئيں تو اسلامي حكومت پر واجب ہے كہ مسلمانوں كو مكہ معظمہ جانے پر مجبور كرے۔(9)(10)
”حج“ ايك اہم انسان ساز عبادت ہے
حج كا سفر در اصل بہت عظيم ہجرت ہے، ايك الٰہي سفر ہے اور اصلاح نيز جہاد اكبر كا وسيع ميدان ہے۔
اعمال حج؛ حقيقت ميں ايك ايسي عبادت ہے جس ميں جناب ابراہيم اور ان كے بيٹے جناب اسماعيل اور ان كي زوجہ حضرت ہاجرہ كي قربانيوں اور مجاہدت كي ياد تازہ ہوتي ہے ، اور اگر ہم اسرار حج كے بارے ميں اس نكتہ سے غافل ہوجائيں تو بہت سے اعمال ايك معمہ بن كر رہ جائيں گے ، جي ہاں! اس معمہ كو حل كرنے كي كنجي انھيں عميق مطالب پر توجہ دينا ہے۔
جس وقت ہم سر زمين منيٰ كي قربانگاہ ميں جاتے ہيں تو تعجب كرتے ہيں، يہ اس قدرقرباني كس لئے؟ كيا حيوانات كي قرباني عبادت ہوسكتي ہے؟!
ليكن جس وقت قرباني كے ساتھ ساتھ حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ياد كرتے ہيں كہ انھوں نے اپنے نور نظر ،پارہ جگر اور اپنے ہر دل عزيز بيٹے كو راہ خدا ميں قربان كرديا، جو ايك سنت ابراہيمي بن گيا اور مني ميں اس ياد ميں قرباني ہونے لگي تو اس كام كا فلسفہ سمجھ ميں اجا تا ہے۔
قرباني كرنا خدا كي راہ ميں تمام چيزوں سے گزرنے كا راز ہے، قرباني كرنا يعني اس بات كا ظاہر كرنا ہے كہ اس كا دل غير خدا سے خالي ہے،حج كے اعمال سے اسي وقت ضروري مقدار ميں تربيتي فائدہ اٹھايا جاسكتا ہے جب ذبح اسماعيل اور قرباني كے وقت اس باپ كے احساسات كو مد نظر ركھا جائے، اور وہي احساسات ان كے اندر جلوہ گر ہوجائيں۔(11)
جس وقت ہم ”جمرات“ كي طرف جاتے ہيں ( يعني وہ تين مخصوص پتھر جن پر حجاج كو كنكري مارنا ہوتي ہيں، اور ہر بار سات كنكر مارنا ہوتي ہيں) توہمارے سامنے يہ سوال پيش آتا ہے كہ اس مجسم
پر سنگ باري كا كيا مقصد ہے؟ اور اس سے كيا مشكل حل ہوسكتي ہے؟ ليكن جس وقت ہم ياد كرتے ہيں كہ يہ سب بت شكن قہر مان جناب ابراہيم عليہ السلام كي ياد ہے ، آپ كي راہ ميں تين بار شيطان آيا تا كہ آپ كو اس عظيم ”جہاد اكبر“سے رو ك دے يا شك و شبہ ميں مبتلا كردے ليكن ہر بار توحيد كے علمبر دار نے شيطان كو پتھر مار كر دور بھگا ديا،لہٰذا اگر اس واقعہ كو ياد كريں تو پھر ”رمي جمرات“ كا مقصد سمجھ ميں آجاتا ہے۔
رمي جمرات كا مقصد يہ ہے كہ ہم سب جہاد اكبر كے موقع پر شيطاني وسوسوں سے روبرو ہوتے ہيں اور جب تك ان كو سنگسار نہ كريں گے اور اپنے سے دور نہ بھگائيں گے تواس پر غالب نہيں ہوسكتے۔
اگر تمہيں اس بات كي اميد ہے كہ خداوندعالم نے جس طرح جناب ابراہيم عليہ السلام پر درود و سلام بھيجا اور ان كي ياد كو ہميشہ كے لئے باقي ركھا ہے اگر تم بھي يہ چاہتے ہو كہ وہ تم پر نظر رحمت كرے تو پھر راہ ابراہيم پر قدم بڑھاؤ۔
يا جس وقت ”صفا“ اور ”مروہ“ پر جاتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ حجاج گروہ در گروہ ايك چھوٹي پہاڑي سے دوسري چھوٹي پہاڑي پر جاتے ہيں، اور پھر وہاں سے اسي پہاڑي پر واپس آجاتے ہيں ، اور پھر اسي طرح اس عمل كي تكرار كرتے ہيں، كبھي آہستہ چلتے ہيں تو كبھي دوڑتے ہيں، واقعاً تعجب ہوتا ہے كہ يہ كيا ہے؟! اور اس كا مقصد كيا ہے؟!
ليكن جب ايك نظر اس با ايمان خاتون حضرت ہاجرہ كے واقعہ پر ڈالتے ہيں جو اپنے شير خوار فرزند اسماعيل كي جان كے لئے اس بے آب و گياہ بيابان ميں اس پہاڑي سے اس پہاڑي پر جاتي ہيں، اس واقعہ كو ياد كرتے ہيں كہ خداوندعالم نے حضرت ہاجرہ كي سعي و كوشش كو كس طرح منزل مقصود تك پہنچايا اور اور ان كے نو مولود بچہ كے پيروں كے نيچے چشمہٴ زمزم جاري كيا، تو اچانك زمانہ پيچھے ہٹتا دكھائي ديتا ہے اور پردے ہٹ جاتے ہيں اور ہم اپنے كو جناب ہاجرہ كے پاس ديكھتے ہيں اور ہم بھي ان كے ساتھ سعي و كوشش ميں مشغول ہوجاتے ہيں كہ راہ خدا ميں سعي و كوشش كے بغير منزل نہيں مل سكتي!
(قارئين كرام!) ہماري مذكورہ گفتگوكے ذريعہ آساني كے ساتھ يہ نتيجہ حاصل كيا جاسكتا ہے كہ ”حج“ كو ان اسرار و رموز كے ذريعہ تعليم ديا جائے اور جناب ابراہيم، ان كي زوجہ اور ان كے فرزند اسماعيل كي ياد كو قدم قدم پر مجسم بنايا جائے تاكہ اس كے فلسفہ كو سمجھ سكيں، اور حجاج كے دل و جان ميں حج كي اخلاقي تاثير جلوہ گر ہو ، كيونكہ ان آثار كے بغير حج كي كوئي حقيقت نہيں ہے۔(12)

(1) بحار الانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۲۶
(2) نہج البلاغہ، كلمات قصار ، نمبر ۲۵۲
(3) وسائل الشيعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹ (4) وسائل الشيعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹
(4) سورہٴ بقرہ ، آيت ۱۹۸ (ترجمہ آيت: ”تمہارے لئے كوئي حرج نہيں ہے كہ اپنے پروردگار كے فضل وكرم كو تلاش كرو“)
(5) تفسير عياشي، تفسير الميزان ، جلد ۲ ، صفحہ ۸۶ كي نقل كے مطابق
(6) بحار الاانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۳۲
(7) وسائل الشيعہ ، ، جلد ۸، صفحہ ۱۴
(8) نہج البلاغہ ،وصيت نامہ سے اقتباس۴۷
(9) وسائل الشيعہ ، جلد۸، صفحہ ۱۵”باب وجوب اجبار الوالي الناس علي الحج“
(10) تفسير نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۷۶
(11) افسوس كہ ہمارے زمانہ ميں مني ميں قرباني كا طريقہ كار رضايت بخش نہيں ہے لہٰذا علمائے اسلام كو اس سلسلہ ميں توجہ دينا چاہئے
(12) تفسير نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۱۲۵
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك