سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:354

فلسفہ زكوٰة كيا ہے؟

اسلام صرف ايك اخلاقي يا فلسفي اور اعتقادي مكتب كے عنوان سے نہيں آيا ہے بلكہ ايك ”مكمل آئين“ كے عنوان سے پيش ہوا ہے جس ميں تمام مادي اور معنوي ضرورتوں كو مد نظر ركھا گيا ہے، اسلام نے پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ سے ہي حكومت تشكيل دے كر غريب اور محتاج لوگوں كي حمايت اور طبقاتي نظام كا مقابلہ كيا ہے ، جس سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ بيت المال اور زكوٰة جو بيت المال كي در آمد كا راستہ ہے ؛ اسلام كي اہم منصوبہ بندي ميں سے ہے۔
اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ ہر معاشرہ ميں غريب، محتاج، بيمار، بے سرپرست يتيم اور اپاہج لوگ پائے جاتے ہيں، جن كي حمايت اور مدد ہوني چاہئے۔
اور اسي طرح دشمن كے مقابل اپني حفاظت كے لئے نگہبان اور مجاہدين كي ضرورت ہوتي ہے جس كا خرچ حكومت كو ادا كرنا ہوتا ہے۔
اسي طرح حكومتي ملازمين، قاضي، ديني ادارے اور تبليغي وسائل كے لئے بھي كچھ مصارف كي ضرورت ہوتي ہے جس كے لئے منظم طور پر مالي منصوبہ بندي كي ضرورت ہوتي ہے تاكہ اسلامي نظام بہتر طور پر قائم ہوسكے۔
اسي وجہ سے اسلام نے زكوٰة پر ايك خاص توجہ دي ہے جو در اصل ايك طرح سے ”انكم ٹيكس“ اور ”ذخيرہ شدہ سرمايہ پر ٹيكس“ ہے ، اور زكوٰة كي اہميت كے پيش نظر اس كو مہم ترين عبادت ميں شمار كيا گيا ہے، بہت سے مقامات پر نماز كے ساتھ ذكر ہوا ہے، يہاں تك كہ قبوليتِ نماز كي شرط شمار كي گئي ہے!
بلكہ اسلامي روايات ميں بيان ہوا ہے كہ اگر اسلامي حكومت نے كسي شخص يا اشخاص سے زكوٰة كا مطالبہ كيا اور انھوں نے زكوٰة دينے سے انكار كيا اور حكومت سے مقابلہ كيا تو ان كو مرتد شمار كيا جائے گا، اور اگر ان پر وعظ و نصيحت كا كوئي اثر نہ ہو تو اس صورت ميں طاقت كا سہارا لينا جا ئز ہے ،جيسا كہ واقعہٴ ”اصحاب ردّہ“ (جس گروہ نے پيغمبر اكرم (ص) كي وفات كے بعد زكوٰة دينے سے انكار كيا اور خليفہ وقت نے ان سے مقابلہ كرنے كي ٹھان لي يہاں تك حضرت علي عليہ السلام نے اس مقابلہ پر رضا مندي دے دي اور خود ايك پرچم دار كے عنوان سے ميدان جنگ ميں حاضر ہوئے) تاريخ ميں مشہور ہے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں بيان ہوا ہے: ”مَنْ مَنَعَ قِيْرَاطاً مِنَ الزَّكٰاةِ فَلَيسَ ھُوَ بِمَوٴمِنٍ، وَلَا مُسْلِمٍ، وَلا كَرَامَةٍ!“(1) ”جو شخص زكوٰة كي ايك قيراط (2) ادا نہ كرے تو وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلمان، اس كي كوئي اہميت نہيں ہے“۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ زكوٰة كے سلسلہ ميں بيان شدہ روايات سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ اسلام نے زكوٰة كي ”حدود“ اور ”مقدار“ اس قدر دقيق معين كي ہے كہ اگر تمام مسلمان اپنے مال كي زكوٰة صحيح اور مكمل طريقہ سے ادا كريں تو اسلامي ممالك ميں كوئي غريب اور فقير نہيں پايا جائے گا۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك اور روايت ميں بيان ہوا ہے: ”اگر تمام مسلمان اپنے مال كي زكوٰة ادا كريں تو كوئي مسلمان غريب نہيں رہ سكتا، لوگ غريب، محتاج، بھوكے اور ننگے نہيں ہوتے مگر مالداروں كے گناہوں كي بدولت“۔(3)
اسي طرح روايات سے يہ بھي نتيجہ نكلتا ہے كہ زكوٰة كي ادائيگي سے ملكيت كا تحفظ ہوتا ہے كہ اگر مسلمان اس اسلامي اہم اصل كو بالائے طاق ركھ ديں تو لوگوں كے درميان (غريب او رامير ميں) اس قدر فاصلہ ہوجائے كہ مالدار لوگوں كا مال خطرہ ميں پڑ جائے گا۔
حضرت امام موسيٰ كاظم عليہ السلام سے منقول ہے كہ ”حَصِّنُوا اٴمْوَالُكُمْ بِالزَّكَاةِ“(4) ”زكوٰة كے ذريعہ اپنے مال كي حفاظت كرو“۔
يہي مضمون خود پيغمبر اكرم (ص) اور امير المومنين علي عليہ السلام سے دوسري احاديث ميں نقل ہوا ہے۔(5)

(1) وسائل الشيعہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۰، باب ۴، حديث۹
(2) درہم كے بارہويں حصے كے برابر ايك وزن
(3) وسائل الشيعہ ، جلد ۶، صفحہ۴ (باب ۱،حديث ۶ از ابواب زكوٰة )
(4) وسائل الشيعہ ،جلد ۶، صفحہ ۶،(باب۱، حديث ۱۱ از ابواب زكوٰة )
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك