سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:342

خمس كا نصف حصہ سادات سے مخصوص ہونا؛ كيا طبقاتي نظام نہيں ہے؟

بعض لوگوں كے ذہن ميں يہ تصور آتا ہے كہ يہ اسلامي ٹيكس جو بہت سے مال كا پانچواں حصہ ہے جس كاآدھا حصہ سادات اور اولاد پيغمبر اكرم (ص) سے مخصوص ہے، كيا يہ ايك طرح سے نسل پرستي نہيں ہے؟ جس ميں اقربا پروري دكھائي ديتي ہے، يہ موضوع اسلامي اجتماعي عدالت اور اسلام كے عالمي ہونے سے ہم آہنگ نہيں ہے۔
جواب ميں ہم عرض كرتے ہيں جو لو گ اس طرح كا خيال ركھتے ہيں انھوں نے اس اسلامي حكم كي مكمل طور پر تحقيق نہيں كي ہے، كيونكہ اس اعتراض كا جواب خمس كے شرائط ميں موجود ہے۔
وضاحت:
اولاً: خمس كا نصفحصہ جو سادات اور بني ہاشم كو ديا جاتا ہے ليكن صرف غريب اور نياز مند افراد كو ديا جاتا ہے اور وہ بھي سال بھر كا خرچ، اس سے زيادہ نہيں ديا جاسكتا، لہٰذا خمس كا يہ نصف حصہ صرف انھيں لو گوں كو ديا جاسكتا ہے جو غريب، بيمار ، يتيم بچے ہوں، يا كسي بھي باعث اپني زندگي كے خرچ سے لاچار ہوں۔
لہٰذا جو لوگ كام كرنے كي قدرت ركھتے ہوں (اس وقت يا آئندہ) اور اپنے خرچ بھر در آمد ركھتے ہوں ان كو خمس نہيں ديا جاسكتا۔
ثانياً: محتاج اور غريب سادات كو زكوٰة لينے كا حق نہيں ہے، وہ زكوٰة كے بدلے صرف نصفخمس ميں سے لے سكتے ہيں(1)
ثالثاً: اگر سہم سادات جو خمس كا نصفحصہ ہے اگر سادات كي ضرورت سے زيادہ ہوجائے تو اس كو بيت المال ميں جمع كيا جائے گا اور دوسرے موارد ميں خرچ كيا جائے گا، اور اگر سہم سادات ؛ سادات كے لئے كافي نہ ہو تو انھيں بيت المال يا زكوٰة سے ديا جائے گا۔
مذكورہ تين نكات پر توجہ كرنے سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ مادي لحاظ سے سادات اور غير سادات ميں كوئي فرق نہيں ركھا گيا ہے۔
غير سادات كے غريب افراد اپنے خرچ كے لئے زكوٰة لے سكتے ہيں ليكن خمس سے محروم ہيں، اسي طرح غريب سادات صرف خمس لے سكتے ہيں ليكن وہ زكوٰة سے محروم ہيں۔
در اصل يہاں پر دو صندوق ہيں ”خمس كا صندوق“، ”زكوٰة كا صندوق“، سادات يا غير سادات ان دونوں ميں سے صرف ايك سے لے سكتے ہيں اور وہ بھي برابر برابر يعني اپنے سال بھر كا خرچ ۔ (غور كيجئے )
جن لوگوں نے ان شرائط پر غور نہيں كيا وہ اس طرح كا تصور كرتے ہيں كہ سادات كے لئے بيت المال سے زيادہ حصہ قرار ديا گيا ہے يا ان كے لئے خمس ايك اعزاز قرار دياگيا ہے۔
صرف يہاں پر ايك سوال يہ پيش آتا ہے كہ اگر ان دونوں ميں نتيجہ كے لحاظ سے كوئي فر ق نہيں ہے تو پھر اس فرق كا فائدہ كيا ہے؟
اس سوال كا جواب بھي اس بات پر غور و فكر كرنے سے واضح ہوجاتا ہے كہ خمس اور زكوٰة ميں ايك اہم فرق پايا جاتا ہے اور وہ يہ كہ زكوٰة ايك ايسا ٹيكس ہے جو در اصل اسلامي معاشرہ كے عام اموال سے متعلق ہے لہٰذا اس كو معمولاً اسي سلسلہ ميں خرچ بھي كيا جاتا ہے، ليكن خمس ايك ايسا ٹيكس ہے جو اسلامي حكومت سے متعلق ہے يعني اسلامي حكومت كے عہدہ داروں اور حكومتي ملازمين اس سے فيضياب ہوتے ہيں۔
اس بنا پر سادات كا عام اموال (زكوٰة) سے محروم ہونا؛ در حقيقت پيغمبر اكرم (ص) كے رشتہ داروں كو اس حصہ (مال) سے دور ركھنا ہے تاكہ مخالفوں كو بہانہ نہ مل جائے كہ پيغمبر نے اپنے رشتہ داروں كو عام اموال پر قابض بنا ديا ۔
دوسري طرف غريب سادات كي ضرورت بھي كہيں سے پوري ہوني چاہئے تھي، تو اسلامي قوانين نے اس سلسلہ ميں يہ پيش كش كي كہ سادات؛ اسلامي حكومت كے بجٹ سے استفادہ كريں نہ عام بجٹ سے، در اصل خمس نہ صرف سادات كے لئے ايك امتياز ہے بلكہ مصلحت كے تحت بد گماني سے بچانے كے لئے قرار ديا گيا ہے (2)

(1) سادات كو زكوٰة نہيں دي جاسكتي ، يہ ايك مسلّم مسئلہ ہے اور اس سلسلہ ميں حديث و فقہ كي كتابوں ميں تفصيل سے بيان ہوا ہے كيا اس بات پر يقين كيا جاسكتا ہے كہ اسلام نے غير سادات كے غريبوں كا خيال ركھا ہو ليكن غريب سادات كا خيال نہيں كيا ہے؟!
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۷، صفحہ۱ ۱۸
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك