سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:408

روزہ كا فلسفہ كيا ہے؟

روزہ كے مختلف پہلو ہيں اور انسان كے اندر مادي و معنوي لحاظ سے بہت زيادہ تاثير ركھتا ہے، جن ميں سے سب سے اہم ”اخلاقي پہلو“ اور ”تربيتي فلسفہ“ ہے۔
روزہ كاسب سے اہم فائدہ يہ ہے كہ روزہ كے ذريعہ انسان كي روح ”لطيف“،اور اس كي ”قوّت ارادي“ مضبوط ہوتي ہے اور خواہشات ميں ”اعتدال“ پيدا ہوتا ہے۔
روزہ دار كو چاہئے كہ روزہ كے عالم ميں بھوك اور پياس كو برداشت كرتے ہوئے جنسي لذت سے بھي چشم پوشي كرے، اور عملي طور پر يہ ثابت كر دكھائے كہ وہ جانوروں كي طرح كسي چراگاہ اور گھاس پھوس كا اسير نہيںہے، سركش نفس كي لگام اس كے ہاتھ ميں ہے اور ہوا وہوس اور شہوت و خواہشات اس كے كنٹرول ميں ہے۔
در اصل روزہ كا سب سے بڑا فلسفہ يہي روحاني اور معنوي اثر ہے، جس انسان كے پاس كھانے پينے كي مختلف چيزيں موجود ہو ں جب اوراس كو بھوك يا پياس لگتي ہے تو وہ فوراً كھاپي لےتا ہے، بالكل ان درختوں كے مانند جو كسي نہر كے قريب ہوتے ہيں اور ہر وقت پاني سے سيراب ہوتے رہتے ہيں وہ نازپرور ہوتے ہيں يہ حوادث كا مقابلہ بہت كم كرتے ہيں ان ميں باقي رہنے كي صلاحيت كم ہوتي ہے اگر انھيں چند دن تك پاني نہ ملے تو پژمردہ ہوكر خشك ہوجاتے ہيں۔
ليكن جنگل،بيابان اورپہاڑوں ميں اگنے والے درخت ہميشہ سخت طوفان، تمازت آفتاب اور كڑاكے كي سرديوں كا مقابلہ كرنے كے عادي ہوتے ہيں اور طرح طرح كي محروميوں سے دست و گريباں رہتے ہيں، لہٰذا ايسے درخت بادوام اور مستحكم ہوتے ہيں!!
روزہ بھي انسان كي روح و جان كے ساتھ يہي سلوك كرتا ہے، يہ وقتي پابنديوں كے ذريعہ انسان ميں قوت ِدفاع اور قوت ارادي پيدا كرتا ہے اور اسے سخت حوادث كے مقابلہ ميں طاقت عطا كرتا ہے، چونكہ روزہ سركش خواہشات اور انساني جذبات پر كنٹرول كرتا ہے لہٰذا اس كے ذريعہ انسان كے دل پر نور و ضيا كي بارش ہوتي ہے، خلاصہ يہ كہ روزہ انسان كو عالم حيوانيت سے بلند كركے فرشتوں كي صف ميں لے جاكر كھڑا كرديتا ہے، <لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ>(1)، (شايد تم پرہيزگار بن جاؤ) اس آيہٴ شر يفہ ميںروزہ كے واجب ہونے كا فلسفہ بيان ہوا ہے۔
اس مشہور و معروف حديث ميں بھي اسي طرف اشارہ كيا گيا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ”الصُّومُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ“(2) (روزہ جہنم كي آگ سے بچانے كے لئے ايك ڈھال ہے)۔
ايك اور حديث حضرت علي عليہ السلام سے منقول ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) سے سوال كيا گيا كہ ہم كون سا كام كريں جس كي وجہ سے شيطان ہم سے دور رہے؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمايا:روزہ؛ شيطان كا منہ كالا كرديتا ہے، راہ خدا ميں خرچ كرنے سے اس كي كمر ٹوٹ جاتي ہے خدا كے لئے محبت و دوستي نيز عملِ صالح كي پابندي سے اس كي دم كٹ جاتي ہے اور توبہ و استغفار سے اس كے دل كي بھي رگ كٹ جاتي ہے۔(3)
نہج البلاغہ ميں عبادت كا فلسفہ بيان كرتے ہوئے حضرت امير المومنين عليہ السلام روزہ كے بارے ميں فرماتے ہيں: ”وَالصِّيَامُ إبْتَلاَءُ لإخْلاَصِ الْخَلْقِ“(4) ”خداوندعالم نے روزہ كو شريعت ميں اس لئے شامل كيا تاكہ لوگوں ميں اخلاقي روح كي پرورش ہوسكے“۔
پيغمبر اكرم (ص) سے ايك اور حديث ميں منقول ہے كہ آپ نے فرمايا: ”ان لِلْجَنّة بَاباً يُدعي الرَّيَّان لَا يَدخُلُ فِيھَا إلاَّالصَّائِمُونَ“ (بہشت كے ايك دروازے كا نام ”ريان“ (يعني سيراب كرنے والا) ہے جس سے صرف روزہ دار ہي داخل جنت ہوں گے۔)
شيخ صدوق عليہ الرحمہ نے معاني الاخبار ميں اس حديث كي تشريح كرتے ہوئے تحرير فرمايا كہ بہشت ميں داخل ہونے كے لئے اس دروازہ كا انتخاب اس بنا پر ہے كہ روزہ دار كو چونكہ زيادہ تكليف پياس كي وجہ سے ہوتي ہے لہٰذا جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوگا تو وہ ايسا سيراب ہوگا كہ اسے پھر كبھي تشنگي كا احساس نہ ہوگا۔(5)
روزہ كے معاشرتي اثرات
روزہ كا اجتماعي اور معاشرتي اثر كسي پر پوشيدہ نہيں ہے، روزہ انساني معاشرہ كے لئے ايك درس مساوات ہے كيونكہ اس مذہبي فريضہ كي انجام دہي سے صاحب ثروت لوگ بھوكوں اور معاشرہ كے محروم افراد كي كيفيت كا احساس كرسكيں گے اور دوسري طرف شب و روز كي غذا ميں كمي كركے ان كي مدد كے لئے جلدي كريں گے۔
البتہ ممكن ہے كہ بھوكے اور محروم لوگوں كي توصيف كركے خداوندعالم صاحبِ قدرت لوگوں كو ان كي طرف متوجہ كرنا چاہتا ہواور اگر يہ معاملہ حسّي اور عيني پہلو اختيار كرلے تو اس كاايك دوسرا اثر
ہوتا ہے ،روزہ اس اہم اجتماعي موضوع كو حسي رنگ ديتا ہے، اس مشہور حديث ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ ہشام بن حكم نے روزہ كي علت اور سبب كے بارے ميں سوال كيا تو آپ نے فرمايا:
”روزہ اس لئے واجب ہوا ہے كہ فقير اور غني كے درميان مساوات قائم ہوجائے اور يہ اس وجہ سے كہ غني بھي بھوك كا مزہ چكھ لے اور فقير كا حق ادا كردے، كيونكہ مالدار عموماً جو كچھ چاہتے ہيں ان كے لئے فراہم ہوجاتا ہے خدا چاہتا ہے كہ اس كے بندوں كے درميان مساوات قائم ہو اور مالداروں كو بھي بھوك اور درد و غم كااحساس ہو جائے تاكہ وہ كمزور اور بھوكے افراد پر رحم كريں۔(6)
روزہ كے طبي اثرات
طب كي جديد اور قديم تحقيقات كي روشني ميں امساك (كھانے پينے سے پرہيز) بہت سي بيماريوں كے علاج كے لئے معجزانہ اثر ركھتا ہے جو قابل انكار نہيں ہے، شايد ہي كوئي حكيم ہو جس نے اپني مبسوط تاليفات اور تصنيفات ميں اس حقيقت كي طرف اشارہ نہ كيا ہو كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ بہت سي بيمارياں زيادہ كھانے سے پيدا ہوتي ہيں، اور چونكہ اضافي مواد بدن ميں جذب نہيں ہوتا جس سے خطرناك اور اضافي چربي پيدا ہوتي ہے يا يہ چربي اور خون ميں اضافي شوگركا باعث بنتي ہے، عضلات كا يہ اضافي مواد در حقيقت بدن ميں ايك متعفن (بدبودار) بيماري كے جراثيم كي پرورش كے لئے گندگي كا ڈھير بن جاتا ہے، ايسے ميں ان بيماريوں كا مقابلہ كرنے كے لئے بہترين راہ حل يہ ہے كہ گندگي كے ان ڈھيروں كو امساك اور روزہ كے ذريعہ ختم كيا جائے، روزہ ان اضافي غلاظتوں اور بدن ميں جذب نہ ہونے والے مواد كو جلاديتا ہے، در اصل روزہ بدن كو صاف و شفاف مكان بناديتا ہے۔
ان كے علاوہ روزہ سے معدہ كو اچھا خاصا آرام ملتا ہے جس سے ہاضمہ كا نظام صحيح ہوجاتا ہے، چونكہ يہ بدن انسان كي نازك ترين مشينري ہے جو سال بھر كام كرتي رہتي ہے لہٰذا اس كے لئے اتنا آرام نہايت ضروري ہے۔
يہ بات واضح ہے كہ اسلامي حكم كي رو سے روزہ دار كو اجازت نہيں ہے وہ سحري اور افطاري كي غذا ميں افراط اور زيادتي سے كام لے، يہ اس لئے ہے تاكہ اس سے حفظان صحت اور علاج سے مكمل نتيجہ حاصل كيا جاسكے ورنہ ممكن ہے كہ مطلوبہ نتيجہ نہ حاصل ہوسكے۔
چنانچہ ”الكسي سوفرين“ ايك روسي دانشور لكھتا ہے:
روزہ ان بيماريوں كے علاج كے لئے خاص طور پر مفيد ہے: خون كي كمي، انتڑيوں كي كمزوري، التہاب زائدہ (Appendicitis) اندروني اور بيروني قديم پھوڑے، تپ دق (T.B) اسكليروز، نقرس، استسقاء،(جلندر كي بيماري جس ميں بہت زيادہ پياس لگتي ہے اور پيٹ دن بدن بڑھتا جاتا ہے) جوڑوں كا درد، نور استني، عرق النساء (چڈوں سے ٹخنوں تك پہنچنے والا درد)، خزاز (جلد كا گرنا) امراض چشم، شوگر، امراض جلد، امراض جگر اور ديگر بيمارياں ۔ امساك اور روز ہ كے ذريعہ علاج صرف مندرجہ بالا بيماريوں سے مخصوص نہيں ہے بلكہ وہ بيمارياں جو جسمِ انسان كے اصول سے متعلق ہيں اور جسم كے خليوں سے چمٹي ہوئي ہيں مثلاً سرطان، سفليس، سل اور طاعون كے لئے بھي شفا بخش ہے(7)
ايك مشہور و معروف حديث ميں پيغمبر اكرم (ص)سے منقول ہے كہ آپ نے فرمايا: ”صُومُوا تَصَحُّوا“،(8) (روزہ ركھو تاكہ صحت مند رہو)۔
پيغمبر اكرم (ص) سے ايك اور حديث ميں منقول ہے جس ميں آپ نے فرمايا: ”المِعْدَةُ بَيْتُ كُلِّ دَاءٍ وَالحَميةُ رَاسُ كُلِّ دَوَاءٍ“(9) معدہ ہر بيماري كا گھر ہے اور امساك ( روزہ) ہر مرض كي دوا ہے۔(10)

(1)سورہ بقرہ ، آيت ۱۸۳ 
(2) بحار الانوار ،جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۶
(3) بحا رالانوار، جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۵
(4)نہج البلاغہ ،كلمات قصار، كلمہ نمبر ۲۵۲
(5) بحار الانوار ، جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۲
(6) وسائل الشيعہ ، جلد ۷، باب اول ،كتاب صوم ، صفحہ ۳
(7) روزہ روش نوين براي درمان بيماريہا، صفحہ ۶۵،طبع اول
(8) بحا رالانوار ، جلد۹۶، صفحہ ۲۵۵
(9) بحار الانوار ، جلد ۱۴ ، طبع قديم
(10) تفسير نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۶۲۸
دن كي تصوير
ويڈيو بينك