سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:521

فلسفہ نماز كيا ہے؟

سورہ عنكبوت ميں نماز كا سب سے اہم فلسفہ بيان كيا گيا ہے، ارشاد ہوتا ہے كہ نماز انسان كو برائيوں اور منكرات سے روكتي ہے:<إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْہَي عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر>(1)
” (اور نماز قائم كروكہ) يقينا نماز ہر برائي اور بدكاري سے روكنے والي ہے“
حقيقت نماز چونكہ انسان كو قدرتمند روكنے والے عامل يعني خدا اور قيامت كے اعتقاد كي ياد دلاتي ہے، لہٰذا انسان كو فحشاو منكرات سے روكتي ہے۔
جب انسان نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو پہلے تكبير كہتا ہے، خدا كو تمام چيزوں سے بلند و بالا مانتا ہے، پھر اس كي نعمتوں كو ياد كرتا ہے، اس كي حمد و ثنا كرتا ہے، اس كو رحمن اور رحيم كے نام سے پكارتا ہے، اور پھر قيامت كو ياد كرتا ہے ، خدا كي بندگي كا اعتراف كرتا ہے، اور اسي سے مدد چاہتا ہے، صراط مستقيم پر چلنے كي درخواست كرتا ہے اور غضب خدا نازل ہونے والے اور گمراہوں كے راستہ سے خدا كي پناہ مانگتا ہے۔ (مضمون سورہ حمد )
بے شك ايسے انسان كے دل و جان ميں خدا ،پاكيزگي اور تقوي كي طرف رغبت ہوتي ہے۔
خدا كے لئے ركوع كرتا ہے، اس كے سامنے سجدہ ريز ہوجاتا ہے اس كي عظمت ميں غرق ہوجاتا ہے، اور خود غرضي اور تكبر كو بھول جاتا ہے۔
خدا كي وحدانيت اور پيغمبر اكرم (ص) كي رسالت كي گواہي ديتا ہے۔
اپنے نبي پر درود و سلام بھيجتا ہے، اور خدا كي بارگاہ ميں دست بدعا ہوتا ہے كہ پالنے والے! مجھے اپنے نيك اور صالح بندوں ميں قرار دے۔ (تشہد و سلام كا مضمون)
چنانچہ يہ تمام چيزيں انسان كے وجود ميں معنويت كي لہر پيدا كرديتي ہيں، ايك ايسي لہر جو گناہوں كا سدّ باب كرتي ہے۔
اس عمل كو انسان رات دن ميں كئي مرتبہ انجام ديتا ہے جب صبح اٹھتا ہے تو خدا كي ياد ميں غرق ہوجاتا ہے، دوپہر كے وقت جب انسان مادي زندگي ميں غرق رہتا ہے اور اچانك موٴذن كي آواز سنتا ہے تو اپنے كاموں كو چھوڑ ديتا ہے اور خدا كي بارگاہ كا رخ كرتا ہے، يہاں تك دن كے اختتام اور رات كي شروع ميں بستر استراحت پر جانے سے پہلے خدا سے راز و نياز كرتا ہے، اور اپنے دل كو اس كے نور كا مركز قرار ديتا ہے۔
اس كے علاوہ جب نماز كے مقدمات فراہم كرتا ہے تو اپنے اعضا بدن كو دھوتا ہے ان كو پاك كرتا ہے، حرام چيزيں اور غصبي چيزوں سے دوري كرتا ہے اور اپنے محبوب كي بارگاہ ميں حاضر ہوجاتا ہے، يہ تمام چيزيں اس كو برائي سے روكنے كے لئے واقعاً موثر واقع ہوتي ہيں۔
ليكن نماز ميں جس قدر شرائطِ كمال اور روحِ عبادت پائي جائے گي اسي مقدار ميں برائيوں سے روكے گي، كبھي مكمل طور پر برائيوں سے روكتي ہے اور كبھي جزئي طور پر،(يعني نماز كي كيفيت كے لحاظ سے انسان برائيوں سے پرہيز كرتا ہے)
يہ ممكن ہي نہيں ہے كہ كوئي شخص نماز پڑھے اور اس پر كوئي اثر نہ ہو، اگرچہ اس كي نماز صرف ظاہري لحاظ سے ہو يا نمازي گنہگار بھي ہو، البتہ اس طرح كي نماز كا اثر كم ہوتا ہے، كيونكہ اگر اس طرح كے لوگ اس طرح نماز نہ پڑھتے تو اس سے كہيںزيادہ گناہوں ميں غرق ہوجاتے۔
واضح الفاظ ميں يوں كہيں كہ فحشا و منكر سے نہي كے مختلف درجے ہوتے ہيں، نماز ميں جتني شرائط كي رعايت كي جائے گي اسي لحاظ سے وہ درجات حاصل ہوں گے۔
پيغمبر اكرم (ص) سے منقول حديث ميں وارد ہوا ہے كہ قبيلہٴ انصار كا ايك جوان آنحضرت (ص) كے ساتھ نماز ادا كررہا تھا ليكن وہ گناہوں سے آلودہ تھا، اصحاب نے پيغمبر اكرم كي خدمت ميں اس كے حالات بيان كئے تو آنحضرت (ص) نے فرمايا: ”إنَّ صَلاتَہُ تَنہَاہُ يَوماً“ (آخر كار ايك روز اس كي يہي نماز اس كو ان برے كاموں سے پاك كردے گي)(2)نماز كا يہ اثر اس قدر اہميت كا حامل ہے كہ بعض احاديث ميں نماز كے قبول ہونے يا قبول نہ ہونے كا معيار قرار ديا گيا ہے، جيسا كہ حضرت امام صادق عليہ السلام كا ارشاد ہے:”مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ يَّعلَم اٴقْبَلَت صَلٰوتُہ اٴمْ لَم تَقْبَل؟ فَليَنْظُر: ہَلْ مَنَعْتَ صَلٰوتَہُ عَنِ الفَحْشَاءِ وَالمُنْكِر؟ فبقدر ما منعہ قبلت منہ!“(3)(اگر كوئي يہ جاننا چا ہے كہ اس كي نماز بارگاہ الٰہي ميں قبول ہوئي ، يا نہيں؟ تو اس كو ديكھنا چاہئے كہ نماز اس كو برائيوں سے روكتي ہے يا نہيں؟ جس مقدار ميں برائيوں سے روكا ہے اسي مقدار ميں نماز قبول ہوئي ہے)۔
اور اس كے بعد مزيد ارشاد فرمايا كہ”ذكر خدا اس سے بھي بلند و بالاتر ہے“: ”وَلَذِكْرُ اللهِ اٴكبَرْ“
مذكورہ جملہ كا ظاہر اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ نماز كے لئے يہ اہم ترين فلسفہ ہے، يہاں تك فحشا و منكر كي نہي سے بھي زيادہ اہم ہے اور وہ اہم فلسفہ يہ ہے كہ انسان كو خدا كي ياد دلائے كہ جو تمام خير و سعادت كا سر چشمہ ہے، بلكہ برائيوں سے روكنے كي اصلي وجہ يہي ”ذكر اللہ“ ہے ، در اصل اس
اثر كي برتري اور عظمت اسي وجہ سے ہے كيونكہ يہ اُس كي علت شمار ہوتا ہے۔
اصولي طور پر خدا كي يادانسان كے لئے باعثِ حيات ہے اور اس سلسلہ ميں كوئي بھي چيز اس كا مقابلہ نہيں كرسكتي، <اٴَلٰا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب> ”آگاہ ہوجاؤ كہ يادِ خدا دل كو اطمينان و سكون عطا كرتي ہے“۔
حقيقت تو يہ ہے كہ تمام عبادتوں (چاہے نماز ہو يا اس كے علاوہ) كي روح يہي ذكر خدا ہے، اقوال نماز، افعال نماز، مقدمات نماز اور تعقيبات نماز سب كے سب در اصل انسان كے دل ميں يادِ خدا زندہ كرتے ہيں۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ سورہ طٰہ ، آيت نمبر ۱۴/ ميں نماز كے اس بنيادي فلسفہ كي طرف اشارہ ہوا ہے، جناب موسيٰ عليہ السلام سے خطاب ہوتا ہے: <اَقِمِ الصَّلاَة لِذِكْرِي>، (ميري ياد كے لئےنماز قائم كرو )
معاذ بن جبل سے منقول ايك حديث ميں وارد ہوا ہے كہ ”عذاب الٰہي سے بچانے والے اعمال ميں ”ذكر اللہ“ سے بڑھ كر كوئي عمل نہيں ہے، سوال كيا گيا : راہ خدا ميں جہاد بھي نہيں؟ جواب ديا: ہاں، كيونكہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے: (وَلذكْرِ اللهِ اٴكْبَرْ)
انسان اور معاشرہ كي تربيت ميں نماز كا كرداراگرچہ نماز كوئي ايسي چيز نہيں ہے جس كا فلسفہ كسي پر پوشيدہ ہو ليكن قرآني آيات اور احاديث ِمعصومين عليہم السلام ميں مزيد غور و فكر كرنے سے بہت ہي اہم چيزوں كي طرف رہنمائي ہوتي ہے:
۱۔ روح نماز اور نماز كا فلسفہ ذكر خدا ہي ہے ،وہي ”ذكر اللہ“ جو مذكورہ آيت ميں بلندترين نتيجہ كے عنوان سے بيان ہوا ہے۔
البتہ ايسا ذكر جو غور و فكر كا مقدمہ، اور ايسي فكر جو عمل كا سبب بنے، جيسا كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ آپ نے <وَلذكْرِ اللهِ اٴكْبَر>كي تفسير ميں فرمايا: ”ذكر الله عند مااحل و حرم“ (4) ”حلال و حرام كے وقت ياد خدا كرنا“ (يعني ياد خدا كريں اور حلال كام انجام ديں اور حرام كاموں سے پرہيز كريں)
۲۔ نماز، گناہوں سے دوري اور خدا كي طرف سے رحمت و مغفرت حاصل ہونے كا سبب ہے، كيونكہ نماز انسان كو توبہ اور اصلاح نفس كي دعوت ديتي ہے، اسي وجہ سے ايك حديث ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنے ايك صحابي سے سوال كيا: ”اگر تمہارے مكان كے پاس پاك و صاف پاني كي نہر جاري ہو اور تم روزانہ پانچ مرتبہ اس ميں غوطہ لگاؤ تو كيا تمہارے بدن ميں گندگي اور كثافت باقي رہے گي؟
اس نے جواب ديا: نہيں (يا رسول اللہ!)، آپ نے فرمايا: نماز بالكل اسي جاري پاني كي طرح ہے كہ جب انسان نماز پڑھتا ہے تو گنا ہوں كي گند گي دور ہو جا تي ہے اور دو نمازوں كے درميان انجام دئے گئے گناہ پا ك ہو جا تے ہيں۔(5)گويا نمازانسان كے بدن ميں گناہوں كے ذريعہ وارد ہونے والے زخموں كے لئے مرہم كا كام كرتي ہے اور انسان كے دل پر لگے ہوئے زنگ كو چھڑا ديتي ہے۔
۳۔ نماز ،آئندہ گناہوں كے لئے سدّ باب بن جا تي ہے، كيونكہ نماز انسان ميں ايمان كي روح كو مضبوط كرتي ہے اور تقويٰ كے پودے كي پرورش كرتي ہے، اور جيسا كہ ہم جانتے ہيں كہ ”ايمان“ اور ”تقويٰ“ گناہوں كے بالمقابل دو مضبوط ديواريں ہيں، اور يہ وہي چيز ہے جس كو مذكورہ آيت ميں ”نہي از فحشاء و منكر“ كے نام سے بيان كيا گيا ہے، اور يہ وہي چيز ہے جس كو متعدد حديثوںميں پڑھتے ہيں كہ جب گنہگار لوگوں كے حالات ائمہ عليہم السلام كے سامنے بيان كئے گئے تو فرمايا: غم نہ كرو نماز ان كي اصلاح كردے گي، اور كردي۔
۴۔ نماز؛انسان كو خواب غفلت سے بيدار كرديتي ہے، راہ حق پر چلنے والوں كي سب سے بڑي مصيبت يہ ہے كہ وہ اپني غرض خلقت كو بھول جاتے ہيں اور مادي دنيا اور زودگزر لذتوں ميں غرق ہوجاتے ہيں ، ليكن نماز چونكہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اور شب و روز ميں پانچ بار پڑھي جاتي ہے ، مسلسل انسان كو متو جہ اور متنبہ كرتي رہتي ہے اور اس كو غرض خلقت ياد دلاتي رہتي ہے، اور اس دنيا ميں اسے اس كي حيثيت سے آگاہ كرتي رہتي ہے، يہ انسان كے پاس ايك عظيم نعمت الٰہي ہے كہ شب و روز پانچ مرتبہ اس كو بھر پور طريقہ پر ہوشيار كرتي ہے۔
۵۔ نماز ؛خود پسندي اور تكبر كو ختم كرتي رہتي ہے كيونكہ انسان ۲۴ گھنٹوں ميں ۱۷/ ركعت نماز پڑھتا ہے اور ہر ركعت ميں دو بار اپني پيشاني كو خدا كي بارگاہ ميں ركھتا ہے، اور خدا كي عظمت كے مقابل اپنے كو ايك ذرہ شمار كرتا ہے بلكہ خدا كي عظمت كے مقابل اپنے كو صفر شمار كرتا ہے۔ نماز غرور و خود خواہي كے پردوں كو چاك كرديتي ہے ، تكبر اور برتري كو ختم كرديتي ہے۔
اسي وجہ سے حضرت علي عليہ السلام نے اپني اس مشہور و معروف حديث ميں بيان فرمايا ہے كہ جس ميں عبادت كے فلسفہ كو بيان كيا ہے اور ايمان كے بعد سب سے پہلي عبادت كو ”نماز“ قرار ديتے ہوئے اس مطلب كو واضح فرمايا ہے: ”فَرضَ الله الإيمَان تَطھِيْراً مِنَ الشِّركِ وَالصَّلٰوة تَنْزِيْھاً عَنِ الكِبْرِ“(6) خداوندعالم نے انسان كے لئے ايمان كو شرك سے پاك كرنے كے لئے واجب قرار ديا ہے اور نماز كو غرورو تكبر سے پاك كرنے كے لئے (واجب قرار ديا ہے)“
۶۔ نماز ؛انسان كے لئے معنوي تكامل اور فضائل اخلاقي كي پرورش كا ذريعہ ہے، كيونكہ يہي نماز انسان كو مادہ كي محدوديت اور عالم طبيعت كي چہار ديواري سے باہر نكال كر عالم ملكوت كي طرف دعوت ديتي ہے، جس سے انسان فرشتوں كا ہم صدا اور ہمراز ہوجاتا ہے، اور انسان اپنے كو بغير كسي واسطہ كے خدا كے حضور ميں پاتا ہے اور اس سے گفتگو كرتا ہوا نظر آتا ہے۔
ہر روز اس عمل كي تكرار خداوندعالم كے صفات جيسے رحمانيت اور رحيميت اور اس كي عظمت كے پيش نظرخصوصاً سورہ حمد كے بعد دوسرے سوروں سے مدد ليتے ہوئے جو نيكيوں اور خوبيوں كي طرف دعوت ديتے ہيں، يہ سب چيزيں انسان ميں اخلاقي فضائل كي پرورش كے لئے بہترين اور موثرہيں۔
لہٰذا حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے منقول ہے كہ آپ نے نماز كے فلسفہ كو اس طرح بيان كيا:”الصَّلاٰةُ قُربَانُ كُلَّ تَقِي“،(نماز ہر پرہيزگار كے لئے خدا سے تقرب كا وسيلہ ہے)(7)
۷۔ نماز انسان كے دوسرے اعمال كو (بھي) روح اور اہميت عطا كرتي ہے اس لئے كہ نماز سے اخلاص پيدا ہوتا ہے، كيونكہ نماز خلوص نيت، نيك گفتار اور مخلصانہ اعمال كا مجموعہ ہے، ہر روز يہ عمل انسان كے اندر دوسرے اعمال كا بيج ڈالتا ہے اور روح اخلاص كو مضبوط كرتا ہے۔
لہٰذا ايك مشہور و معروف حديث ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت امير ا لمومنين علي عليہ السلام نے اس وقت اپني وصيت ميں فرمايا جب آپ ابن ملجم كي تلوار سے زخمي ہوچكے تھے اور آپ كا آخري وقت تھا، فرماتے ہيں:
”الله الله فِي الصَّلٰوةِ فَإنَّھَا عَمُودُ دِينِكُمْ“(8)
”خدا را ! خدارا! ميں تم كو نماز كي سفارش كرتا ہوں كيونكہ يہي تمہارے دين كا ستون ہے“۔
ہم لوگ اس بات كو اچھي طرح جانتے ہيں كہ جب كسي خيمہ كا ستون ٹوٹ جائے يا گرجائے تو اطراف كي رسّيوں اور كيلوں كا كوئي فائدہ نہيں ہوتا ہے خواہ كتني ہي مضبوط كيوں نہ ہوں، اسي طرح جب نماز كے ذريعہ خدا سے بندوں كا رابطہ ختم ہوجائے تو دوسرے اعمال كا اثر بھي ختم ہوجاتا ہے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں بيان ہوا ہے: ”اٴوَّلُ مَا يُحاسِبُ بِہِ العَبْدَ الصَّلٰوة فَإنْ قُبِلَتْ قَبلَ سَائرُ عَمَلِہِ ، وَاِنْ رُدَّت رُدَّ عَلَيْہِ سَائرُ عَمَلِہُ“ (روز قيامت بندوں ميں جس چيز كا سب سے پہلے حساب ہوگا وہ نماز ہے، اگر نماز قبول ہوگئي تو دوسرے اعمال بھي قبول ہوجائيں گے اور اگر نماز ردّ ہوگئي تو دوسرے اعمال بھي ردّ ہوجائيں گے!)
شايد اس كي دليل يہ ہو كہ نماز خالق و مخلوق كے درميان ايك راز ہے اگر صحيح طور پر بجا لائي جائے تو انسان كے اندر نيت ،اخلاص اور قرب الٰہيپيدا ہوتا ہے جو دوسرے اعمال قبول ہونے كا ذريعہ ہے، ورنہ دوسرے اعمال كي كوئي اہميت نہيں ہے اور وہ اپنا اعتبار كھو ديتے ہيں۔
۸۔نماز ميں پائے جانے والے مطالب اور مضمون سے قطع نظراگر اس كے شرائط پر توجہ كريں تو وہ بھي اصلاح اور پاكيزگي كي دعوت ديتے ہيں كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ نمازي كي جگہ، نماز ي كے كپڑے، جس فرش پر نماز پڑھتا ہے، جس پاني سے وضو يا غسل كيا ہے، جس جگہ وضو يا غسل كيا ہے ، يہ تمام چيزيں غصبي نہيں ہوني چاہئے اور ان كے حوالے سے كسي دوسرے پر ظلم اور تجاوز نہ كيا گيا ہو، جو شخص ظلم و ستم، سود خوري، غصب، ناپ تول ميں كمي ، رشوت خوري اور حرام روزي وغيرہ جيسي چيزوں سے آلودہ ہو تو ايسا شخص نماز كے مقدمات كس طرح فراہم كرسكتا ہے؟ لہٰذا ہر روز پانچ مرتبہ اس نماز كي تكرار دوسروں كے حقوق كي رعايت كي دعوت ديتي ہے۔
۹۔ نماز صحيح ہونے كے شرائط كے علاوہ، شرائطِ قبول يا بالفاظ ديگر شرائطِ كمال بھي پائے جاتے ہيں جن كي رعايت خود بہت سے گناہوں كو ترك كرنے كا سبب بنتي ہے۔
فقہ اور حديث كي كتابوں ميں بہت سي چيزوں كو ”موانع نماز“ كے عنوان سے ذكر كيا گيا ہے جن ميں سے ايك مسئلہ شراب پينا ہے، روايات ميں بيان ہوا ہے كہ ”لَا تُقبّل صلوٰة شَاربُ الخَمْر اٴرْبعِينَ يَوماً إلاَّ اٴنْ يَتُوبَ“(9) ”شراب پينے والے كي نماز، چاليس دن تك قبول نہيں ہوتي، مگر يہ كہ توبہ كرلے“۔
متعدد روايات ميں بيان ہوا ہے كہ جن لوگوں كي نماز قبول نہيں ہوتي ان ميں سے ايك ظالم افراد كا رہبر ہے“۔(10)
بعض دوسري روايات ميں تصريح كي گئي ہے كہ جو شخص زكوٰة ادا نہيں كرتا اس كي نماز قبول نہيں ہے، اسي طرح دوسري روايات ميں بيان ہوا ہے كہ حرام لقمہ كھانے والے يا خود پسندي كرنے والے كي نماز قبول نہيں ہوتي۔ لہٰذا ان تمام احاديث كے پيش نظر يہ بات معلوم ہوجاتي ہے كہ ان تمام شرائط كا فراہم كرنا انسان كي اصلاح كے لئے بہت مفيد ہے۔
۱۰۔ نماز كے ذريعہ انسان ميں نظم و نسق كي روح طاقتور ہوتي ہے كيونكہ نماز معين وقت پر پڑھي جاتي ہے ، يعني اگر انسان نماز كو وقت سے پہلے يا وقت كے بعد پڑھے تو اس كي نماز باطل ہوجاتي ہے، اسي طرح نماز كے ديگر آداب و احكام جيسے نيت، قيام، قعود ، ركوع اور سجود وغيرہ كي رعايت سے انسان كے لئے دوسرے كاموں ميں بھي نظم كا لحاظ كرنا آسان ہوجاتا ہے۔
نماز كے يہ تمام فائدے اس وقت ہيں جب نماز جماعت سے نہ پڑھي جائے اور اگر نماز كے ساتھ جماعت كي فضيلت كا اضافہ بھي كرديا جائے (كيونكہ نماز كي روح، جماعت ہے) تو پھر
بے شمار بركتيں نازل ہوتي ہيں، جس كي تفصيل يہاں بيان نہيں كي جاسكتي، كم و بيش اكثر مومنين نماز جماعت كي فضيلت سے آگاہ ہيں۔
ہم فلسفہٴ نماز اور اسرارِ نماز كے سلسلہ ميں اپني گفتگو كو حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہ السلام كي ايك بہترين حديث پر ختم كرتے ہيں:
امام عليہ السلام نے اس خط كے جواب ميں اس طرح فرمايا جس ميں فلسفہ نماز كے بارے ميں سوال كيا گيا تھا:
نماز كو اس لئے واجب قرار ديا گيا ہے كہ اس ميںخداوندعالم كي ربوبيت كا اقرار پايا جاتا ہے، اس ميں شرك و بت پرستي كا مقابلہ ہوتا ہے ، خدا كي بارگاہ ميں مكمل خضوع و خشوع پايا جاتا ہے، انسان اپنے گناہوں كا اقرار كرتا ہے اورخداوندعالم سے اپنے گناہوں كي بخشش طلب كرتا ہے، انسان ہر روز عظمت ِپروردگار كے سامنے اپني پيشاني كو خم كرتا ہے۔
اور نماز كا مقصديہ ہے كہ انسان ہميشہ ہوشيار اور متوجہ رہے انسان كے دل پر، بھول چوك كي گرد و غبار نہ بيٹھے، مست اور مغرور نہ ہو، خاشع اور خاضع رہے، انسان دين و دنيا كي نعمتوں كو حاصل كرنے كے لئے كوشش كرے۔
جب انسان ہر روز نماز كے ذريعہ ذكر خدا كرتا ہے تويہ سبب بنتا ہے كہ وہ اپنے مولا و آقا، مدبر اور خالق كو نہ بھولے اور اس پر سركشي اور غلبہ كرنے كا تصور تك نہ كرے۔
خداوندعالم پر توجہ ركھنا اور خود كو اس كے سامنے حاضر سمجھنا؛انسان كو گناہوں سے دور ركھتا ہے اور مختلف برائيوں سے روكتا ہے۔ (11)(12)

(1)سورہٴ عنكبوت ، آيت ۴۵
(3،2) مجمع البيان، سورہٴ عنكبوت ، آيت نمبر ۴۵ كے ذيل ميں
(4) بحا الانوار ، جلد ۸۲، صفحہ ۲۰۰
(5) وسائل الشيعہ ، جلد ۳، صفحہ ۷ (باب ۲ / از ابواب اعداد الفرائض حديث۳)
(6) نہج البلاغہ ، كلمات قصار، نمبر ۲۵۲
(7) نہج البلاغہ ،كلمات قصار ، نمبر ۱۳۶
(8) نہج البلاغہ ،خطوط (مكتبوب)(وصيت )۴۷
(9) بحار الانوار ، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۷ و۳۲۰
(10) بحار الانوار، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۸
(11) وسائل الشيعہ ، جلد ۳، صفحہ ۴
(12) تفسير نمونہ ، جلد۱۶، صفحہ ۲۸۴
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك