سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:531

وضو ،غسل اور تيمم كا فلسفہ كيا ہے؟

اس بات ميں كوئي شك نہيں ہے كہ وضو كے دو فائدے واضح اور روشن ہيں، ايك پاكيزگي اور صفائي كا فائدہ دوسرے اخلاقي اور معنوي فائدہ، شب و روز ميں پانچ بار يا كم از تين بار چہرے اور ہاتھوں كو دھونا انسان كے جسم كے لئے بہت مفيد ہے، كيونكہ سر اور پيروں كي كھال پر مسح كرنے سے يہ اعضا بھي پاك و صاف رہتے ہيں، جيسا كہ آئندہ فلسفہٴ غسل ميں بيان كيا جائے گا كہ كھال تك پاني كا پہنچناسمپاتھٹيك (Syapathetic) اور پيرا سمپاتھٹيك (Para Syapathetic) اعصاب كو كنٹرول كرنے ميں بہت متاثر ہے۔
اسي طرح اخلاقي اور معنوي لحاظ سے بھي چونكہ يہ كام قربتِ خدا كے لئے ہوتا ہے، جو تربيتي لحاظ سے مو ثرہے، جو اس بات كي طرف اشارہ ہے كہ سر سے لے كر پاؤں تك تيري اطاعت و بندگي ميں حاضر ہوں، لہٰذا اسي اخلاقي و معنوي فلسفہ كي تائيد ہوتي ہے، چنانچہ حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہ السلام سے ايك حديث ميں اس طرح ذكر ہوا ہے:
” وضو كا حكم اس وجہ سے ديا گيا ہے كہ اس سے عبادت كا آغاز ہوتا ہے ،(كيونكہ) جس وقت بندہ خدا كي بارگاہ ميں حاضر ہوتا ہے، اور اس سے مناجات كرتا ہے تو اسے اس وقت پاك ہونا چاہئے، اور اس كے احكام پرعمل كرنا چاہئے اورگندگي اور نجاست سے دور رہے، اس كے علاوہ وضو باعث ہوتا ہے كہ انسان كے چہرہ سے نيند اور تھكن كے آثار دور ہو جائيں اور انسان كا دل خدا كي بارگاہ ميں حاضر ہوكر نورِ پاكيزگي حاصل كرے“۔(1)
فلسفہ غسل ميں بيان ہونے والي وضاحت سے فلسفہ وضو بھي مزيد واضح ہوجائے گا۔
فلسفہ غسل
بعض لوگ سوال كرتے ہيں كہ انسان كے مجنب ہو نے پر اسلام نے غسل كا حكم كيوں ديا ہے جبكہ صرف مخصوص عضو گندا ہوتا ہے؟!! نيز پيشاب اور مني ميں كيا فرق ہے جبكہ پيشاب ميں صرف پاني سے دھونا لازم ہے اورمجنب ہونے كي صورت ميں تمام بدن كو دھونا (يعني غسل كرنا) ہوتا ہے؟
اس سوال كا ايك مختصر جواب ہے اور دوسرا تفصيلي۔
مختصر جواب يہ ہے كہ انسان كے جسم سے مني نكلنے سے صرف مخصوص عضو پر اثر نہيں ہوتا ( پيشاب اور پاخانہ كي طرح نہيں ہے) بلكہ اس كا اثر بدن كے تمام دوسرے اعضا پر بھي ہوتا ہے مني كے نكلنے سے بدن كے تمام اعضا سست پڑجاتے ہيں، جو اس بات كي نشاني ہے كہ اس كا اثر تمام بدن پر ہوتا ہے۔
وضاحت:
دانشوروں كي تحقيق كے مطابق انسان كے بدن ميں دو طرح كے نباتي اعصاب ہوتے ہيں جن سے بدن كا سارا نظام كنٹرول ہوتا ہے، ”سمپاتھٹيك (Syapathetic)“ اور ”پيرا سمپاتھٹيك (Para Syapathetic) اعصاب“دو طرح كے اعصاب پورے بدن ميں پھيلے ہوئے ہيں اور بدن كے تمام نظام كو اپنے كنٹرول ميں ركھتے ہيں، بدن ”سمپاتھٹيك اعصاب“ كا كردار بدن كے نظام ميں تيزي پيدا كرنا ہے اور ”پيرا سمپاتھٹيك اعصاب“كا كردار بدن ميں سستي پيدا كرنا ہے، در اصل ان دونوں كا كام گاڑي ميں ريس اور بريگ كي طرح ہے، اس سے بدن ميں توازن قائم رہتا ہے۔
كبھي بدن ميں ايسے حادثات پيش آتے ہيں جن سے يہ توازن ختم ہوجاتا ہے، انھيں ميں سے ايك مسئلہ ”Climax“ (اوج لذت جنسي) ہے ، اور اكثر اوقات مني كے نكلتے وقت يہ مسئلہ پيش آتا ہے۔
اس موقع پر ”اعصاب پيرا سمپاتھٹيك (Para Syapathetic) ”سمپاتھٹيك (Syapathetic) اعصاب“پر غلبہ كرليتے ہيں اور انسان كا توازن منفي صورت ميں بگڑجاتا ہے۔
يہ موضوع بھي ثابت ہوچكا ہے كہ ”سمپاتھٹيك (Syapathetic)اعصاب“ كے بگڑے ہوئے توازن كو دوبارہ برقرار كرنے كے لئے بدن كا پاني سے مس كرنا بھي موثر ہے،اور چونكہ جنسي لذت كا عروج ’Climax“ بدن كے تمام اعضا پرحسي طور پر اثر انداز ہوتا ہے ، لہٰذاجنسي ملاپ يا مني نكلنے كے بعداسلام نے حكم ديا ہے كہ سارے بدن كو پاني سے دھويا جائے تاكہ پورے بدن كا بگڑاہواتوازن دوبارہ صحيح حالت پر پلٹنے ميں مدد مل سكے۔(1)
البتہ غسل كا فائدہ اسي چيز ميں منحصر نہيں ہے، بلكہ غسل ان كے علاوہ ايك طرح كي عبادت بھي ہے جس كے اخلاقي اثر كا انكار نہيں كيا جاسكتا، اور اسي وجہ سے اگر نيت اور قصد قربت كے بغيرغسل انجام ديا جائے تو انسان كا غسل صحيح نہيں ہے، در اصل ہمبستري كرنے يا مني كے نكلنے سے انسان كا جسم جيسا كہ حضرت امام علي رضا عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں ہے كہ آپ نے فرمايا: ”اٴنّ الجَنابَةَ خَارجةٌ مِن كُلِّ جَسدہ فلذلكَ وَجَبَ عَلَيہ تَطْہِير جَسَدہ كُلّہ“ (جنابت پوري بدن سے باہر نكلتي ہے لہٰذا پورے بدن كو پاني سے دھونا (يعني غسل كرنا) واجب ہے) (وسائل الشيعہ، جلد اول صفحہ ۴۶۶) يہ حديث گويا اسي چيز كي طرف اشارہ ہے
بھي گندا ہوجاتا ہے اور اس كي روح بھي مادي شہوات كي طرف متحرك ہوتي ہے اور جسم سستي اور كاہلي كي طرف، غسل جنابت سے انسان كا جسم بھي پاك و صاف ہوجاتا ہے اور چونكہ قربت كي نيت سے انجام ديا جاتا ہے اس كي روح بھي پاك ہوجاتي ہے، گويا غسل جنابت كا دوہرا اثر ہوتا ہے، ايك جسم پر اور دوسرا انسان كي روح پر، تاكہ روح كو خدا اور معنويت كي طرف حركت دے اور جسم كو پاكيزگي اور نشاط كي طرف۔
ان سب كے علاوہ ، غسل جنابت كا وجوب بدن كو پاك و صاف ركھنے كے لئے ايك اسلامي حكم ہے، كيونكہ بہت سے لوگ ايسے مل جائيں گے جو پاكيزگي اور صفائي كا خيال نہيں كرتے، ليكن اس اسلامي حكم كي بنا پر وہ گاہ بہ گاہ اپنے بدن كي گندگي كو دور كرتے ہيں، اور اپنے بدن كو پاك و صاف ركھتے ہيں، اور يہ چيز گزشتہ زمانہ سے مخصوص نہيں ہے (كہ لوگ گزشتہ زمانہ ميں مدتوں بعد نہايا كرتے تھے) بلكہ آج كل كے زمانہ ميں بھي بہت سے ايسے لوگ موجود ہيں جو بعض وجوہات كي بنا پر صفائي كا بالكل خيال نہيں ركھتے، (البتہ اسلام كا يہ حكم ايك عام قانون ہے يہاں تك كہ جن لوگوں نے ابھي اپنے بدن كو دھويا ہو ان كو بھي شامل ہے)، (يعني اگر نہانے كے بعد مجنب ہوجائے تو بھي غسل كرنا واجب ہے۔)
مذكورہ تينوں وجوہات كي بنا پر يہ بات بخوبي واضح ہوجاتي ہے كہ مني نكلنے كے بعد (چاہے سوتے وقت يابيداري كي حالت ميں ) اور اسي طرح ہمبستري كے بعد (اگرچہ مني بھي نہ نكلي ہو) غسل كرنا كيوں ضروري ہے(2)
فلسفہ تيمم كيا ہے؟
بہت سے لوگ يہ سوال كرتے ہيں كہ مٹي پر ہاتھ مارنے اور ان كو پيشاني اور ہاتھوں پر ملنے سے كيا فائدہ ہوسكتا ہے؟ خصوصاً جبكہ ہم يہ بھي جانتے ہيں كہ اكثر مٹي گندي ہوتي ہے اور اس سے
جراثيم منتقل ہوتے ہيں۔
اس سوال كے جواب ميں دو نكات كي طرف توجہ ضروري ہے:
الف: اخلاقي فائدہ: تيمم ايك عبادت ہے، اس ميں حقيقي عبادت كي عكاسي پائي جاتي ہے، كيونكہ انسان حكم خدا كے پيش نظر اپنے شريف ترين عضو يعني پيشاني پر مٹي بھرا ہاتھ پھيرتا ہے تاكہ خدا كے سامنے اپني تواضع اور انكساري كا اظہار كرسكے، يعني ميري پيشاني اور ميرے ہاتھ تيرے سامنے تواضع و انكساري كي آخري حد پر ہيں، اور پھر انسان نماز يا دوسري ان عبادتوں ميں مشغول ہوجاتا ہے جن ميں وضو يا غسل كي شرط ہوتي ہے، اس بنا پر انسان كے اندر تواضع و انكساري، بندگي اور شكر گزاري كا مادہ پيدا ہوتا ہے۔
ب۔ حفظان صحت كا فائدہ: آج كل يہ بات ثابت ہوچكي ہے كہ مٹي ميں بہت سے جراثيم (Bacterias ) پائے جاتے ہيں جن كے ذريعہ بہت سي گندگياں دور ہوتي ہيں، يہ جراثيم جن كا كام آلودہ كرنے والے مواد كا تجزيہ اور طرح طرح كي بدبو كو ختم كرنا ہے زيادہ تر زمين كي سطح پر معمولي سي گہرائي ميں جہاں سے ہوا اور سورج كي روشني سے بخوبي فائدہ اٹھاسكيں، بكثرت پائے جاتے ہيں، اسي وجہ سے جب مردہ جانور كي لاشيں زمين ميں دفن كردي جاتي ہيں اور اسي طرح دوسري چيزيں جو گندگي سے بھري ہوئي ہوتي ہيں زمين پر پڑي ہوں تو كچھ عرصہ بعد ان كے بدن كے اجزا بكھر جاتے ہيں اور جراثيم كي وجہ سے وہ بدبو كا مركز نيست و نابود ہوجاتا ہے، يہ طے ہے كہ اگر زمين ميں يہ خاصيت نہ پائي جاتي تو كرہ زمين تھوڑي ہي مدت ميں بدبو كے ڈھيروں ميں بدل جاتا، اصولي طور پر مٹي اينٹي بيوٹك اثر ركھتي ہے، جو جراثيم مارنے كے لئے بہترين چيز ہے۔
اس بنا پر پاك مٹي نہ صرف آلودہ نہيں ہے بلكہ آلودگي كو ختم كرنے والي ہے، اور اس لحاظ سے ايك حد تك پاني كا كام كرسكتي ہے، اس فرق كے ساتھ كہ پاني جراثيم كو بہالے جاتا ہے اور مٹي جراثيم كو مار ڈالتي ہے۔
ليكن توجہ رہے كہ تيمم كي مٹي مكمل طور پر پاك و صاف ہو جيسا كہ قرآن كريم نے بہترين لفظ استعمال كيا ہے: ”طيباً“
قابل توجہ بات يہ ہے كہ قرآن كريم ميں تيمم كے حوالے سے لفظ ”صعيد“ استعمال ہوا ہے جو ”صعود“ سے ليا گيا ہے (جس كے معني بلندي كے ہيں) جو اسي بات كي طرف اشارہ ہے كہ تيمم كے لئے زمين كي سطحي مٹي لي جائے جس پر سورج كي روشني پڑتي ہو اور جس ميں جراثيم كو مارنے والي بيكٹري پائي جاتي ہوں، اگر اس طرح كي پاك و پاكيزہ مٹي سے تيمم كيا جائے تو يہ تاثير ركھتي ہے اور اس ميں ذرا بھي نقصان نہيں ہے۔(3)
وضو ميں ہاتھوں كو كس طرح دھويا جائے نيز سر اور پير كا مسح كس طرح كيا جائے؟
سورہ مائدہ كي آيت نمبر ۶ /ميں روح كي پاكيزگي كے طريقہ كي طرف اشارہ ہوا ہے، اور روح كي پاكيزگي كے لئے احكام وضو، غسل اور تيمم بيان ہوئے ہيں، پہلے مومنين سے خطاب ہوا اور وضو كے احكام اس ترتيب سے بيان كئے:
< يَااٴَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَي الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوہَكُمْ وَاٴَيْدِيَكُمْ إِلَي الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُ وٴسِكُمْ وَاٴَرْجُلَكُمْ إِلَي الْكَعْبَيْنِ>(4)
”اے ايمان والو! جب بھي نماز كے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں كو اور كہنيوں تك اپنے ہاتھوں كو دھوؤ اور سر اور گٹوں تك پيروں كا مسح كرو“۔
اس آيہٴ شريفہ ميں ہاتھوں كے دھلنے كي حد ”كہني“ تك قرار دي گئي ہے كيونكہ قرآن مجيد ميں لفظ ”مرافق“ ہے جس كے معني ”كہنياں“ ہيں ،ليكن جب كسي انسان سے كہا جائے كہ ”اپنے ہاتھوں كو دھو ليجئے“ تو ممكن ہے كہ وہ شخص صرف كلائيوں تك ہاتھوں كو دھوئے، كيونكہ اكثر اوقات ہاتھوں كو يہيں تك دھويا جاتا ہے، لہٰذا اس غلطي كو دور كرنے كے لئے ارشاد ہوتا ہے كہنيوں تك دھوئيں: < إِلَي الْمَرَافِقِ>
اس تفصيل كي بنا پر يہ بات روشن ہوجاتي ہے كہ آيت ميں لفظ ”اليٰ“ (يعني كہنيوں تك) ہاتھوں كے دھونے كي حد كو بيان كرنے كے لئے ہے نہ ہاتھوں كو دھونے كي كيفيت كے لئے، جيسا كہ بعض لوگوں كا گمان ہے اور مذكورہ آيت كے اس طرح معني كرتے ہيں:
ہاتھوں كو انگليوں كے سرے سے كہنيوں تك دھوئيں، (جيسا كہ اہل سنت كے يہاں پايا جاتا ہے)
اس كي مثال بالكل اسي طرح ہے كہ اگر آپ كسي پينٹر سے كہيں كہ ہماري ديوار كو فرش سے ايك ميٹر تك رنگ كرديں،تو يہ بات واضح ہے كہ اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ ديوار پر نيچے سے اوپر كي طرف رنگ كيا جائے بلكہ مقصد يہ ہے كہ اس مقدار ميں رنگ ہونا ہے نہ اس سے كم اور نہ اس سے زيادہ۔
اس بنا پر مذكورہ آيت ميں ہاتھوں كے دھلنے كي مقدار معين كي گئي ہے، ليكن اس كي كيفيت سنت نبي (ص) ميں اہل بيت عليہم السلام كے ذريعہ بيان ہوئي ہے ، كہ ہاتھوں كو كہنيوں سے انگليوں كے سرے تك دھويا جائے۔
”بِرُءُ وسِكُمْ “ ميں لفظ ”ب“ بعض اہل لغت اور بعض احاديث كي بنا پر ”بعض“ كے معني ميں آيا ہے يعني سر كے ”بعض حصہ“ كا مسح كرو، جيسا كہ احاديث ميں ملتا ہے كہ سر كے اگلے حصہ كا ہاتھ سے مسح كيا جائے ، ليكن جيسا كہ بعض اہل سنت كے يہاں رائج ہے كہ پورے سر كا مسح كرتے ہيں، يہ مذكورہ آيت كے مفہوم كے موافق نہيں ہے۔
”بِرُءُ وسِكُمْ “،كے بعد ”اٴرجلِكُم“ كا آنا خود اس بات پر گواہ ہے كہ پيروں كا بھي مسح كيا جائے نہ كہ ان كو دھويا جائے،(اور اگر ہم ديكھتے ہيں كہ ”اٴرْجلَكم“كے لام پر زبر آيا ہے تو ”بِرُءُ وسِكُمْ “كے محل پر عطف ہوا ہے نہ كہ ”وُجُوہَكُم“ پر) (5)(6)

(1) وسائل الشيعہ ، جلد۱ ، صفحہ ۲۵۷
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۹۱
3 تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۴۰۰
(4) سورہ مائدہ ، آيت ۶
(5) واضح ہے كہ ”وُجُوہَكُم“ اور ”اٴرْجُلَكُم“ ميں كافي فاصلہ ہے، جس كي بنا پر اس پر عطف ہونا بعيد نظر آتا ہے، اس كے علاوہ بہت سے مشہور قاري قرآن نے ”اٴرْجُلَكُم“ كو زير كے ساتھ پڑھا ہے
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۸۵
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك