سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:453

كيا ”شفاعت“ توحيد كے منافي ہے؟

شفاعت كے سلسلہ ميں سب سے اہم اعتراض يہ ہے كہ شفاعت كا عقيدہ توحيد كے بر خلاف ہے، البتہ يہ اعتراض وہابيوں كي طرف سے بہت زيادہ پروپيگنڈے اور كافي خرچ كي بنا پر وسيع پيمانے پر ہو تاآيا ہے، لہٰذا اس سلسلے ميں مزيد تو جہ كي ضرورت ہے۔
وہابيوں كے عقائد كا محور عمدہ طور پر چند چيزيں ہيں،جن ميں سب سے اہم ”توحيد افعالي“ اور ”توحيد عبادي“ ہے، يہ لوگ توحيد كي اس قسم كے معني اس طرح كرتے ہيں جس سے شفاعت شافعين، انبياء اور اولياء اللہ كي ارواح سے مدد مانگنا، يا خدا كي بارگاہ ميں ان كو شفيع قرار دينا، توحيد خدا كے منافي ہے، اور اسي وجہ سے يہ لوگ (وہابيوں كے علاوہ) ان چيزوں كا عقيدہ ركھنے والے تمام فرقوں كومشرك جانتے ہيں! اور اگر آپ تعجب نہ كريں تو يہ بھي عرض كرديا جائے كہ يہ لوگ ان عقائد ركھنے والوں كي جان، مال اور ناموس كو زمانہٴ جاہليت كے مشركين كي طرح مباح مانتے ہيں!
ان لوگوں نے اسي عقيدہ كي بنا پر حجازاور عراق (وغيرہ) كے بہت سے مسلمانوں كا خون بہايا، ان كے اموال كو تاراج كيااور ايسا ظلم و ستم كيا ہے جس كي تاريخ ميں مثال نہيں ملتي۔
اس سلسلہ ميں محمد بن عبد الوہاب (متوفي ۱۲۰۶ئھ) اس فرقہ كے باني نے اپني مشہور كتاب ”رسالہ اربع قواعد“ ميں بہت سي باتيں تحرير كي ہيں، جن كا خلاصہ يہ ہے:
شرك سے نجات صرف ”چار قواعد“ كے ذريعہ ہي ممكن ہے:
۱۔ جن مشركين سے پيغمبر اكرم (ص) نے جنگ كي ہے وہ سب خداوندعالم كو خالق، رازق اور اس جہان كا مدبر مانتے تھے جيسا كہ سورہ يونس آيت نمبر ۳۱ ميں ارشاد ہوتا ہے:
< قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ اٴَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنْ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنْ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ اٴَفَلاَتَتَّقُونَ >(1)
”پيغمبر ذرا ان سے پوچھئے كہ تمہيں زمين اور آسمان سے كون رزق ديتا ہے اور كون تمہاري سماعت و بصارت كا مالك ہے اور كون مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ كو نكالتا ہے اور كون سارے امور كي تدبير كرتا ہے تو يہ سب يہي كہيں گے كہ اللہ! تو آپ كہہ ديجئے كہ پھر اس سے كيوں نہيں ڈرتے“۔
اس آيت كي بنا پر وہ لوگ خداوندعالم كي رزّاقيت، خالقيت ، مالكيت اور مدبريت كا عقيدہ ركھتے تھے۔
۲۔ مشركين كي اصل مشكل يہ تھي كہ وہ كہتے تھے: ہم بتوں كي عبادت اور ان پر توجہ صرف اس وجہ سے كرتے ہيں كہ وہ خدا كے نزديك ہماري شفاعت كريں اور ان كے ذريعہ ہميں قرب خدا حاصل ہوجائے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ا رشاد ہوتا ہے:
<وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَضُرُّہُمْ وَلاَيَنْفَعُہُمْ وَيَقُولُونَ ہَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ >(2)
”اور يہ لوگ خدا كو چھوڑ كر ان كي پرستش كرتے ہيں، جو نہ نقصان پہنچاسكتے ہيں اور نہ فائدہ اور يہ لوگ كہتے ہيں كہ يہ خدا كے يہاں ہماري سفارش كرنے والے ہيں“۔ 
۳۔ جو لوگ غير خدا كي عبادت كيا كرتے تھے ان تمام سے پيغمبر اكرم (ص) نے جنگ كي ہے، چاہے وہ درختوں كي پوجا كرتے ہوں يا پتھروں اور چاند و سورج كي پوجا كرتے ہوں، يا ملائكہ ، انبياء اور صالحين كي عبادت كرتے ہوں، پيغمبر اكرم (ص) نے ان كے درميان كوئي فرق نہيں ركھا، (يعني آنحضرت نے ان سب سے جنگ كي ہے)
۴۔ ہمارے زمانہ كے مشركين ( يعني وہابيوں كے علاوہ تمام فرقے) زمانہ جاہليت كے مشركين سے بدتر ہيں! كيونكہ وہ سب چين و سكون كے وقت بتوں كي عبادت كيا كرتے تھے ليكن سخت حالات ميں صرف خدا كو پكارتے تھے جيسا كہ سورہ عنكبوت كي آيت نمبر ۶۵/ ميں بيان ہوا ہے:
< فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللهَ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَي الْبَرِّ إِذَا ہُمْ يُشْرِكُونَ>(3)(4)
”پھر جب يہ لوگ كشتي ميں سوار ہوتے ہيں تو ايمان و عقيدہ كے پورے اخلاص كے ساتھ خدا كو پكارتے ہيں پھر جب وہ نجات دے كر خشكي تك پہنچا ديتا ہے تو فوراً شرك اختيار كرليتے ہيں“۔
عجيب بات تو يہ ہے كہ يہ لوگ اپنے اس نظريہ ميں اتنے محكم ہيں اگرچہ ان كا نظريہ حقيقت ميں سفسطہ اور مغالطہ ہے، ليكن پھر بھي يہ لوگ ديگر مسلمانوں كے خون كو مباح جانتے ہيں اور ان كے قتل كو جائز جانتے ہيں، جيسا كہ شيخ ”سليمان“ اس گمراہ فرقہ كا سربراہ اپني كتاب ”الہداية السنيہ“ ميں كہتا ہے: قرآن و سنت اس بات كي گواہي ديتے ہيں كہ جو شخص ملائكہ يا انبياء يا (مثلاً) ابن عباس اور ابوطالب وغيرہ كو اپنے اور خدا كے درميان واسطہ قرار دے تاكہ وہ خدا كي بارگاہ ميں شفاعت كريں، جيسا كہ بادشاہوں كے قريبي لوگ اس سے سفارش كرتے ہيں، تو ايسے لوگ كافر اور مشرك ہيں،ان كا 
خون اور مال و دولت مباح ہے، اگرچہ يہ لوگ اپني زبان سے كلمہ شہادتين كا اقرار كرتے ہوں نماز پڑھتے ہوں اور روزہ ركھتے ہوں۔
چنا نچہ ان لوگوں نے اپنے اس شرمناك عقيدہ پرپابند رہنے يعني مسلمانوں كي جان و مال كو مباح قرار دينے كو بہت سے مقامات پر ثابت كر دكھايا ہے جن ميں سے حجاز ميں طائف كا مشہور و معروف قتل عام (صفر ۱۳۴۳ئھ ميں) اور (۱۸/ ذي الحجہ ۱۲۱۶ئھ ميں ) كربلا كا قتل عام بہت سي تواريخ ميں موجود ہے۔
اس استدلال كے انحرافي نكات 
۱۔ قرآني آيات كے پيش نظر يہ حقيقت بخوبي واضح ہوجاتي ہے كہ شفاعت ايك قرآني اور اسلامي مسلم حقيقت ہے، اورقرآن مجيد ميں ”شفاعت كرنے والے“ اور ”شفاعت كئے جانے والوں“ كے شرائط بيان ہوئے ہيں، لہٰذا يہ بات ممكن نہيں ہے كہ كوئي قرآن و اسلام كا دم بھرے اور ان تمام واضح و روشن مدارك كے باوجود اس اسلامي عقيدہ كا انكار كرے، ہميں اس بات پر تعجب ہوتا ہے كہ يہ لوگ كس طرح اپنے آپ كو مسلمان كہتے ہيں؟ جبكہ يہ اس عقيدہ كا انكار كرتے ہيں جو قرآن اور اسلام كي ضروريات ميں سے ہے، كيا كوئي مسلمان اسلام اور قرآن كے ضروريات كا انكار كرسكتا ہے؟! 
۲۔ جس شفاعت كو قرآن بيان كرتا ہے اوراس كا دفاع كرتا ہے اس كا اصل مرجع ”اذن خدا“ ہے اور جب تك وہ اجازت نہ دے گا اس وقت تك كسي كو شفاعت كرنے كا حق نہيں ہے، دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ شفاعت اوپر سے او راذن پروردگار سے ہے، بادشاہ اور حكام كے حوالي موالي كي سفارش كي طرح نہيں ہے جو نيچے سے اور اپنے ذاتي تعلقات كي بنا پر ہوتي ہے۔
اس طرح كي شفاعت توحيد كے مسئلہ پر مزيد تاكيد كرتي ہے، كيونكہ اس كا اصلي مركز ذات خداوندعالم ہے، اور ايسي توحيد ہے جس ميں كسي طرح كا شرك نہيں پايا جاتا، ليكن وہابيوں نے قرآني شفاعت كو شيطاني شفاعت اور حكام كے نزديك سفارش سے مخلو ط كرديا ہے اور اس كے منكر ہوگئے ہيں، اور اس كو اصل توحيد كے متضاد اور مخالف گردانتے ہيں، در اصل انھوں نے اس مسئلہ ميں خود اپنے اوپر اعتراض كيا ہے نہ كہ قرآني شفاعت پر۔
۳۔ شفاعت در اصل نجات كا ايك سبب ہے، جس طرح سے عالم خلقت اور عالم تكوين ميں اسباب (جيسے درختوں اور فصلوں كے لئے نور آفتاب اور بارش ) كو موثر ماننا اصل توحيد كے منافي نہيں ہے، كيونكہ ان تمام اسباب كي تاثير اذن الٰہي كي بنا پر ہوتي ہے، در اصل ان تمام كا نام ايك قسم كي شفاعت تكويني ہے، اسي طرح عالم شريعت ميں مغفرت و بخشش اور نجات كے لئے كچھ اسباب پائے جاتے ہيں وہ بھي خدا كي اجازت سے، اور يہ توحيد كے منافي ہي نہيں ہے بلكہ توحيد پر مزيد تاكيد كرتے ہيں، اور اس كا نام ”شفاعت تشريعي“ ہے۔
۴۔ بتوں كے بارے ميں قرآن كريم نے جس شفاعت كي نفي كي ہے، اس كي وجہ يہ ہے كہ بت پرست ہر لحاظ سے بے خاصيت موجودات (بتوں) كو بارگاہ خداوندي ميں اپنا شفيع قرار ديتے تھے، لہٰذا سورہ يونس ، آيت نمبر۱۸ ميں ان كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: <وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَضُرُّہُمْ وَلاَيَنْفَعُہُمْ وَيَقُولُونَ ہَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ >
”اور يہ لوگ خدا كو چھوڑ كر ان كي پرستش كرتے ہيں، جو نہ نقصان پہنچاسكتے ہيں اور نہ فائدہ اور يہ لوگ كہتے ہيں كہ يہ خدا كے يہاں ہماري سفارش كرنے والے ہيں“۔
يقيني طور پر انبياء اور اولياء اللہ كي شفاعت سے اس كا كوئي تعلق نہيں ہے، يہ آيت بتوں سے مخصوص ہے ، جو كہ بے عقل و شعور پتھر اور دھات ہيں۔
دوسري طرف قرآن كريم اس شفاعت كي مذمت كرتا ہے جس ميں شفاعت كرنے والے كے استقلال اور اذن الٰہي كے بغير اس كي تاثير كو قبول كيا جائے، اسي وجہ سے قرآن كريم ميں ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُہُمْ إِلاَّ لِيُقَرِّبُونَا إِلَي اللهِ زُلْفاً إِنَّ اللهَ يَحْكُمُ بَيْنَہُمْ فِيمَا ہُمْ فِيہِ يَخْتَلِفُونَ>(5)
”اور جن لوگوں نے اس كے علاوہ سرپرست بنائے ہيں يہ كہہ كر كہ ہم ان كي پرستش صرف اس لئے كرتے ہيں كہ يہ ہميں اللہ سے قريب كر ديں گے ، اللہ ان كے درميان تمام اختلافي مسائل ميں فيصلہ كر دے گا“۔
اس آيہٴ شريفہ كے مطابق مشركين اپنے معبودوں كو اپنا ولي اور سرپرست، اپنا حامي اور اپنا محافظ مانتے تھے، اور ان كي پوجاكرتے تھے، اور ان كے يہ دونوں كام غلط تھے، (بتوں كو اپنا ولي سمجھنا اور ان كي عبادت كرنا)
ليكن اگر كوئي شخص اولياء اللہ ، انبياء عليہم السلام اور ملائكہ كي عبادت نہ كرے بلكہ ان كا احترام كرے، ان كو بارگاہ خدا ميں شفيع قرار دے وہ بھي خدا كے اذن سے، تو يہ مذكورہ آيت ہرگز اس كو شامل نہ ہوگي۔
وہابي لوگ چونكہ آياتِ شفاعت ،كفر و ايمان اور شفاعت كرنے والے نيز شفاعت ہونے والے كے شرائط كے بيان كرنے والي آيات پر مہارت نہيں ركھتے، جس كي وجہ سے انھوں نے بت پرستوں كے عقيدہ كو شفاعت سے ملاديا اور يہ اس مثال كي طرح ہے: ”چون نديدند حقيقت رہ افسانہ زدند“ (جب حقيقت تك نہيں پہنچ سكے تو قصہ اور كہاني كي راہ اختيار كرلي۔)
۵۔ وہابيوں كا كہنا يہ بھي ہے كہ عرب كے بت پرست ،خالقيت، مالكيت اور رازقيت كو خداوندعالم سے مخصوص جانتے تھے، ليكن وہ لوگ صرف بتوں كي وساطت اور شفاعت كو ما نتے تھے، يہ بھي ان كي دوسري غلط فہمي ہے، جس كي وجہ بھي قرآني آيات سے لا علمي ہے، كيونكہ قرآن مجيد كي متعددآيات سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ يہ لوگ بعض ان صفات كے بتوں كے لئے بھي قائل تھے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَي الْبَرِّ إِذَا ہُمْ يُشْرِكُونَ>(6)
”پھر جب يہ لوگ كشتي ميں سوار ہوتے ہيں تو ايمان و عقيدہ كے پورے اخلاص كے ساتھ خدا كو پكارتے ہيں پھر جب وہ نجات دے كر خشكي تك پہنچا ديتا ہے تو فوراً شرك اختيار كرليتے ہيں“۔
(يعني مشكلات كا حل بھي غير خدا سے چاہتے تھے)
ان الفاظ سے يہ بات بالكل واضح ہوجاتي ہے كہ كفار و مشركين عام حالات ميں اپني مشكلوں كا حل بتوں سے چاہتے تھے، اگرچہ سخت حالات ميں صرف خدا كے لطف و كرم كے اميدوار ہوتے تھے۔
سورہ فاطر ميں پيغمبر اكرم (ص) سے خطاب ہورہا ہے:
< قُلْ اٴَرَاٴَيْتُمْ شُرَكَائَكُمْ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ اٴَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنْ الْاٴَرْضِ اٴَمْ لَہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ>(7)
”آپ كہہ ديجئے كہ كيا تم لوگوں نے ان شركاء كو ديكھا ہے جنھيں خدا كو چھوڑ كر پكارتے ہو ذرا مجھے بھي دكھلاؤ كہ انھوں نے زمين ميں كس چيز كو پيدا كيا ہے يا ان كي كوئي شركت آسمان ميں ہے“۔
اگر مشركين ،صرف خدا وند عالم ہي كو خالق مانتے تھے اور بتوں كو صرف شافع كے عنوان سے ما نتے تھے، تواس سوال كا كوئي مطلب ہي نہيں ہوتا كيونكہ وہ جواب ميں كہہ سكتے تھے كہ ہم ان كو خالق نہيں مانتے، صرف خالق و مخلوق كے درميان واسطہ مانتے ہيں، كيا اگر كسي كو واسطہ ما نا جائے تو اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ اسے خالق بھي ماننا ضروري ہے؟!
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ لوگ بتوں كے خلقت ميں شركت كے قائل تھے، اور پيغمبر اكرم كو حكم ديا گيا كہ ان كے جھوٹ كو ثابت كرنے كے لئے ان سے سوال كريں كہ ان بتوں نے كيا چيز خلق كي ہے؟
سورہ اسراء ، آيت نمبر ۱۱۱/ بھي اس بات پر دلالت كرتي ہے كہ مشركين بتوں كو مالكيت اور حاكميت ميں خدا كا شريك قرار ديتے تھے، يہاں تك كہ يہ عقيدہ بھي ركھتے تھے كہ جب خدا كوكوئي مشكل پيش آتي ہے تو يہي بت اس كي مدد كرتے ہيں! چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
<وَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَہُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَہُ وَلِيٌّ مِنْ الذُّلِّ وَكَبِّرْہُ تَكْبِيرًا >(8) 
”اور كہوكہ ساري حمد اس اللہ كے لئے ہيں جس نے نہ كسي كو فرزند بنايا ہے اور نہ كوئي اس كے ملك ميں شريك ہے( اور مدد گار )اور نہ كوئي اس كي كمزوري كي بنا پر اس كا سر پرست ہے اور پھر باقاعدہ اس كي بزرگي كا اعلان كرتے رہو“۔
آيت كے تينوں جملوں ميں سے ہر جملہ بت پرستوں كے ايك عقيدہ كي نفي كرتا ہے كہ ”فرشتوں كو خدا كي بيٹياں مانتے تھے “ (توجہ رہے كہ ”ولد“ بيٹے اور بيٹي دونوں كے لئے بولا جاتا ہے) (9) اور ان كو خلقت ميں” شريك“ نيز ان كو خدا كا” مددگار“ مانتے تھے!
قابل توجہ بات يہ ہے كہ قرآن مجيد نے تمام مقامات پر بت پرستوں كو ”مشركين“ اور ان كے اعمال كو ”شرك“ كے عنوان سے يادكيا ہے، اگر وہ لوگ ”خدا “اور ”بتوں“ كے درميان كسي شرك كے قائل نہ تھے اور ان بتوں كو صرف خدا كي بارگاہ ميں شفيع مانتے تھے، تو قرآن كريم كے يہ الفاظ صحيح نہيں ہيں(معاذ اللہ)، ”شرك اور مشرك“ كے معني يہ ہيں كہ يہ لوگ بتوں كو خدا كي ربوبيت يا حل مشكلات يا خلقت وغيرہ ميں شريك قرار ديتے تھے، (البتہ پتھر يا لكڑي كے بت ان كي نظر ميں صالح اور فرشتوں كا نمونہ تھے)
دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ يہ لوگ بتوں كے لئے تدبيرِ جہان ميں ايك طرح كے استقلال كے قائل تھے، اور ايك طرح سے خدا كے برابر قرار ديتے تھے، نہ فقط بارگاہ خدا ميں واسطہ۔
خصوصاً قرآن كريم كي مختلف آيات ميں بہت سے ايسے الفاظ استعمال ہوئے ہيں جن سے يہ بات بالكل واضح ہوجاتي ہے، جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے: <وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلاَنَصِيرٍ >(10) ”اور اس كے علاوہ تمہارا كوئي سرپرست اور مددگار بھي نہيں ہے“۔
يہ بت پرستوں كے عقيدہ كي طرف اشارہ ہے كہ يہ لوگ بتوں كو اپنا ولي و ناصر مانتے تھے، جيسا كہ قرآن كريم ميں ارشاد ہوتا ہے: <وَ لَايُغْنِي عَنْہُمْ مَا كَسَبُوا شَيْئًا ولَا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ اٴَوْلِيَاءَ >(11)”اور جن لوگوں نے خدا كو چھوڑ كر سرپرست بنا يا ہے،كوئي كام آنے والا نہيں ہے“۔
قرآني آيات ميں متعدد بارمشركين كے بارے ميں ”من دون الله“ كا جملہ استعمال ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ لوگ خدا كے علاوہ دوسري موجودات (بتوں، درختوں اور پتھروں) كي عبادت كيا كرتے تھے تاكہ وہ ان كے ولي و ناصر اور مددگار ہوں، يہ وہي ” ربوبيت ميں شرك“ ہے نہ كہ شفاعت۔
المختصر: قرآن كريم كي طرف سے مختلف آيات ميں مشركين پر دو اعتراض ملتے ہيں : پہلا اعتراض يہ لوگ ايسي موجودات كو مبدا اثر قرار ديتے ہيں جو نہ سننے كي صلاحيت ركھتے ہيں اور نہ ديكھنے كي اور نہ ہي ان ميں عقل و شعور پايا جاتا ہے، اور دوسرے: يہ لوگ خدا كي تد بير كے مقابل بتوں كے لئے”ربوبيت“ كے قائل تھے۔
البتہ زمانہٴ جاہليت كے بت پرستوں كي باتيں ضد و نقيض ہوتي تھيں، ايسا نہيں تھا كہ ايك منطقي انسان كي طرح اپني باتوں كو بغير كسي تضاد اور ٹكراؤ كے بيان كرتے ہوں، اگرچہ وہ بتوں كو مشكلات كے حل كے لئے خدا كا شريك قرار ديتے تھے اور ان كو ”من دون الله“ خدا كے علاوہ اپنا ناصر و مددگار تصور كرتے تھے، ليكن كبھي كبھي بتوں كو خدا كے نزديك شفاعت كرنے والا بھي قرار ديتے تھے،اور يہ بات ہرگز شرك افعال پر اعتقاد كي دليل نہيں ہے، يہ مطلب تمام قرآني آيات كي تحقيق اور كفار و مشركين كے تمام حالات سے حاصل ہوتا ہے، اس كے علاوہ وہ لوگ شفاعت كو خدا كي اجازت پر موقوف نہيں جانتے تھے۔
(قارئين كرام!) ان تمام باتوں كے پيش نظر ،يہ بات بالكل واضح ہوجاتي ہے كہ اگر انسان صرف اور صرف اولياء اللہ كو شفيع قرار دے (نہ كہ پتھر اور لكڑي كے بتوں كو) اور صرف ان كو خدا كي بارگاہ ميں ”شفيع“ مانے (نہ خدا كي ولايت اور تدبير ميں شريك ) نيز ان كي شفاعت كو خدا كي اجازت پر موقوف مانے (نہ مستقل طور پر) اس صورت ميں شفا عت پر كوئي اعتراض نہيں ہے، مشكل اس وقت پيدا ہوگي جب ان تينوں اصول ميں سے كسي ايك يا تينوں كو نظر انداز كرديا جائے، اور غلط راستہ كا انتخاب كيا جائے۔(12)
 

(1) سورہٴ يونس ، آيت۳۱ (2)سورہٴ يونس ، آيت۱۸
(3)سورہٴ عنكبوت ، آيت ۶۵
(4) ”رسالہ ا ربع قواعد“ تاليف: محمد بن عبد الوہاب ، باني وہابيت، صفحہ ۲۴ سے ۲۷ تك، كشف الارتياب سے نقل كيا ہے، صفحہ۱۶۳
(5) الھدية السنية ، صفحہ ۶۶
(6) سورہٴ زمر ، آيت ۳
(7) سورہٴ عنكبوت ، آيت ۶۵
(8)سورہٴ فاطر ، آيت ۴۰
(9)سورہٴ اسرا ، آيت ۱۱۱
(10) ولد مولود كے معني ميں ہے، اوربڑ ے ،چھوٹے ،لڑكا ،لڑكي ،مفرداور جمع سب كے لئے استعمال ہوتا ہے، (ديكھئے: مفردات راغب)
(11) سورہٴ عنكبوت ، آيت ۲۲ (71)سورہٴ جاثيہ ، آيت ۱۰ 
(12) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۵۳۶
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك