سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:410

فلسفہٴ شفاعت كيا ہے؟ اور كيا شفاعت كي اميد ،گناہ كي ترغيب نہيں دلاتي؟

شفاعت ، نہ تو گناہ كي ترغيب ہے ،نہ گنہگار كے لئے گرين لائٹ، نہ عقب ماندگي كا سبب اور نہ ہي آج كل كي دنيا ميں رائج پارٹي بازي، بلكہ تربيت كا اہم مسئلہ ہے جو مختلف لحاظ سے مثبت اور مفيد آثار لئے ہوئے ہے، منجملہ:
الف۔ اميد كي كرن اور مايوسي سے مقابلہ: بعض اوقات انسان پر ہوائے نفس كا غلبہ ہوجاتا ہے اور بہت سے اہم گناہوں كا مرتكب ہوجاتا ہے جس سے گنہگار انسان مايوسي اور نااميدي كا شكار ہوجاتا ہے، جس سے گنہگار كو مزيد گناہ انجام دينے ميں مدد ملتي ہے كيونكہ ايسے موقع پر يہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے كہ اب تو پاني سر سے گزر گيا ہے چاہے ايك بالشت ہو يا سو بالشت؟! 
ليكن شفاعت ِاولياء اللہ ان كو بشارت ديتي ہے كہ بس يہيں رك جاؤ اور اپني اصلاح كي كوشش كرو، ممكن ہے ان كے گزشتہ گناہ شافعين كي شفاعت پر بخش دئے جائيں، لہٰذا شفاعت كي اميد انسان كو مزيد گناہ سے روكتي ہے اور تقويٰ واصلاح نفس ميں مددگار ثابت ہوتي ہے۔
ب۔ اولياء اللہ سے معنوي تعلق پيدا ہونا: شفاعت كے معني كے پيش نظر يہ نتيجہ حاصل كرنا آسان ہے كہ شفاعت اسي وقت ممكن ہے جب ”شفيع“ اور ”شفاعت ہونے والے شخص“ كے درميان ايك قسم كا رابطہ ہو، لہٰذا شفا عت كے لئے ايمان اور عمل صالح كے ذريعہ معنوي رابطہ ہونا ضروري ہے۔
اگر كوئي شخص كسي كي شفاعت كي اميد ركھتا ہو تواس كي كوشش يہ ہوني چاہئے كہ شفاعت كرنے والے سے بہترين تعلقات قائم ركھے ، اور ايسے اعمال انجام دے جن سے وہ خوش رہے، بُرے كاموں سے اجتناب كرے، اس كي محبت و دوستي كو بالكل ختم نہ كرڈالے۔
يہ تمام چيزيں انساني تربيت كے لئے بہترين اسباب ہيں، جن كے ذريعہ انسان آہستہ آہستہ گناہوں كي گندگي سے باہر نكل آتا ہے، يا كم از كم بعض برائيوں كے ساتھ ساتھ نيك كام بھي انجام ديتا ہے، اور شيطان كے جال ميں مزيد پھنسنے سے بچ جاتا ہے۔
ج۔ شفاعت كے شرائط حاصل كرنا: قرآن مجيد كي متعدد آيات ميں شفاعت كے لئے بہت سے شرائط ذكر ہوئے ہيں ان ميں سب سے اہم خداوندعالم كي طرف سے اذن و اجازت ہے، اور يہ بات مسلم ہے كہ جو شخص شفاعت كا اميدوار ہے تو اسے خدا وندعالم كي رضايت حاصل كرني ہوگي، يعني اسے ايسے اعمال انجام دينے ہوں گے جن سے خداوندعالم راضي و خوشنود ہوجائے۔
بعض آيات ميں بيان ہوا ہے كہ روز قيامت صرف ان ہي لوگوں كے بارے ميں شفاعت قبول كي جائے گي جن كے بارے ميں خدا نے اجازت دي ہو، اور اس كي باتوں سے راضي ہوگيا ہے۔ (سورہ طٰہٰ، آيت ۱۰۹)
سورہ انبياء ، آيت نمبر ۲۸ ميں بيان ہوا ہے كہ شفاعت كے ذريعہ صرف انھيں لوگوں كي بخشش ہوگي جو”مقام ارتضاء“ (يعني خوشنودي خدا) تك پہنچ چكے ہوں گے، اور سورہ مريم ، آيت۷ ۸ كے مطابق جن لوگوں نے خدا سے عہد كرليا ہو، اور جيسا كہ ہم نے عرض كيا كہ يہ تمام مقامات اس وقت حاصل ہوتے ہيں جب انسان خداوندعالم اور اس كي عدالت پر ايمان ركھتا ہو ، نيكيوں اور برائيوں ميں حكم خداكو قبول كرتا ہو، اور خدا كي طرف سے نازل شدہ تمام قوانين كے صحيح ہونے پر گواہي دے۔
اس كے علاوہ بعض آيات ميں بيان ہوا ہے كہ ظالمين كو شفاعت نصيب نہ ہوگي، لہٰذا شفاعت كي اميد ركھنے والے كے لئے ظالمين كي صف سے باہر نكل آنا ضروري ہے،(چاہے وہ كسي بھي طرح كا ظلم ہو، دوسروں پر ظلم ہو يا اپنے نفس پر ظلم ہو)۔
(قارئين كرام!) يہ تمام چيزيں با عث بنتي ہيں كہ شفاعت كي اميد ركھنے والا شخص اپنے گزشتہ اعمال پر تجديد نظر كرے اور آئندہ كے لئے بہتر طور پر منصوبہ بندي كرے، يہ خود انسان كي تربيت كے لئے بہترين اور مثبت پہلو ہے۔
د۔ شافعين پر توجہ: قرآن كريم ميں شافعين كے سلسلہ ميں بيان شدہ مطالب پر توجہ، اسي طرح احاديث معصومين عليہم السلام ميں بيان شدہ وضاحت پر توجہ كرنا مسئلہ شفاعت كاايك دوسرا تربيتي پہلو ہے۔
پيغمبر اكرم (ص) نے ايك حديث ميں فرمايا:
”الشّفاءُ خَمْسَةٌ: القُرآن، وَالرّحم، والاٴمَانة، وَنبيكُم، وَاٴہلَ بَيتَ نبيكم،“(1) 
”روز قيامت شفاعت كرنے والے پانچ ہيں: قرآن، صلہ رحم، امانت، تمہارے پيغمبر اور ا ہل بيت پيغمبر (عليہم السلام)“۔
ايك دوسري حديث جو مسند احمد ميں نقل ہوئي ہے، پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: ” تَعَلّمُوا القرآنَ فَاٴنَّہُ شَافِعٌ يَومَ القيامَة“(2) ”قرآن كي تعليم حاصل كرو كيونكہ وہ روز قيامت تمہاري شفاعت كرنے والا ہے“۔
يہي معني نہج البلاغہ ميں امام المتقين حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے بيان ہوئے ہيں: ”فَإنَّہُ شَافِعٌ مُشَفِّعٌ“(3) ”قرآن كريم ايسا شفاعت كرنے والا ہے جس كي شفاعت بارگاہ الٰہي ميںقبول ہے“۔
متعدد روايات سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ شفاعت كرنے والوں ميں سب سے بہترين شفاعت كرنے والا”توبہ“ ہے: ”لَاشَفِيْعَ اٴنجَح مِنَ التَّوبَةِ“(4) ”توبہ سے زيادہ كا مياب كوئي شفيع نہيں ہے“۔
بعض احاديث ميں انبياء، اوصياء، مومنين اور ملائكہ كي شفاعت كي تصريح كي گئي ، جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص) كي حديث ہے:
”الشَّفَاعةُ للِاٴنبيَاءِ وَالاٴوْصِياءِ وَالمَوٴمِنِينَ وَالمَلائِكَةِ ،وَفِي المَوٴمنِينَ مَنْ يَشفَعُ مِثْلَ رَبيعةَ و مضر ! واٴقلَّ المَوٴمِنِيْنَ شَفَاعة مَنْ يَشْفَعُ ثَلاثِينَ إنسَاناً!“(5)
انبياء، اوصياء ،مومنين اور فرشتے شفاعت كرنے والے ہيں، اور مومنين كے درميان شفاعت كرنے والے ايسے بھي ہوں گے جو قبيلہ ”ربيعہ“ اور ”مُضر“ كے برابر شفاعت كريں گے، اور سب سے كم شفاعت كرنے والے مومنين (بھي) تيس افراد كي شفاعت كريں گے“۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ خداوندعالم روز قيامت ”عابد“ اور ”عالم“ كو مبعوث كرے گا، اور جس وقت يہ دونوں عدل الٰہي كے مقابل كھڑے ہوں : ”قِيلَ لِلْعَابِدِ اِنطَلِقْ إليَ الجَنَّة، وَقِيْلَ لِلْعَالِمِ قِفْ، تَشفَع لِلنَّاسِ بِحُسْنِ تَادِيبِكَ لَھُم“(6) (عابد سے كہا جائے گا كہ تم جنت ميں چلے جاؤ، اور عالم كو روك ليا جائے گا، اور اس سے كہا جائے گاكہ تم ان لوگوں كي شفاعت كرو جن كي تم نے نيك تربيت كي ہے“۔
محترم قارئين ! گزشتہ روايات خصوصاً آخري روايات ميں ايسے الفاظ بيان ہوئے ہيں جن سے صاف صاف يہ معلوم ہوتا ہے كہ شفاعت كي اميد ركھنے والے كے لئے نيك افراد ،مومنين اور علماسے ايك معنوي رابطہ ہونا ضروري ہے۔
شہداء ِراہ خدا كے بارے ميں بھي پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے كہ آپ نے فرمايا: ”وَيَشْفَعُ الرَّجُلُ مِنھُم مِن سَبْعِينَ اٴلفَا مِن اٴہلِ بَيتِہِ وَجِيرَانِہ“(7) (شہداء ميں سے ہر شہيد اپنے خاندان اور پڑوسيوں ميں سے ۷۰/ ہزار افراد كي شفاعت كرے گا“۔
يہاں تك بعض روايتوں سے معلوم ہوتا ہے كہ ”شفيع انسان، خداوندعالم كي اطاعت اور عمل حق ہے“: ”شَافِعُ الخَلْقِ :العَمَلُ بِالحَقِّ وَلزومِ الصِّدْقِ“(8) 
خلاصہ گفتگو يہ ہے كہ اسلامي معتبر كتابوں ميں بيان شدہ ان تمام روايات كے پيش نظر صاف طور پر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ شفاعت اسلام كے اہم ترين تربيتي مسائل ميں ہے، جس كي شفاعت كرنے والوں كي قسموں كے اعتبار سے بہت زيادہ اہميت ہے، اور تمام مسلمانوں كو شفاعت كي اس عظيم منزلت كي طرف اور شفاعت كرنے والوں سے معنوي رابطہ قائم كرنے كي دعوت دي گئي ہے، اور مسئلہ شفاعت كے غلط اور تحريف شدہ شفاعت كے معني كو الگ كرديتي ہے۔9)(10) 
 

(1) ميزان الحكمہ، جلد ۵، صفحہ ۱۲۲
(۲) مسند احمد ، جلد ۵، صفحہ ۲۵۱، (طبع بيروت دار صادر)
(3) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ br> (4)نہج البلاغہ ،كلمات قصار ،كلمہ ۳۷۱
(5) بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۵۸،حديث ۷۵ 
(6) بحار الانوار ، جلد ۸، ۵۶،حديث۶۶
(7) مجمع البيان ، جلد ۲، صفحہ ۵۳۸، (سورہ آل عمران آيت ۱۷۱ كے ذيل ميں) 
(8) غررا لحكم
(9) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۵۲۳ 
(10) تفسير الميزان ميں علامہ طبا طبا ئي عليہ الرحمہ شفاعت كے معني ”مسببات ميں اسباب كي تاثير“ كرتے ہو ئے شافعين كي دو قسم بيان كرتے ہيں(”عالم تكوين“ اور ”عالم تشريع“) اور تشريعي شافعين ميں توبہ، ايمان، عمل صالح، قرآن، انبياء ، ملائكہ اور مومنين كا شمار كرتے ہيں، پھراس سلسلہ ميں دلالت كرنے والي ان آيات كو بيان كر تے ہيں جو گناہوں كي بخشش ميں مذكورہ چيزوں يا ان حضرات كي تاثير كو بيان كرتي ہيں، (اگرچہ ان آيات ميں شفاعت كا لفظ نہيں ہے) جيسے سورہ زمر ، آيت ۵۴، سورہ حديد ، آيت ۲۸، سورہ مائدہ ، آيت ۹، اور ، آيت ۱۶، سورہ نساء ، آيت ۶۴، سورہ مومن (غافر) ، آيت ۷/ اور سورہ بقرہ ، آيت ۲۸۶
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك