سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:465

پُل صراط كي حقيقت كيا ہے؟

اگرچہ عالمِ بعد از مرگ اور حقائق ِقيامت كے سلسلہ ميں تفصيلي معلومات اس دنيا والوں كے لئے نا ممكن ہے، ليكن ايسا بھي نہيں ہے كہ ہميں اجمالي اور مختصر معلومات كا علم بھي نہ ہوسكے۔
آيات و روايات كے پيش نظر يہ معلوم ہوتا ہے كہ ”پل صراط“ جنت كے راستہ ميں جہنم كے اوپر ايك پُل ہے جس سے سب نيك اور بُرے لوگ گزريں گے، نيك افراد بہت تيزي سے گزر جائيں گے اور خدا كي بے انتہا نعمتوں تك پہنچ جائيں گے، ليكن بُرے لوگ اس پُل سے جہنم ميں گرجائيں گے! يہاں تك كہ بعض روايات سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ ”پل صراط“ سے گزرنے كي رفتار نيك لوگوں كے ايمان و اخلاص اور اعمال صالحہ كے لحاظ سے ہوگي۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں پڑھتے ہيں:
”فَمِنْھُم مَن يمرّ مثل البُراق، وَمِنْہُم مَن يَمرّ مثل عدوالفرس ،وَمِنْہُم مَن يمرحبواً،وَمِنْہُم مَن يَمرّمشياً،وَمِنْہُم مَن يمرّمتعلقاً،قد تاٴخذ النَّار منہ شيئاً وتترك شيئاً“۔(1)
”پل صراط“ سے كچھ لوگ بجلي كي طرح گزر جائيں گے، او ركچھ لوگ تيز رفتار گھوڑے كي طرح ،كچھ لو گ پيدل،كچھ لوگ رينگتے ہوئے اور كچھ لوگ آہستہ گزريں گے،اور كچھ لوگ ہوں گے جو صراط كو پكڑے ہوئے چليں گے جب كہ ان كے پير ادھر ادھر ڈگمگاتے ہوں گے، جہنم كي آگ ان ميں سے كچھ كو اپنے اندر كھينچ لے گي اور كچھ كو چھوڑ دے گي“۔
ليكن يہاں يہ سوال اٹھتا ہے كہ جنت ميں جانے كے لئے دوزخ كے اوپر سے كيوں گزرنا پڑے گا ؟اس كے جواب ميں ہم اہم نكات بيان كرتے ہيں:
اس سے ايك طرف تو اہل بہشت دوزخ كو ديكھ كہ عافيت اور بہشت كي قدر كو بہتر سمجھ ليں گے، دوسري طرف ”پل صراط“ ہمارے لئے ايك نمونہ ہے تاكہ ہم دنيا ميں شہوت كے بھڑكتے ہوئے جہنم سے گزر كر بہشت تقويٰ تك پہنچ سكيں، اور تيسري طرف سے مجرم اور گناہگاروں كے لئے ايك چيلنج ہے كہ آخر كار ايك باريك اور خطرناك راستہ سے ان كا گزر ہوگا۔
اسي وجہ سے ”مفضل بن عمر“ سے منقول ايك حديث ميں بيان ہوا ہے،كہ جب ميں نے امام عليہ السلام سے ”صراط“ كے بارے ميں سوال كيا تو حضرت نے فرمايا: صراط معرفت خدا كا راستہ ہے۔
اس كے بعد امام عليہ السلام نے مزيد فرمايا: صراط دو ہيں ايك صراط دنيا ميں اور ايك صراط آخرت ميں، اور صراط دنيا سے مراد ”واجب الاطاعت امام“ ہے، جو شخص اپنے امام كو پہچان لے ،اس كي اقتدا كرے اوراس كے نقش قدم پر چلے تو جہنم پر بنے ہوئے پل صراط سے گزر جائے گا، ليكن جو شخص دنيا ميں اپنے امام كو نہ پہچانے تو آخرت ميں پُل صراط پر ڈگمگاتے ہوئے جہنم ميں گرجائے گا۔(2)
تفسير امام حسن عسكري عليہ السلام ميں ان دوصراط (صراط دنيا اور صراط آخرت) سے مراد : 
”صراط مستقيم“ (يعني ”غلو“ اور ”تقصير“ كے درميان معتدل راستہ) اور ”صراط آخرت“ ہے۔(3)
يہ نكتہ بھي قابل توجہ ہے كہ اسلامي روايات ميں پُل صراط سے گزرنے كو بہت مشكل مرحلہ قرار ديا گيا ہے، پيغمبر اكرم (ص) (اور حضرت امام صادق عليہ السلام) سے منقول حديث ميں بيان ہواہے: ”إنَّ عَليٰ جھنّم جَسْراً اٴدقّ مِنَ الشَّعْر واٴحدّ مِنَ السَّيْفِ“(4) (جہنم كے اوپر ايك پُل ہے جو بال سے زيادہ باريك اور تلوار كي دھار سے زيادہ تيز ہے۔)
اس دنيا ميں صراط ”مستقيم“ اور حقيقت ”ولايت “ اور” عدالت“ بھي اسي طرح ہے، بال سے زيادہ باريك اور تلوار كي دھار سے زيادہ تيز ہے كيونكہ سيدھي لكير باريك ہي ہوتي ہے اور اس كے علاوہ دائيں بائيں انحرافي لكيريں ہوتي ہيں۔
ظاہر سي بات ہے كہ صراط آخرت بھي اسي طرح ہے۔
ليكن ،جيسا كہ پہلے بھي اشارہ ہوچكا ہے بعض لوگ اپنے ايمان اور عمل صالح كي بدولت اس خطرناك راستہ سے بہت تيز گزر جائيں گے۔
اس بات ميں كوئي شك نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) اور آپ كي عترتِ طاہرہ سے محبت اس خطرناك راستہ كو آسان بناسكتي ہے، جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ايك روايت ميں پڑھتے ہيں:”إذَا كَانَ يَومَ القيامَةِ وَنُصِبَ الصّراط عَليٰ جَھنّم لَم يجزْ عَلَيہ إلا مَن كَانَ مَعَہُ جَوازُ فِيہِ وِلايةُ عَلِيّ ابن اٴبي طالب“(5) روز قيامت جس وقت جہنم كے اوپر پُل قرار ديا جائے گا اس سے صرف وہي شخص گزرسكے گا جس كے پاس اجازت نامہ ہوگا ، اور وہ اجازت نامہ ” علي بن ابي طالب عليہ السلام كي ولايت“ ہوگي، اسي طرح كے الفاظ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كے سلسلہ ميں بھي بيان ہوئے ہيں۔ يہ بات واضح ہے حضرت علي عليہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كي ولايت، پيغمبر اكرم كي ولايت اور قرآن و اسلام اور ديگر ائمہ معصومين سے الگ نہيں ہے، در اصل جب تك ايمان، اخلاق اور نيك عمل كے ذريعہ معصومين عليہم السلام سے رابطہ مضبوط نہ ہوجائے، اس وقت تك پُل صراط سے گزرنا ممكن نہيں ہے، اس سلسلہ ميں متعدد روايات بيان ہوئي ہيں، (محترم قارئين ! اس سلسلہ ميں مزيد آگاہي كے لئے بحار الانوار ، جلد ۸ فصل صراط كا مطالعہ فرمائيں، خصوصاً حديث نمبر ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵، ۱۶،۱۷۔)
اس پل صراط كے عقيدہ پر ايمان كا ايك تربيتي پہلو يہ ہے كہ يہ خطرناك، ہولناك اور بال سے زيادہ باريك اور تلوار كي دھار سے تيزايك ايسا راستہ ہے جس ميں متعدد مقامات پر روكا جائے گا اور ہر مقام پر كچھ سوالات كئے جائيں گے، ايك مقام پر نماز كے بارے ميں سوال ہوگا، دوسري جگہ امانت اور صلہٴ رحم كے بارے ميں سوال ہوگا، اور آگے بڑھيں گے تو عدالت وغيرہ كے بارے ميں سوال ہوگا، اور يہ ايك ايسا راستہ ہے جس سے گزر ناپيغمبر اكرم (ص) اور حضرت امير المومنين علي عليہ السلام كي ولايت اور ان حضرات كے اخلاق كو اپنائے بغير ممكن نہيں ہے، اور آخر كار ايك ايسا راستہ ہے كہ ہر شخص اپنے ايمان اور اعمال صالح كے نوركے ذريعہ تيزي سے گزرسكتا ہے، اور اگر كوئي شخص پل صراط سے صحيح و سالم نہيں گزر پائے گا تو دوزخ ميں گرجائے گا، اور كسي بھي صورت ميں معنوي و مادي نعمتوں سے مستفيد نہيں ہوپائے گا يعني جنت ميں نہيں پہنچ پائے گا۔
لہٰذا اس معني پرتوجہ اور اس پر ايمان ركھنے سے بے شك تربيتي لحاظ سے انسان كے اعمال پر بہت زيادہ اثر ہوتا ہے، اور انسان كو راستہ كے انتخاب اور حق و باطل ميں جدائي كرنے نيز اولياء اللہ كے كردار كو اپنانے ميں مدد كرتا ہے۔(6)

(1) امالي صدوق ،مجلس ۳۳
(2) معاني الاخبار صفحہ ۳۲، پہلي حديث
(3) بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۶۹، حديث ۱۸
(4) ميزان الحكمہ، جلد ۵، صفحہ ۳۴۸، امام جعفر صادق عليہ السلام كي حديث ميں ’ ’إنَّ عَليٰ جھنّم جِسراً “كي جگہ لفظ ”الصراط “ آيا ہے ، (بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۶۴ حديث۱)
(5) بحار الانوار، جلد ۸، صفحہ ۶۸،حديث۱۱
(6) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۹۱
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك