سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:313

روز قيامت اعمال كو كس قسم كي ترازوميں تولے جائيں گے؟

جن لوگوں نے روز قيامت كي ميزان كو دنيا كي ترازو كي طرح قرار ديا ہے وہ اس بات پر مجبور ہيں كہ انسان كے اعمال كے لئے ايك قسم كا وزن قرار ديں تاكہ اس كو ترازو ميں تولا جاسكے۔
ليكن بہت سے قرائن و شواہد اس بات كي عكاسي كرتے ہيں كہ ”ميزان“ سے مراد عام ناپ تول كے معني ميں ہے، كيونكہ ہم يہ بات اچھي طرح جانتے ہيں كہ ہر چيز كي ناپ تول كے لئے ايك الگ آلہ ہوتا ہے، درجہ حرارت كو معين كرنے كے لئے ”تھرما ميٹر“ ہوتا ہے، يا ہوا كا اندازہ لگانے كے لئے ”اير ميٹر “ ہوتا ہے۔ لہٰذا ميزانِ اعمال سے مراد وہ افراد ہيں جن كے اعمال كے ذريعہ نيك اور بُرے لوگوں كے اعمال كا موازنہ كيا جائے، جيسا كہ علامہ مجلسي عليہ الرحمہ شيخ مفيد ۺ سے نقل كرتے ہيں: ”ان امير الموٴمنين والائمة من ذريتہ (ع)ھم الموازين“(1) (امير المومنين اور ائمہ (عليہم السلام)قيامت ميں عدل الٰہي كي ميزان ہيں)”اصول كافي“ اور ”معاني الاخبار“ ميں بھي حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ ايك شخص نے آيہٴ شريفہ :<وَنَضعُ المَوازِينَ القِسط لِيَومِ القَيامةِ> (ہم روز قيامت عدل و انصاف كي ترازو قرار ديں گے) كے بارے ميں سوال كيا تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”ھم الانبياء والاوصياء“(2) (ميزان اعمال سے مراد انبياء ا ور ان كے جانشين ہيں) 
حضرت امير المومنين عليہ السلام كي زياراتِ مطلقہ ميں سے ہم ايك زيارت ميں پڑھتے ہيں: ”السَّلام عليٰ مِيزَانُ الاٴعمَال“ (سلام ہو تم پر اے ميزان اعمال!)(3)
در اصل يہ عظيم الشان شخصيات اعمال كے لئے نمونہ اور معيار ہيں، اور ہر شخص كے اعمال اگر ان حضرات كے اعمال سے شباہت ركھتے ہيں تو ان كا وزن ہے اور اگر ان كے اعمال سے شباہت نہيں ركھتے تو ان كا كوئي وزن نہيں ہے، يہاں تك كہ اس دنيا ميں بھي اولياء اللہ، اعمال كے لئے معيار ہيں ، ليكن روز قيامت يہ مسئلہ بالكل واضح ہوجائے گا۔(4)
 

(1) بحار الانوار ، جلد ۷، صفحہ ۲۵۲
(2) تفسير برہان ، جلد ۳، صفحہ ۶۱، اصول كافي ، جلد اول، صفحہ ۴۱۹ اس حديث كا تذكرہ دو سري تفسيروں ميں بھي آيا ہے
(3) محدث قمي عليہ الرحمہ نے مفاتيح الجنان ميں زيارات مطلقہ ميں پہلي زيارت قرار دي ہے
(4) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶،صفحہ ۱۵۹
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك