سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:419

نامہٴ اعمال كيا ہے اور اس كا فلسفہ كيا ہے؟

جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
< وَكُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِي عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاہُ مَنشُورًا >(1) 
” اور ہم نے ہر انسان كے نامہ اعمال كو اس كي گردن ميں آويزاں كرديا ہے اور روز قيامت اسے ايك كھلي ہوئي كتاب كي طرح پيش كرديں گے“۔ (يہ وہي نامہ اعمال ہے اور ہم اس سے كہيں گے: اپني كتاب پڑھو)
يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ يہ نامہ اعمال كيا ہے اور اس كا مقصد كيا ہے؟
اس سلسلہ ميں بيان شدہ آيات و روايات كے پيش نظر نتيجہ يہ نكلتا ہے كہ انسان كے تمام چھوٹے بڑے اعمال اس كي كتاب ميں لكھے جاتے ہيں اور اگر انسان نيك ہے تو روز قيامت اس كا نامہ اعمال داہنے ہاتھ ميں ديا جائے گا، اور اگر برے لوگوں ميں سے ہے تو اس كا نامہ اعمال بائيں ہاتھ ميں ديا جائے گا۔
بے شك يہ كتاب اور نامہ اعمال ہمارے گھر ميں موجود كتاب اور كاپي كي طرح بالكل نہيں ہے، اسي وجہ سے بعض مفسرين نے كہا ہے كہ يہ نامہ اعمال ”انساني روح“ كے علاوہ كچھ نہيں ہے، كيونكہ اسي روح ميں انسان كے تمام اعمال ثبت ہوجاتے ہيں،(2) كيونكہ ہم جو عمل بھي انجام ديتے ہيں اس كا اثر ضرور ہماري روح و جان پر ہوتا ہے۔
يا يہ كہ يہ نامہ اعمال ہمارے اعضا و جوارح ہمارے ہاتھ پير، آنكھ كان وغيرہ اور اس سے بالاتر وہ ہوا او رفضا ہے جس ميں ہم نے وہ عمل انجام ديا ہے، كيونكہ ہمارے اعمال ہمارے جسم اور تمام اعضا پر اثر كرنے كے علاوہ ہوا اور زمين ميں منعكس ہوجاتے ہيں۔
اگرچہ ہم اس دنيا ميں ان آثار كو محسوس نہيں كرسكتے، ليكن بے شك وہ موجود ہيں، اور جس دن ہماري آنكھوں ميں نئي روشني پيدا ہو جائے گي ان سب كو ديكھيں گے اور ان كو پڑھيں گے۔
مذكورہ آيت ميں <إقْرَاٴ كِتَابكَ>( اپني كتاب پڑھو)كا جملہ بيان ہوا ہے۔
ليكن يہ جملہ، مذكورہ تفسير سے كہيں دور نہ كردے، كيونكہ پڑھنے كے وسيع معني ہوتے ہيں جس ميں ہر طرح كا مشاہدہ آتا ہے، مثال كے طو رپر ہم اپني روز مرّہ كي گفتگو ميں كہتے ہيں كہ ميں نے فلاں كي آنكھوں كو پڑھا كہ اس كا كيا ارادہ ہے، يا فلاں كام كرنے والے كے قيافہ و چہرہ كو پڑھ ليا ہے، اسي طرح بيماروں كے ايكسرے كو آج كل پڑھنا ہي كہتے ہيں۔
اسي وجہ سے ہم قرآني آيات، ميں پڑھتے ہيں كہ اس نامہ اعمال كي سطروں كا كسي بھي صورت ميں انكار نہيں كيا جاسكتا، كيونكہ يہ خود عمل كے واقعي اور تكويني آثار ہيں اور بالكل انسان كي ريكارڈ كي ہوئي آواز يا فوٹو يا انگوٹھے كے نشان كي طرح ہيں۔(3)
نامہ اعمال كا فلسفہ
قرآني آيات اور روايات ميں نامہ اعمال كي تفصيل بيان ہونا خصوصاً جبكہ اعمال ، گفتگو اور نيت كي تمام جزئيات اس ميں لكھي جاتي ہيں تو سب سے پہلے اس پر تربيتي آثار مرتب ہوتے ہيں ، جيسا كہ ہم نے بارہا اس بات كو عرض كيا ہے كہ قرآن كريم كي تمام تعليمات انسان كے لئے تہذيب نفس ،روح كي پاكيزگي ،كمالات روحاني اور اخلاق و پرہيزگاري اصول كو مضبوط بنانے كے لئے ہے، اور يہ تمام انسانوں كے لئے ايك چيلنج ہے تاكہ اپني رفتار و گفتار پر نظر ركھيں كيونكہ تمام چيزيں لكھي جارہي ہيں، اور روز قيامت ہو بہو دكھادي جائيں گي۔
يہ صحيح ہے كہ خداوندعالم كا علم تمام چيزوں پر احاطہ كئے ہوئے ہے اور جو شخص خداوندعالم كے علمي احاطہ پر ايمان ركھتا ہو كہ خداوندعالم ہر جگہ موجود ہے اور سب چيزوں كو ديكھ رہا ہے تو ايسے شخص كے لئے نامہ اعمال كي كوئي ضرورت نہيں ہے ليكن اس حقيقت پر توجہ كرنے سے اكثر لوگوں ميں بہت مفيد آثار مرتب ہوتے ہيں۔
اگر كوئي يہ جانتا ہو كہ اس كے ساتھ ايك ايسا كيمرہ موجود ہے جو اس كي آواز بھي ريكارڈ كررہا ہے اور اس كي فلم بھي بنارہا ہے، چاہے وہ گھر كے اندر ہو يا گھر سے باہر، گويا اپنے اعضا و جوارح كے ذريعہ جو كچھ بھي انجام دے رہا ہے وہ سب ريكارڈ ہورہا ہے ، اور ايك روز ايسا آئے گا جب خداوندعالم كي عدالت ميں يہ سب فلم اور كيسٹ زندہ گواہ كي شكل ميں اس كے سامنے پيش كي جائيں گي،تو يقينا ايسا انسان اپني رفتار و گفتار پر مكمل توجہ دےتا ہے، اور پھر اس كے ظاہر و باطن پرتقويٰ اور پرہيزگاري كي ہي حكومت ہوگي۔
نامہٴ اعمال پر ايمان ركھنا كہ اس ميں ہر چھوٹا بڑا اعمال لكھا جارہا ہے اور دو فرشتہ انسان كے اعمال لكھنے كے لئے ہر وقت اس كے ساتھ ہيں، اور يہ عقيدہ ركھنا كہ اس كا نامہٴ اعمال سب كے سامنے روز قيامت پيش كيا جائے گا اور تمام چھپے ہوئے گناہ اس ميں ظاہر ہوجائيں گے جس سے دوست و دشمن سبھي كے سامنے ندامت اور رسوائي ہوگي، لہٰذا يہ ايمان انسان كو گناہوں سے روكنے كے لئے بہترين سبب ہے۔
نيك افراد كا نامہ اعمال ان كے لئے باعث افتخار اور عزت كا سبب ہوگا، ان كے اعمال بہتر اور موثر تر دكھائي ديں گے، اور يہ چيز نيك اعمال انجام دينے كے لئے بہترين علت ہے،ليكن بعض لوگوں كا ايمان ضعيف ہوتا ہے اور كبھي كبھي غفلت كا پردہ ان كو ان اہم حقائق سے دور كرديتا ہے، ورنہ قرآن كي يہ اصل ہر انسان كي تربيت كے لئے كافي ہے۔(4)
 

(1)سورہٴ اسراء ، آيت ۱۳ 
(2) تفسير صافي
(3)تفسير نمو نہ ، جلد ۱۲ ،صفحہ ۵۵
(4) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۰۷
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك