سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:389

كيا دنيا اور آخرت ميں تضاد پايا جاتا ہے ؟

قرآن مجيد كي متعدد آيات ميں دنيا كي اپنے مادي امكانات كے ساتھ تعريف و تمجيد كي گئي ہے: بعض آيات ميں مال كو ”خير“ كے عنوان سے ياد كيا گيا ہے: < كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَكُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاٴَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِينَ >(1)
مہارے اوپر بھي لكھ ديا ہے كہ جب تم ميں سے كسي كي موت سامنے آجائے تو اگر كوئي (خير) مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں كے لئے وصيت كردے يہ صاحبان تقويٰ پر ايك طرح كا حق ہے“۔
بہت سي آيات ميں مادي نعمتوں كو فضل خدا كا عنوان ديا گيا ہے، <وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللهِ>(2)
 ”اور فضل خدا كو تلاش كرو۔“۔
ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے : ”روئے زمين كي تمام نعمتيں تمہارے لئے پيدا كي گئي ہيں، <خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْاٴَرْضِ جَمِيعًا>(سورہٴ بقرہ ، آيت ۲۹)
بہت سي آيات ميں ان تمام چيزوں كے لئے كہا گيا ہے: <سَخَّرَ لَكُم> (يہ سب تمہارے لئے مسخر كردي گئي ہيں) ، اور اگر تمام ان آيات كو ايك جگہ جمع كيا جائے كہ جن ميں مادي امكانات كو محترم شمار كيا گيا ہے توان كي كثير تعداد ہو جائے گي۔
ليكن مادي نعمتوں كي اس قدر اہميت ہونے كے بعد بھي قرآن مجيد ميں ايسے الفاظ ملتے ہيں جن ميں ان مادي چيزوں كو تحقير اور ذلت كي نگاہ سے ديكھا گيا ہے۔
ايك جگہ متاع فاني اور عرض شمار كيا گيا ہے: <تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا>(سورہٴ نساء ، آيت ۹۴)
ايك دوسري جگہ اس كو غرور اور غفلت كا سبب شمار كيا گياہے: <وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُور>(سورہٴ حديد ، آيت ۲۰)
ايك دوسرے مقام پر دنيا كو لہو و لعب اور كھيل كود سے تعبير كيا گيا ہے: <وَمَا ہَذِہِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ لَہْوٌ وَلَعِبٌ>(سورہٴ عنكبوت ، آيت ۶۴)
ايك دوسري جگہ ياد خدا سے غفلت كا سبب قرار ديا گيا ہے: <رِجَالٌ لاَتُلْہِيہِمْ تِجَارَةٌ وَلاَبَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله> (سورہ نور ، آيت ۳۷)
اسي طرح يہ مختلف نظريہ روايات ميں بھي بيان ہوا ہے:
ايك طرف تو دنيا كو آخرت كي كھيتي، نيك اور صالح افراد كے لئے تجارت گاہ ،دوستان حق كے لئے مسجد، وحي الٰہي كے نزول كي جگہ، اور وعظ و نصيحت كا مقام شمار كيا گيا ہے، جيسا كہ حديث ميں وارد ہوا ہے: ”مَسجدُ اٴحباء الله و مُصَلّٰي ملائكة الله و مھّبط وحيّ الله و متّجر اٴولياء الله“(3) 
دوسري طرف اسي دنياكي مذمت كي گئي ہے اور اس كو غفلت و بے خبري اور ياد خدا سے غافل ہونے كا سبب قرار ديا گيا ہے۔
كيا اس طرح كي تمام آيات و روايات ميں تضاد ہے ؟
اس سوال كا جواب بھي خود قرآن مجيد سے حاصل كيا جاسكتا ہے۔
دنيا اور اس كي نعمتوں كي مذمت اس جگہ كي گئي ہے جہاں ان لوگوں كو مخاطب قرار ديا گيا ہے كہ جن كا ہدف اور مقصد صرف يہي دنياوي زندگي ہے، جيسا كہ سورہ نجم ميں ارشاد ہوتا ہے: <وَلَمْ يَرِدْ إلاَّ الحيٰوة الدُّنْيَا> (سورہٴ نجم ، آيت ۲۹) ”اور زندگي دنيا كے علاوہ كچھ نہ چاہے“۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ يہ گفتگو ان لوگوں كے بارے ميں ہے جو آخرت كو دنيا كے بدلے بيچ ڈالتے ہيں اور دنياوي ماديات تك پہنچنے كے لئے كسي بھي ظلم و ستم اور خلاف ورزي كي پرواہ نہيں كرتے۔
سورہ توبہ ميں ارشاد ہوتا ہے: <اٴ رَضِيتُمْ بِالحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الاٴَخِرَةِ> (سورہٴ توبہ ، آيت ۳۸)كيا تم آخرت كے بدلے زندگاني دنيا سے راضي ہوگئے ہو؟“۔
محل بحث آيات خود اس بات پر شاہد ہيں جيسا كہ ارشاد ہے: <من كان يريد العاجلة> (يعني صرف ان كا ہدف اور مقصد يہي جلد ہي ختم ہوجانے والي مادي زندگيہے۔)
اصولاً ”كھيتي“ يا ”تجارت گاہ“ وغيرہ جيسے الفاظ اس سلسلہ ميں زندہ گواہ ہيں۔
مختصر يہ كہ مادي نعمتيں سب خداوندعالم كي طرف سے ہيں اور نظام خلقت ميں ان كا موجود ہونا ضروري تھا اور اگر انسان ان كے ذريعہ معنوي كمال اور سعادت تك پہنچنے ميں مدد حاصل كرے تو ہر لحاظ سے قابل تحسين ہيں۔
ليكن اگر صرف دنيا ہي كو مقصد بنا ليا جائے اور اس كو آخرت كا وسيلہ نہ قرار ديا جائے تو اس صورت ميں يہي مادي نعمتيں ، غفلت و غرو ر، طغيان و سركشي اور ظلم و ستم كا عنوان حاصل كرليں گي، جس كي ہر لحاظ سے مذمت كي جائے گي۔
واقعاً حضرت علي عليہ السلام نے اپنے مختصر اور پُر معني كلام ميں كيا بہترين ارشادفرمايا”مَنْ اٴبصَرَ بھَا بصّرتہ وَمَنْ اٴبصَرَ إلَيھَا اٴعمتہ“(4) (جس نے اس دنيا كو چشم بصيرت كے ساتھ ديكھا (اور اس كو بينائي كا وسيلہ قرار ديا) تو دنيا اس كو بصيرت اور آگاہي عطا كرتي ہے، اور اگر كسي نے خود دنيا كو ديكھا تودنيا اس كو نابينا كرديتي ہے۔)
در اصل مذموم اور ممدوح دنياميں يہيفرق ہے كہ اگر اس كو ہدف قرار ديا جائے تو مذموم ہے اور اگر اس كو ذريعہ اور وسيلہ قرار ديا جائے تو ممدوح ہے۔(5)
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے ايك حديث ميں بيان ہوا ہے: ”نِعمَ العَون الدُّنْيَا عَلَي طَلَبِ الآخرة“(6)( آخرت تك پہنچنے كے لئے دنيا بہترين مددگار ہے۔)
سورہ قصص كي آيات ميں مالدار اور مغرور ”قارون“ كي بہت زيادہ مذمت كي گئي ہے، جو اس موضوع كے لئے بہترين شاہد ہے ، ليكن اسلام اس مال و دولت كو پسند كرتا ہے جو ”آخرت كے لئے كام آئے“، جس كے ذريعہ آخرت حاصل كي جائے، جيسا كہ بني اسرائيل كے علماقارون سے كہتے تھے: ”وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ الله الدَّار الآخرة“ ( خدا كي عطا كردہ نعمتوں كے ذريعہ آخرت حاصل كرنے كي فكر كر)۔
اسلام اس مال كو پسند كرتا ہے جس كے ذريعہ سب كے ساتھ نيكي كي جائے: ”اٴحْسَنَ كَمَا اٴحسنَ الله إليك“
اسلام اس مال و دولت كي مدح و ثنا كرتا ہے جس ميں انسان دنيا سے صرف اپنے حق كو نہ بھولے: ”لَاتَنْسِ نَصِيبكَ مِنَ الدُّنْيَا“
خلاصہ اسلام ايسے مال و دلت كو پسند كرتا ہے جس كے ذريعہ ظلم و فساد برپا نہ كيا جائے، انساني اقدار كي پائمالي نہ ہو، اور مال زيادہ كرنے كے جنون ميں مبتلا نہ ہو، نيز مال ”خود پسندي“ اور دوسرے كو ذليل سمجھنے كا باعث نہ ہو يہاں تك كہ انسان مال و دولت كے نشہ ميں خدا و رسول كے مقابلہ ميں نہ آجائے۔
اس مال كے ذريعہ سب كي مشكلات دور كرناچاہئے، يہ مال اگر غريبوں كے زخم كا مرہم بن جائے، محتاج لوگوں كے درد كي دوا بن جائے تو واقعاً اسلام اس مال كوپسند كرتا ہے۔
ان مقاصد كے تحت مال و دولت حاصل كرنا دنيا كي محبت نہيں ہے، بلكہ يہ آخرت كي لگن ہے، جيسا كہ حديث ميں وارد ہوا ہے: حضرت امام صادق عليہ السلام كے دوستوں ميں سے ايك شخص آپ كي خدمت ميں آيا اور اس نے شكايت كي كہ ہم دنيا سے محبت كرتے ہيں اور اس كي آرزو كرتے ہيں (ليكن ميں ڈرتا ہوں كہ كہيں دنيا پرست نہ ہوجاؤں!!)
امام عليہ السلام (اس شخص كے تقويٰ اور پاكيزگي سے باخبر تھے، آپ)نے فرمايا: تم مال و دولت سے كيا كيا كام انجام ديتے ہو؟ اس نے عرض كي: اپنے او ر اپنے اہل و عيال كا خرچ پورا كرتا ہوں، اپنے رشتہ داروں كي مدد كرتا ہوں، راہ خدا ميں خرچ كرتا ہوں اور حج و عمرہ بجالاتا ہوں، اس وقت امام عليہ السلام نے فرمايا: ”لَيسَ ھَذا طَلَبُ الدُّنيَا ھَذَا طَلَبُ الآخِرةِ“(7)(يہ دنيا طلبي اور دنيا پرستي نہيں ہے ، بلكہ يہ آخرت كا سوداہے)اور يہيں سے ان دو گروہوں كے نظريہ كاباطل ہونا بھي واضح ہوجاتا ہے : پہلا گروہ ايسے مسلمانوں كا ہے جن كو تعليمات اسلامي كي كوئي خبر نہيں ہے اور اسلام كو مستكبرين كا حامي قرار ديتے ہيں، اور دوسرا گروہ ان دشمنوں كا ہے جو اسلام كي صورت بگاڑ كر پيش كرتے ہيں، اور اسلام كو مال و 
دولت كا مخالف اور فقر و غربت كا طرفدار قرار ديتے ہيں۔
اصولي طور پر كوئي غريب قوم آزادي اور سربلند ي كي زندگي نہيں گزار سكتي۔
فقر و غربت وابستگي كا وسيلہ ہے۔
فقر و غربت دنيا و آخرت كي ذلت كا نام ہے۔
فقر و غربت انسان كو گناہ اور آلودگي كي دعوت ديتے ہيں۔
جيسا كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول حديث ميں وارد ہوا ہے”غَنيٌّ يحجزُكَ عَن الظُّلْمِ خَيرٌ مِن فَقْرٍ يَحمَلُكَ عَلَي الاٴ ثمِ“(8) ( ايسي بے نيازي جو دوسروں پر ظلم كرنے سے روك لے، اس فقر و غربت سے بہتر ہے جو تجھے گناہوں كي دعوت دے)۔
تمام ملت اسلام كو اس بات كي كوشش كرني چاہئے كہ غني بنيں اور دوسروں سے بے نياز ہو جائيں، خود كفائي كي منزل تك پہنچيں اور اپنے پيروں پر كھڑے ہوں، اور اپني عزت و شرافت اور استقلال كو فقر و غربت اور دوسرے سے وابستگي پر قربان نہ كريں، يہي اسلام كا اصلي راستہ ہے۔(9)

(1) سورہ بقرہ ، آيت نمبر ۱۸۰
(2) سورہٴ جمعہ ، آيت ۱۰
(3) نہج البلاغہ ،كلمات قصار ،جملہ ۱۳۱
(4) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ۸۲ (5) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۶۷
(6) ”وسائل الشيعہ “، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷، (حديث ۵ ،باب ۱۶،ابواب مقدمات تجارت)
(7) وسائل الشيعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۹، (حديث ۳، باب ۷،ابواب مقدمات التجارة)
(8) وسائل الشيعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷ (حديث ۷باب ۶، ابواب مقدمات التجارة)
(9) تفسير نمونہ ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۷۴
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك