سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:481

عالمِ برزخ كيا ہے اور وہاں كي زندگي كيسي ہے؟

عالم برزخ كونسا عالم ہے ؟ اور كہاں ہے؟ اور دنيا و آخرت كے درميان قرار پانے والے اس عالم كو ثابت كرنے كي كيا دليل ہے؟
كيا برزخ سب كے لئے ہے يا خاص گروہ كے لئے ہے؟
اس سلسلہ ميں يہ تمام سوالات موجود ہيں، قرآن مجيد اور احاديث ميں ان كي طرف اشارہ ہوا ہے ، اس كتاب كے لحاظ سے ہم ان كے جوابات پيش كرتے ہيں:
لفظ ”برزخ“ لغوي لحاظ سے دو چيزوں كے درميان حائل چيز كو كہاجا تا ہے اس كے بعد ہر دو چيز كے درميان حائل ہونے والي چيز كو برزخ كہا جانے لگا، اسي وجہ سے دنيا و آخرت كے درميان قرار پانے والے عالم كو ”برزخ“ كہا جاتا ہے۔
اس عالم كو كبھي ”عالمِ قبر“ يا ”عالمِ ارواح“ بھي كہا جاتا ہے ، اس پر قرآن كريم كي بہت سي آيات دلالت كرتي ہيں جن ميں سے بعض اس معني ميں ظاہر ہيں اور بعض واضح طور پر دلالت كرتي ہيں۔
آيہٴ شريفہ: <وَمِن وَرَائِھِم بَرْزَخٌ إليٰ يومَ يَبْعَثُون> اس عالم كے بارے ميں ظاہرہے، اگرچہ بعض مفسرين نے اس آيت كے معني يوں كئے ہيں كہ عالم آخرت سے دنيا ميں نہيں پلٹا جاسكتا، كيونكہ آيت كا مفہوم يہ ہے كہ انسان كے پيچھے ايك ايسا مانع ہے جو انسان كو دنيا ميں لوٹنے سے روك دے گا، ليكن يہ معاني بہت ہي بعيد نظر آتے ہيں كيونكہ ”إليٰ يوم يبعثون“(روز قيامت تك) كا جملہ اس بات كي دليل ہے كہ يہ برزخ دنيا اور آخرت كے درميان موجود ہے نہ كہ انسان اور دنيا كے درميان۔
جن آيات سے واضح طور پر عالم برزخ كا اثبات ہے وہ شہداء كي حيات كے بارے ميں ہيں جيسا كہ ارشاد ہے:<وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ يُرْزَقُونَ>(1) ”اور خبر دار ! راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كو مردہ خيال نہ كرنا وہ زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كے يہاں رزق پارہے ہيں“۔
يہاں پيغمبر اكرم (ص) سے خطاب ہوا ہے ليكن سورہ بقرہ آيت نمبر ۱۵۴/ ميں تمام مومنين سے خطاب ہوا ہے:< وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ اٴَمْوَاتٌ بَلْ اٴَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لاَتَشْعُرُونَ> ” اور جو لوگ راہ خدا ميں قتل ہوجاتے ہيں انھيں مردہ نہ كہو بلكہ وہ زندہ ہيں ليكن تمہيں ان كي زندگي كا شعور نہيں ہے “
نہ صرف يہ كہ بلند مرتبہ مومنين مثل شہداء ِراہ خدا كے لئے برزخ موجود ہے بلكہ فرعون اور اس كے ساتھي جيسے سركش كفار كے لئے بھي برزخ موجود ہے، جيسا كہ سورہ مومن ميں ارشاد ہوتا ہے: <النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْہَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ>(2) ”وہ جہنم جس كے سامنے ہر صبح و شام پيش كئے جاتے ہيں اور جب قيامت برپا ہوگي تو فرشتوں كو حكم ہوگا كہ فرعون والوں كو بدترين عذاب كي منزل ميں داخل كردو“
اس بنا پر عالم برزخ كے موجود ہونے پر تو كوئي بحث نہيں ہے، ليكن اہم بات يہ ہے كہ وہاں كي زندگي كيسي ہے ، اگرچہ اس سلسلہ ميں مختلف صورتيں بيان ہوئي ہيں ليكن سب سے واضح اور روشن يہ ہے كہ انسان كي روح اس دنياوي زندگي كے خاتمہ كے بعد لطيف جسم ميں قرار پاتي ہے اوراس مادہ كے بہت سے عوارض سے آزاد ہوجاتي ہے، اور چونكہ ہمارے اس جسم كے مشابہ ہے تو اس كو ”قالب مثالي“ يا ”بدن مثالي“ كہا جاتا ہے، جو نہ بالكل مجرد ہے اور نہ صرف مادي، بلكہ ايك طرح سے ”تجرد برزخي“ ہے۔
بعض محققين نے روح كي اس حالت كو خواب سے تشبيہ دي ہے ، مثلاً اگر انسان خواب ميں بہترين نعمتيں ديكھے تو واقعاً محظوظ ہوتا ہے اور ان سے لذت حاصل كرتا ہے، يا ہولناك مناظر كو ديكھ كر غمگين اور غم زدہ ہوتا ہے، اور كبھي كبھي اس كے بدن پر بھي اس كا اثرظاہر ہوتا ہے اور خطرناك خواب ديكھ كر چيختا او رچلاتا ہے، كروٹيں بدلتا ہے اور اس كا بدن پسينہ ميں شرابور ہوجاتا ہے۔
يہاں تك كہ بعض لوگوں كا عقيدہ ہے كہ عالم خواب ميں انسان كي روح بدن مثالي كے ساتھ فعاليت كرتي ہے بلكہ اس كے علاوہ بھي معتقد ہيں كہ طاقتور ارواح بيداري كي حالت ميں يہي تجردِ برزخي حاصل كرليتي ہيں يعني جسم سے جدا ہوكر بدنِ مثالي ميں اپني مرضي كے مطابق يا مقناطيسي خواب كے ذريعہ دنيا كي سير كرليتي ہيں اور دنيا كے مختلف مسائل سے باخبر ہوجاتي ہيں۔(3)
بلكہ بعض حضرات اس بات كي وضاحت كرتے ہيں كہ ہر انسان كے بدن ميں ايك مثالي بدن ہوتا ہے، ليكن موت كے وقت اور برزخي زندگي كے آغازميں الگ ہوجاتا ہے اور كبھي اسي مادي 
دنيا ميں بھي جدا ہونے كا امكان ہوتا ہے ، (جيسا كہ ہم پہلے بھي عرض كرچكے ہيں)
اب اگر ہم مثالي بدن كي ان تمام خصوصيات كو قبول (بھي) نہ كريں تو اصل مطلب سے انكار نہيں كيا جاسكتا، كيونكہ بہت سي روايات ميں اس كي طرف اشارہ كيا گيا ہے، اور عقلي لحاظ سے بھي كوئي مانع نہيں ہے۔ضمناً ہماري گزشتہ گفتگو سے اس اعتراض كا جواب بھي واضح ہوجاتا ہے ، جيسا كہ بعض لوگ كہتے ہيں: بدن مثالي كا قائل ہونا گويا تناسخ كا قائل ہونا، كيونكہ تناسخ بھي اس كے علاوہ كوئي چيز نہيں ہے كہ ايك روح مختلف بدن ميں منتقل ہوتي رہے۔
اس اعتراض كاجواب شيخ بہائي عليہ الرحمہ نے واضح طور پر پيش كيا ہے، چنانچہ موصوف فرماتے ہيں: جس تناسخ كے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں كا اتفاق ہے اس سے مراد يہ ہے كہ انسان كي روح جسم سے نكلنے كے بعد اسي دنيا ميں كسي دوسرے بدن ميں منتقل ہوجائے، ليكن قيامت تك كے لئے عالم برزخ ميں روح كا مثالي بدن ميں بدل جانا جو پھر خدا كے حكم سے اسي پہلے بدن ميں منتقل ہونا، اس كاتناسخ سے كوئي تعلق نہيںہے ،اور اگر ہم شدت كے ساتھ تناسخ كا انكار كرتے ہيں اور تناسخ كے قائل افراد كو كافر جانتے ہيں تو اس كي وجہ يہي ہے كہ يہ لوگ ارواح كو ازلي مانتے ہيں اور قائل ہيں كہ يہي روح ايك بدن سے دوسرے بدن ميں منتقل ہوتي رہتي ہے ، جس كي بنا پر روز قيامت معادِ جسماني كا انكار كرتے ہيں۔(4)جس طرح سے بعض لوگ كہتے ہيں كہ بدن مثالي اسي مادي بدن كے  اندر ہوتا ہے تو پھر تناسخ كا جواب روشن تر ہوجاتا ہے، كيونكہ روح اپنے بدن سے دوسرے بدن ميں منتقل نہيں ہوئي ہے بلكہ بدن كے ايك حصہ سے جدا ہوكر دوسرے حصہ كے ساتھ عالم برزخ ميں زندگي بسركرتي ہے۔(5)
 

1)سورہٴ آل عمران ، آيت ۱۶۹
(2) سورہ مومن( غافر) ، آيت ۴۶
(3) علامہ مجلسي عليہ الرحمہ نے بحار الانوار ميں اس مطلب كو بيان كرتے ہوئے وضاحت كي ہے كہ متعدد روايات ميںحالت برزخ كو عالم خواب سے مشابہ قرارديا گيا ہے،يہاں تك كہ بعض طاقتور نفوس ( ارواح) متعدد مثالي بدن ركھتے ہيں، اسي بنا پر جن روايات ميں بيان ہوا ہے كہ ائمہ معصوم ہر شخص كي موت كے وقت حاضر ہوتے ہيں، ان كي توجيہ اور تفسير كي ضرورت نہيں ہے، (بحار الانوار ، جلد ۶، صفحہ ۲۷۱) 
(4) بحار الانوار ، جلد ۶، صفحہ ۲۷۷
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۳۲۲
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك