سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:368

كيا سائنس تجسم اعمال كي تائيد كرتا ہے؟

قرآن مجيد كي آيات سے واقف افراداس بات كو بھي اچھي طرح جانتے ہيں كہ قرآن مجيد كي متعدد آيات ميں روز قيامت ”تجسم اعمال“ كے بارے ميں خبر دي گئي ہے، يعني روز قيامت ہر شخص كے اعمال چاہے اچھے ہوں يا بُرے اس كے سامنے حاضر ہوجائيں گے، اور انسان كے لئے خوشي و مسرت كا سامان بن جائيں گے يا عذاب اور شكنجہ كا باعث ہوں گے، يا اس كے لئے باعثِ افتخار ہوں گے يا ذلت و رسوائي كا سبب ہوں گے۔
كيا انسان كے اعمال كا باقي رہنا ممكن ہے جبكہ انسان كے اعمال صرف كچھ حركات و سكنات ہوتے ہيں اور انجام پانے كے بعد ختم ہوجاتے ہيں؟ اس كے علاوہ انسان كے اعمال جو انساني وجود كے عوارض ہيں كيا يہ مادہ اور جسم ميں تبديل ہوسكتے ہيں اور مستقل شكل و صورت ميں ظاہر ہوسكتے ہيں؟
چونكہ بہت سے مفسرين كے پاس ان دونوں سوالوں كا جواب نہيں تھا لہٰذا وہ لوگ مجبوراً قرآني آيات ميں ”حذف اور تقدير“ كے قائل ہوگئے اور كہتے ہيں كہ ”اعمال كے حاضر ہونے“ يا ”اعمال كے مشاہدہ“ سے اعمال كي جزا يا سزا مراد ہے۔
ليكن آج ہم ديكھتے ہيں كہ مذكورہ دونوں سوال كا جواب موجود ہے، لہٰذا قرآن مجيد كي جن آيات ميں ”تجسم اعمال“ كا بيان موجود ہے اس كا انكار كرنے كے لئے ہمارے پاس كوئي دليل نہيں ہے۔
اس سلسلہ ميں متعددروايات موجود ہيں انھيں ميں سے حديث معراج بھي ہے جس ميں بيان ہوا ہے كہ جب پيغمبر اكرم (ص) نے جنت اور دوزخ كو ديكھا تو بدكاروں كو اپنے اعمال كي بنا پر عذاب جہنم ميں مبتلا ديكھا، اور نيك لوگوں كو ديكھا كہ اپنے اعمال كي بنا پر جنت ميں بہترين نعمتوں سے مالا مال ہيں۔
غيبت كے سلسلہ ميں بيان ہونے والي آيت ميں غيبت كرنے والے كو اپنے مردہ بھائي كا گوشت كھانے والا قرار ديا ہے، يہ بھي ہمارے مدعا پر ايك دوسري دليل ہے۔
لہٰذا گزشتہ آيات و روايات سے يہ بات اچھي طرح واضح ہوجاتي ہے كہ عالم برزخ اور قيامت ميں انسان كے اعمال مناسب شكل ميں مجسم ہوں گے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < إِنَّ الَّذِينَ يَاٴْكُلُونَ اٴَمْوَالَ الْيَتَامَي ظُلْمًا إِنَّمَا يَاٴْكُلُونَ فِي بُطُونِہِمْ نَارًا>(1)” جو لوگ ظالمانہ انداز سے يتيموں كا مال كھا جاتے ہيں وہ در حقيقت اپنے پيٹ ميں آگ بھر رہے ہيں“۔
يہ آيہٴ شريفہ بيان كرتي ہے كہ انسان كا عمل دنيا ہي ميں ايك طرح سے جسم ركھتا ہے، اس طرح كہ يتيم كا مال كھانا ايك جلادينے والي آگ كي طرح ہے، اگرچہ حقيقت كو نہ ديكھنے والي آنكھيں اس كو نہيں ديكھ سكتيں۔
ان آيات و روايات كو مجازي اور كنائي معني پر حمل كرنے كے لئے كوئي دليل نہيں ہے لہٰذا ان كي تاويل و توجيہ كريں، جبكہ ان كے ظاہر پر عمل كرنے ميں كوئي مانع نہيں ہے، اور كوئي مشكل پيش نہيں آتي، اس كي مزيد تفصيل آئندہ بيان كي جائے گي۔
منطق عقل ميں تجسم اعمال:
تجسم اعمال كے سلسلہ ميںيہ اہم اشكال طبرسي عليہ الرحمہ نے اپني تفسير مجمع البيان ميں بيان كياہے كہ عمل ايك”عرض“ ہے، اور”جوہر“نہيں ہے (يعني نہ مادہ كي خاصيت ركھتا ہے اور نہ خود مادہ ہے) اور دوسرے يہ كہ عمل انجام پانے كے بعد محو اور نابود ہوجاتا ہے، لہٰذا ہماري گفتگو اور ہمارے  گزشتہ اعمال كے آثار دكھائي نہيں ديتے، وہ اعمال جو بعض چيزوں ميں تبديلي پيدا كرتے ہيں مثال كے طور پر اينٹ اور سيمنٹ كے ذريعہ مكان بناتے ہيں، يہ تو تجسم اعمال نہيں ہے، بلكہ عمل كے ذريعہ ايك تبديلي انجام پائي ہے۔ (غور كيجئے )
ليكن دو نكتوں كے پيش نظر ان دو اعتراضات كا جواب، اور تجسم اعمال كي كيفيت بھي روشن ہوجاتي ہے۔
سب سے پہلے يہ عرض كيا جائے كہ آج كل يہ بات ثابت ہے كہ دنيا ميں كوئي چيز بھي ختم نہيں ہوتي، ہمارے اعمال مختلف طاقت كي شكل ميں موجود رہتے ہيں، اگر ہم بولتے ہيں تو ہماري آوازيں فضا ميں مختلف امواج كي شكل ميں پھيل جاتي ہيں، اور ذروں كي لہروں ميں تبد يل ہو جا تي ہيں اور ممكن ہے كہ يہ طاقت بھي كئي مرتبہ تبديل ہوجائے، ليكن كسي بھي صورت ميں بالكل ختم نہيں ہوتيں، ہمارے ہاتھوں اور پيروں كي حركات بھي ايك طرح كي طاقت ہے، اور يہ ”مكينك طاقت“ ہر گز ختم نہيں ہوتي، ممكن ہے كہ ايك حرارتي طاقت ميں تبديل ہوجائے ، خلاصہ يہ كہ صرف اس دنيا كے مواد جن كي طاقت ثابت و پا ئيدار ہے اگر چہ شكل بد لتي رہتي ہے ۔ اس كے علاوہ يہ بات بھي دانشوروں اور آزمائشوں كے ذريعہ قطعي طور پر ثابت ہوچكي ہے كہ ”مادہ“ اور ”طاقت“ كے درميان ايك قريبي تعلق ہے، يعني مادہ اور طاقت ايك ہي حقيقت كے دو مظہر ہيں،”مادہ“ طاقت كا خلاصہ ہے اور ”طاقت“ مادہ كي تفصيل ہے، اور دونوں معين شرائط و حالات كے تحت ايك دوسرے ميں تبديل ہو جاتے ہيں۔
ايٹمي طاقت ، مادہ كا طاقت ميں تبديل ہونے كا نام ہے، يا دوسرے الفاظ ميں ايٹمي ذرہ كا پھٹنا اور اس كي طاقت كا آزاد ہونا ہے۔
آج سائنس نے يہ بات ثابت كي ہے كہ سورج كي حرارتي طاقت ايك ايٹمي طاقت ہے جو سورج كے ايٹم پھٹنے پر نكلتي ہے، اسي وجہ سے ہر روز سورج كا وزن كم سے كم تر ہوتا جارہا ہے، اگرچہ يہ وزن سورج كے وزن كے مقابلہ ميں بہت ہي ناچيز ہے۔
اس بات ميں بھي كوئي شك نہيں ہے كہ جس طرح مادہ طاقت ميں تبديل ہوسكتا ہے اسي طرح طاقت بھي مادہ ميں تبديل ہوسكتي ہے، يعني اگر پھيلي ہوئي طاقت دوبارہ جمع ہوجائے اور جسم و جرم كي حالت پيدا كرلے تو پھر ايك جسم كي شكل ميں ظاہر ہوسكتي ہے۔
اس بنا پر كوئي مانع نہيں ہے كہ ہمارے اعمال اور گفتگو جو مختلف طاقت كي شكل ميں موجود رہتے ہيں اور نابود نہيں ہوتے، وہ حكم خدا سے دوبارہ جمع ہوجائيں اور ايك جسم كي شكل اختيار كرليں، اور يہ بات بھي مسلم ہے كہ ہر عمل اپنے لحاظ سے جسم حاصل كرے گا ، جو طاقت اصلاح نفس، خدمت دين، تقوي اور پرہيزگاري ميں خرچ كي گئي ہے وہ ايك خوبصورت جسم ميں ظاہر ہوگي، اور جو طاقت ظلم و ستم، فساد اور برائيوں ميں خرچ كي گئي ہے وہ بد شكل اور متنفر صورت ميں ظاہر ہوگي!
اس بنا پر ”تجسم اعمال“ كو قرآن مجيد كے علمي معجزات ميں شمار كيا جاسكتا ہے، كيونكہ اس زمانہ ميں طاقت كي بقا، يا مادہ كا طاقت ميں تبديل ہونا يا اس كے برعكس طاقت كا مادہ ميں تبديل ہونا،دانشوروں اور صا حبان علم كے ذہنوں تك ميں نہ تھا، ليكن قرآن مجيد اور روايات ميں وضاحت كے ساتھ بيان ہوا ہے۔
لہٰذا نہ تو ”عرض“ ہونے كے لحاظ سے كوئي مشكل ہے اور نہ اعمال كے نابود ہونے كے لحاظ سے، كيونكہ اعمال نابود نہيں ہوتے، اور عرض و جوہر ايك ہي حقيقت كے دو جلوے ہيں، يہ بات جوہري حركت كے پيش نظر واضح تر ہوجاتي ہے! كيونكہ ”جوہري حركت“ كے قائل اس بات كا عقيدہ ركھتے ہيں كہ عرض و جوہر ايك دوسرے سے جدا نہيںہيں، جس كي بنا پر وہ عرض ميں جوہر ي حركت كے ذريعہ حركت جوہري سے استدلال كرتے ہيں(غور كيجئے )
اپني بات كو مكمل كرنے كے لئے اس نكتہ كي طرف اشارہ مناسب ہے:
مشہور و معروف فرانسوي دانشور ”لاوازي“ نے قانون ”بقا ئے مادہ“ كو بہت سعي و كوشش كے بعد كشف كيا اور يہ ثابت كيا ہے كہ اس دنيا كے تمام مادے نابود نہيں ہوتے بلكہ ہميشہ بدلتے رہتے ہيں۔اس كے كچھ مدت بعد ”پير كوري اور اس كي زوجہ“ نے پہلي بار ”يڈيو اكٹيو“ (جن جسموں ميں ناپائيدار ايٹم پائے جاتے ہيں اور وہ آہستہ آہستہ طاقت ميں تبديل ہوجاتے ہيں) پر مادہ اور طاقت كے تعلق سے ايك ريسرچ كرنے كے بعد كشف كيا اور” قانون بقائے مادہ “كو ”قانون بقائے مادہ اور طاقت“ ميں تبديل كرديا، اور اس لحاظ سے قانون” بقائے مادہ “متزلزل ہوگيا اور قانون ”بقائے مادہ اور طاقت“نے اس كي جگہ لے لي، اور ايٹم كو توڑنے سے مادہ، طاقت ميں تبديل ہونے كو مختلف دانشوروں نے قبول كرليا، معلوم ہوا كہ يہ دونوں (مادہ اور طاقت) آپس ميں ايك دوسرے سے گہرا تعلق ركھتے ہيں، اور ايك دوسرے كي جگہ لے ليتے ہيں، يا دوسرے الفاظ ميں يہ دونوں ايك ہي حقيقت كے دو پہلو ہيں۔
سائنس ميں اس چيز كے كشف ہونے كي وجہ سے دانشوروں كي ريسرچ ميں ايك عظيم انقلاب برپاہو گيا ہے اور عالم ہستي كي وحدت كو پہلے سے زيادہ ثابت كرديا۔
اس قانون نے قيامت اور انسان كے تجسم اعمال كے سلسلہ ميں گزشتہ لوگوں كے بہت سے اعتراضات كا حل پيش كرديا جس سے تجسم اعمال كے سلسلہ ميں لاحق موانع برطرف ہوگئے۔(2)

(1) سورہ نساء ، آيت ۱۰
(2) تفسير پيام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۱۵ اور ۱۳۷
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك