سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:370

اجل مسميٰ (حتمي) اور اجل معلق (غير حتمي) سے مراد كيا ہے؟

  • اس ميں شك نہيں ہے كہ انسان كے لئے دوطرح كي موت ہوتي ہے:
    ايك حتمي اور يقيني موت ہے كہ جب انسان كا جسم باقي رہنے كي صلاحيت كھو بيٹھتا ہے يا يقيني موت كے وقت آنے پر تمام چيزيں حكم الٰہي سے انتہا كو پہنچ جاتي ہيں۔
    اجل معلق يا غير حتمي موت حالات كي تبديلي سے بدل جاتي ہے، مثال كے طور پر انسان خود كشي كرليتا ہے ، كہ اگر يہ گناہ كبيرہ نہ كرتا تو برسوں زندہ رہ سكتا تھا، يا انسان شراب اور ديگر منشيات كے استعمال يا بے حساب و كتاب شہوت راني كے ذريعہ كچھ ہي دنوں ميں اپني جسماني طاقت كھو بيٹھتا ہے، جبكہ اگر انسان ايسا نہ كرے تو بہت دنوں تك زندہ رہ سكتا ہے۔
    چنانچہ يہ چيزيں ايسي ہيں جن كو سبھي ديكھتے رہتے ہيں اور كوئي شخص بھي اس كا انكار نہيں كرسكتا۔
    اتفاقي حوادث بھي اسي اجل معلق سے مربو ط ہيں اس كا بھي انكار نہيں كيا جاسكتا۔
    اسي بنا پر احاديث ميں بيان ہوا ہے كہ راہ خدا ميں صدقہ دينے، انفاق كرنے اور صلہ رحم كرنے سے عمر طولاني اور بلائيں دور ہوتي ہيں، در اصل يہ چيزيں انھيں اسباب كي طرف اشارہ ہيں۔
    اور اگر ہم ان دوطرح كي موت كو ايك دوسرے سے الگ نہيں كريں گے تو پھر ”قضا و قدر“ اور ”انسانوں كي زندگي ميں سعي و كوشش كے اثرات“ وغيرہ جيسے مسائل كو سمجھنا بہت مشكل ہے۔
    اس بحث كو ايك آسان مثال كے ذريعہ واضح كيا جاسكتاہے مثلاً كوئي شخص ايك نئي گاڑي خريدے، جس كا انجن اور باڈي ميں لگايا گيا مختلف سامان بيس سال تك كام كرتا ہو، ليكن شرط يہ ہے كہ اس كي صحيح طريقہ سے ديكھ بھال كي جائے، تو اس صورت ميں اس گاڑي كي عمر وہي بيس سال ہوگي۔
    ليكن اگر صحيح طور پر اس كي ديكھ بھال نہ كي جائے يا اس كو نااہل لوگوں كے حوالہ كر ديا جائے ،يا اس كي طاقت كے لحاظ سے زيادہ كام ليا جائے يا ہر روز نامناسب راستہ پر چلايا جائے ، تو اس كي عمر آدھي يا اس سے بھي كم ہوسكتي ہے، يہ وہي ”اجل معلق“ ہے۔
    ہميں تعجب اس بات پر ہوتا ہے كہ بعض مفسرين نے اس قدر واضح اور روشن مسئلہ پرتوجہ نہيں كي ہے۔(1)
    وضاحت: 
    بہت سي ايسي موجودات ہيں جو فطري طور پر ايك طولاني مدت تك باقي رہنے كي صلاحيت ركھتي ہيں ، ليكن اس مدت ميں موانع پيش آسكتے ہيں جن سے وہ اپني آخري عمر تك نہيں پہنچ سكتيں، مثال كے طور پر ايك چراغ (تيل كي مقدار بھر) مثلاً ۱۰/ گھنٹے روشني دے سكتا ہے، ليكن اگر آندھي يا بارش آجائے تو وہ ۱۰/ گھنٹے نہيں جل سكتا۔
    يہاں پر اگر چراغ جلنے ميں كوئي مانع پيش نہ آئے توتيل كے آخري قطرے تك جلتا رہے گا اور تيل ختم ہونے پر ہي بجھے گا، تو گويا يہ اپني ”حتمي اجل “ تك پہنچ گيا ہے، او راگر اس سے پہلے كوئي مانع پيش آجائے اور چراغ خاموش ہوجائے تو اس كي عمر كو ” غير حتمي ا جل ‘ ‘كہا جا ئے گا۔
    انسان كے سلسلے ميں بھي ايسا ہي ہے، اگر اس كي بقا كے لئے تمام شرائط جمع ہوجائيں اور موانع پيش نہ آئيں تو اس كي استعداد اور صلاحيت اس بات كا تقاضا كرتي ہے كہ وہ طولاني عمر پائے (اگرچہ اس كي بھي ايك حد اور انتہا ہے) ليكن ممكن ہے كہ يہي انسان نامناسب غذاؤں، يا منشيات كے استعمال يا خود كُشي كے ذريعہ اس سے پہلے ہي مرجائے ، تو اس پہلي صورت ميں اس كي موت كو ”اجل حتمي“ اور دوسري صورت ميں ” غير حتمي اجل“ كہا جاتا ہے۔
    دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ ”حتمي اجل “ اس صورت ميں ہے كہ ہم تمام ”علل تامہ“ كا لحاظ كريں، اور ”غير حتمي اجل “ اس صورت ميں ہے كہ ہم صرف ”مقتضيات“ كو مد نظر ركھيں۔
    ان دو طرح كي موت كے پيش نظر بہت سي چيزيں روشن ہوجاتي ہيں، مثال كے طور پر جيسا كہ ہم روايات ميں پڑھتے ہيں كہ صلہٴ رحم سے عمر ميں اضافہ ہوتا ہے يا قطع رحم سے عمر كم ہو جاتي ہے، (اس طرح كے موارد ميں ” غير حتمي اجل“ مراد ہوتي ہے) 
    يا جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:< فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُہُمْ لاَيَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَيَسْتَقْدِمُونَ>(2) ” ہر قوم كے لئے ايك وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ايك گھڑي كے لئے نہ پيچھے ٹل سكتا ہے اور نہ آگے بڑھ سكتا ہے“۔
    اس آيت ميں ”حتمي اجل “ مراد ہے۔
    مذ كورہ آيت صرف يہ بيا ن كر رہي ہے كہ انسان اپني آخري عمر كو پہنچ جائے ، ليكناس ميں جلد آنے والي موت بالكل شامل نہيں ہے۔
    بہر حال توجہ ركھنا چاہئے كہ موت كي دونوں قسميں خداوندعالم كي طرف سے معين ہوتي ہيں، ايك مطلق طور پر اور دوسري مشروط يا معلق طور پر، بالكل اس طرح جيسے يہ چراغ بغير كسي قيد و شرط كے ۱۰ گھنٹے بعد خاموش ہوجائے گا، بالكل اسي طرح انسان اور قوم و ملت بھي ہے ، مثلاً خداوندعالم نے ارادہ فرمايا ہے كہ فلاں شخص يا فلاں قوم اتني عمر كے بعد يقيني طور پر ختم ہوجائے گي، او راگر ظلم و ستم، نفاق اورسستي سے كام ليں گے تو ايك تہائي مدت ميں ختم ہوجائے گي، دونوں موتيں خداوندعالم كي طرف سے ہيں ايك مطلق اور دوسري مشروط۔ مذكورہ آيت كے ذيل ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ ”ھُما اٴجلان اٴجَلٌ محتُومٌ وَاٴجلٌ مُوقُوفٌ“(3) اس ميں ”حتمي اجل “ اور ” مشروط اجل “ كي طرف اشارہ ہے، اور اس سلسلہ ميں ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ ” غير حتمي“ (مشروط) كو مقدم يا موٴخر كيا جاسكتا ہے، ليكن ”حتمي اجل“ كو مقدم يا موٴخر نہيں كيا جاسكتا۔ (نور الثقلين ، جلد اول صفحہ ۵۰۴)  
  •  

  • (1) تفسير نمونہ ، جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹ 
    (2) سورہٴ اعراف ، آيت ۳۴
    (3) تفسير نمونہ ، جلد۵، صفحہ ۱۴۹
دن كي تصوير
ويڈيو بينك