سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:498

روح كيا ہے؟ اور يہ كيسے ثابت كيا جاسكتا ہے كہ روح ہي اصل ہے؟

  • ايسا كہ ہم قرآن مجيد كے سورہ اسراء ، آيت نمبر۸۵ ميں پڑھتے ہيں: < وَيَسْاٴَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّي > ”اور پيغمبر يہ آپ سے روح كے بارے ميں دريافت كرتے ہيں تو كہہ ديجيئے كہ يہ ميرے پروردگار كا ايك امر ہے “۔
    گزشتہ اور موجودہ دور كے مفسرين نے ”روح“ كے معني اور اس آيت كي تفسير كے بارے ميں بہت كچھ كہا ہے، ہم پہلے لغت كے اعتبارسے ”روح“ كے معني كے بارے ميں گفتگو كريں گے اس كے بعد قرآن ميں يہ لفظ جہاں جہاں آيا ہے اسے ديكھيں گے اور اس سلسلہ ميں وارد شدہ روايات بھي بيان كريں گے۔
    ۱۔ لغت ميں:لغت كے لحاظ سے ”روح“ در اصل ”نفس“ اور ”دوڑنے“ كے معني ميں ہے، بعض لغويوں نے اس بات كي وضاحت كي ہے كہ ”روح“ اور ”ريح“ (ہوا) ايك ہي معني سے مشتق ہيں اور روح ِ انسان جو مستقل اور مجرد گوہر ہے اسے اس نام سے اس لئے موسوم كيا گيا كہ يہ تحرك، حيات آفريني اور ظاہر نہ ہونے كے لحاظ سے نفس اور ہوا كي طرح ہے۔
    ۲۔قرآني آيات ميں: قرآن حكيم ميں يہ لفظ مختلف اور متنوع صورت ميں آياہے، كبھي يہ لفظ انبياء و مرسلين كو ان كي رسالت كي انجام دہي ميں تقويت پہچانے والي مقدس روح كے معني ميں آيا ہے، مثلاً سورہ بقرہ ميں ارشاد ہوتا ہے:
    < وَآتَيْنَا عِيسَي ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَاٴَيَّدْنَاہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ>(1)
    ”اور ہم نے عيسيٰ ابن مريم كو كھلي ہو ئي نشانياں دي ہيں اور رو ح القدس كے ذريعہ ان كي تائيد كي ہے“۔
    كبھي يہ لفظ مومنين كو تقويت بخشنے والي اللہ كي روحاني اور معنوي قوت كے مفہوم ميں استعمال ہوا ہے، جيسا كہ سورہ مجادلہ ميں ارشاد ہوتا ہے: <اٴُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِہِمْ الْإِيمَانَ وَاٴَيَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِنْہُ >(2)
    ”اللہ نے صاحبان ايمان كے دلوں ميں ايمان لكھ ديا ہے اور ان كي اپني خاص روح كے ذريعہ تا ئيد كي ہے “۔
    اور كبھي وحي كے خاص فرشتہ كے مفہوم ميں يہ لفظ استعمال ہوا ہے، اور ”امين“ كے لفظ سے اس كي توصيف كي گئي ہے مثلاً سورہ شعراء ميں ارشاد ہوتا ہے:<نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْاٴَمِينُ # عَلَي قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنْ الْمُنذِرِينَ >(3)
    ”يہ آپ كے قلب پر نازل ہوا ہے تاكہ آپ لوگوں كو عذاب الٰہي سے ڈرائيں“۔
    كبھي يہ لفظ خدا كے خاص فرشتوں ميں سے ايك عظيم فرشتہ يا فرشتوں سے برترايك مخلوق كے معني ميں آيا ہے، مثلاً سورہ قدر ميں ارشاد ہوتا ہے:< تَنَزَّلُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ كُلِّ اٴَمْرٍ >(4)
    ”اس ميں ملائكہ ا ور روح القدس اذن خدا كے ساتھ تمام امور كو لے كر نازل ہوتے ہيں“۔
    نيز سورہ نباء ميں بھي آيا ہے:<يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلاَئِكَةُ صَفًّا>(5)
    ”جس دن روح القدس اور ملائكہ صف بستہ كھڑے ہوں گے“۔
    كبھي يہ لفظ قرآن اور وحيِ آسماني كے معني ميں آياہے مثلاً: <1>(6)
    ” اور اسي طرح ہم نے آپ كي طرف اپنے حكم سے روح (قرآن) كي وحي كي ہے“۔
    كبھي يہ لفظ روحِ انساني كے معني ميں آيا ہے جيسا كہ خلقتِ آدم سے متعلق آيات ميں بيان ہوا ہے:
    <ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِيہِ مِنْ رُوحِہِ >(7)
    ”اس كے بعد اسے برابر كركے اس ميں اپني روح پھونك دي ہے“۔
    اسي طرح سورہ حجر ميں ارشاد ہوتا ہے: <فَإِذَا سَوَّيْتُہُ وَنَفَخْتُ فِيہِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِينَ>(8)
    ”پھر جب مكمل كرلوں اور اس ميں ا پني روح حيات پھونك دوں تو سب كے سب سجدہ ميں گرپڑنا“۔(9)
    ۳۔ اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ روح سے كيا مراد كيا ہے؟ يہ كس روح كا تذكرہ ہے كہ جس كے بارے ميں كچھ لوگوں نے رسول اكرم سے سوال كيا ہے اور آپ نے ان كے جواب ميں فرمايا كہ روح ميرے رب كے امر ميں سے ہے اور اور تمہارے پاس صرف تھو ڑا ساعلم ہے۔
    (10) يہاں پر روح كي اضافت خدا كي طرف اظہار عظمت كے لئے ہے اور مراد يہ ہے كہ خدا نے انسانوں كو ايك عظيم اور الٰہي مقدس روح بخشي ہے
    آيت كے اندروني اور بيروني قرائن سے ايسا لگتا ہے كہ سوال كرنے والوں نے انسان كي روح سے متعلق سوال كيا ہے، وہي عظيم روح جو انسان كو حيوانات سے جُدا كرتي ہے جو ہمارا افضل ترين شرف ہے جو ہماري تمام تر طاقت اور فعاليت كا سرچشمہ ہے، جس كي مدد سے ہم زمين و آسمان كو اپني جولان گاہ بنائے ہوئے ہيں، جس كے ذريعہ ہم علمي اسرار كي گتھياں سلجھاتے ہيں، جس كے ذريعہ ہم موجوات كي گہرائيوں تك پہنچنے كا راستہ پاتے ہيں، چنانچہ وہ لوگ عالم خلقت كے اس عجوبہ كي حقيقت معلوم كرنا چا ہتے تھے۔
    روح كي ساخت ،مادہ كي ساخت سے مختلف ہے اس پر حاكم اصول ،مادہ پر حاكم اصولوں اور طبيعي اور كيميائي خواص سے مختلف ہيں، لہٰذا رسول اللہ (ص) كو حكم ديا گيا كہ وہ مختصر اور پُر معني جملہ كہيں كہ ”روح عالمِ امر ميں سے ہے“ يعني اس كي خلقت پر اسرار ہے۔
    اس كے بعد اس بنا پر كہ انھيں اس جواب پر تعجب نہ ہو مزيد فرمايا: تمہارا علم بہت كم ہے لہٰذا كون سے تعجب كي بات ہے كہ تم روح كے اسرار نہ جان سكو اگرچہ وہ ہر چيز كي نسبت تم سے زيادہ قريب ہے۔
    تفسير عياشي ميں حضرت امام محمد باقر اور امام صادق عليہما السلام سے منقول ہے كہ آپ نے آيہٴ < وَيَسْاٴَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ> كي تفسير كے سلسلہ ميں فرمايا: ”إنَّمَا لرُّوح خَلَق مِن خَلْقِہِ، لَہُ بصر و قوة و تاٴييد يَجْعلَہُ فِي قلوب الرّسل وَالموٴمنِيْن“(10) (روح مخلوقاتِ خدا ميں سے ہے اور يہ بينائي كي قوت ركھتي ہے خدا اسے انبياء اور مومنين كے دلوں ميں قرار ديتا ہے۔)
    ايك حديث انھيں دو نوں ائمہ ميں سے ايك سے منقول ہے اس ميں بيان ہوا ہے: ”ھي من الملكوت من القدرة“(11) (روح عالمِ ملكوت اور خدا كي قدرت ميں سے ہے۔) 
    شيعہ اور سنّي كتاب كي متعدد روايات ميں ہے كہ مشركين قريش نے يہ سوال علمائے اہل كتاب سے حاصل كيا وہ اس كے ذريعہ رسول اللہ كو آزمانا چاہتے تھے ان سے كہا گيا تھا كہ اگر (محمد) نے روح كے بارے ميں تمہيں كچھ بتاديا تو يہ اس كي عدم صداقت كي دليل ہوگي، ليكن آپ نے ايك مختصر اور پُر معني جواب دے كر انہيں حيران كرديا۔
    مگر اہل بيت عليہم السلام كے ذريعہ جو روايات نقل ہوئيہيں كہ ان ميں روح كو ايك ايسي مخلوق بتايا ہے جو جبرئيل اور ميكائيل سے افضل ہے جو پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليہم السلام كے ساتھ رہتي ہے ، اور انھيں ان كے احكام ميں انحراف سے باز ركھتي ہے(12)
    آيت كي تفسير كے بارے ميں ہم نے جو كچھ كہا ہے وہ روايات نہ فقط اس كے منافي نہيں ہيں بلكہ اس سے ہم آہنگ ہيں كيونكہ انساني روح كے مختلف درجے اور مراتب ہيں، انبياء اور ائمہ عليہم السلام كي روح كا مرتبہ غير معمولي اور بہت بلند ہے، او رگناہ و خطا سے معصوم ہونا جس كے آثار ميں سے ہے، بہت زيادہ علم و آگاہي بھي اس كے آثار ميں سے ہے اور مسلّم ہے كہ روح كا يہ مرتبہ تمام فرشتوں سے افضل ہوگا يہاں تك كہ جبرئيل اور ميكائيل سے بھي (غور كيجئے )
    روح كي اصالت اور اس كا استقلال علم انسان كي تاريخ گواہ ہے كہ روح، اس كي ساخت اور اس كي اسرار آميز خصوصيات كا مسئلہ ہميشہ علماكے غور و فكر كا عنوان رہا ہے، ہر عالم نے روح كي واديِ اسرار ميں قدم ركھنے كي اپني بساط بھر كوشش كي ہے ، يہي وجہ ہے كہ روح كے بارے ميں علماكے نظريات بہت زيادہ اور متنوع ہيں، ہوسكتا ہے كہ ہمارا آج كا علم بلكہ آئندہ آنے والوں كا علم بھي روح كے تمام اسرار و رموز تك پہنچنے كے لئے كافي نہ ہو اگرچہ ہماري روح اس دنيا كي ہر چيز سے ہمارے قريب تر ہے ،اور اس كا گوہر ہر چيز  سے بالكل مختلف ہے جس سے ہميں اس عالم مادہ ميں سرو كار رہتاہے۔
    اس پر زيادہ تعجب بھي نہيں كرنا چاہئے كہ ہم اس عجوبہٴ روزگار اور مافوق مادہ مخلوق كے اسرار اور حقيقت تك نہيں پہنچ سكتے، بہر حال يہ صورتِ حال اس چيز ميں مانع نہيں ہے كہ ہم روح كو دور سے نظر آنے والے منظر كو عقل كي تيز بين نگاہ سے ديكھ سكيں، اس پر حكم فرما اصول اور عمومي نظام سے آگاہي حاصل كرسكيں، اس سلسلہ ميں اہم ترين روح كي اصالت و استقلال كا مسئلہ ہے جسے جاننا چاہئے۔
    مادہ پرست روح كو مادي اور دماغ كے مادي خواص اور نسوں كے خليے (Nerve Calls) ميں سمجھتے ہيں اس كے علاوہ ان كي نظر ميں روح كچھ نہيں ہے، ہم يہاں زيادہ تر اسي نكتے پر بحث كريں گے بقائے روح كي بحث اور تجرد كامل يا تجرد مكتبي كي گفتگو كا انحصار اسي مسئلے پر ہے، ليكن پہلے اس نكتہ كا ذكر ضروري ہے كہ انساني بدن سے روح كا تعلق ايسا نہيں ہے جيسا كہ بعض نے گمان كرركھا ہے، روح نے بدن ميں حلول نہيں كرركھا ہے اور نہ يہ مشك ميں ہوا كي طرح انساني جسم ميں موجود ہے بلكہ بدن اور روح كے مابين ايك قسم كا ارتباط ہے اور يہ ارتباط روح كي بدن پر حاكميت، تصرف اور اس كي تدبير كي بنياد پر ہے، بعض افراد نے اس ارتباط كو لفظ اور معني كے مابين تعلق سے تشبيہ دي ہے، جبكہ ہم استقلال روح كے مسئلہ ميں بحث كريں گے تو يہ بات بھي واضح ہوجائے گي۔
    اب ہم اصل گفتگو كي طرف آتے ہيں:
    اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ انسان پتھر او رلكڑي سے مختلف ہے كيونكہ ہم اچھي طرح محسوس كرتے ہيں كہ ہم بے جان موجودات بلكہ نباتات سے بھي مختلف ہيں ہم سوچتے ہيں،ارادہ كرتے ہيں، محبت او رنفرت كرتے ہيں، وغيرہ۔
    ليكن پتھر اور نباتات ميں يہ احساسات نہيں ہيں لہٰذا ہمارے اور ان كے درميان ايك بنيادي فرق موجود ہے اور اس كي وجہ انسان كي روح ہے۔
    مادہ پرست يا كوئي اور نفس اور روح كے وجود كے منكر نہيں ہيں يہي وجہ ہے كہ وہ علم نفسيات(Psychology) اور (Psychoanalism)كو ايك مثبت علم سمجھتے ہيں، يہ دونوںعلم اگرچہ كئي جہات سے اپنے ابتدائي مراحل طے كررہے ہيں تاہم دنيا كي بڑي سے بڑي يونيورسٹي ميں اساتذہ اور طلبہ اس كے بارے ميں مطالعہ و تحقيق ميں مصروف ہيں۔
    جيسا كہ ہم بيان كريں گے كہ نفس اور روح دو الگ الگ حقائق نہيں ہيں بلكہ ايك ہي حقيقت كے دو مختلف مراحل ہيں، جہاں جسم سے روح كے رابطہ كے بارے ميں گفتگو ہوتي ہے اور ان دونوں كے مقابل تاثيرِ بيان ہوتي ہے وہاں ”نفس“ كا لفظ استعمال كيا جاتا ہے اور جہاں جسم سے الگ روح سے ظاہر ہونے والے اثرات پر گفتگو ہوتي ہے وہاں لفظ ”روح“ استعمال ہوتا ہے، مختصر يہ كہ كوئي شخص انكار نہيں كرتا ہے كہ ہم ميں روح اور نفس نام كي ايك حقيقت موجود نہيں ہے۔
    اب ديكھنا يہ ہے كہ مادہ پرستوں (Materialists) اور ماوراء طبيعت كے فلاسفہ اور روحيوں (Spirtulists)كے درميان كيا نزاع ہے؟
    اس كا جواب يہ ہے كہ ديني علمااور روحاني فلاسفہ كا يہ نظريہ ہے كہ جس مواد سے انساني جسم بنتا ہے، اس كے علاوہ اس ميں ايك اور حقيقت اور جوہر مخفي ہے كہ جو مادہ نہيں ہے ليكن انساني بدن بلاواسطہ اس كے زير اثر ہے،
    دوسرے لفظوں ميں روح ايك ماوراء طبعي حقيقت ہے اس كي ساخت اور فعاليت مادي دنيا كي ساخت اور فعاليت سے مختلف ہے، يہ ٹھيك ہے كہ يہ ہميشہ مادي دنيا سے مربوط رہتي ہے ليكن يہ خود مادہ يا خاصيتِ مادہ نہيں ہے۔
    ان كے مد مقابل ماديت كے فلاسفہ كہتے ہيں كہ ہمارے وجود ميں روح نام كے مادہ كے علاوہ كوئي مستقل وجود نہيں اور مادہ سے ہٹ كر روح نام كي كوئي چيز نہيں جو كچھ بھي ہے يہي جسماني مادہ ہے، يا اس كے طبيعي اور كيميائي (Physical and chemical) آثار ہيں ہمارے اندر دماغ اور اعصاب نام كي ايك مشينري ہے جو ہماري زندگي كے اعمال كا ايك اہم حصہ ہے وہ بھي باقي مادي بدن كي مشينريوں كي طرح ہے اور مادي قوانين كے تحت كام كرتي ہے۔
    ہماري زبان كے نيچے كچھ غدود ہوتے ہيں جنہيں غدودہائے بزاق(لعاب دہن كے غدّے) (Slive Glands) كہا جاتا ہے، يہ طبيعي عمل بھي كرتے ہيں اور كيميائي بھي جس وقت غذا منھ ميں جاتي ہے تو يہ ” Artesiens“كي طرح خود بخود كام شروع كرديتے ہيں، يہ حساب ميں اتنے ماہر ہيں كہ پاني كي بالكل اتني مقدار جتني غذا كو چبانے اور نرم كرنے كے لئے ضروري ہے اس پر چھڑكتے ہيں پاني والي غذا، كم پاني والي غذا، يا خشك غذا ہر ايك اپني ضرورت كے مطابق لعاب دہن سے اپنا حصہ ليتي ہے۔
    تيزابي مواد خصوصاً جس وقت زيادہ سخت ہوں ان غدوں كي كاركردگي بڑھاديتے ہيں، تاكہ اسے زيادہ مقدار ميں پاني ملے اوريہ خوب باريك ہوجائے اور معدہ كي ديواروں كو نقصان نہ پہچائے۔
    جس وقت انسان غذا كو نگل ليتا ہے ان كنوؤں كا عمل خود بخود رك جاتا ہے، مختصر يہ كہ ان ابلنے والے چشموں پر ايك عجيب و غريب نظام حكم فرما ہے ايسا نظام كہ اگر اس كا توازن بگڑ جائے يا ہميشہ لعاب دہن ہمارے منہ سے گرتا رہے يا ہماري زبان اور حلق كسي قدرخشك ہوجائے تو ہمارے حلق ميں لقمہ پھنس جائے۔
    يہ لعاب د ہن كا طبيعي كام ہے ليكن ہم جانتے ہيں كہ اس كا زيادہ اہم كام كيميائي ہے، اس ميں مختلف طرح كا مواد مخلوط ہوتا ہے اور يہ غذا سے مل كر نئي تركيب كو جنم ديتا ہے جس سے معدہ كي زحمت كم ہوجاتي ہے۔
    مادہ پرست كہتے ہيں كہ ہمارے اعصاب اور مغز كا سلسلہ لعاب دہن كے غدوں كي مانند ہے اور يہ اسي طرح كے طبيعي اور كيميائي عمل كا حامل ہے كہ جسے مجموعي طور پر طبيعي كيميائي (Physical and chemical) كہا جاتا ہے، اور يہي طبيعي اور كيميائي فعاليتيں ہيں جنھيں ہم آثارِ روح يا روح كہتے ہيں، وہ كہتے ہيں كہ جب ہم سوچ رہے ہوتے ہيں تو ايك خاص برقي سلسلہ ہمارے دماغ سے اٹھتا ہے، دور حاضر ميں مشينوں كے ذريعہ ان لہروں كو كاغذ پر ثبت كرديا جاتا ہے خصوصاً نفسياتي بيماروں كے استپالوں ميں ان لہروں كے مطالعہ سے نفسياتي بيماريوں كي تشخيص اور علاج كيا جاتا ہے، يہ ہمارے دماغ كي طبيعي(Physical) فعاليت ہے۔
    اس كے علاوہ غور و فكر كرتے وقت اور نفسياتي فعاليت كے موقع پر ہمارے دماغ كے خليے ايك كيميائي فعاليت بندكرتے ہيں لہٰذا روح اور آثار ِروح ہمارے دماغ اور اعصاب كے خليوں كے كيميائي تفاعل و ا نفعال كے طبيعي خواص كے علاوہ اور كوئي چيز نہيں ہے۔
    اس بحث سے اہل مادہ يہ نتيجہ نكالتے ہيں:
    ۱۔ جيسے لعاب دہن كے غدود كي فعاليت اور ان كے مختصر اثرات بدن سے پہلے نہ تھے اور نہ اس كے بعد ہوں گے اسي طرح ہماري روح كي كارگردي بھي دماغ اور اعصاب كي مشينري كے پيدا ہونے سے وجود ميں آتي ہے اور اس كے مرنے سے مرجاتي ہے۔
    ۲۔ روح جسم كے خواص ميں سے ہے لہٰذا وہ مادي شٴے ہے اور ماوراء طبيعت كا پہلو نہيں ركھتي۔
    ۳۔ روح پر بھي وہي قوانين حكم فرما ہيں جو جسم پر حكومت كرتے ہيں۔
    ۴۔ روح بدن كے بغير كوئي مستقل وجود نہيں ركھتي اور نہ ہي ركھ سكتي ہے۔
    روح كے عدم استقلال پر مادہ پرستوں كے دلائل
    مادہ پرستوں كا نظريہ ہے كہ روح فكر اور روح كے تمام آثار مادي ہيں يعني دماغ اور اعصاب كے خليوں كے طبيعي اور كيميائي خواص ہيں ، انھوں نے اپنے دعويٰ كے اثبات كے لئے كچھ شواہد پيش كئے ہيں، مثلاً:
    ۱۔ بہت ہي آساني كے ساتھ نشاندہي كي جاسكتي ہے كہ اگر مراكز كا ايك حصہ يا اعصاب كا ايك سلسلہ بے كار ہوجائے تو آثارِ روح كا ايك حصہ معطل ہوجاتا ہے۔(13)
    مثلاً تجربہ كيا گيا ہے كہ كبوتر كے مغز كا ايك خاص حصہ الگ كرليا جائے تو كبوتر مرتا نہيں ليكن اس كي معلومات كا بہت سا حصہ ختم ہوجاتا ہے، اگر اسے غذائيں كھلائيں تو كھاتا ہے او رہضم كرتا ہے اور اگر نہ كھلائيں صرف دانہ اس كے سامنے ڈال ديں تو نہيں كھاتا او ربھوك سے مرجاتا ہے!
    اسي طرح اگر انسان كے دماغ پر كچھ ضربات لگائي جائيں يا بعض بيماريوں كي وجہ سے اس كے دماغ كا كچھ حصہ بيكار ہوجائے تو ديكھا جاتا ہے كہ انسان بہت سي چيزوں كو بھول جاتا ہے۔
    كچھ عرصہ پہلے ہم نے جرائد اور اخباروں ميں پڑھا تھا كہ ايك تعليم يافتہ نوجوان كو اہواز كے قريب ايك واقعہ پيش آيا اس واقعہ ميں اس كے دماغ پر ضرب آئي، وہ اپني زندگي كے تمام گزشتہ واقعات بھول گيا يہاں تك وہ اپنے ماں باپ تك كو نہيں پہچانتا تھا، اسے اس كے گھر لے جايا گيااس نے اسي گھر ميں پرورش پا ئي تھي مگر وہ وہاں اپنے كو بالكل اجنبي محسوس كررہا تھا۔
    ايسے واقعات نشاندہي كرتے ہيں كہ دماغ كے خليوں كي فعاليت اور آثار ورح كے درميان ايك قريبي ربط ہے۔
    ۲۔ غور و فكر كرتے وقت دماغ كي سطح پر مادي تغيرات زيادہ ہوتے ہيں، دماغ زيادہ غذا ليتا ہے اور فسفورس(Phosphore) واپس كرتا ہے، سوتے وقت جبكہ دماغ فكر ي كام نہيں كرتا، تھوڑي غذا ليتا ہے، يہ امر آثارِ فكر كے مادي ہونے كي دليل ہے۔(14)
    ۳۔ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے كہ غور و فكر كرنے والوں كے دماغ كا وزن عام لوگوں كي نسبت زيادہ ہوتا ہے (اوسطاً مردوں كے دماغ كا وزن ۱۴۰۰/ گرام ہوتا ہے اور عورتوں كے دماغ كا اوسطاً وزن اس سے كچھ كم ہوتا ہے)، يہ امر بھي روح كے مادي ہونے كي نشاندہي كرتا ہے۔
    ۴۔ اگر قوائے فكري اور مظاہر روح، روح كے ايك مستقل وجود ہونے كي دليل ہيں تو يہ بات ہميں حيوانات كے لئے بھي ماننا چاہئے كيونكہ وہ بھي اپني حد تك ادراك ركھتے ہيں۔
    مختصر يہ ہے كہ وہ كہتے ہيں كہ ہم محسوس كرتے ہيں كہ ہماري روح موجودِ مستقل نہيں ہے اور انسان شناسي كے علم نے جو ترقي كي ہے وہ بھي اس حقيقت كي تائيد كرتي ہے۔
    ان دلائل سے مجموعي طور پر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ انساني اور حيواني فيزيالوجي كي ترقي اور وسعت روز بروز اس حقيقت كو زيادہ واضح كررہي ہے كہ آثار روح اور دماغي خليوں كے درميان قريبي تعلق ہے۔
    اس استدلال كے كمزور پہلو
    مادہ پرستوں كے اس استدلال ميں ايك بہت بڑي غلط فہمي يہ ہے كہ انھوں نے آلات كار كو كام كا فاعل سمجھ ليا ہے۔
    يہ واضح كرنے كے لئے كہ انھوں نے آلات كو فاعل كيسے سمجھ ليا ہے ہم ايك مثال پيش كرتے ہيں، اس مثال پر غور كيجئے:
    ”گيليليو “كے بعد آسمان كي وضع و كيفيت كے مطالعہ ميں ايك انقلاب پيدا ہوا ہے، ”گيليليو“ (ايٹالين) نے عينك ساز كي مدد سے ايك چھوٹي سے دور بين بنائي اور وہ اس پر بہت خوش ہوا جب اس نے رات كے وقت اس كي مدد سے آسماني ستاروں كا مطالعہ شروع كيا تو اس نے حيرت انگيز منظر ديكھا، ايسا منظر اس سے پہلے كسي انسان نے نہيں ديكھا تھا، اس نے سمجھا كہ ميں نے ايك اہم انكشاف كيا ہے، اس طرح اس دن كے بعد انسان عالم بالا كے اسرار كا مطالعہ كرنے كے قابل ہوگيا۔
    اس وقت تك انسان ايك ايسے پروانے كي طرح تھا جس نے فقط اپنے ارد گرد كي چند شاخيں ديكھي تھيں ليكن جب اس نے دور بين كے ذريعہ جھانكا تو ا سے فطرت كا ايك عظيم جہان دكھائي ديا۔
    اس سلسلہ ميں ترقي و كمال جاري رہا يہاں تك كہ ستاروں كو ديكھنے كے لئے بڑي بڑي دور بينيں ايجاد ہوگئيں جن كا لينس پانچ ميٹر يا اس سے بھي زيادہ تھا، انھيں پہاڑوں كي ايسي بلند چوٹيوں پر نصب كيا گيا جو صاف و شفاف ہوا كے اعتبار سے مناسب تھيں، ايسي ايسي دور بينيں بنيں جو كئي منزلہ عمارت كے برابر تھيں، ان كے ذريعہ انسان كو عالم بالا ميں كئي جہان دكھائي دئے، ايسے ايسے جہان كہ عام نظر سے انسان كو ہزارواں حصہ بھي نظر نہيں آتا تھا۔
    اب آپ سوچيں كہ اگر ايك دن ٹكنالوجي اتني ترقي كر جائے كہ انسان ايسي دور بين بنالے جس كے عدس كا قطر ۱۰۰ ميٹر ہو اور جس كا ساز و سامان اور وسعت ايك شہر كے برابر ہو تو ہم پر كتنے جہان منكشف ہوں گے۔
    يہاں پريہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اگر يہ دور بينيں ہم سے لے لي جائيں تو يقيني طور پر آسمان كے بارے ميں ہماري معلومات اور مشاہدات كا ايك حصہ معطل ہوجائے گا، ليكن كيا حقيقي طور پر ديكھنے والے ہم ہيں يا دور بينيں؟
    كيا ٹيلسكوپ ہمارے لئے آلات كار ہے يا خود فاعل كار اور خود ديكھنے والي؟
    دماغ كے بارے ميں بھي كوئي شخص انكار نہيں كرتا كہ دماغ كے خليے كے بغير غور و فكر نہيں كي جاسكتا، ليكن كيا دماغ روح كے كام كا آلہ ہے يا خود روح؟!
    مختصر يہ كہ مادہ پرستوں نے جو تمام دلائل پيش كئے ہيں وہ صرف يہ ثابت كرتے ہيں كہ دماغ كے خليے اور ہمارے ادراك كے درميان ربط موجود ہے ليكن ان ميں سے كوئي دليل يہ ثابت نہيں كرتي كہ دماغ خود غور و فكر كرتا ہے نہ كہ ادارك كا آلہ ہے۔ (غور كيجئے )
    يہاں سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ مردے اگر كچھ نہيں سمجھتے تو اس كي وجہ روح كا بدن سے رابطہ كاختم ہوجاناہے، نہ كہ روح فنا ہوگئي ہے، يہ بات بالكل اسي طرح ہے جيسے كسي بحري يا ہوائي جہاز كا وائر ليس خراب ہو جائے اور اس كا ساحل يا اير پورٹ سے رابطہ نہ ہو سكے كيونكہ رابطہ كا ذريعہ منقطع ہوگيا ہے۔
    استقلال روح كے دلائل
    بات يہ ہورہي تھي كہ مادہ پرستوں كا اصرار ہے كہ روح سے ظاہر ہونے والے آثار و افعال كو دماغي خليوں كے خواص سمجھنا چاہئے اور فكر، حافظہ، ايجاد، محبت، نفرت، غصہ اور علم و دانش سب كو ايسے امور سمجھنا چاہئے جنھيں تجربہ گاہ ميں ديكھا اور پركھا جاسكتا ہے، اور انھيں بھي عالم مادہ كے قوانين كے تحت سمجھنا چاہئے، اس كے برعكس استقلال روح كے فلاسفہ اس كي نفي پر مستحكم دلائل بيان كرتے ہيں جن ميں سےہم ذيل ميں بعض كي طرف اشارہ كرتے ہيں:
    ۱۔ روح كا كام حقيقت نمائي ہے
    مادہ پرستوںسے پہلا سوال يہ كيا جاسكتا ہے كہ روح كے افكار و آثار دماغ كے طبيعي اور كيميائي( Physico chemical) خواص ہيں تو پھر دماغ، معدہ ، دل اور جگر وغيرہ كے كاموں ميں كوئي اصولي فرق نہيں ہونا چاہئے۔
    مثلاً معدے كا كام طبيعي اور كيميائي كار كردگي كا مركب ہے، معدہ اپني خاص حركات كے ذريعہ اور تيزاب كے ترشح سے غذا كو ہضم اور اسے بدن ميں جذب كرنے كے لئے تيار كرتا ہے، اسي طرح جيسا كہ كہا گيا ہے كہ لعاب دہن كا كام طبيعي اور كيميائي عمل كي تركيب ہے حالانكہ ہم ديكھ رہے ہيں كہ روح كے كام ان سب سے مختلف ہيں۔
    بدن كي تمام مشينريوں كے كام ايك دوسرے سے تھوڑي بہت شباہت ركھتے ہيں ليكن دماغ كي كيفيت استثنائي ہے، تمام مشينريوں كے كام اندروني پہلو ركھتے ہيں جبكہ روح سے ظاہر ہونے والے كام بيروني پہلو ركھتے ہيں اور ہميں ہمارے وجود سے باہر كي كيفيت سے آگاہ كرتے ہيں۔
    اس گفتگو كي وضاحت كے لئے چند نكات كي طرف توجہ كرنا چاہئے:
    پہلا نكتہ يہ ہے كہ كيا ہمارے وجود سے باہر كوئي جہان ہے يا نہيں؟ مسلّم ہے كہ باہر بھي ايك جہان ہے، آيڈيالسٹ حضرات (Idealists) خارجي جہان كا انكا ركرتے ہيں وہ كہتے ہيں كہ جو كچھ ہے بس ہم ہي ہيں اور ہمارے تصورات اور خارجي جہان بالكل ان مناظر كي طرح ہيں جنھيں ہم عالم خواب ميں ديكھتے ہيں اور سب كچھ تصورات ہي ہيں اور كچھ نہيںہے۔
    يہ لوگ بہت بڑي غلطي پر ہيں، ہم نے متعلقہ بحث ميں ان كي غلط فہمي كو ثابت كيا ہے كہ كس طرح سے آيڈيا لسٹ عمل ميں ريليسٹ (Realists) ہوجاتے ہيں اور جو كچھ وہ كتابي دنيا ميں سوچتے ہيں اسے كوچہ و بازار اور عام زندگي كے ماحول ميں قدم ركھتے ہي بھول جاتے ہيں۔
    دوسرا نكتہ يہ ہے كہ كيا ہم اپنے وجود سے باہر كے جہان سے آگاہ ہيں يا نہيں؟ يقينا اس سوال كا جواب بھي مثبت ہے كيونكہ ہم اپنے وجود سے باہر كے جہان كے بار ے ميں بہت سا علم ركھتے ہيں اور ان موجودات كے بارے ميں بہت كچھ جانتے ہيں كہ جو ہمارے آس پاس سے بہت دور ہيں۔
    اس وقت يہ سوال اٹھتا ہے كہ كيا خارجي جہان ہمارے وجود ميں آسكتا ہے؟ مسلم ہے كہ ايسا نہيں ہوسكتا، بلكہ اس كا نقشہ ہمارے پاس ہے اور ہم واقع نمائي كي خاصيت سے استفادہ كرتے ہوئے اپنے وجود سے باہر كے جہان كو معلوم كرسكتے ہيں كيونكہ يہ واقع نمائي دماغ كے صرف طبيعي كيميائي (Physico chemical) عمل كے خواص نہيں ہوسكتے كيونكہ يہ خواص بيروني دنيا كے بارے ميں ہمارے تاثرات كي پيداوار ہيں يعني ان كے معلول ہيں، جيسے غذا ہمارے معدہ پر اثرات چھوڑتي ہے تو كيا غذا كے معد ہ پر تاثر ات كا طبيعي اور كيميائي فعل و انفعال سبب بن سكتا ہے كہ معدہ غذا كے بارے ميں اگاہي ركھتا ہو؟ تو پھر كس طرح ہمارا دماغ اپنے سے باہر كي دنيا سے باخبر ہوسكتا ہے؟
    دوسرے لفظوں ميں خارجي اور عيني موجودات سے آگاہي كے لئے ان پر ايك قسم كا احاطہ ضروري ہے اور يہ احاطہ كرنا دماغ كے خليوں كا كام نہيں ہے، دماغ كے خليے تو صرف خارج سے متاثر ہوتے ہيں، اور تاثر بدن كي مشينوں كي طرح ہے جو خارجي كيفيت سے ان پر مرتب ہوتا ہے، يہ بات ہم اچھي طرح سمجھ سكتے ہيں۔
    اگر خارجي جہان سے متاثر ہونا خارج كے بارے ميں اگاہي كي دليل ہوتا تو پھر ضروري تھا كہ ہم اپنے معدے اور زبان كے ذريعہ بھي آگاہي حاصل كرتے، حالانكہ ايسا نہيں ہے۔
    مختصر يہ ہے كہ ہمارے ادراكات كي استثنائي كيفيت اس بات كي دليل ہے كہ اس ميں ايك دوسري حقيقت چھپي ہوئي ہے جس كا نظام طبيعي اور كيميائي نظام سے بالكل مختلف ہے۔ (غور كيجئے )
    ۲۔ وحدتِ شخصيت
    استقلال روح كے بارے ميں جو دوسري دليل ذكر كي جاسكتي ہے وہ انسان كي پوري زندگي ميں وحدتِ شخصيت كا مسئلہ ہے۔
    اس كي وضاحت يہ ہے كہ ہم ہر چيز ميں شك و ترديد ركھتے ہيں تب بھي اس بات ميں شك نہيں ركھتے كہ ”ہم وجود ركھتے ہيں“۔
    ”ميں ہوں“ اور اپني ہستي كے بارے ميں مجھے كوئي شك نہيں ہے اور اپنے وجود كے بارے ميں ميرا علم حضوري ہے حصولي نہيں، يعني ميں اپنے آپ كے سامنے حاضر ہوں اور اپنے آپ سے جدا نہيں ہوں۔
    بہر حال اپنے آپ سے آگاہي ہماري واضح ترين معلومات ميں سے ہے اور اس كے لئے كسي استدالال كي احتياج نہيں، مشہور فرانسيسي ”ڈيكارٹ“نے اپنے وجود كے لئے يہ معروف استدلال كيا ہے : ”ميں سوچ رہا ہوں پس ميں ہوں“۔
    يہ ايك اضافي اور غير صحيح استدلال نظر آتا ہے كيونكہ اس نے اپنے وجود كو ثابت كرنے سے پہلے دو مرتبہ اپنے وجود كا اعتراف كيا ہے، ايك مرتبہ ”ميں“ كہہ كر اور دوسري مرتبہ ”رہا ہوں“ كہہ كر۔
    دوسري طرف ديكھا جائے تو يہ ”ميں“ ابتدائے عمر سے آخر عمر تك ايك اكائي سے زيادہ نہيں ہے، آج كا ”ميں“ وہي كل كا ”ميں“، وہي بيس سال پہلے كا ”ميں“ ، بچپن سے لے كر اب تك ميں ايك شخص سے زيادہ كچھ نہيں ہوں ، ”ميں“ وہي شخص ہوں جو پہلے تھا اور آخر عمر تك يہي شخص رہوں گا، نہ كہ كوئي اور شخص، البتہ ”ميں“ نے تعليم حاصل كي اور ”ميں“ پڑھا لكھا ہوگيا، ”ميں“ نے كمال و ترقي كي منزل طے كي اور پھر طے كروں گا، ليكن ”ميں“ كوئي دوسرا آدمي نہيں ہوگيا، لہٰذا سب لوگ ابتدائے عمر سے لے كر آخر عمر تك مجھے ايك ہي آدمي جانتے ہيں ميرا ايك ہي نام ہے اور يہ ميں ہي كسي كا شناختي كارڈ وغيرہ ہوتا ہے۔
    اب ہم سوچيں اور ديكھيں كہ يہ موجود واحد جس ميں ہماري ساري عمر پوشيدہ ہے كيا ہے؟ يہ ہمارے بدن كے ذرّات يا دماغي خليوں اور ان كے فعل و انفعالات كا مجموعہ ہے؟ يہ تو ہماري زندگي ميں بارہا بدلتے رہتے ہيں اور تقريباً ہر سات سال كے بعد ايك مرتبہ تمام خليے بدل جاتے ہيں كيونكہ ہم جانتے ہيں ايك شب و روز ميں ہمارے بدن كے لاكھوں خليے مرتے ہيں اور ان كي جگہ نئے خليے لے ليتے ہيں جيسے كسي پراني عمارت كي پراني اينٹيں نكالتے رہيں اور ان كي جگہ نئي اينٹيں لگاتے رہيں تو ايك عرصہ بعد يہ عمارت بالكل بدل جائے گي اگرچہ عام لوگوں كو اس كا اندازہ نہ ہو، جيسے كسي ايك بڑے تالاب كا پاني ايك تالاب سے نكلتا رہتا ہے اور دوسري طرف سے تازہ پاني داخل ہوتا رہتا ہے، واضح ہے كہ كچھ عرصے بعد سارا پاني بدل جائے گا، اگرچہ ظاہر ميں افراد توجہ نہ كريں اور اسے پہلے والا ہي سمجھتے رہيں۔
    كلي طور پر ہر موجود جو غذا حاصل كرتا ہے اور غذا كا مصرف ركھتا ہے اس كي تعمير نو كا سلسلہ جاري رہے گا اور وہ بدل جائے گا۔
    لہٰذا ايك ستر سالہ انسان كے تمام اجزائے بدن تقريباً دس مرتبہ بدل چكے ہوتے ہيں، اگر ہم مادہ پرستوں كي طرح انسان كو وہي جسم اور وہي دماغ و اعصاب اور وہي اس كے طبيعي اور كيميائي خواص سمجھيں تو يہ ”ميں“ تو ستّر سال كي عمر ميں دس مرتبہ بدل چكا ہوگا، اور يہ وہي پہلے والا شخص نہيں ہوگا، حالانكہ كوئي عقل اس بات كو قبول نہيں كرے گي۔
    اس سے واضح ہوتا ہے كہ مادي اجزا كے بجائے كوئي ايك واحد ثابت حقيقت ہے جو ساري عمر ميں موجود رہتي ہے جو مادي اجزاء كي طرح بدلتي نہيں ہے ، وہي در اصل وجود كي بنياد ہے اور وہي ہماري شخصيت كي وحدت كا عامل اور باعث ہے۔
    ايك غلط فہمي سے اجتناب
    بعض لوگوں كا خيال ہے كہ دماغ كے خليے نہيں بدلتے، وہ كہتے ہيں كہ فيزيالوجي كي كتابوں كے مطابق دماغ كے خليوں كي تعداد آغاز عمر سے آخر عمر تك ايك ہي رہتي ہے يعني وہ بالكل كم يا زيادہ نہيں ہوتے، البتہ بڑے ہوجاتے ہيں ليكن يہ نہيں ہوتا كہ اُن جيسے اور خليے پيدا ہوتے ہوں، يہي وجہ ہے كہ انھيں كوئي نقصان پہنچے تو ان كي جگہ نئے خليے پيدا نہيں ہوتے، لہٰذا ہمارے بدن ميں ايك ”واحد ثابت“ موجود رہتا ہے اور يہ دماغ كے خليے ہيں، يہي ہماري شخصيت كي وحدت كا محافظ ہے۔
    يہ خيال ايك بہت بڑي غلط فہمي ہے كيونكہ يہ خيال كرنے والوں نے دو مسئلوں كو آپس ميں ملاديا ہے، دور حاضر كي سائنس نے يہ ثابت كيا ہے كہ دماغ كے خليے آغاز سے آخر تك تعداد كے لحاظ سے اتنے ہي رہتے ہيں ا ور ان كي تعداد ميں كمي بيشي نہيں ہوتي، نہ يہ كہ ان خليوں كے ذرات نہيں بدلتے، كيونكہ ہم كہہ چكے ہيں كہ انساني بدن كے تمام خليوں كو ہميشہ غذا كي ضرورت رہتي ہے نيز پرانے خليے مرتے رہتے ہيں جيسے كوئي شخص ايك طرف كماتا رہتا ہے اور دوسري طرف خرچ كرتا رہتا ہے، مسلم ہے كہ اس شخص كا سرمايہ آہستہ آہستہ بدل جائے گا، اگرچہ اس كي مقدار نہ بدلے، جيسے كسي تالاب سے ايك طرف سے پاني نكلتا رہے اور دوسري طرف سے نيا پاني آتا رہے، ايك عرصہ بعد اس كا سارا پاني بدل جائے گا اگرچہ اس كي مقدار اتني ہي رہے۔
    (فيزيالوجي كي كتابوں ميں بھي اس بات كا ذكر موجود ہے نمونہ كے طور پر كتاب ”ہورمونھا“ صفحہ۱۱/ اور كتاب ”فيزيالوجي حيواني“ از ڈاكٹر محمود بہزاد و ہمراہان صفحہ نمبر ۳۲ پر رجوع كريں۔)
    لہٰذا دماغ كے خليوں ميں ثبات نہيں ہيں بلكہ دوسرے خليوں كي طرح بدلتے رہتے ہيں۔
    ۳۔ بڑے كا چھوٹے پر منطبق نہ ہونا
    فرض كريں كہ ہم دريا كے ايك خوبصورت كنارے پر بيٹھے ہيں،چند چھوٹي چھوٹي كشتياں پاني كي موجوں پر تير رہي ہيں، ايك بڑي كشتي بھي ہے ايك طرف سورج غروب ہورہا ہے اور دوسري طرف چاند طلوع ہورہا ہے، خوبصورت آبي پرندے پاني پر آكر بيٹھتے ہيں اور اڑجاتے ہيں، ايك طرف بہت بڑا پہاڑ ہے اس كي چوٹي آسمان سے باتيں كر رہي ہے۔
    ہم ساحل پر بيٹھے چند لمحوں كے لئے اپني آنكھيں بند كرليتے ہيں جو كچھ ديكھا ہے اسے اپنے ذہن ميں مجسم كرليتے ہيں وہي بڑا سا پہاڑ، دريا كي وہي وسعت، وہي بڑي سي كشتي، سب ہمارے صفحہ ذہن پر اُبھر آتے ہيں يعني جيسے ايك بہت بڑا منظر ہماري روح كے سامنے يا ہماري روح كے اندر موجود ہو۔
    اب يہ سوال سامنے آتا ہے كہ اس منظر كي جگہ كہاں ہے كيا چھوٹے سے دماغ كے خليوں ميں اتنا بڑا نقشہ سماسكتا ہے، يقينا نہيں، اس لئے ضروري ہے كہ ہمارے وجود كا ايك اور حصہ ہو جو اس جسماني مادہ سے ماوراء ہو اور اس قدر وسيع ہو كہ تمام مناظر اور نقشے اس ميں سما سكيں۔
    كيا ايك ۵۰۰ مربع ميٹر عمارت كا نقشہ اسي لمبائي چوڑائي كے ساتھ چند مربع ملي ميٹر زمين پر بنايا جاسكتا ہے؟ مسلّم ہے كہ اس سوال كا جواب منفي ہے كيونكہ كوئي بہت بڑا موجود اپني وسعت كے ساتھ كسي چھوٹے موجود پر منطبق نہيں ہوسكتا، انطباق كے لئے ضروري ہے كہ جسے منطبق كرنا ہے وہ اس كے مساوي ہو يا اس سے چھوٹا۔
    لہٰذا ہم انتہائي بڑے بڑے خيالي نقشوں كو اپنے دماغ كے چھوٹے چھوٹے خليوں ميں جگہ كيسے دے سكتے ہيں ،كرہ زمين تقريباً چار كروڑ مربع ميٹر ہے ہم اپنے ذہن ميں اس كي تصوير كھينچ سكتے ہيں، كرہ آفتاب ، زمين سے بارہ لاكھ گنا ہے اور كہكشائيں ہمارے آفتاب كي نسبت كئي ملين گنا ہيں، ہم اپني فكر ميں ان كي تصوير كشي كرسكتے ہيں ، ليكن اگر ہم چاہيں كہ اپنے دماغ كے چھوٹے چھوٹے خليوں ميں يہ نقشے اسي وسعت كے ساتھ بنائيں تو بڑے كے چھوٹے پر منطبق نہ ہوسكنے كے قانون كے مطابق ممكن نہيںہے، لہٰذا ضروري ہے كہ ہم اس جسم سے مافوق ايك وجود كا اعتراف كريں جس ميں يہ بڑے بڑے نقشے سماسكتے ہوں۔
    يہ بات كہي جا سكتي ہے كہ ہمارے ذہني نقشے بھي چھوٹي چھوٹي تصويريں ہيں جنھيں معين اسكيل كے تحت چھوٹا كيا گيا ہے او ر اگر انھيں اسي نسبت سے بڑا كرديا جائے تو ايك حقيقي نقشہ بن جائے گا، اور مسلم ہے كہ يہ چھوٹے نقشے دماغ كے خليوں ميں بن سكتے ہيں۔ (غور كيجئے )
    اب ہم اس سوال كا جواب پيش كرتے ہيں:
    اہم بات يہي ہے كہ مائيكرو فلموں كو عام پروجيكٹروں كے ذريعہ بڑا كركے پردہٴ اسكرين پر منعكس كرتے ہيں،اسي طرح جغرافيائي نقشوں ميں دي گئي اسكيل كے مطابق ہم نقشے كو ضرب دے كر اپنے ذہن ميں منعكس كرتے ہيں، سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ وہ بڑا پردہ جس پر ہماري بڑي بڑي ذہني فلميں منعكس ہوتي ہيں، كہاں ہيں؟
    كيا وہ بڑا پردہ دماغ كے خليے ہيں؟ وہ تو با لكل نہيں ہے اور وہ چھوٹا جغرافيائي نقشہ كہ جسے ہم بڑے عدد سے ضرب دے كر بڑے نقشہ ميں تبديل كرتے ہيں يقينا اس كے لئے كوئي جگہ چاہئے، كيا دماغ كے چھوٹے چھوٹے خليے اس كي جگہ لے سكتے ہيں؟
    واضح الفاظ ميںيوں كہيں: مائيكروفلم اور جغرافيائي نقشہ ميں جو كچھ خارج ميں ہے وہ تو وہي چھوٹي فلم اور نقشہ ہے ليكن ہمارے ذہني نقشوں ميں تو بعينہ وہ نقشے اپنے خارجي وجود كي مقدار كے مطابق ہيں، لہٰذا انھيں ، خود انھيں كے برابر اور انھيں كي مقدار كے مطابقجگہ چاہئے، اور ہم جانتے ہيں كہ دماغ كے خليے اس سے كہيں چھوٹے ہيں كہ انھيں اسي مقدار كے مطابق ان پر منعكس كيا جاسكے، مختصر يہ كہ ان ذہني نقشوں كو ہم ان كے خارجي وجود كے مطابق تصور كرتے ہيں اور يہ بڑي تصوير چھوٹے سے خليوں ميں منعكس نہيں ہوسكتي، لہٰذا ان كے لئے كسي جگہ كي ضرورت ہے، يہيں سے ہميں خُليوں سے مافوق ايك حقيقي وجود كا پتہ چل جاتا ہے۔ 
    ۴۔ روح كے مادي مظاہر كيفيات كے مانند نہيں؟ 
    يہ دليل بھي استقلال روح اور اس كے غير مادي ہونے كي طرف ہماري رہنمائي كرسكتي ہے كہ مظاہر روح ميں كچھ خواص و كيفيات ايسي دكھائي ديتي ہيں جو مادي موجودات كے خواص و كيفيت سے كوئي شباہت نہيں ركھتيں، كيونكہ:
    ۱۔ موجودات كے لئے زمانہ دركار ہوتا ہے اور وہ تدريجي پہلو ركھتے ہيں۔
    ۲۔ وقت اور زمانہ كے ساتھ وہ كہنہ اور فرسودہ ہوجاتے ہيں۔
    ۳۔ ان كا متعدد اجزا ميں تجزيہ كيا جاسكتا ہے۔
    ليكن ذہني موجودات اور اس ميں پيدا ہونے والي چيزوں ميں يہ آثار و خواص نہيں ہوتے، ہم اپنے ذہن، موجودہ جہاں كي طرح ايك جہان تصور كر سكتے ہيں بغير اس كےكہ زمانہ گزرے اور اس كے لئے تدريجي پہلو كي ضرورت ہو ۔
    اس بات سے قطع نظر وہ مناظر كہ مثلاً جو بچپن ميں ہمارے صفحہ ذہن پر نقش ہوگئے تھے زمانہ گزرنے كے باوجود فرسودہ نہيں ہوتے اور ان كي شكل اسي طرح محفوظ رہتي ہے، ہوسكتا ہے كہ انسان كا دماغ كہنہ ہوگيا ہو ليكن اس كے كہنہ پن سے وہ گھر جس كا نقشہ بيس سال قبل ہمارے ذہن ميں ثبت ہوا تھا اسي طرح باقي رہتا ہے، اس ميں ايك طرح كا ثبات پايا جاتا ہے جو ماوراء مادہ جہان كي خاصيت ہے۔
    نقشوں اور تصويروں كے بارے ميں ہماري روح عجيب و غريب صلاحيت ركھتي ہے، ہم لمحہ بھر ميں كسي تمہيد كے بغير ہر قسم كا نقشہ اپنے ذہن ميں بنا سكتے ہيں، مثلاً آسماني كرّات، كہكشائيں يا زميني موجودات ، دريا اور پہاڑ وغيرہ، ان سب كا تصور ہمارے ذہن ميں آنِ واحد ميں ابھر سكتا ہے، يہ خاصيت ايك مادي موجود كي نہيں ہے بلكہ مافوق مادہ موجود كي نشاني ہے۔
    اس كے علاوہ ہم جانتے ہيں كہ ۲ /اور ۲ / چار ہوتے ہيں اس ميں كوئي شك نہيں ہے اور ان كي مساوات كو ہر طرف ہم جز جز كرسكتے ہيں يعني دو كا تجزيہ كريں يا چار كا ليكن اس مساوات كا تجزيہ نہيں كرسكتے، اور يہ نہيں كہہ سكتے كہ يہ مساوات دو آدھے ركھتي ہے، اور ہر آدھا دوسرے آدھے كا غير ہے، مساوات كا ايك ہي مفہوم ہے جو قابل تجزيہ نہيں ہے يعني دو اور دو يا چار ہے يا نہيں ہے، اسے دو نيم ہرگز نہيں كيا جاسكتا، لہٰذا اس قسم كے ذہني مفاہيم قابل تقسيم و تجزيہ نہيں ہيں، اسي بنا پر وہ مادي نہيں ہوسكتے، كيونكہ اگر وہ مادي ہوتے تو ان كا تجزيہ ممكن تھا اور انھيں تقسيم كيا جاسكتا تھا، يہي وجہ ہے كہ ہماري روح جو ايسے غير مادي مفاہيم كا مركز ہے مادي نہيں ہوسكتي، اس لئے وہ مافوق مادہ ہے۔ (غور كيجئے)(15)
     

(1)سورہٴ بقرہ ، آيت ۲۵۳
(2) سورہٴ مجادلہ ، آيت ۲۲
(3)سورہٴ شعراء ، آيت ۱۹۳، ۱۹۴
(4)سورہٴ قدر ، آيت ۴
5)سورہٴ نباء ، آيت ۳۸ (6) سورہٴ شوريٰ ، آيت ۵۲
(7) سورہٴ سجدہ ، آيت ۹ (8) سورہٴ حجر ، آيت ۲۹
(9) نور الثقلين ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶ (10) نور الثقلين ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶
(11) تفسير نورالثقلين ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۵
(12) پيسي كولوژي ، (Phychology) ڈاكٹر اراني صفحہ۲۳
(13) بشر از نظر مادي ڈاكٹر اراني صفحہ۲
(14) كتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“ كے حصہ ”استقلال روح“ كي تلخيص
(15) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۲۵۰
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك