سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:330

شبہ آكل و ماكول كيا ہے؟

ہت سے مفسرين اور مورخين نے درج ذيل آيت كے ذيل ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كا يہ واقعہ لكھا ہے:
<وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِيمُ رَبِّ اٴَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَي>(1)
” اور اس موقع كو ياد كرو جب ابراہيم نے التجا كي كہ پروردگار! مجھے يہ دكھادے كہ تو مردوں كو كس طرح زندہ كرتا ہے“۔
ايك دن حضرت ابراہيم دريا كے كنارے سے گزر رہے تھے،آپ نے دريا كے كنارے ايك مردار ديكھا، جس كا كچھ حصہ دريا كے اندر اور كچھ باہر تھا، دريا اور خشكي كے جانور دونوں طرف سے كھارہے تھے، بلكہ كھاتے كھاتے ايك دوسرے سے لڑ رہے تھے، اس منظر نے حضرت ابراہيم كو ايك ايسے مسئلہ كي فكر ميں ڈال ديا جس كي كيفيت كو سب ہي تفصيل سے جاننا چاہتے ہيں اور وہ ہے موت كے بعد مردوں كا زندہ ہونے كي كيفيت، جناب ابراہيم سوچنے لگے كہ اگر ايسا ہي انساني جسم كے ساتھ ہو اور انسان كا بدن جانوروں كے بدن كا جز بن جائے تو اس كو قيامت ميں كيسے اٹھايا جائے گا، جبكہ وہاں انسان كو اسي بدن كے ساتھ اٹھنا ہے!
حضرت ابراہيم نے كہا: پروردگارا! مجھے دكھا كہ تو مردوں كوكيسے زندہ كرے گا؟ خداوندعالم نے فرمايا: كيا تم اس بات پر ايمان نہيں ركھتے، انھوں نے كہا: ايمان تو ركھتا ہوں ليكن چاہتا ہوں كہ دل كو تسلي ہوجائے۔
خداوندعالم نے حكم ديا كہ چار پرندے لے لو اور ان كو ذبح كركے ان كا گوشت ايك دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت كے كئي حصہ كردو ہر حصہ ايك پہاڑ پر ركھ دو،اس كے بعد ان پرندوں كو پكارو تاكہ ميدان حشر كا منظر ديكھ سكو، انھوں نے ايسا ہي كيا تو انتہائي حيرت كے ساتھ ديكھا كہ پرندوں كے اجزا مختلف مقامات سے جمع ہوكر ان كے پاس آگئے اور ان كي ايك نئي زندگي كا آغاز ہوگيا۔
شبہ آكل و ماكول
مردوں كے زندہ ہونے كے منظر كا مشاہدہ كرنے كا تقاضا حضرت ابراہيم نے جس وجہ سے كيا تھا اس كي تفصيل بيان ہوچكي ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كا تقاضا زيادہ تر اس وجہ سے تھا كہ ايك جانور كا بدن دوسرے جانوروں كے بدن كا جز بننے كے بعد وہ اپني اصلي صورت ميں كيسے پلٹ سكتا ہے، علم عقائد ميں اسي بحث كو ”شبہ آكل و ماكول “ كہا جاتا ہے۔
اس كي وضاحت يہ ہے كہ قيامت ميں خدا انسان كو اسي مادي جسم كے ساتھ پلٹائے گا اصطلاحي الفاظ ميں كہا جاسكتا ہے كہ جسم اور روح دونوں پلٹ آئيں گے۔
اس صورت ميں يہ اشكال پيش آتا ہے كہ اگر ايك انسان كا بدن خاك ہوجائے اور درختوں كي جڑوں كے ذريعہ كسي سبزي يا پھل كا جز بن جائے تو پھر كوئي دوسرا انسان اسے كھالے اور اب يہ اس كے بدن كا جز بن جائے ،يا مثال كے طور پر قحط سالي ميں ايك دوسرے انسان كا گوشت كھالے تو ميدان حشر ميں كھائے ہوئے اجزا ان دونوں ميں سے كس بدن كے جز بنيں گے، اگر پہلے بدن كا جزبنيں تو دوسرا بدن ناقص اور دوسرے كا بنيں تو پہلا ناقص رہ جائے گا۔
(جواب)
فلاسفہ اور علم عقائد كے علمانے اس قديم اعتراض كے مختلف جوابات دئے ہيں يہاں پر سب كے بارے ميں گفتگو كرنا ضروري نہيں ہے، بعض علماايسے بھي ہيں جو قابل اطمينان جواب نہيں دے سكے اس لئے انھيں معادِ جسماني سے متعلق آيات كي توجيہ و تاويل كرنا پڑي اور انھوں نے انسان كي شخصيت كو روح اور روحاني صفات ميں منحصر كرديا، حالانكہ انساني شخصيت صرف روح پر منحصر نہيں ہے اور نہ ہي معاد جسماني سے متعلق آيات ايسي ہيں كہ ان كي تاويل كي جاسكے، بلكہ جيسا كہ ہم پہلے بيان كرچكے ہيں كہ وہ كاملاً صريح آيات ہيں۔
بعض لوگ ايك ايسي معاد كے بھي قائل ہيں جو ظاہراً جسماني ہے ليكن معاد روحاني سے اس كا كوئي خاص فرق بھي نہيں ہے۔
ہم يہاں قرآن كي آيات كے ذريعہ ايك ايسا واضح راستہ اختيار كريں گے جو دورِ حاضر كے علوم كي نظر ميں بھي صحيح ہے البتہ اس كي وضاحت كے لئے چند پہلووٴں پر غور و فكر كرنے كي ضرورت ہے۔
۱۔ ہم جانتے ہيں كہ انساني بدن كے اجزا بچپن سے لے كر موت تك بارہا بدلتے رہتے ہيں يہاں تك كہ دماغ كے خليے اگرچہ تعداد كے لحاظ سے كم يا زيادہ نہيں ہوتے پھر بھي اجزا كے لحاظ سے بدلتے رہتے ہيں كيونكہ ايك طرف سے وہ غذا حاصل كرتے ہيں اور دوسري طرف ان كي تحليل ہوتي رہتي ہے اور وقت كے ساتھ ايك مكمل تبديلي واقع ہوجاتي ہے۔
خلاصہ يہ كہ دس سال سے كم عرصے ميں انساني بدن كے گزشتہ ذرات ميں سے كچھ باقي نہيں رہ جاتا، ليكن توجہ رہے كہ پہلے ذرات جب موت كي وادي كي طرف روانہ ہوتے ہيں تو اپنے تمام خواص اور آثار نئے اور تازہ خليوں كے سپرد كرجاتے ہيں، يہي وجہ ہے كہ انساني جسم كے تمام خصوصيات رنگ، شكل اور قيافہ سے لے كر ديگر جسماني كيفيات تك زمانہ گزرنے كے باوجود اپني جگہ قائم رہتي ہيں اور اس كي وجہ يہي ہے كہ پرانے صفات نئے خليوں ميں منتقل ہوجاتے ہيں(غور كيجئے)
اس بنا پر ہر انسان كے بدن كے آخري اجزا جو موت كے بعد خاك ميں تبديل ہوجاتے ہيں وہ سب ان صفات كے حامل ہوتے ہيں جو اس نے پوري عمر ميں كسب كئے ہيں اور يہ صفات انساني جسم كي تمام عمر كي سرگزشت كي بولتي ہوئي تاريخ ہوتي ہيں۔
۲۔يہ صحيح ہے كہ انساني شخصيت كي بنياد روح سے ہوتي ہے ليكن توجہ رہنا چاہئے كہ روح كي پرورش جسم كے ساتھ ہوتي ہے اور جسم كے ساتھ ہي روح تكامل و ارتقا كي منزل طے كرتي ہے اور دونوں ايك دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہيں، اسي لئے ايك جيسے دو جسم تمام جہات سے ايك دوسرے سے شباہت نہيں ركھتے، دو روحيں بھي تمام پہلووٴں سے ايك دوسرے سے مشابہ نہيں ہوتي ہيں۔
اسي بنا پر كوئي روح اس جسم كي مكمل اور وسيع مفاہمت اور كاركردگي كے بغير باقي نہيں رہ سكتي جس كے ساتھ اس نے پرورش پائي ہو اور تكامل و ارتقاء حاصل كيا ہو لہٰذا ضروري ہے كہ قيامت ميں وہي سابق جسم لوٹ آئے، تاكہ اس سے وابستہ ہوكر روح عالي ترين مرحلے ميں نئے سرے سے اپني فعاليت كا آغاز كرے اور اپنے انجام دئے ہوئے اعمال كے نتائج سے فيضياب ہو۔
۳۔ انساني بدن كا ہر روز اس كے تمام جسماني مشخصات كا حامل ہوتا ہے يعني اگر واقعاً ہم بدن كے ہر خليے كي پرورش كركے اُسے ايك مكمل انسان بناليں تو وہ انسان اس شخص كے تمام صفات كا حامل ہوگا جس كا جز ليا گيا تھا ۔ (يہ امر بھي قابل غور رہے)
پہلے دن انسان ايك خليے سے زيادہ نہ تھا پہلے نطفہ ،خليہ تھا، اسي ميں انسان كي تمام صفات موجود تھيں، تدريجاً وہ تقسيم ہوا اور دو خليے بن گئے پھر دو سے چار ہوئے اور رفتہ رفتہ انساني بدن كے تمام خليے وجود ميں آگئے اسي بنا پر انساني جسم كے تمام خليے پہلے خليے كي طرح ہيں اگر ان كي بھي پہلے خليے كي طرح پرورش ہو تو ہر ايك ہر لحاظ سے ايك پورا انسان ہوگا جو بعينہ پہلے خليے سے وجود ميں آنے والے انسان كي سي صفات كا حامل ہوگا۔
ان مذكو رہ تين مقدمات كو سامنے ركھتے ہوئے اب ہم اصل اعتراض كا جواب پيش كرتے ہيں:
قرآني آيات صا ف طور پركہتي ہيں كہ آخري ذرات جو موت كے وقت انساني بدن ميں ہوتے ہيں قيامت كے دن انسان انہي كے ساتھ اٹھايا جائے گا۔(2)
اس بنا پر اگر كسي دوسرے انسان نے كسي كا گوشت كھايا ہو تووہ اجزا اس كے بدن سے خارج ہوكر اصلي شخص كے بدن ميں پلٹ آئيں گے، اب يہاں پر يہ سوال رہ جاتا ہے كہ پھر دوسرے كا بدن تو ضرور ناقص رہ جائے گا ليكن حقيقت يہ ہے كہ وہ ناقص نہيں ہوگا، بلكہ چھوٹا ہوجائے گا كيونكہ اس كے اجزا بدن سارے جسم ميں پھيلے ہوئے ہيں اب جب وہ اس سے لے لئے جائيں گے تو اس كي نسبت دوسرا بدن مجموعي طور پر لاغر اور چھوٹا ہوجائے گا، مثال كے طور پرايك انسان كا وزن ساٹھ كلو ہے اس ميں سے چاليس كلو دوسرے كے بدن كا حصہ لے ليا گيا تو باقي بيس كلو كا چھوٹا سا بدن رہ جائے گا۔
ليكن سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ اس طرح كوئي مشكل تو پيدا نہيں ہوگي؟ جواب : يقينا كوئي مشكل پيش نہيں آئے گي كيونكہ يہ چھوٹا سا بدن بلا كمي و زيادتي دوسرے شخص كي تمام صفات كا حامل ہے، روز قيامت ايك چھوٹے بچے كي طرح اس كي پرورش ہوگي اور وہ بڑا ہوكر مكمل انسان كي شكل ميں محشور ہوگا، حشر و نشر كے موقع پر ايسي پرورش و تكامل اور ارتقاء ميں عقلي اور نقلي طور پر كوئي اعتراض نہيں ہے۔
يہ پرورش محشور ہوتے وقت فوري ہوگي يا تدريجي؟ يہ ہمارے لئے واضح نہيں ہے ليكن ہم اتنا جانتے ہيں كہ جو بھي صورت ہو اس سے كوئي اعتراض پيدا نہيں ہوسكتا، اور دونوں صورتوں ميں مسئلہ حل ہے۔
اس سوال كا جواب بھي واضح ہے كہ اصولي طور پر ايسا ہونا محال ہے كيونكہ مسئلہ آكل و ماكول كي بنياد يہ ہے كہ ايك بدن پہلے موجود ہو اور وہ دوسرے بدن سے كھائے اور يوں پرورش پائے، لہٰذا يہ ممكن ہي نہيں ہے كہ كسي بدن كے تمام اجزا دوسرے بدن سے تشكيل پائيں ، پہلے ايك بدن فرض كرنا ہوگا جو دوسرے بدن كو كھائے، اس طرح دوسرے بدن كا جز بنے گا نہ كل۔ (غور كيجئے )
ہمارے بيان سے واضح ہوجاتا ہے كہ ايسے بدن سے معادِ جسماني كے مسئلہ پر كوئي اعتراض پيدا نہيں ہوتا اور جن آيات ميں اس مفہوم كي صراحت كي گئي ہے ان كي كوئي توجيہ كرنے كي ضرورت نہيں ہے۔(3)
 

(1)سورہ بقرہ ، آيت ۲۶۰
(2) ان آيات كا مطالعہ كيجئے كہ جن ميں فرمايا گيا ہے كہ لوگ اپني قبروں سے زندہ اٹھيں گےاب يہاں پر ايك يہ سوال باقي رہ جاتا ہے كہ اگر كسي شخص كا سارا جسم دوسرے شخص كے اجزا سے تشكيل پايا ہو تو اس صورت ميں كيا ہوگا؟
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۲، صفحہ ۲۲۳
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك