سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:382

معاد؛ جسماني ہے يا روحاني؟

معادِ جسماني سے مراد يہ نہيں ہے كہ روز قيامت صرف جسم دوبارہ لوٹايا جائے گا، بلكہ مراد يہ ہے كہ روح اور جسم دونوں حاضر كئے جائيں گے، يا دوسرے الفاظ ميں يہ كہا جائے كہ روح كا پلٹنا تو مسلم ہے صرف جسم كے بارے ميں اختلاف اور بحث ہے۔
بعض گزشتہ فلاسفہ ”معاد روحاني“ پر عقيدہ ركھتے تھے ، اور جسم كو ايسي سواري مانتے تھے جو صرف اس دنيا ميں انسان كے ساتھ ہے، اور انسان مرنے كے بعد اس جسم سے بے نياز ہوجاتا ہے، جسم كو ترك كرديتا ہے اور ”عالم ارواح“ كي طرف كوچ كرجاتا ہے۔
ليكن عظيم علمائے اسلام كا عقيدہ يہ ہے كہ معاد؛ روحاني اور جسماني دونوں پہلووٴں كے ساتھ ہوگي، اگر چہ بعض حضرات اس دنيوي جسم كے قائل نہيں ہيں بلكہ كہتے ہيں كہ خداوندعالم ہماري روح كو ايك جسم عطا كرے گا، كيونكہ انسان كي حقيقت اس كي روح ہوتي ہے اور يہ عطا كردہ جسم اس كا جسم شمار كيا جائے گا!
جبكہ صاحبان تحقيق كا عقيدہ يہ ہے كہ يہي جسم جو خاك ميں مل كر ذرہ ذرہ ہوگيا، حكم خدا سے اس جسم كے تمام ذرات جمع ہوجائيں گے اور اس كو ايك نئي زندگي كا لباس پہنايا جائے گا، اور يہي وہ عقيدہ ہے جو قرآن مجيد كي آيات سے حاصل كيا گيا ہے۔
معاد جسماني پر قرآن مجيد ميں اس قدر شواہد موجود ہيں كہ يقيني طور پر كہا جاسكتا ہے: جو افراد صرف ”معاد روحاني“ كے قائل ہوئے ہيں انھوں نے قرآن مجيد كي اكثر آيات ميں ذرا بھي غور و فكر نہيں كيا ہے ورنہ معاد جسماني كے سلسلہ ميں قرآن مجيد ميں اتني زيادہ آيات موجود ہيں كہ شك و شبہ كي ذرا بھي گنجائش نہيں رہتي۔
سورہ يٰس كي آخري آيات اس حقيقت كو مكمل طور پر واضح كرديتي ہيں كيونكہ اس اعرابي شخص كو تعجب اسي بات پر تھا كہ ميرے ہاتھ ميں موجود اس گلي ہوئي ہڈي كو كون دوبارہ زندہ كرسكتا ہے؟ 
قرآن مجيد نے اس كے جواب ميں واضح طور يہ اعلان كيا: <قُلْ يُحْيِيہَا الَّذِي اٴَنشَاٴَہَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ >(1)
آپ كہہ ديجئے كہ جس نے پہلي مرتبہ پيدا كيا ہے وہي زندہ بھي كرے گا“۔
معاد كے سلسلہ ميں تمام مشركين كو اس بات پر تعجب تھا كہ جب ہم خاك ہوجائيں گے اور ہمارے ذرات بھي ادھر اُدھرخاك ميں پھيل جائيں گے تو پھر ہميں كس طرح دوبارہ زندہ كيا جاسكتا ہے؟!! جيسا كہ انھيں كي زباني قرآن مجيد نے نقل كيا ہے: < وَقَالُوا ءِ ا ذَا ضَلَلْنَا فِي الْاٴَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ>(2)
اور يہ كہتے ہيں كہ اگر ہم زمين ميں گم ہوگئے تو كيا نئي خلقت ميں پھر ظاہر كئے جائيں گے!!“۔
>يہ لوگ كہتے تھے: <اٴَيَعِدُكُمْ اٴَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَنَّكُمْ مُخْرَجُونَ>(3)
” كيا يہ تم سے اس بات كا وعدہ كرتا ہے كہ جب تم مرجاؤ گے اور خاك اور ہڈي ہوجاؤگے تو پھر دوبارہ نكالے جاؤگے“۔ 
كفار و مشركين روز قيامت كے سلسلہ ميں اس قدر تعجب كرتے تھے كہ اس مسئلہ كے قائل (پيغمبر اكرم (ص)) كو مجنون يا خدا پر بہتان باند ھنے والا سمجھتے تھے، جيسا كہ قرآن ميں انھيں لوگوں كي زباني نقل ہواہے: < وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا ہَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَي رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ>(4)”
ور جن لوگوں نے كفر اختيار كيا ان كا كہنا ہے كہ ہم تمہيں ايسے آدمي كا پتہ بتائيں جو يہ خبر ديتا ہے كہ جب تم مرنے كے بعد ٹكڑے ٹكڑے ہوجاؤ گے تو تمہيں نئے بھيس ميں لايا جائے گا“، اسي دليل كي وجہ سے ”معاد كے سلسلہ ميں قرآني دلائل“ اسي ”معاد جسماني“ پرزور ديتے ہيں، اس كے علاوہ قرآن مجيد نے بارہا اس بات كي ياد دہاني كرائي ہے كہ تم لوگ روز قيامت اپني قبروں سے نكلو گے، (سورہ يٰس، آيت نمبر ۵، سورہ قمر ، آيت نمبر ۷)”قبريں “ اسي معاد جسماني سے تعلق ركھتي ہيں۔
قرآن مجيد ميں جنت كے بہت سے معنوي اور مادي صفات بيان كئے گئے ہيں، جو سب اس بات كي طرف اشارہ كرتے ہيں كہ قيامت كے دن جسم كو بھي حاضر كيا جائے اور روح كو بھي، ورنہ نعمتوں كے ساتھ ساتھ حور و غلمان ، قصر و محل، بہشتي غذائيں اور مادي لذتيں كيا معني ركھتي ہيں؟! 
بہر حال يہ بات ممكن ہي نہيں ہے كہ كوئي قرآن مجيد كي منطق اور ثقافت سے تھوڑي بہت آشنائي ركھتا ہو اور معادِ جسماني كا انكار كرے، يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ قرآني نظريہ كے لحاظ سے معادِ جسماني كا انكار خود اصل معاد كے انكار كے برابر ہے! اس سلسلہ ميں قرآن و حديث ميں بيان شدہ دلائل كے علاوہ خود عقلي دلائل بھي موجود ہيں كہ اگر ان كو بيان كرنا چاہيں تو بحث طولاني ہوجائے گي، البتہ ہم يہاں پرمعاد جسماني كے سلسلہ ميں ہونے والے سوالات اور اعتراضات كو بيان كرتے ہيں جيسے ”شبہ آكل و ماكول “وغيرہ جن كو اسلامي محققين نے بيان كيا ہے۔(5)

(1) سورہ يٰس ، آيت ۷۹
(2)سورہٴ الم سجدہ ، آيت ۱۰
(3)سورہٴ موٴمنون ، آيت ۳۵
(4) سورہٴ سباء ، آيت ۷
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۴۸۷
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك