سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:396

قيامت كے عقلي دلائل كيا ہيں؟

قرآن مجيد ميں قيامت كے سلسلہ ميں سيكڑوں آيات بيان ہوئي ہيں، ان كے علاوہ قيامت كے بارے ميں بہت سے عقلي دلائل بھي موجود ہيں ہم ان ميں سے بعض كو خلاصہ كے طور پر بيان كرتے ہيں:
الف ۔ برہانِ حكمت: اگر قيامت كے بغير اس زندگي كا تصور كريں تو بے معني اور فضول دكھائي ديتي ہے، بالكل اسي طرح كہ شكم مادر ميں بچہ كو اس دنياوي زندگي كے بغير تصور كريں۔
اگر قانون خلقت يہ ہوتا كہ بچہ شكم مادر ميں پيدا ہوتے ہي مرجايا كرتا تو پھر تصور كريں كہ كسي ماں كاحاملہ ہونا كتنا بے مفہوم تھا؟ اسي طرح اگر قيامت كے بغير اس دنيا كا تصور كريں تو يہي پريشاني دكھائي دے گي۔
كيونكہ كيا ضرورت ہے كہ ہم كم و بيش ۷۰/ سال تك اس دنيا كي سختيوں كو برداشت كريں؟ اور ايك مدت تك بے تجربہ رہيں، ”و تا پختہ شود خامي ،عمر تمام است!“ يعني جب تك انسان تجربات حاصل كرتا ہے تو عمر تمام ہوجاتي ہے!
ايك مدت تك تحصيل علم و دانش كرتے رہيں ، اور جب معلومات كے لحاظ سے كسي مقام پر پہنچ جائيں تو موت ہماري طرف دوڑنے لگے۔
اس كے علاوہ ہم كس چيز كے لئے زندگي كريں؟ چند لقمہ كھانا كھانا، چند جوڑے لباس پہننا، سونا اور بيدار ہونا، دسيوں سال تك ہر روز يہي تھكادينے والے كام انجام دينا؟!
يہ عظيم الشان آسمان، وسيع و عريض زمين، اور ان ميں پائي جانے والي تمام چيزيں، يہ اساتيد، مربيّ، يہ بڑے بڑے كتب خانے اور ہماري اور دوسري موجودات كي خلقت ميں يہ باريك بيني، اورظرافتكيا واقعاً يہ سب كچھ كھانے پينے، پہننے اور مادي زندگي بسر كرنے كے لئے ہيں؟
اس سوال كي بنا پر معاد اور قيامت كا انكار كرنے والے اس زندگي كے ہيچ ہونے كا اقرار كرتے ہيں، اور ان ميں سے بعض لوگ اس بے معني زندگي سے نجات پانے كے لئے خود كشي كو اپنے لئے افتخار سمجھتے ہيں!
كيسے ممكن ہے كہ جو شخص خداوندعالم اور اس كي بے نہايت حكمت پر ايمان ركھتا ہوليكن اس دنيا كو عالم آخرت كے لئے مقدمہ شمار نہ كرے۔
قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < اٴَفَحَسِبْتُمْ اٴَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَاٴَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَتُرْجَعُونَ >(1)
”كيا تمہارا خيال يہ تھا كہ ہم نے تمہيں بےكار پيدا كيا ہے اور تم ہماري طرف پلٹا كر نہيں لائے جاؤ گے“۔
اس كا مطلب يہ ہوا كہ اگر عالم آخرت نہ ہو تو اس دنيا كا خلق كرنا فضول تھا۔
جي ہاں! يہ دنيوي زندگي اسي صورت ميں با معني اور حكمت خداوندي سے ہم آہنگ ہوتي ہے كہ جب اس دنيا كو عالم آخرت كي كھيتي قرار ديں ”الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ“،يا اس كوعالم ِآخرت كے لئے پل قرارديں” الدنياقنطرة“ يا اس عالم كے لئے يونيورسٹي اور تجارت خانہ تصور كريں ، جيسا كہ حضرت امير المومنين علي عليہ السلام اپنے عظيم كلام ميں فرماتے ہيں: 
 
”ياد ركھو كہ دنيا باور كرنے والے كے لئے سچائي كا گھر ہے، سمجھ دار كے لئے امن و عافيت كي منزل ہے، اور نصيحت حاصل كرنے والے كے لئے نصيحت كا مقام ہے، يہ دوستان خدا كے سجود كي منزل اور آسمان كے فرشتوں كا مصليٰ ہے، يہيںوحي الٰہي كا نزول ہوتا ہے اور يہيں اولياء خدا آخرت كا سودا كرتے ہيں، رحمت الٰہي حاصل كرليتے ہيں اور جنت كو فائدہ ميں لے ليتے ہيں“۔(2)
خلاصہ گفتگو يہ ہے كہ اس جہان كے حالات كا مطالعہ اور تحقيق كے بعديہ معلوم ہوجاتا ہے كہ اس كے بعد ايك دوسراجہان بھي موجود ہے: < وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاٴَةَ الْاٴُولَي فَلَوْلاَ تَذكَّرُونَ>(3) ”اور تم پہلي خلقت كو تو جانتے ہو تو پھر اس ميں غور كيوں نہيں كرتے ہو“۔
ب۔ برہانِ عدالت: اس كائنات اور قوانين خلقت ميں غور و فكر سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ اس كي تمام چيزيں حساب و كتاب سے ہيں(۔4)
خود ہمارے بدن ميں ايك ايسا عادلانہ نظام حاكم ہے كہ اگر ذرا بھي تبديلي يا نامناسب تغير پيدا ہوجائے تو بيماري يا موت كا سبب ہوجاتا ہے، ہمارے دل كي دھڑكنيں، خون كي رواني، آنكھوں كے پردے، ہمارے اعظائے بدن كے تمام خليے(Cells) اور اجزا اسي دقيق نظام كي طرح ہيں جس كي حكومت پورے جہان پرہے، ”وَبِالعَدْلِ قَامَتِ السَّمٰوَاتِ وَالاٴرْضِ“(5) ”عدل ہي كے ذريعہ زمين و آسمان باقي ہيں“،كيا انسان اس وسيع و عريض كائنات ميں ايك ناموزوں پيوند ہوسكتا ہے؟!
يہ بات صحيح ہے كہ خداوندعالم نے انسان كو آزادي ، ارادہ اور اختيار ديا ہے تاكہ اس كا امتحان لے سكے،اور جس كے زير سايہ وہ كمال كي منزلوں كو طے كرسكے، ليكن اگر انسان آزادي سے ناجائز فائدہ اٹھائے تو پھر كيا كيا جاسكتا ہے؟ اگر ظالم و ستم گر ، گمراہ اور گمراہ كرنے والے ان خداداد نعمتوں سے ناجائز فائدہ اٹھائيں تو خداوندعالم كي عدالت كا تقاضا كيا ہے؟
يہ ٹھيك ہے كہ بعض ظالم اور مجرم لوگو ں كو اس دنيا ميں سزا مل جاتي ہے اور وہ اپنے كيفر كردار تك پہنچ جاتے ہيں، ليكن مسلم طور پر ايسا نہيں ہے كہ تمام مجرموں كو پوري سزا مل جاتي ہو، يا تمام نيك اور پاك افراد كو اپنے اعمال كي جزا اسي دنيا ميں مل جاتي ہو، كيا ايسا ہوسكتا ہے كہ يہ دونوں گروہ ،عدالت خدا كي ميزان ميں برابر قرار پائيں؟ قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق ہرگز ايسا نہيں ہوسكتا، ارشاد ہوتا ہے:
< اٴَ فَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ # مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ >(6)
”كيا ہم اطاعت گزاروں كو مجرموں جيسا بناديں؟ تمہيں كيا ہوگيا ہے كيسا فيصلہ كررہے ہو“۔
نيز ارشاد ہوتا ہے: < اٴَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ >()(كيا ہم پرہيزگاروں كو بدكاروں كے برابر قرار دےديں؟)
بہر حال اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ خداوندعالم كے احكام كي اطاعت كرنے والوں كے لحاظ سے انسانوں ميں فرق ہے، جس طرح سے ”مكافات جہان“، ”محكمہ وجدان “، اور ”گناہوں كا عكس العمل“ نامي عدالتيں اس دنيا ميں عدالت برقرار كرنے كے لئے كافي نہيں ہيں ، لہٰذا يہ بات ماننا پڑے گي كہ عدالت الٰہي نافذ ہونے كے لئے خداوندعالم كي طرف سے ايك عام عدالت 
 
(ميزان) قائم ہو، جس ميں نيك اور برے لوگوں كے سوئي كي نوك كے برابر اعمال كا بھي حساب كتاب كيا جائے، ورنہ عدالت خداوندي پر حرف آتا ہے، اس بنا پر قبول كرنا چاہئے كہ اگر ہم خداوندعالم كي عدالت كو مانتے ہيں تو پھر روز قيامت پر بھي ايمان ركھيں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:<وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ بِالْقِسْطِ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ>(7) ”‘اور ہم قيامت كے دن انصاف كي ترازو قائم كريں گے۔“
نيز ارشاد ہوتا ہے:<وَقُضِيَ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لاَيُظْلَمُونَ >(8) ”ليكن ان كے درميان حساب كے ساتھ فيصلہ كرديا جائے گا اور ان پر كسي طرح كا ظلم نہ كيا جائے گا“۔
ج۔ برہانِ ہدف: مادہ پرستوں كے نظريہ كے برخلاف الٰہي تصورِ كائنات كے مطابق انسان كي خلقت ميں ايك ہدف اور مقصد كار فرما ہے جسے فلسفي اصطلاح ميں ”تكامل و ارتقا“ كہتے ہيں اور قرآن و حديث كي زبان ميں كبھي ”قربِ خداوندي “ اور كبھي ”عبادت و بندگي“ سے تعبير كيا جاتا ہے، جيسا كہ ارشاد خداوندمتعال ہے: <وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ>(9) ”اور ہم نے جنات اور انسان كو صرف اپني عبادت كے لئے پيدا كيا ہے“۔ اگر ان تمام كي انتہا ”موت“ ہو تو كيا يہ مقصد پورا ہوسكتا ہے؟! بے شك اس سوال كا جواب منفي ہے، تو پھر اس زندگي كے بعد دوسري زندگي ہونا چاہئے جہاں ”كمال“ كي منزليں طے ہوتي رہيں، اور اس كھيتي كي فصل كٹتي رہے، اور جيسا كہ ہم نے ايك موقع پر عرض كيا ہے كہ اس زندگي ميں بھي آخري مقصد تك پہنچنے كے لئے يہ تكاملي راستہ طے ہوتا رہے گا خلاصہ يہ كہ يہ مقصد قيامت پر ايمان كے بغير مكمل نہيں ہوسكتا، اور اگر اس دنيا كا تعلق عالم آخرت سے ختم ہوجائے تو سب چيزيں معمہ بن كر رہ جائيں گي اور ان سوالات كا كوئي جواب نہيں ديا جاسكے گا۔(10

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۷، صفحہ ۳۷۸
(2) سورہٴ موٴمنون ، آيت ۱۱۵
(3) نہج البلاغہ ،كلمات قصار كلمہ ۱۳۱
(4)سورہٴ واقعہ ، آيت ۶۲
(5) تفسير صافي ،سورہٴ رحمن كي ساتويں آيت كے ذيل ميں
(6)سورہٴ قلم ، آيت ۳۵و۳۶ 
(7)سورہٴ ص ، آيت ۲۸
(8)سورہٴ انبياء ، آيت ۴۷ 
(9)سورہٴ يونس ، آيت ۵۴
(10) سورہٴ ذاريات ، آيت ۵۶
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك