سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:329

فلسفہٴ انتظار كيا ہے؟

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف كے ظہور كا انتظار اسلامي تعليمات ميں كسي دوسرے دين سے نہيں آيا بلكہ قطعي ترين مباحث ميں سے ہے، جو خود پيغمبر اكرم (ص) كي زبان سے بيان ہوا ہے، اور تقريباً اسلام كے تمام فرقے اس سلسلہ ميں اتفاق نظر ركھتے ہيں، نيز اس سلسلہ ميں احاديث بھي متوا تر ہيں۔
اب ہم اس انتظار كے نتائج اور اسلامي معاشروں كي موجودہ حالت كے بارے ميں گفتگو كرتے ہيں كہ كيا اس طرح كے ظہور كا انتظار انسان كو اس منزل فكر تك لے جاتا ہے كہ وہ اپني حالت كو بھول جاتا ہے اور ہر طرح كے شرائط كو قبول كرنے كے لئے تيار ہوجاتا ہے؟ 
يا يہ كہ در اصل يہ عقيدہ انسان كو اپني اور معاشرہ كي اصلاح كي دعوت ديتا ہے؟
كيا يہ عقيدہ انسان كے اندر تحرك ايجاد كرتا ہے يا اس ميں انجماد پيدا كرديتا ہے۔اور كيا يہ عقيدہ اانسان كي ذمہ داري ميں مزيد اضافہ كرتا ہے يا ذمہ داريوں سے آزاد كرديتا ہے؟
كيا يہ عقيدہ انسان كو خواب غفلت كي دعوت ديتا ہے يا انسانيت كو بيدار كرتا ہے؟
ليكن ان سوالات كي تحقيق اور وضاحت سے پہلے اس نكتہ پر توجہ كرنا بہت ضروري ہے كہ اگر بلند ترين مفاہيم اور اصلاح كے بہترين قوانين كسي نااہل يا ناجائز فائدہ اٹھانے والے كے ہاتھوں ميں پہنچ جائے تو ممكن ہے كہ وہ ان سے غلط فائدہ اٹھائے يا ان كے بالكل برعكس مقاصد تك پہنچائے، جيسا كہ اس سلسلہ ميں ہميں بہت سے نمونے ملتے ہيں، ”انتظار“ كا مسئلہ بھي اسي طرح ہے جيسا كہ ہم بعد ميں بيان كريں گے۔
بہر حال اس طرح كي گفتگو ميں ہر طرح كي غلط فہمي سے بچنے كے لئے پاني كو اس كے سرچشمہ سے ليا جائے تاكہ نہروں اور راستوں كي گندگي اس ميں اثر نہ كر سكے، يعني ہميں ”انتظار“ كے مسئلہ ميں اصلي اسلامي كتابوں كا مطالعہ كرنا اور ”انتظار“ كے سلسلہ ميں بيان ہونے والي مختلف روايات كو غور و فكر سے پڑھنا چا ہئے تاكہ ان كے اصلي مقصد سے آگاہي حاصل ہو سكے ۔
محترم قارئين ! اب يہاں پر بيان ہونے والي چند روايات پر غور كيجئے:
۱۔ كسي شخص نے حضرت امام صادق عليہ السلام سے سوال كيا كہ آپ اس شخص كے بارے ميں كيا فرماتے ہيں كہ ائمہ عليہم السلام كي ولايت كا اقرار كرتا ہو اور ”حكومت حق“ كے ظہور كا انتظار كرتا ہو، اور اسي حال ميں اس دنيا سے چل بسے؟
امام عليہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا: ”ھُوَ بِمَنزلةِ مَن كَانَ مَعَ القَائِمِ فِي فِسطاطُہُ ثُمَّ سَكَتَ ھَنِيّئة ثُمَّ قَالَ ھُوَ كَمَنْ كَانَ مَعَ رَسُولِ الله!“(1)
”وہ اس شخص كي مانند ہے جو حضرت كے ساتھ ان كي ركاب ( محاذ) پر حاضر ہوا ہو، (اس كے بعد حضرت تھوڑي دير خاموش ر ہے) اور فرمايا: وہ اس شخص كي مانند ہے جس نے پيغمبر اكرم (ص) كي ركاب ميں جہاد كيا ہو“۔ بالكل يہي مضمون دوسري بہت سي روايات ميں بھي بيان ہوا ہے۔  
۲۔ بعض روايات ميں بيان ہوا ہے كہ ”بِمنزلةِ الضَّارِبِ بِسَيْفِہِ فِي سَبِيْلِ الله“يعني راہ خدا ميں تلوار چلانے والے كي مانند ہے۔
۳۔ بعض دوسري روايات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ”كَمَنْ قَارعَ مَعَ رسُولِ الله بِسَيْفہ“يعني اس شخص كي مانند ہے جس نے پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ دشمن كے سر پر تلوار چلائي ہو۔
۴۔ بعض روايات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ”بِمَنْزِلَةِ مَنْ كَانَ قَاعِداً تَحْتَ لَوَاءِ القَائِمِ“ يعني اس شخص كي مانند ہے جو حضرت قائم (عج) كے پرچم كے نيچے ہو۔
۵۔ اور دوسري روايات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ”بِمَنْزِلَةِ المُجَاھدِ بَين يَدي رَسُولِ الله‘ِ‘ يعني اس مجاہد جيسا ہے جس نے پيغمبر اكرم (ص) كے حضور ميں جہاد كيا ہو۔
۶۔ بعض ديگر رويات ميں بيان ہوا ہے كہ ”بِمَنْزِلَةِ مَن إسْتَشْہَدَ مَعَ رَسُولِ الله“ اس شخص كي مانند ہے جو پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ شہيد ہوا ہو۔
حضرت امام مہدي عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف كے انتظار كے سلسلہ ميں ان چھ روايات ميں يہ سات طرح كي شباہتيں اس حقيقت كو واضح كرتي ہيں كہ مسئلہ انتظار ايك طرف اور دوسري طرف دشمن ِ (اسلام) سے جہاد اور اس سے مقابلہ ميں ايك خاص رابطہ پايا جاتا ہے۔ (غور كيجئے )
۷۔ بہت سي روايات ميں اس طرح كي حكومت كے انتظار كے ثواب كو سب سے بڑي عبادت كے عنوان سے ياد كيا گيا ہے۔
پيغمبر اكرم (ص) اور حضرت علي عليہ السلام سے منقول بعض احاديث ميں يہ مضمون ملتا ہے ، درج ذيل حديث پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے كہ آنحضرت (ص) نے فرمايا:
”اٴَفْضلُ اٴعْمَالِ اُمَّتِي إنْتِظَارِ الفَرَجِ مِنَ الله عَزَّوَجَلَّ“ (2
”ميري امت كا سب سے بہترين عمل ”انتظار فرج“ (كشادگي)ہے“۔
پيغمبر اكرم (ص) سے ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے: ”اٴفضلُ العبادةِ إنتظار الفَرج“(3) يعني انتظار فرج بہترين عبادت ہے۔
اس حديث ميں انتظار فرج كے معني چا ہے عام اور وسيع ليں يا امام زمانہ عجل اللہ تعالي فرجہ الشريف كے ظہور كے انتظار كے معني ليں انتظار كے مسئلہ كي اہميت واضح اور روشن ہوجاتي ہے۔
يہ تمام الفاظ اس بات كي عكاسي كرتے ہيں كہ اس طرح كے انقلاب كا انتظار كرنا ہميشہ وسيع پيمانہ پر جہاد كاتصور لئے ہوئے ہے، ہم يہاں پہلے انتظار كا مفہوم اور پھر اس كے تمام نتائج پيش كريں گے۔
مفہوم انتظار
”انتظار “عام طور پر اس حالت كو كہا جاتا ہے كہ جس ميں انسان پريشان ہو اور اس سے بہتر حالت پيدا كرنے كي كوشش كرے۔
مثال كے طور پر ايك بيمار اپني شفاكا انتظار كرتا ہے، يا كوئي باپ اپنے بيٹے كي واپسي كا انتظار كرتا ہے، جس سے دونوں پريشان ہيں اور بہتر حالت كے لئے كوشش كرتے ہيں۔
اور جيسے كوئي تاجر بازار كي ناگفتہ بہ حالت سے پريشان ہو اور وہ اقتصادي بحران كے خاتمہ كا انتظار كرتا ہے ، لہٰذا اس ميں يہ دو حالتيں پائي جاتي ہيں:
۱۔ اپني موجودہ حالت سے پريشاني۔
۲۔ حالت بہتر بنانے كے لئے كوشش۔
اس بنا پر امام مہدي (عج) كي حكومت عدالت اور آنحضرت كے قيام كا انتظار دو عنصر سےاگر يہ دونوں پہلو اس كي روح ميں جڑ كي طرح ثابت ہوجائيں تو پھر اس كے اعمال ميں قابل توجہ تبديلي پيدا ہوجائے گي۔
اور انسان ظلم و ستم، فتنہ و فساد اور برائي كرنے والوں كي كسي بھي طرح كي اعانت اور ہم آہنگي سے پرہيز كرے گا ،اپنے نفس كي اصلاح كرے گاتاكہ جسمي اور روحاني، مادي اور معنوي لحاظ سے حضرت امام مہدي عليہ السلام كي حكومت كے لئے تيار ہوجائے۔
اگر ہم مزيد غور و فكر كريں تو معلوم ہوجائے گا كہ يہ دونوں چيزيں انسان كي اصلاح اور اس كي بيداري كے لئے بہت مفيد ہيں۔
(قارئين كرام!) اب اگر ”انتظار“ كے اصلي مفہوم كے پيش نظر مذكورہ روايات ديكھيں تو ان ميں بيان ہونے والا ثواب صاف سمجھ ميں آتا ہے، اور ہم سمجھ جاتے ہيں كہ ايك حقيقي انتظار كرنے والے كا مرتبہ اتنا كيوں بلند ہے جيسا كہ وہ خود حضرت امام زمانہ (عج) كے پرچم كے نيچے ہو يا جس نے راہ خدا ميں جہاد كيا ہو يا اپنے خون ميں نہايا يا شہيد ہوگيا ہو۔
كيا يہ سب راہ خدا ميں جہاد كے درجات كے مختلف مراحل نہيں ہيں جو انتظار كرنے والوں كے لحاظ سے پائے جاتے ہيں۔
يعني جس طرح سے راہ خدا ميں جہاد كرنے والوں ميں قرباني كا جذبہ مختلف ہوتا ہے اور ان ميں ادب و اخلاق نيز آمادگي ايك دوسرے سے مختلف ہوتي ہے ، اگرچہ يہ دونوں ”مقدمات“ اور ”نتيجہ“ كے لحاظ سے مشابہ ہو تے ہيں، كيونكہ دونوں جہاد ہيں اور دونوں ميں اصلاح نفس اور آمادگي كي ضرورت ہوتي ہے،لہٰذا ايسي عالمي حكومت كے فوجي كو بے خبر وغافل نہيں ہو نا چا ہئے ايسے لشكر ميںہر كس و نا كس شامل نہيں ہو سكتا؟
اسي طرح جو شخص اسلحہ لئے ہوئے ہے اور اس رہبرانقلاب كے دشمنوں سے جنگ كررہا ہے، اور صلح و عدالت كي حكومت كے دشمنوں سے مقابلہ كررہا ہے، تو اس كے لئے وسيع پيمانہ پر روحي ، فكري اور جنگي تياري كي ضرورت ہے۔
ظہور امام مہدي (عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف) كے انتظار كے واقعي اثر سے مزيد آگاہي كے لئے درج ذيل مطلب پر توجہ فرمائيں:
انتظار يعني مكمل آمادگي ميں اگر ظالم و ستمگر ہوں تو پھر كسي ايسي حكومت كا انتظار كرنا كيسے ممكن ہے جس كي تلوار ظالم و جابرلوگوں كے سر پر چمكے گي۔
ميں اگر گناہوں سے آلودہ اور ناپاك ہوں تو پھر كس طرح ممكن ہے كہ كسي ايسے انقلاب كا انتظار كروں جس كا پہلا شعلہ گناہوں سے آلودہ لوگوں كو جلاكر راكھ كردے گا۔
عظيم الشان جہاد كے لئے آما دہ فوج كے افراد ہميشہ اپني طاقت و قوت بڑھاتے رہتے ہيں، اور ان ميں انقلابي روح پھونكتے رہتے ہيں اور ہر طرح كے ضعف اور كمزوري كو دور كرتے رہتے ہيں۔
كيونكہ ”انتظار“ ہميشہ اسي لحاظ سے ہوتا ہے كہ جس چيز كا انسان انتظار كر رہاہے۔
ايك مسافر كے سفر سے واپسي كا انتظار۔
ايك بہت ہي عزيز دوست كے پلٹنے كا انتظار۔
پھلوں كے پكنے كي فصل كا انتظار يا فصل كاٹنے كے وقت كا انتظار ۔
ليكن ہر انتظار ميں ايك طرح كي آمادگي ضروري ہو تي ہے، ايك انتظار ميں مہمان نوازي كا سامان فراہم كيا جائے، دوسرے ميں بعض دوسرے وسائل جيسے لگّي اور درانتي كي ضرورت ہوتي ہے۔
اب آپ غور كيجئے كہ جو لوگ ايك عالمي عظيم الشان اصلاح كرنے والے كا انتظار كرتے ہيں، وہ لوگ در اصل ايك بہت بڑے انقلاب كا انتظار كرتے ہيں جو تاريخ بشريت كا سب سے بڑا انقلاب ہوگا۔
يہ انقلاب گزشتہ انقلابات كے برخلاف كوئي علاقائي انقلاب نہ ہوگا بلكہ ايك عام انقلاب ہوگا جس ميں انسانوں كے تمام پہلوؤںپر نظر ہوگي اور يہ انقلاب سياسي، ثقافتي، اقتصادي اور اخلاقي ہوگا۔
پہلا فلسفہ۔ اصلاح نفس  اس طرح كے انقلاب كے لئے ہر دوسري چيز سے پہلے مكمل طور پر آمادگي كي ضرورت ہوتي ہے تاكہ اس طرح كي اصلاحات كے بھاري بوجھ كو اپنے شانوں پر اٹھاسكے، اس چيز كے لئے سب سے پہلے علم وانديشہ ،روحاني فكر اور آمادگي كي سطح كو بلند كيا جاتا ہے تاكہ اس كے اہداف و مقاصد تك پہنچا جاسكے، تنگ نظري، كج فكري، حسد، بچكانا اختلافات، بيہودہ چيزيں اور عام طور پر ہر طرح كا نفاق اور اختلاف”سچے منتظرين“ كي شان ميں نہيں ہے۔
ايك اہم نكتہ يہ ہے كہ حقيقي طور پر انتظار كرنے والا شخص ايك تماشا ئي كا كردار ادا نہيں كرسكتا، بلكہ سچا منتظر وہ ہے جو ابھي سے انقلابيوں كي صف ميں آجائے۔
اس انقلاب كے نتائج پر ايمان ركھنا ہرگز اس كو مخالفوں كي صفوں ميں رہنے كي اجازت نہيں ديتا اور موافقين كي صف ميں آنے كے لئے ”نيك اعمال، پاك روح، شجاعت و بہادري اور علم و دانش“ كي ضرورت ہے۔
ميں اگر گنہگار اور فاسد ہوں تو پھر كس طرح اس حكومت كا انتظار كروں جس ميں نااہل اور گنہگاروں كا كوئي كردار نہ ہوگا، بلكہ ان كو قبول نہ كيا جائے گا اور ان كو سزا دي جائے گي۔
كيا يہ انتظار انسان كي فكر و روح اور جسم و جان سے آلودگي كو دور كرنے كے لئے كافي نہيں ہے؟! 
جو فوج آزادي بخش جہاد كا انتظار كررہي ہو اور بالكل تيار ہو، تو اس كے لئے ايسے اسلحہ كي ضرورت ہوتي ہے جو اس جہاد كے لئے مناسب اور كارگر ہو، اسي لحاظ سے مورچہ بنائے، اور لشكركے ساز و سامان ميں اضافہ كرے۔
لشكر كا حوصلہ بلند كرے اور ہر فوجي كے دل ميں مقابلہ كے شوق و رغبت كو بڑھائے ، اگر فوج ميں اس طرح كي آمادگي نہيں ہے تو وہ منتظر نہيں ہے اور اگر فوج آمادگي كا دعويٰ كرتي ہے تو جھوٹي ہے۔
ايك عالمي مصلح كے انتظار كے معني يہ ہيں كہ انسان معاشرہ كي اصلاح كے لئے مكمل طور پر فكري، اخلاقي اور مادي و معنوي لحاظ سے تيار رہے، اس وقت سوچيں كہ اس طرح كي يہ آمادگي اور تياري كس طرح انسان ساز اور اصلاح كناں ہوگي۔
پوري دنيا كي اصلاح كرنا اور ظلم و ستم كا خاتمہ كرنا كوئي مذاق كام نہيں ہے، يہ عظيم مقصد ايك آسان كام نہيں ہوسكتا، ايسے عظيم مقصد كے لئے اسي لحاظ سے تياري بھي ہوني چاہئے۔
ايسا انقلاب لانے كے لئے بہت ہي عظيم انسان، مصمم، بہت بہادر، غير معمولي طور پر طيب و طاہر، بلند فكر اور گہري نظركے ساتھ مكمل طور پر آمادگي ركھنے والا ہونا چاہئے۔
ايسے مقصد كے لئے اپني اصلاح كے لئے ضروري ہے كہ فكري، اخلاقي اور اجتماعي طور پر ايك بہترين منصوبہ بندي كي جائے ، اور حقيقي انتظار كا يہي مطلب ہے، كيا پھر بھي كوئي يہ كہہ سكتا ہے كہ ايسا انتظار اصلاح كرنے والا نہيں ہے؟!
دوسرا فلسفہ : معاشرہ كي اصلاح كے لئے كوشش كرنا
صحيح طور پر انتظار كرنے والے افراد كي ذمہ داري يہ نہيں ہے كہ صرف اپني اصلاح كرلي جا ئے، اور بس، بلكہ دوسروں كي حالت بھي ديكھني ہوگي، اپني اصلاح كے علاوہ دوسروں كي اصلاح كے لئے كوشش كرنا ہوگي،كيونكہ جس عظيم انقلاب كا انتظار كررہے ہيں وہ ايك انفرادي منصوبہ نہيں ہے بلكہ ايك ايسا منصوبہ ہے جس ميں تمام پہلووٴں سے انقلاب آنا ہے، جس كے لئے پورے معاشرہ كے لئے كام كرنا ہوگا، سب كي سعي و كوشش ميں ہم آہنگي ہو، اس انقلاب كے لئے كوشش اسي عظيم الشان پيمانہ پر ہو جس كا ہم انتظار كررہے ہيں۔
ايك مقابلہ كرنے والے لشكر ميں كوئي بھي ايك دوسرے سے غافل نہيں ہوسكتا، بلكہ ہر فو جي كي يہ ذمہ داري ہوتي ہے كہ وہ جہاں بھي كمي ديكھے تو فوراً اس كي اصلاح كرے ، جس جگہ سے نقصان كا احتمال پايا جاتا ہو اس كا سدّ باب كرے اور ہر طرح كے ضعف و ناتواني كو تقويت پہچائے، كيونكہ بہترين كاركردگي اور تمام لشكر ميں يكسو ئي اور ہم آہنگي كے بغير يہ عظيم منصوبہ عملي كرنا ممكن نہيں ہے۔
لہٰذا حقيقي منتظرين پر اپني اصلاح كے علاوہ دوسروں كي اصلاح كرنے كي بھي ذمہ داري عائدہوتي ہے۔
فلسفہ انتظار كا ايك دوسرا ثمرہ يہ ہے كہ انسان اپني اصلاح كے علاوہ دوسروں كي اصلاح كے لئے بھي كوشش كرے جس پر مذكورہ روايات ميں اس قدر ثواب كا وعدہ ديا گيا ہے۔
تيسرا فلسفہ: حقيقي منتظرين برے ماحول ميں رنگے نہيں جاتے 
حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف)كے انتظار كا ايك اہم فلسفہ يہ ہے كہ انسان ،گناہوں اور بُرے ماحول ميں گم نہ ہونے پائے، اور اپنے كو گناہوں اور آلودگيوں سے محفوظ ركھے۔
وضاحت: يعني جب ظلم و ستم اور گناہوں كا بازار گرم ہو، اكثر لوگ گناہوں اور برائيوں ميں پھنسے ہوئے ہوں، تو ايسے ماحول ميں نيك كردار افراد (بھي) فكري بحران كا شكار ہوجاتے ہيں ، اور ايسا اس لئے ہوتا ہے كہ وہ عوام الناس كي اصلاح سے مايوس ہوجاتے ہيں۔
كيونكہ كبھي كبھي ايسے افراد يہ سوچتے ہيں كہ اب تو كام ختم ہوچكا ہے اور اصلاح كا كوئي راستہ ہي باقي نہيں رہ گيا ہے، اور اپنے كو پاك و پاكيزہ ركھنے كا كوئي فائدہ ہي نہيں ہے، چنانچہ يہي نا اميدي اور مايوسي ان كو آہستہ آہستہ گناہوں اور برائيوں كي طرف كھينچتي ہے اور ان پر ماحول كا اثر ہونے لگتا ہے، وہ آلودہ اكثريت كے مقابلہ ميں صحيح و سالم اقليت كے عنوان سے اپنے كو محفوظ نہيں كرپاتے، اورماحول كے رنگ كو نہ اپنانے كو ايك ذلت و رسوائي سمجھتے ہيں!
ايسے موقع پر فقط ايك ہي چيز ان كے لئے ”اميد كي كرن“ ہوتي ہے اور پرہيزگاري كي دعوت ديتي ہے، نيز ان كو برے ماحول سے محفوظ رہنے كي دعوت ديتي ہے اور وہ آخري صورت ميں اصلاح كي اميد ہے ، صرف اسي صورت ميں انسان اپني اور معاشرہ كي اصلاح كے لئے سعي و كوشش سے ہاتھ نہيں روكتا۔
اگر ہم ديكھتے ہيں كہ اسلامي تعليمات ميں گناہوں كي بخشش سے مايوسي كو گناہ كبيرہ شمار كيا گيا ہے اور ممكن ہے كہ بعض لوگ تعجب كريں كہ كيوں رحمت خدا سے مايوسي كو اس قدر عظيم اور اہم شمار كيا گيا ہے، يہاں تك كہ بہت سے گناہوں سے بھي اہم قرار ديا گيا ہے تو در اصل اس كا فلسفہ يہي ہے كہ رحمت خدا سے مايوس گنہگار ہرگز اپني اصلاح كي فكر نہيں كرتا، يا كم از كم وہ اپنے گناہوں ميں مزيد اضافہ كرنے سے نہيںركتا، اس كي دليل يہ ہوتي ہے كہ اب تو پاني سر سے گزر گيا ہے چاہے ايك بالشت ہو يا سو بالشت؟! ميں تو بدنام زمانہ ہوگيا ہوں اب مجھے دنيا كا كوئي غم نہيں ہے!! سياہي سے زيادہ تو كوئي رنگ نہيں ہے، آخر كار جہنم ہے، جہنم تو ميں نے خريد ہي ليا ہے اب اور كسي چيز كا ڈر كيا ہے؟ وغيرہ وغيرہ ليكن جب اس كے لئے اميد كي كرن پھوٹتي ہے، رحمت پروردگار كي اميد، موجودہ حالت كے بدلنے كي اميد ، تو پھر اس كي زندگي ميں ايك نيا رخ آجاتا ہے ، اوريہ اميد اس كو گناہوں كے راستہ پر چلنے سے روك ديتي ہے اور اسے اپني اصلاح ، توبہ اور پاكيزگي كي دعوت ديتي ہے۔
اسي وجہ سےبرے لوگوں كے لئے ”اميد كي كرن“ كوايك تربيتي سبب شمار كيا جاتا ہے، اسي طرح نيك اور صالح افراد جو بُرے ماحول ميں پھنسے رہتے ہيں وہ بھي بغير اميد كے اپني اصلاح نہيں كرسكتے۔
خلاصہ يہ ہے كہ ايسے اصلاح كرنے والے كے ظہور كے انتظار كي بنا پر دنيا جتني زيادہ فاسد ہوتي جارہي ہے امام زمانہ كے ظہور كي اميد بھي زيادہ ہوتي جارہي ہے، اور انتظار كرنے والوں كے لئے موثر ہے، جو ماحول كي تيز آندھيوں كے مقابل محفوظ كرديتي ہے، يہ لوگ نہ صرف يہ كہ معاشرے ميں ظلم و فساد اور برے ماحول سے نا اميد نہيں ہوتے بلكہ جس طرح وعدہ وصال جب نزديك ہوجاتا ہے تو آتش عشق مزيد بھڑك جاتي ہے اسي طرح جب انسان اپنے مقاصد كو نزديك ديكھتا ہے تو اصلاح معاشرہ نيز ظلم و فساد سے مقابلہ كے لئے كوشش ميں مزيد عشق پيدا ہوجاتا ہے۔
(قارئين كرام!) ہماري گزشتہ بحث و گفتگو سے يہ نتيجہ حاصل ہوتا ہے كہ انتظار كا غلط اثر اسي صورت ميں ہوتا ہے جب اس كو مسخ كرديا جائے، يا اس ميں تحريف كردي جائے جيسا كہ بعض مخالفين نے اس ميں تحريف كي ہے اور موافقين نے اس كو مسخ كرديا ہے، ليكن اگر واقعي طور پر معاشرہ اور خود انسان ميں انتظارِ ظہور كا صحيح مفہوم پيدا ہوجائے تو يہ اصلاح، تربيت اور اميد كا بہترين سبب ہے۔
اس موضوع كے واضح كرنے كے لئے بہترين دليل درج ذيل آيہٴ شريفہ ہے ،ارشاد خداوندي ہے:
< وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُم فِي الْاٴَرْضِ>(4)
”اللہ نے تم ميں سے صاحبان ايمان و عمل صالح سے وعدہ كيا ہے كہ انھيں روئے زمين پر اسي طرح اپنا خليفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں كو بنايا ہے“۔  
اس آيہٴ شريفہ كے ذيل ميں معصومين عليہم السلام سے نقل ہوا ہے كہ اس سے مراد”ہُوَ القَائِمُ وَاٴصحابِہ“ ”قائم آل محمد اور آپ كے اصحاب وانصار ہيں“۔)
ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ ”نَزَلَتْ فِي المَہْدِيّ عليہ السّلام) يہ آيہٴ شريفہ حضرت امام مہدي عليہ السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے۔
اس آيت ميں حضرت امام مہدي (عج) اور آپ كے اصحاب ”الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ “ كے عنوان سے ياد كئے گئے ہيں، لہٰذا يہ عالمي انقلاب، مستحكم ايمان ( جس ميں كسي طرح كا ضعف اور كمزوري نہ پائي جاتي ہو، ) اور اعمال صالح (جس سے دنيا بھر كي اصلاح كا راستہ كھل جاتا ہو) كے بغير ممكن نہيں ہے، اور جو لوگ اس انقلاب كے انتظار ميں ہيں ان كو چاہئے كہ اپنے علم و ايمان كي سطح كو بھي بڑھائيں اور اپنے اعمال كي اصلاح كے لئے بھي كوشش كرتے رہيں۔صرف اسي طرح كے افراد اپنے كو اس حكومت كي بشارت دے سكتے ہيں ، نہ كہ ظلم و ستم كي مدد كرنے والے! اور نہ ہي وہ لوگ جو ايمان اور عمل صالح سے دور ہيں۔
اور نہ ہي وہ بزدل انسان جوايمان كي كمزوري كي وجہ سے اپنے سايہ سے بھي ڈرتے ہيں۔
اور نہ ہي سست ،كاہل اور ناكارہ انسان جو فقط ہاتھ پر ہاتھ ركھے معاشرہ ميں پھيلنے والے گناہ و فساد پر خاموشي اختيار كئے ہوئے ہيں، اور معاشرہ ميں موجودہ برائيوں كو ختم كرنے كے لئے ايك قدم بھي اٹھانے كے لئے تيار نہيں ہيں۔
اسلامي معاشرہ ميں حضرت امام مہدي (عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف) كے ظہور كے انتظار كا يہي فلسفہ ہے۔(5

(1) محاسن برقي ،بحار الانوار كے نقل كے مطابق طبع قديم ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۶
(2) كافي ميں بحار سے نقل كيا ہے ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۷9
(3) كافي ميں بحار سے نقل كيا ہے ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۶9 مركب ہے: عنصر ”نفي“ اور عنصر ”اثبات“ عنصر نفي يعني موجودہ حالت سے غمگين اور پريشان رہنا، اور عنصر اثبات يعني حالات بہتر ہونے كے لئے سعي و كوشش كرنا ۔
(4)سورہ نور ، آيت ۵۵
(5) بحار الانوار ،قديم ، جلد ۱۳،صفحہ ۱۴
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك