سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:352

امام حسن نے زہر آلود كوزہ سے پاني كيوں پي ليا اور امام رضا نے زہر آلود انگور كيوں تناول فرمايا؟

اس بات ميں كوئي شك نہيں ہے ائمہ معصومين عليہم السلام خداوندعالم كي طرف سے علم غيب جانتے ہيں۔
ليكن يہ علم كيسا ہے، اور اس كي وسعت اور حدود كہاں تك ہے، يہ مسئلہ بہت پيچيدہ مسائل ميں سے ہے جو اس طرح كي بحث و گفتگو ميں دكھائي ديتا ہے، اس سلسلہ ميں روايات بھي مختلف ہيں اور علماكے درميان بھي اختلاف پايا جاتا ہے، درج ذيل مسئلہ انھيں بنيادي اور قابل توجہ احتمالات ميں سے ہے:
ائمہ عليہم السلام تمام چيزوں كو”بالقوة“ جانتے ہيں نہ كہ ”بالفعل“ يعني غيب كي باتوں كو جاننے كے لئے جب بھي ارادہ كريں تو خداوندعالم ان پر الہام فرماديتا ہے، يا ان كے پاس ايسے قواعد اور اصول ہيں جن كے ذريعہ وہ ايك نيا باب كھول ليتے ہيں اور اسرار غيب سے آگاہ ہوجاتے ہيں، يا ان كے پيش نظر ايسي كتابيں ہيں كہ جب وہ ان پر نظر فرماتے ہيں تو اسرار غيب سے باخبر ہوجاتے ہيں، يا يہ كہ جب بھي خداوندعالم ارادہ فرمائے تو انھيں اسرارِ غيب سے باخبر كرديتا ہے، اور جب خداوندعالم اپنے ارادہ سے صرف نظر كرليتا ہے تو وقتي طور پر يہ علوم مخفي ہوجاتے ہيں۔
اس بات (پہلي صورت) پر شاہد وہ روايات ہيں جن ميں بيان ہوا ہے كہ ائمہ معصومين عليہم السلام جب كسي چيز كے سلسلہ ميں جاننا چاہتے تھے تو ان كو معلوم ہوجاتا تھا، شيخ كليني عليہ الرحمہ نے اس سلسلہ ميں مستقل طور پر ايك باب قائم كيا ہے جس كا عنوان ”اِن الائمة اذا شاوٴا يعلموا علموا“(1)ہے ”جب ائمہ جاننا چاہتے ہيں تو جان ليتے ہيں“۔
اس بيان سے انبياء اور ائمہ عليہم السلام كے سلسلہ ميں متعددمشكلوں كو بھي حل كيا جاسكتا ہے، جيسے يہ كہ امام حسن نے زہر آلود كوزہ سے پاني كيوں پي ليا اور امام رضا نے زہر آلود انگور كيوں تناول كرليا؟ كيوں فلاں نااہل شخص كو قضاوت يا گورنري كے لئے انتخاب كيا، يا جناب يعقوب عليہ السلام اس قدر كيوں پريشان ہوئے؟ جبكہ ان كے فرزند ارجمند (جناب يوسف عليہ السلام) بلند مقامات كو طے كررہے تھے، اور آخر كار فراق كي گھڑياں وصال ميں تبديل ہوگئيں، اور اسي طرح دوسرے سوالات حل ہوجاتے ہيں۔ ان تمام موارد ميں يہ بات كہي جاسكتي ہے كہ وہ جاننا چاہتے تو جان سكتے تھے، ليكن يہ حضرات خود اس بات كو جانتے تھے كہ خداوندعالم كي طرف سے امتحان يا دوسرے مقاصد كے تحت ان كو اس بات كي اجازت نہيں ہے كہ وہ آگاہي پيدا كريں۔
ايك مثال كے ذريعہ اس مسئلہ كو واضح كيا جاسكتا ہےكہ كوئي شخص كسي دوسرے كو ايك خط دے تاكہ فلاں شخص تك پہنچادے، جس ميں بہت سے افراد كا نام يا ان كا عہدہ لكھا ہوا ہے، تو يہاں بھي يہ كہا جاسكتا ہے كہ وہ خط كے مضمون سے آگاہ نہيں ہے، ليكن كبھي صاحب خط كي طرف سے خط پڑھنے كي اجازت ہوتي ہے اس صورت ميں وہ خط كے مضمون سے آگاہ ہوسكتا ہے اور كبھي كبھي خط كے كھولنے كي اجازت نہيں ہوتي تو اسے خط كا مضمون معلوم نہيں ہو تا۔(2)
 
(1) اصول كافي ، جلد اول، صفحہ ۲۵۸ ،(اس باب ميں تين روايتيں اسي مضمون كي نقل ہوئي ہيں)، مرحوم علامہ مجلسي ۺنے بھي مرآة العقول ، جلد ۳، صفحہ ۱۱۸، ميں ان احاديث كي طرف اشارہ كيا ہے 
(۲) تفسير پيام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۴۹
دن كي تصوير
ويڈيو بينك