سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:305

كيا دس سالہ بچہ كا اسلام قابل قبول ہے؟

يہ ايك مشہور و معروف سوال ہے جو قديم زمانہ سے بہا نہ باز لو گوں كے درميان ہوتا آرہا ہے اس كي وجہ بھي يہ ہے كہ ٹھيك ہے حضرت علي عليہ السلام نے سب سے پہلے اظہار اسلام كيا، ليكن اس دس سالہ اور نابالغ بچہ كا اسلام قابل قبول ہے يا نہيں؟ اور اگرآپ كے بلوغ كو معيار قرار ديں تو دوسرے بہت سے لوگ اس وقت اسلام يا مسلمان ہو چكے تھے ۔
يہاں ”مامون عباسي“ اور اس كے زمانہ كے ايك مشہور و معروف سني عالم دين ”اسحاق“ كي گفتگو كا بيان كرنا مناسب ہے، (اس واقعہ كو ”ابن عبدربّہ“ نے اپني كتاب ”عقد الفريد“ ميں تحرير كيا ہے) 
مامون نے اس سے كہا: پيغمبر اكرم (ص) كي رسالت ميں سب سے افضل كونسا عمل ہے؟
اسحاق نے كہا: خدا كي توحيد اور پيغمبر اكرم (ص) كي رسالت كي گواہي ميں اخلاص سے كام لينا۔
مامون نے كہا: كيا تم كسي ايسے شخص كو پہچانتے ہو جو حضرت علي عليہ السلام سے پہلے مسلمان ہوا ہو؟
اسحاق نے كہا: علي اس وقت اسلام لائے جب وہ كم سن اور نابالغ تھے، اور شرعي ذمہ دارياں بھي ان پر نافذ نہيں ہوئي تھيں۔
مامون نے كہا: حضرت علي عليہ السلام كا اسلام پيغمبر اكرم (ص) كي دعوت كي بنا پر تھا يا نہيں؟ اور پيغمبر اكرم (ص) نے ان كے اسلام كو قبول كيا يا نہيں؟ يہ كس طرح ممكن ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كسي ايسے شخص كو اسلام كي دعوت ديں جس كا اسلام قابل قبول نہ ہو!
يہ سن كر اسحاق لاجواب ہوگيا۔(1)
مرحوم علامہ اميني عليہ الرحمہ ”عقد الفريد“ سے واقعہ كو نقل كرنے كے بعد مزيد فرماتے ہيں: ابوجعفراسكافي معتزلي (متوفي ۲۴۰ئھ) اپنے رسالہ ميں لكھتے ہيں كہ سب مسلمان اس بات كو جانتے ہيں كہ حضرت علي عليہ السلام سب سے پہلے اسلام لانے والوں ميں سے تھے، پيغمبر اكرم (ص) پير كے روز مبعوث برسالت ہوئے اور حضرت علي عليہ السلام نے منگل كے روز اظہار اسلام فرمايا، اور آپ فرماتے تھے كہ ميں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز پڑھي ہے، اور ہميشہ فرماتے تھے كہ ”ميں اسلام لانے والوں ميں سب سے پہلا شخص ہوں“اور يہ ہر مشہور بات سے زيادہ مشہور ہے، ہم نے گزشتہ زمانہ ميں كسي كو نہيں ديكھا جو آپ كے اسلام كو كم اہميت قرار دے، يا يہ كہے كہ حضرت علي اس وقت اسلام لائے جب آپ كم سن تھے، عجيب بات تو يہ ہے كہ ”عباس“ اور ”حمزہ“ جيسے افراد اسلام قبول كرنے ميں ”جناب ابوطالب‘‘ كے عكس العمل كے منتظر تھے ، ليكن فرزند ابوطالب (حضرت علي عليہ السلام) نے اپنے پدر بزرگوار كے اسلام كا انتظار نہ كيا اور فوراً ہي اظہار ايمان كرديا۔(۲)
خلاصہٴ گفتگو يہ ہے : پہلي بات يہ ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) نے حضرت علي عليہ السلام كا اسلام قبول كيا ، لہٰذا اگر 
كوئي شخص اس كم سني ميں حضرت كے اسلام كو قبول نہ كرے تو گويا وہ پيغمبر اكرم (ص) پر اعتراض كرتا ہے۔
دوسري بات يہ ہے كہ دعوت ذوالعشيرہ كي مشہور و معروف روايات ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے كھانا تيار كرايا اورقريش ميں سے اپنے رشتہ داروں كي دعوت كي اور ان كو اسلام كا پيغام سنايا، فرمايا: جو شخص سب سے پہلے اسلام كے پيغام ميں ميري نصرت و مدد كرے گا وہ ميرا بھائي، وصي اور جانشين ہوگا، اس موقع پر حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام كے علاوہ كسي نے رسول اسلام كي دعوت پر لبيك نہيں كہي، آپ نے فرمايا: يا رسول اللہ ! ميں آپ كي نصرت و مدد كروں گا، اور آپ كے ہاتھوں پر بيعت كرتا ہوں، اس موقع پر پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: يا علي! تم ميرے بھائي، ميرے وصي اور ميرے جانشين ہو۔
كيا كوئي اس بات پر يقين كرسكتا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) ايك نابالغ شخص كو (جس كے لئے لوگ كہتے ہيں كہ ان كا اسلام قابل قبول نہيں ہے) اپنا بھائي ، وصي اور جانشين قرار ديں اور دوسروں كو ان كي اطاعت كي دعوت ديں ! يہاں تك كہ مشركين ِمكہ ابو طالب كا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے كہيں كہ تم اب اپنے بيٹے كي اطاعت كرنا بے شك، اسلام قبول كرنے كے لئے بالغ ہوناشرط نہيں ہے، ہر وہ نوجوان جو صاحب عقل وشعور ہواگراسلام كو قبول كرے اور بالفرض اس كا باپ بھي مسلمان نہ ہو تو وہ اپنے باپ سے جدا ہوكر مسلمانوں ميں شامل ہوجائے گا۔
تيسري بات يہ ہے كہ قرآن مجيد سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ حتي نبوت كے لئے بھي ”بلوغ“ كي شرط نہيں ہے اور بعض انبياء كو يہ مقام بچپن ميں ہي مل گيا تھا، جيسا كہ جناب يحيٰ عليہ السلام كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: < وَآتَيْنَاہُ الْحُكْمَ صَبِيًّا >(3)’اور ہم نے انھيں بچپنے ہي ميں نبوت عطا كردي’“۔
اور جناب عيسيٰ عليہ السلام كے واقعہ ميں بھي ملتا ہے كہ انھوں نے پيدائش كے بعد ہي واضح الفاظ ميں كہا: < قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ آتَانِي الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا>(4) ” (جناب) عيسيٰ نے آواز دي كہ ميں اللہ كا بندہ ہوں، اس نے مجھے كتاب دي ہے اور مجھے نبي بنايا ہے“۔
ان دليلوں ميں سب سے بہترين دليل يہي ہے كہ خود پيغمبر اسلام (ص) نے حضرت علي عليہ السلام كے اسلام كو قبول كيا اور دعوت ذوالعشيرہ ميں يہ اعلان كيا كہ علي عليہ السلام ميرے بھائي، ميرے وصي اور ميرے جانشين ہيں۔
بہر حال وہ روايت جس ميں بيان ہوا كہ حضرت علي عليہ السلام سب سے پہلے اسلام لانے والوں ميں ہيں، يہ حديث حضرت علي عليہ السلام كے لئے ايك ايسي عظيم فضيلت بيان كرتي ہے جس ميں كوئي دوسرا شريك نہيں ہے ، اسي دليل كي بنا پر حضرت علي عليہ السلام پيغمبر اكرم (ص) كي جانشيني كے لئے امت ميں سب سے زيادہ حقدار اور مناسب شخص ہيں۔(5)

(1) عقد الفريد ، جلد ۳، صفحہ ۴۳ (تلخيص كے ساتھ)
(۲) الغدير ، جلد ۳، صفحہ ۲۳۷
(3) سورہٴ مريم ، آيت ۱۲3
(4) سورہٴ مريم آيت۳۰
(5) تفسير پيام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۳۵۵
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك