سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:375

بيعت كي حقيقت كيا ہے؟ نيز انتخاب اور بيعت ميں كيا فرق ہے؟

”حقيقت بيعت“ بيعت كرنے والے اور جس كي بيعت كي جارہي ہے دونوں كي طرف سے ايك معاہدہ ہے، جس كے معني يہ ہيں كہ بيعت كرنے والا بيعت لينے والے كي اطاعت، پيروي ، حمايت اور دفاع كرے گا، اور اس ميں ذكرشدہ شرائط كے لحاظ سے بيعت كے مختلف درجے ہيں۔
قرآن كريم اور احاديث ِنبوي كے پيشِ نظر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ بيعت ، بيعت كرنے والے كي طرف سے ايك ”عقد لازم ہے اور اس كے مطابق عمل كرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا وہ قانونِ عام <اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ>(سورہ مائدہ پہلي آيت ) كے تحت قرار پاتا ہے، اس بنا پر بيعت كرنے والا اس كو فسخ نہيں كرسكتا، ليكن صاحب بيعت اگر مصلحت ديكھے تو اپني طرف سے بيعت اٹھا سكتا ہے اور اس كو فسخ كرسكتا ہے، اس صورت ميں بيعت كرنے والا اطاعت اور پيروي سے آزاد ہوجاتا ہے۔(1)
بعض لوگوں نے بيعت كو ”انتخاب“ (اور اليكشن) كے مشابہ قرار ديا ہے حالانكہ انتخابات كا مسئلہ اس كے بالكل برعكس ہے يعني انتخاب كے معني يہ ہيں كہ انتخاب ہونے والے شخص كو ايك ذمہ داري اور عہدہ ديا جاتا ہے يا دوسرے الفاظ ميں اس كو مختلف امور انجام دينے كے لئے وكيل بنايا جاتا ہے، اگرچہ انتخاب كرنے والے كي بھي كچھ ذمہ دارياں ہوتي ہيں (تمام وكالتوں كي طرح) جبكہ بيعت ميں ايسا نہيں ہے۔
يا يوں كہئے كہ انتخاب كسي كو عہدہ يا منصب دينے كا نام ہے، جيسا كہ ہم نے عرض كيا كہ وكيل بنانے كي طرح ہے، جبكہ بيعت ”اطاعت كا عہد“ كرنے كا نام ہے۔
اگرچہ يہ بھي ممكن ہے كہ يہ دونوں بعض چيزوں ميں ايك دوسرے كے مشابہ ہوں، ليكن اس مشابہت كا مطلب يہ نہيں ہے كہ يہ دونوں ايك ہيں، لہٰذا بيعت كرنے والا بيعت كو فسخ نہيں كرسكتا، حالانكہ انتخابات كے سلسلہ ميں ايسا ہوتا ہے كہ انتخاب كرنے والے اسے عہدہ سے معزول كرسكتے ہيں۔(2)
اب يہاں پر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا كسي نبي يا امام كي مشروعيت ميں بيعت كا كوئي كردار ہے يا نہيں؟ پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليہم السلام چونكہ خداوندعالم كي طرف سے منسوب ہوتے ہيں اور ان كو كسي بھي بيعت كي ضرورت نہيں ہوتي، يعني خداوندعالم كي طرف سے منصوب نبي يا امام معصوم عليہم السلام كي اطاعت خدا كي طرف سے واجب ہوتي ہے، چاہے كسي نے بيعت كي ہو يا بيعت نہ كي ہو۔
دوسرے الفاظ ميں: مقام نبوت اور امامت كا لازمہ ،اطاعت كا واجب ہوناہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
<يَااٴَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اٴَطِيعُوا اللهَ وَاٴَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِي الْاٴَمْرِ مِنْكُم>(3) ”اے ايمان والو! اللہ كي اطاعت كرو، رسول اور صاحبان امر كي اطاعت كروجو تمہيں ميں سے ہيں“۔
ليكن يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اگر اس طرح ہے تو پھر پيغمبر اكرم (ص) نے اپنے اصحاب يا نئے مسلمان ہونے والے افراد سے بيعت كيوںلي؟ جس كے دو نمونے تو خود قرآن مجيد ميں موجود ہيں، (بيعت رضوان ، جيسا كہ سورہ فتح ، آيت نمبر ۱۸ /ميں اشارہ ملتا ہے، اور اہل مكہ سے بيعت لي جيسا كہ سورہ ممتحنہ ميں اشارہ ہوا ہے)
اس سوال كے جواب ميں ہم يہ عرض كرتے ہيں كہ اس طرح كي بيعت ايك طرح سے وفاداري كے عہد و پيمان جيسي ہوتي ہے جو خاص مواقع پر انجام پاتي ہے، خصوصاً بعض سخت مقامات اور حوادث ميں اس سے فائدہ اٹھايا جاتا ہے، تاكہ اس كي وجہ سے مختلف لوگوں ميں ايك نئي روح پيدا ہوجائے۔
ليكن خلفاء كے سلسلہ ميں لي جا نے والي بيعت كا مطلب ان كي خلافت كا قبول كرنا ہوتا تھا، اگرچہ ہمارے عقيدہ كے مطابق خلافت رسول (ص) كوئي ايسا منصب نہيں ہے كہ جس كو بيعت كے ذريعہ حل كيا جاسكتا ہو، بلكہ خليفہ خداوندعالم كي طرف سے پيغمبر اكرم (ص) يا پہلے والے امام كے ذريعہ معين ہوتا ہے۔
اسي دليل كي بنا پر جن لوگوں نے حضرت علي عليہ السلام يا امام حسن عليہ السلام يا امام حسين عليہ السلام سے بيعت كي ہے وہ بھي وفاداري كے اعلان اور پيغمبر اكرم (ص) سے كي گئي بيعتوں كي طرح تھي۔
نہج البلاغہ كے بعض كلمات سے اچھي طرح يہ معلوم ہوتا ہے كہ بيعت صرف ايك بار ہوتي 
ہے، اس ميں تجديد نظر نہيں كي جاسكتي، جيسا كہ حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں:
”لِاٴَنّھا بيعةٌ وَاحِدةٌ، لا يُثنٰي فِيھَا النَّظر ولا يستاٴنفُ فِيھَا الخَيَار، الخَارجُ منھَا طَاعِن ،والمرويّ فِيھَا مَداھِن!“(4) 
” چونكہ يہ بيعت ايك مرتبہ ہوتي ہے جس كے بعد نہ كسي كو نظرِ ثاني كا حق ہوتا ہے اور نہ دوبارہ اختيار كرنے كا ، اس سے باہر نكل جانے والا اسلامي نظام پر معترض شمار كيا جاتا ہے اور اس ميں غور وفكركرنے والا منافق كہا جاتا ہے“۔
امام عليہ السلام كے كلام سے يہ استفادہ ہوتا ہے كہ امام عليہ السلام نے ان لوگوں كے مقابلہ ميں جو پيغمبر اكرم (ص) كي طرف سے منصوصخلافت كا عقيدہ نہيں ركھتے تھے اور بہانہ بازي كيا كرتے تھے ،بيعت كے مسئلہ سے ( جو خود ان كے نزديك مسلّم تھا) استدلال كيا ہے، تاكہ امام عليہ السلام كي نافرماني نہ كريں، اور معاويہ يا اس جيسے دوسرے لوگوں كو يہ بتانا چاہتے ہيں كہ جس طرح (بيعت كے ذريعہ) تم تينوں خلفا كي خلافت كے قائل ہو تو اسي طرح ميري خلافت كے بھي قائل رہو، اور ميرے سامنے تسليم ہوجاؤ،(بلكہ ميري خلافت تو ان سے زيادہ حق ركھتي ہے كيونكہ ميري بيعت وسيع پيمانے پر ہوئي ہے اور تمام ہي لوگوں كي رغبت و رضاسے ہوئي ہے۔)
اس بنا پر حضرت علي عليہ السلام كا بيعت كے ذريعہ استدلال كرنا خدا و رسول كي طرف سے منصوب ہونے كے منافي نہيں ہے۔
اسي وجہ سے امام علي عليہ السلام نہج البلاغہ ميں حديث ثقلين كي طرف اشارہ فرماتے ہيں(5)جو آپ كي امامت پر بہترين دليل ہے، اور دوسري جگہ وصيت اور وراثت كے مسئلہ كي طرف اشارہ فرماتے ہيں،(6) (غور كيجئے )
ضمناً ان روايات سے يہ بات اچھي طرح معلوم ہوجاتي ہے كہ اگر كسي سے زبردستي بيعت لي جائے يا لوگوں سے غفلت كي حالت ميں بيعت لي جائے تو اس كي كوئي اہميت نہيں ہوتي، بلكہ غور و فكر كے بعد اپنے اختيار و آزادي سے كي جانے والي بيعت كي اہميت ہوتي ہے، (غور كيجئے ) 
اس نكتہ پر توجہ كرنا ضروري ہے كہ ولي فقيہ كي نيابت ايك ايسا مقام ہے جو ائمہ معصوم عليہم السلام كي طرف سے معين ہوتا ہے، اس ميں كسي بھي طرح كي بيعت كي ضرورت نہيں ہوتي، البتہ ”ولي فقيہ“ كي اطاعت و پيروي سے استحكام آتا ہے تاكہ اس مقام سے استفادہ كرتے ہوئے ديني خدمات انجام دے سكے، ليكن اس كے يہ معني نہيں ہيں كہ يہ عہدہ لوگوں كي پيروي اور اطاعت كرنے پر موقوف ہے، اس كے علاوہ لوگوں كا پيروي كرنا بيعت كے مسئلہ سے الگ ہے بلكہ ولايت فقيہ كے سلسلہ ميں حكم الٰہي پر عمل كرنا ہے۔ (غور كيجئے ) (7)

(1) ہم واقعہ كربلا ميں پڑھتے ہيں كہ امام حسين عليہ السلام نے شب عاشور ايك خطبہ ديا اور اپنے اصحاب اور ناصروں كا شكريہ ادا كرتے ہوئے ان سے اپني بيعت كواٹھا ليا اور كہا :جہاں چاہو چلے جاوٴ(،ليكن اصحاب نے وفاداري كا ثبوت پيش كيا) امام عليہ السلام نے فرمايا: ”فانطلِقُوا في حل ليس عليكم منّي زمام(كامل ابن اثير ، جلد ۴، صفحہ 57) 
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۷۱
(3) سورہ نساء ، آيت ۵۹
(4) نہج البلاغہ ، مكتوب نمبر۷، صفحہ۴۸۹
(5) نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر۸۷
(6) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ۲
(7) تفسير نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۷۲
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك