سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:328

ولايت تكويني اور تشريعي سے كيا مراد ہے؟

ہم جانتے ہيں كہ ولايت كي دو قسميں ہيں:
۱۔ ولايت تكويني۔ 
۲۔ ولايت تشريعي۔
ولايت تشريعي سے مراد وہي اسلامي اور قانوني حاكميت اور سرپرستي ہے، جو كبھي محدود پيمانہ پر ہوتي ہے جيسے چھوٹے بچہ پر باپ اور داد كي ولايت، اور كبھي وسيع پيمانہ پر ہوتي ہے جيسے حكومت اور اسلامي ملك كے نظم و ضبط ميں حاكم شرعي كي ولايت ۔
ليكن تكويني ولايت سے مراد يہ ہے كہ كوئي شخص خدا كے حكم اور اس كي اجازت سے اس عالم خلقت اور اس كائنات ميں تصرف كرے، اور اس دنيا كے اسباب و وسائل كے برخلاف كوئي عجيب واقعہ كردكھائے، مثلاً لاعلاج بيمار كو خدا كے اذن سے اور اس كي عطا كردہ طاقت سے شفا ديدے، يا مردوں كو زندہ كردے، يا اسي طرح كے دوسرے امور كو انجام دے، نيز كائنات اور انسانوں پر غير معمولي معنوي تصرف كرے۔
”ولايت تكويني“ كي چار صورتيں ہوسكتي ہيں جن ميں سے بعض قابل قبول اور بعض نا قابل قبول ہيں:
۱۔ خلقت اور تخليقِ كائنات ميں ولايت :يعني خداوندعالم اپنے كسي بندہ يا فرشتہ كو اتني طاقت ديدے كہ دوسرے جہانوں كو پيدا كرے يا ان كو صفحہ ہستي سے مٹادے، تو يقينا يہ كوئي محال كام نہيں ہے، كيونكہ خداوندعالم ہر چيز پر قادر ہے،اور كسي كو بھي ايسي قدرت دے سكتا ہے، ليكن تمام قرآني آيات اس بات كي گواہي ديتي ہيں كہ نظام خلقت خداوندعالم كے ہاتھ ميں ہے، چاہے وہ زمين و آسمان كي خلقت ہو يا جن و انس ، فرشتوں كي خلقت ہويا نباتات وحيوانات، پہاڑ ہوں يا دريا ،سب كے سب خدا كي قدرت سے پيدا ہوئے ہيں،كوئي بندہ يا فرشتہ، خلقت ميں شريك نہيں ہے اسي وجہ سے تمام مقامات پر خلقت كي نسبت خدا كي طرف دي گئي ہے، اور كسي بھي جگہ يہ نسبت (وسيع پيمانہ پر) غير خدا كي طرف نہيں دي گئي ، اس بنا پر زمين و آسمان اور حيوان و انسان كا خالق صرف اور صرف خداہے۔
۲۔ ولايت تكويني”فيض پہنچانے ميںواسطہ“كے معني ميں، يعني خداوندعالم كي طرف سے اپنے بندوں يا دوسري مخلوقات تك پہنچنے والي امداد، رحمت ، بركت اور قدرت انھيں اولياء اللہ اور خاص بندوں كے ذريعہ حاصل ہو ئي ہے، جيسے شہر ميں پاني پہنچانے والا ايك ہي اصلي پائپ ہوتا ہے يہ اصلي پائپ كے مركز سے پاني ليتا ہے اور اس كو سب جگہ پہنچاديتا ہے، اس كو ”واسطہ در فيض“ سے تعبير كيا جاتا ہے۔
يہ معني بھي عقلي لحاظ سے محال نہيں ہيں، جس كي مثال خود عالمِ صغير يعني انسان كا جسم ہے كيونكہ صرف دل كي شہ رگ ہي كے ذريعہ تمام رگوں تك خون پہنچتا ہے، تو پھر عالمِ كبير (كائنات) ميں بھي اس طرح ہونے ميں كيا ممانعت ہے؟
ليكن اس كے اثبات كے لئے بے شك دليل و برہان كي ضرورت ہے اور اگر ثابت بھي ہوجائے تو بھي خداوندعالم كے اذن سے ہے۔
۳۔ ولايت تكويني ،معين حدود ميں: جيسے مردوں كو زندہ كرنا يا لاعلاج بيماروں كو شفا دينا وغيرہ ۔
قرآن مجيد ميں اس ولايت كے نمونے بعض انبياء عليہم السلام كے بارے ميں ملتے ہيں، اور اسلامي روايات بھي اس پرشاہد اور گواہ ہيں،اس لحاظ سے ولايت تكويني كي يہ قسم نہ صرف عقلي لحاظ سے ممكن ہے بلكہ بہت سے تاريخي شواہد بھي موجود ہيں۔
۴۔ ولايت بمعني دعا، يعني اپني حاجتوں كو خدا كي بارگاہ ميں پيش كرے اور اس سے طلب كرے كہ فلاں كام پورا ہوجائے، مثلاً پيغمبر اكرم (ص) يا امام معصوم دعا كريں اور خدا سے طلب كي ہوئي دعا قبول ہوجائے۔
ولايت كي اس قسم ميں بھي كوئي عقلي اور نقلي مشكل نہيں ہے، قرآني آيات، اور روايات ميں اس طرح كے بہت سے نمونے موجود ہيں، بلكہ شايد ايك لحاظ سے اس قسم پر ولايت تكويني كا اطلاق كرنا مشكل ہو كيونكہ دعا كا قبول كرنا خود خداوندعالم كا كام ہے ۔
بہت سي روايات ميں ”اسم اعظم“ كي طرف اشارہ ملتا ہے كہ انبياء اور ائمہ معصومين عليہم السلام يا بعض اولياء اللہ (انبياء اور ائمہ كے علاوہ) كے پاس اسم اعظم كا علم تھا جس كي بنا پر وہ عالم تكوين ميں تصرفات كرتے تھے۔اس بات سے صرف نظر كرتے ہوئے كہ اسم اعظم كيا ہے، اس طرح كي روايات بھي ولايت تكويني كي اسي قسم كي طرف اشارہ كرتي ہيں، اور مكمل طريقہ سے اس پر صادق آتي ہيں۔(1)

(1) اسلام ميں دو طرح كے معاملات ہوتے ہيں ايك ايسا معاملہ جس كو فسخ كيا جاسكتا ہے، اس كو ”عقد جائز“ كہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس كو فسخ نہيں كيا جاسكتا، اس كو ”عقد لازم“ كہا جاتا ہے (مترجم)
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك