سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:456

واقعہ غدير كيا ہے ؟

< يَااٴَيُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَيَہْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ >(1)
”اے پيغمبر ! آپ اس حكم كو پہنچاديں جو آپ كے پروردگار كي طرف سے نازل كيا گيا ہے، اور اگر يہ نہ كيا تو گويا اس كے پيغام كو نہيں پہنچايا اور خدا آپ كو لوگوں كے شر سے محفوظ ركھے گا“۔ 
اہل سنت كي متعدد كتابوں نيز تفسير و حديث اور تاريخ كي (تمام شيعہ مشہور كتابوں ميں) بيان ہوا ہے كہ مذكورہ آيت حضرت علي عليہ السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے۔
ان احاديث كو بہت سے اصحاب نے نقل كيا ہے، منجملہ: ”ابوسعيد خدري“، ”زيد بن ارقم“، ”جابر بن عبد اللہ انصاري“، ”ابن عباس“، ”براء بن عازب“، ”حذيفہ“، ”ابوہريرہ“، ”ابن مسعود“اور ”عامر بن ليلي“، اور ان تمام روايات ميں بيان ہوا كہ يہ آيت واقعہ غدير سے متعلق ہے اور حضرت علي عليہ السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ ان ميں سے بعض روايات متعدد طريقوں سے نقل ہوئي ہيں، منجملہ:
حديث ابوسعيد خدري ۱۱/طريقوں سے۔
حديث ابن عباس بھي ۱۱/ طريقوں سے۔
اور حديث براء بن عازب تين طريقوں سے نقل ہوئي ہے۔
جن افراد نے ان احاديث كو (مختصر يا تفصيلي طور پر ) اپني اپني كتابوں ميں نقل كيا ہے ان كے اسما درج ذيل ہيں:
حافظ ابو نعيم اصفہاني نے اپني كتاب ”ما نُزِّل من القرآن في عليّ“ ميں (الخصائص سے نقل كيا ہے، صفحہ۲۹)
ابو الحسن واحدي نيشاپوري ”اسباب النزول“ صفحہ۱۵۰۔
ابن عساكر شافعي ( الدر المنثور سے نقل كيا ہے، جلد دوم، صفحہ۲۹۸)
فخر الدين رازي نے اپني ”تفسير كبير“ ، جلد ۳، صفحہ ۶۳۶ ۔
ابو اسحاق حمويني نے ”فرائد السمطين“ (خطي)
ابن صباغ مالكي نے ”فصول المہمہ“ صفحہ ۲۷ ۔
جلال الدين سيوطي نے اپني تفسير الدر المنثور ، جلد ۲، صفحہ ۲۹۸ ۔
قاضي شوكاني نے ”فتح القدير“ ، جلد سوم صفحہ ۵۷ ۔
شہاب الدين آلوسي شافعي نے ”روح المعاني“ ، جلد ۶، صفحہ ۱۷۲ ۔
شيخ سليمان قندوزي حنفي نے اپني كتاب ”ينابيع المودة“ صفحہ ۱۲۰ ۔
بد ر الدين حنفي نے ”عمدة القاري في شرح صحيح البخاري“ ، جلد ۸، صفحہ ۵۸۴ ۔
شيخ محمد عبدہ مصري ”تفسير المنار“ ، جلد ۶، صفحہ ۴۶۳۔
حافظ بن مردويہ (متوفي ۴۱۸ئھ) (الدر المنثور سيوطي سے نقل كيا ہے) اور ان كے علاوہ بہت سے ديگرعلمانے اس حديث كو بيان كيا ہے ۔
البتہ اس بات كو نہيں بھولنا چاہئے كہ بہت سے مذكورہ علمانے حالانكہ شان نزول كي روايت كو نقل كيا ہے ليكن بعض وجوہات كي بنا پر (جيسا كہ بعد ميں اشارہ ہوگا) سرسري طور سے گزر گئے ہيں يا ان پر تنقيد كي ہے، ہم ان كے بارے ميں آئندہ بحث ميں مكمل طور پر تحقيق و تنقيدكريں گے۔(انشاء اللہ )
واقعہٴ غدير 
مذكورہ بحث سے يہ بات اجمالاً معلوم ہوجاتي ہے كہ يہ آيہٴ شريفہ بے شمار شواہد كي بنا پر امام علي عليہ السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے، اور اس سلسلہ ميں (شيعہ كتابوں كے علاوہ) خود اہل سنت كي مشہور كتابوں ميں وارد ہونے والي روايات اتني زيادہ ہيں كہ كوئي بھي اس كا انكار نہيں كرسكتا۔
ان مذكورہ روايات كے علاوہ بھي متعددروايات ہيں جن ميں وضاحت كے ساتھ بيان ہوا ہے كہ يہ آيت غدير خم ميں اس وقت نازل ہوئي كہ جب پيغمبر اكرم (ص) نے خطبہ ديا اور حضرت علي عليہ السلام كو اپنا وصي و خليفہ بنايا، ان كي تعداد گزشتہ روايات كي تعداد سے كہيں زيادہ ہے، يہاں تك محقق بزرگوار علامہ اميني ۺ نے كتابِ ”الغدير“ ميں ۱۱۰/ اصحاب پيغمبر سے زندہ اسناد اور مدارك كے ساتھ نقل كيا ہے، اسي طرح ۸۴/ تابعين اور مشہور و معروف۳۶۰/ علماو دانشوروں سے اس حديث كو نقل كيا ہے۔
اگر كوئي خالي الذہن انسان ان اسناد و مدارك پر ايك نظر ڈالے تو اس كو يقين ہوجائے گا كہ حديث غدير يقينا متواتر احاديث ميں سے ہے بلكہ متواتر احاديث كا بہترين مصداق ہے، اور حقيقت يہ ہے كہ اگر كوئي شخص ان احاديث كے تواتر ميں شك كرے تو پھر اس كي نظر ميں كوئي بھي حديث متواتر نہيں ہوسكتي۔
ہم يہاں اس حديث كے بارے ميں بحث مفصل طور پر بحث نہيں كرسكتے ، حديث كي سند اور آيت كي شان نزول كے سلسلہ ميں اسي مقدار پر اكتفاء كرتے ہيں، اور اب حديث كے معني كي بحث كرتے ہيں، جو حضرات حديث غدير كي سند كے سلسلہ ميں مزيد مطالعہ كرنا چاہتے ہيںوہ درج ذيل كتابوں ميں رجوع كرسكتے ہيں:
۱۔ عظيم الشان كتاب الغدير جلد اول تاليف ،علامہ اميني عليہ الرحمہ۔
۲۔ احقاق الحق، تاليف ،علامہ بزرگوار قاضي نور اللہ شوستري، مفصل شرح كے ساتھ آيت اللہ نجفي، دوسري جلد ، تيسري جلد، چودھويں جلد، اور بيسوي جلد۔
۳۔ المراجعات ،تا ليف ،مرحوم سيد شرف الدين عاملي۔
۴۔ عبقات الانوار ، تاليف عالم بزرگوار مير سيد حامد حسين ہندي (لكھنوي) ۔
۵۔ دلائل الصدق ، جلد دوم، تاليف ،عالم بزرگوار مرحوم مظفر۔
حديث غدير كا مضمون
ہم يہاں تمام روايات كے پيش نظر واقعہ غدير كا خلاصہ بيان كرتے ہيں، (البتہ يہ عرض كرديا جائے كہ بعض روايات ميں يہ واقعہ تفصيلي اور بعض ميں مختصر طور پر بيان ہوا ہے، بعض ميں واقعہ كے ايك پہلو اور بعض ميں كسي دوسرے پہلو كي طرف اشارہ ہوا ہے، چنا نچہ ان تمام روايات كا خلاصہ يہ ہے:)
پيغمبر اكرم (ص) كي زندگي كا آخري سال تھا”حجة الوداع “كے مراسم جس قدر باوقار اور باعظمت ہو سكتے تھے وہ پيغمبر اكرم كي ہمراہي ميں اختتام پذير ہوئے، سب كے دل روحانيت سے سرشار تھے ابھي ان كي روح اس عظيم عبادت كي معنوي لذت كا ذائقہ محسوس كررہي تھي ۔ اصحاب پيغمبر كي كثير تعداد آنحضرت (ص) كے سا تھ اعمال حج انجام دينے كي عظيم سعادت پر بہت زيادہ خوش نظر آرہے تھے ۔(1)
(1) پيغمبر كے ساتھيوں كي تعداد بعض كے نزديك ۹۰ہزار اور بعض كے نزديك ايك لاكھ بارہ ہزار اور بعض كے نزديك ايك لاكھ بيس ہزار اور بعض كے نزديك ايك لاكھ چوبيس ہزار ہے
نہ صرف مدينہ كے لوگ اس سفر ميں پيغمبر كے ساتھ تھے بلكہ جزيرہ نمائے عرب كے ديگر مختلف حصوں كے مسلمان بھي يہ عظيم تاريخي اعزازوافتخار حاصل كرنے كے لئے آپ كے ہمراہ تھے۔
سرزمين حجاز كا سورج دروديوار اور پہاڑوںپر آگ برسارہا تھا ليكن اس سفركي بے نظير روحاني حلاوت نے تمام تكليفوں كو آسان بنارہا تھا۔ زوال كا وقت نزديك تھا، آہستہ آہستہ ”جحفہ“ كي سرزمين او راس كے بعد خشك اور جلانے والے”غديرخم“ كا بيابان نظر آنے لگا۔
در اصل يہاں ايك چوراہا ہے جو حجاز كے لوگوں كوايك دوسرے سے جدا كرتا ہے، شمالي راستہ مدينہ كي طرف دوسرا مشرقي راستہ عراق كي طرف،تيسرا مغربي ممالك او رمصر كي طرف اور چوتھا جنوبي راستہ سرزمين يمن كو جاتا ہے يہي وہ مقام ہے جہاں اخري او راس عظيم سفر كااہم ترين مقصدانجام دياجا نا تھا اور پيغمبر مسلمانوں كے سامنے اپني آخري اور اہم ذمہ داري كي بنا پر آخري حكم پہچا نا چا ہتے تھے ۔
جمعرات كا دن تھا اورہجرت كا دسواں سال، آٹھ دن عيد قربان كو گزرے تھے كہ اچانك پيغمبر كي طرف سے سب كو ٹھہر نے كا حكم ديا گيا، مسلمانوں نے بلندآواز سے قافلہ سے آگے چلے جانے والے لو گوں كوواپس بلايااوراتني دير تك ركے رہے كہ پيچھے آنے والے لوگ بھي پہنچ گئے۔ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گيا تو پيغمبر كے موٴذن نے ”اللہ اكبر “كي صداكے ساتھ لوگوں كونماز ظہر پڑھنے كي دعوت دي، مسلمان جلدي جلدي نماز پڑھنے كے لئے تيار ہوگئے، ليكن فضا اتني گرم تھي كہ بعض لوگ اپني عبا كا كچھ حصہ پاؤں كے نيچے اور باقي حصہ سر پر ركھنے كے لئے مجبور تھے ورنہ بيابان كي گرم ريت اور سورج كي شعاعيں ان كے سر اور پاؤں كو تكليف دے رہي تھيں۔
اس صحرا ميں كوئي سايہ نظر نہيں آتا تھا اور نہ ہي كوئي سبزہ ياگھاس صرف چند خشك جنگلي درخت تھے جو گرمي كا سختي كے ساتھ مقابلہ كر رہے تھے كچھ لوگ انہي چند درختوں كا سہارا لئے ہوئے تھے، انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ايك كپڑاڈال ركھا تھا اور پيغمبر كے لئے ايك سائبان بنا ركھا تھا ليكن سورج كي جلا دينے والي گرم ہوا اس سائبان كے نيچے سے گزر رہي تھي ،بہرحال ظہر كي نمازادا كي گئي۔
مسلمان نماز كے بعد فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خيموں ميں جاكر پناہ لينے كي فكر ميں تھے ليكن رسول اللہ نے انہيں آگاہ كيا كہ وہ سب كے سب خداوندتعاليٰ كا ايك نيا پيغام سننے كے لئے تيار ہوجائيں جسے ايك مفصل خطبہ كے ساتھ بيان كيا جائے گا۔
جو لوگ رسول اللہ (ص) سے دور تھے وہ اس عظيم اجتماع ميں پيغمبر كا ملكوتي اور نوراني چہرہ ديكھ نہيں پارہے تھے لہٰذا اونٹوں كے پالانوں كا منبر بنايا گيا،پيغمبر اس پر تشريف لے گئے،پہلے پروردگار عالم كي حمد وثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے يوں خطاب فرمايا:ميں عنقريب خداوندمتعال كي دعوت پر لبيك كہتے ہوئے تمہارے درميان سے جا نے والاہوں ،ميں بھي جوابدہ ہوں اورتم لو گ بھي جوابدہ ہو ،تم ميرے بارے ميں كيا كہتے ہو ؟سب لو گوں نے بلند آواز ميں كہا :
”نَشھَد اٴنّكَ قَد بَلَغْتَ وَ نَصَحْتَ وَ جَاھَدتَّ فَجَزَاكَ اللّٰہُ خَيْراً“
”ہم گواہي ديتے ہيں كہ آپ نے فريضہٴ رسالت انجام ديا اورخير خواہي كي ذمہ داري كو انجام ديا اور ہماري ہدايت كي راہ ميں سعي و كوشش كي،خدا آپكوجزا ئے خير دے“۔
اس كے بعد آپ نے فرمايا : كيا تم لوگ خدا كي وحدانيت،ميري رسالت اور روز قيامت كي حقانيت اوراس دن مردوں كے قبروں سے مبعوث ہونے كي گواہي نہيں ديتے؟
سب نے كہا:كيوں نہيں ہم سب گواہي ديتے ہيں۔
آپ نے فرمايا: خدايا!گواہ رہنا۔ 
آپ نے مزيد فرمايا:اے لوگو ! كيا تم ميري آواز سن رہے ہو؟
انہوں نے كہا: جي ہاں۔
اس كے بعد سارے بيابان پر سكوت كا عالم طاري ہوگيا، سوائے ہوا كي سنسناہٹ كے كوئي چيز سنائي نہيں ديتي تھي ، پيغمبر نے فرمايا:ديكھو! ميں تمہارے درميان دو گرانقدر چيزيں بطور يادگار چھوڑے جارہا ہوں تم ان كے ساتھ كيا سلوك كروگے؟
حاضرين ميں سے ايك شخص نے پكار كر كہا:يا رسول اللہ (ص) وہ دو گرا نقدر چيزيں كونسي ہيں؟
تو پيغمبراكرم نے فرمايا: پہلي چيز تو اللہ تعاليٰ كي كتاب ہے جو ثقل اكبر ہے، اس كا ايك سرا پروردگار عالم كے ہاتھ ميں ہے اور دوسرا سراتمہارے ہاتھ ميں ہے،اس سے ہاتھ نہ ہٹانا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤگے، دوسري گرانقدر يادگار ميرے اہل بيت ٪ ہيں اور مجھے خدائے لطيف وخبير نے خبردي ہے كہ يہ دونوں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوں گے يہاں تك كہ بہشت ميں مجھ سے آمليں گے۔
ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز كرنے) كي كوشش نہ كرنا اور نہ ہي ان سے پيچھے رہنا كہ اس صورت ميں بھي تم ہلاك ہو جاؤگے۔
اچانك لوگوں نے ديكھا كہ ر سول اللہ اپنے ارد گرد نگاہيں دوڑارہے ہيں گويا كسي كو تلاش كررہے ہيں جو نہي آپ كي نظر حضرت علي عليہ السلام پر پڑي فوراً ان كا ہاتھ پكڑليا اور انہيں اتنا بلند كيا كہ دونوں كي بغلوں كي سفيدي نظر آنے لگي اور سب لوگوں نے انہيں ديكھ كر پہچان لياكہ يہ تو اسلام كا وہي سپہ سالار ہے كہ جس نے كبھي شكست كا منہ نہيں ديكھا۔
اس موقع پر پيغمبر كي آواز زيادہ نماياں اوربلند ہوگئي اور آپ نے ارشاد فرمايا:
”اٴيُّھا النَّاس مَنْ اٴوليٰ النَّاسِ بِالمَوٴمِنِيْنَ مِنْ اٴَنْفُسِھم“
اے لوگو! بتاؤ وہ كون ہے جو تمام لوگوں كي نسبت مومنين پر خود ان سے زيادہ اولويت ركھتا ہے ؟ اس پر سب حاضرين نے بہ يك آواز جواب ديا كہ خدا اور اس كا پيغمبر بہتر جانتے ہيں۔
تو پيغمبر نے فرمايا: خدا ميرا مولا اوررہبر ہے اور ميں مومنين كا مولااوررہبر ہوں اورميں ان كي نسبت خود ان سے زيادہ حق ركھتا ہوں(اور ميرا ارادہ ان كے ارادے پرمقدم ہے)۔ 
اس كے بعد فرمايا:
”فَمَن كُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ“۔
”يعني جس كا ميں مولاہوں علي بھي اس كے مولا اوررہبر ہيں“۔
پيغمبر اكرم نے اس جملے كي تين مرتبہ تكرار كي، او ربعض راويوں كے قول كے مطابق پيغمبر نے يہ جملہ چار مرتبہ دہرايا اور اس كے بعد آسمان كي طرف سر بلند كر كے بارگاہ خداوندي ميں عرض كي:
”اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالاٰہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ وَاٴحب مَنْ اٴحبہُ وَ ابغِضْ مَنْ اٴبغَضہُ وَ انْصُرْمَنْ نَصَرُہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ، وَاٴدرِالحَقّ مَعَہُ حَيْثُ دَارَ“
يعني بار الٰہا! جو اس كو دوست ركھے تو اس كو دوست ركھ او رجو اس سے دشمني ركھے تو اس سے دشمني ركھ، جو اس سے محبت كرے تو اس سے محبت كر اور جو اس سے بغض ركھے تو اس سے بغض ركھ، جو اس كي مدد كرے تو اس كي مددكر ، جو اس كي مدد سے كنارہ كشي كرے تو اسے اپني مددسے محروم ركھ اور حق كو ادھرموڑدے جدھر وہ رخ كرے۔
اس كے بعد فرمايا: 
”اٴلَا فَلْيُبَلِّغ الشَّاہدُ الغائبُ“
” تمام حاضرين آگاہ ہوجائيں كہ يہ سب كي ذمہ داري ہے كہ وہ اس بات كوان لوگوں تك پہنچائيں جو يہاں پر اس وقت موجود نہيں ہيں “۔
پيغمبر كا خطبہ ختم ہوگيا پيغمبر پسينے ميں شرابور تھے حضرت علي عليہ السلام بھي پسينہ ميں غرق تھے، دوسرے تمام حاضرين كے بھي سر سے پاؤں تك پسينہ بہہ رہا تھا۔
ابھي اس جمعيت كي صفيں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوئي تھيں كہ جبرئيل امين وحي لے كر نازل ہوئے اور پيغمبر كو ان الفاظ ميں تكميلِ دين كي بشارت دي:
 
<الْيَوْمَ اٴَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي>(2)
”آج كے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دين اور آئين كو كامل كرديا اور اپني نعمت كو تم پر تمام كرديا“۔
اتمام نعمت كا پيغام سن كر پيغمبر اكرم (ص)نے فرمايا:
”اللّٰہُ اٴكبرُ اللّٰہُ اٴكبرُ عَليٰ إكْمَالِ الدِّينِ وَإتْمَام النِعْمَةِ وَرَضيٰ الربِّ بِرسَالَتِي وَالوِلاٰيَة لِعَليّ مِنْ بَعْدِي“
”ہر طرح كي بزرگي وبڑائي خداہي كے لئے ہے كہ جس نے اپنے دين كو كامل فرمايا اور اپني نعمت كو ہم پر تمام كيا اور ميري نبوت ورسالت اور ميرے بعد علي كي ولايت كے لئے خوش ہوا۔“
پيغمبر كي زبان مبارك سے اميرالموٴمنين علي ابن ابي طالب عليہما السلام كي ولايت كا اعلان سن كر حاضرين ميں مبارك باد كا شور بلند ہوا لوگ بڑھ چڑھ كر اس اعزازومنصب پر حضرت علي كو اپني طرف سے مبارك باد پيش كرنے لگے چنانچہ معروف شخصيتوں ميں سے حضرت ابو بكر اور حضرت عمر كي طرف سے مبارك باد كے يہ الفاظ تاريخ كے اوراق ميں محفوظ ہيں كہ انہوں نے كہا:
”بخٍ بخٍ لك يا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسيتَ مولاي و مولاكُلّ موٴمن و موٴمنةٍ“
”مبارك ہو ! مبارك ! اے فرزند ابو طالب كہ آپ ميرے اور تمام صاحبان ايمان مردوں اورعورتوں كے مولا اور رہبر ہوگئے“۔
اس وقت ابن عباس نے كہا :بخدا يہ عہد وپيمان سب كي گردنوں ميں باقي رہے گا۔
اس موقع پر مشہور شاعر حسان بن ثابت نے پيغمبر اكرم (ص) سے اجازت طلب كي كہ اس 
موقع كي مناسبت سے كچھ شعر كہوں ،چنا نچہ انھو ں نے يہ مشہور و معروف اشعار پڑھے:
يَنادِيْھِمْ يَومَ الغَدِيرِ نَبِيُّھُمْ بِخُمٍّ وَاٴسْمِعْ بِالرَّسُولِ مُنَادِياً
فَقَالَ فَمَنْ مَولٰاكُمْ وَنَبِيُّكُمْ؟ فَقَالُوا وَلَمْ يَبْدُو ھُناكَ التَّعامِيا 
إلٰھكَ مَولانَا وَاٴنتَ نَبِيُّنَا َولَمْ تَلْقِ مِنَّا فِي الوَلايَةِ عَاصِياً
فَقَالَ لَہُ قُمْ يَا عَليّ فَإنَّنِي رَضِيْتُكَ مِنْ بَعْدِي إمَاماً وَ ھَادياً
فَمَنْ كُنْتُ مَولاہُ فَھَذَا وَلِيُّہُ فَكُونُوا لَہُ اَتْبَاعَ صِدْقٍ مَوَالِياً 
ھَنَاكَ دَعَا اَللّٰھُمَّ وَالِ وَلِيَّہُ وَكُنْ لِلَّذِي لَہُ اٴتْبَاعَ عَلِيًّا مُعَادِياً(1) 
يعني: ”پيغمبر اكرم (ص) روز غدير خم يہ اعلان كررہے تھے اور واقعاً كس قدر عظيم اعلان تھا۔
فرمايا: تمہارامولاا ور نبي كون ہے؟ تو مسلمانوں نے صاف صاف كہا: 
”خداوندعالم ہمارا مولا ہے اور ہمارے نبي ہيں، ہم آپ كي ولايت كے حكم كي مخالفت نہيں كريں گے۔
اس وقت پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا: يا علي اٹھو ، كيونكہ ميں نے تم كو اپنے بعد امام اور ہادي مقرر كيا ہے۔
اس كے بعد فرمايا: جس كاميں مولا و آقا ہوں اس كے يہ علي مولا اور رہبر ہيں ، لہٰذا تم سچے دل سے اس كي اطاعت و پيروي كرنا۔
اس وقت پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: پالنے والے! اس كے دوست كو دوست ركھ! اور اس كے دشمن كو دشمن۔
(1) ان اشعار كو اہل سنت كے بڑے بڑے علمانے نقل كيا ہے ، جن ميں سے حافظ ”ابونعيم اصفہاني،حافظ ”ابو سعيد سجستاني“، ”خوارزمي مالكي“، حافظ ”ابو عبد اللہ مرزباني“،”گنجي شافعي“، ”جلال الدين سيوطي“، سبط بن جوزي“ اور ”صدر الدين حموي“ كا نام ليا جاسكتا ہے
قا ر ئين كرام !يہ تھا اہل سنت اور شيعہ علماكي كتابوں ميں بيان ہونے والي مشہور و معروف حديث غدير كا خلاصہ۔
آيہ بلغ كے سلسلہ ميں ايك نئي تحقيق
اگر ہم مذكورہ آيت كي شان نزول كے بارے ميں بيان ہونے والي احاديث اور واقعہ غدير سے متعلق تمام روايات سے قطع نظر كريں اور صرف اور صرف خود آيہٴ بلغ اور اس كے بعد والي آيتوں پر غور كريں تو ان آيات سے امامت اور پيغمبر اكرم (ص) كي خلافت كا مسئلہ واضح و روشن ہوجائے گا۔
كيونكہ مذكورہ آيت ميں بيان ہونے والے مختلف الفاظ اس بات كي طرف اشارہ كرتے ہيں كہ اس مسئلہ كي تين اہم خصوصيت ہيں:
۱۔ اسلامي نقطہ نظر سے اس مسئلہ كي ايك خاص اہميت ہے ، كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) كو حكم ديا گيا ہے كہ اس پيغام كو پہنچادو، اور اگر اس كام كو انجام نہ ديا تو گويا اپنے پروردگار كي رسالت كو نہيں پہنچايا! دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ ولايت كا مسئلہ نبوت كي طرح تھا ، كہ اگر اس كو انجام نہ ديا تو پيغمبر اكرم كي رسالت ناتمام رہ جاتي ہے:<وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ>
واضح رہے كہ اس سے مراد يہ نہيں ہے كہ يہ خدا كا كوئي معمولي حكم تھا، اور اگرخدا كے كسي حكم كونہ پہنچايا جائے تو رسالت خطرہ ميں پڑجاتي ہے، كيونكہ يہ بات بالكل واضح ہے اور اس كے بيان كرنے كي ضرورت نہيں ہے، حالانكہ آيت كا ظاہر يہ ہے كہ يہ مسئلہ ايك خاص اہميت كا حامل ہے جو رسالت و نبوت سے خاص ربط ركھتا ہے۔
۲۔ يہ مسئلہ اسلامي تعليمات جيسے نماز، روزہ، حج، جہاد اور زكوٰة وغيرہ سے متعلق نہيں تھا كيونكہ يہ آيت سورہ مائدہ كي ہے، اور ہم جانتے ہيں كہ يہ سورہ پيغمبر اكرم (ص) پر سب سے آخر ميں نازل ہوا ہے، (يا آخري سوروں ميں سے ہے) يعني پيغمبر اكرم (ص) كي عمر بابركت كے آخري دنوں ميں يہ سورہ نازل ہوا ہے جس وقت اسلام كے تمام اہم اركان بيان ہوچكے تھے۔(3)
۳۔ آيت كے الفاظ اس بات كو واضح كرتے ہيں كہ يہ مسئلہ ايك ايسا عظيم تھاجس كے مقابلہ ميں بعض لوگ سخت قدم اٹھانے والے تھے، يہاں تك كہ پيغمبر اكرم (ص) كي جان كو بھي خطرہ تھا، اسي وجہ سے خداوندعالم نے اپني خاص حمايت كا اعلان كرتے ہوئے فرمايا:< وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنْ النَّاسِ> ”اور خداوندعالم تم كولوگوں كے (احتمالي) خطرے سے محفوظ ركھے گا“۔
آيت كے آخر ميں اس بات كي تاكيد كي گئي ہے: ”خداوندعالم كافروں كي ہدايت نہيں فرماتا“< إِنَّ اللهَ لاَيَہْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ >
آيت كا يہ حصہ خود اس بات كي عكاسي كرتا ہے كہ بعض مخالف آنحضرت (ص) كے خلاف كوئي منفي قدم اٹھانے والے تھے۔
ہماري مذكورہ باتوں سے يہ بات اچھي طرح واضح ہوجاتي ہے كہ اس آيت كا مقصد پيغمبر اكرم (ص) كي جانشيني اور خلافت كے علاوہ اور كچھ نہيں تھا۔
جي ہاں پيغمبر اكرم (ص) كي آخري عمر ميں صرف يہي چيز مورد بحث واقع ہوسكتي ہے نہ كہ اسلام كے دوسرے اركان ، كيونكہ دوسرے اركان تو اس وقت تك بيان ہوچكے تھے، صرف يہي مسئلہ رسالت كے ہم وزن ہوسكتا ہے، اور اسي مسئلہ پر بہت سي مخالفت ہوسكتي تھي اور اسي خلافت كے مسئلہ ميں پيغمبر اكرم (ص) كي جان كو خطرہ ہوسكتا تھا۔
اگر مذكورہ آيت كے لئے ولايت، امامت اور خلافت كے علاوہ كوئي دوسري تفسير كي جائے تو وہ آيت سے ہم آہنگ نہ ہوگي۔
آپ حضرات ان تمام مفسرين كي باتوں كو ديكھيں جنھوں نے اس مسئلہ كو چھوڑ كر دوسري تاويليں كي ہيں، ان كي تفسير آيت سے بےگانہ دكھائي ديتي ہيں، حقيقت تو يہ ہے كہ يہ لوگ آيت كي تفسير نہيں كرپائے ہيں۔
توضيحات
۱۔ حديث غدير ميں مولي كے معني
جيسا كہ معلوم ہو چكا ہے كہ حديث غدير ”فمن كنت مولاہ فعليٌّ مولاہ“ تمام شيعہ اور سني كتا بوں ميں نقل ہو ئي ہے: اس سے بہت سے حقائق روشن ہوجاتے ہيں۔
اگرچہ بہت سے اہل سنت موٴلفين نے يہ بات باور كرانے كي كوشش كي ہے كہ ”مولي“ كے معني ”ناصر يا دوست “ كے ہيں، كيونكہ مولي كے مشہور معني ميں سے يہ بھي ہيں، ہم بھي اس بات كو مانتے ہيں كہ ”موليٰ“ كے معني دوست اور ناصر ومددگار كے ہيں، ليكن يہاں پر بہت سے قرائن و شواہدہيں جن سے معلوم ہوتا ہے مذكورہ حديث ميں ”موليٰ“ كے معني ”ولي ، سرپرست اور رہبر“ كے ہيں، ہم يہاں پر ان قرائن و شواہد كو مختصر طور پر بيان كرتے ہيں:
۱۔ حضرت علي عليہ السلام سے تمام مومنين كي دوستي كوئي مخفي اور پيچيدہ چيز نہ تھي كہ جس كے لئے اس قدر تاكيد اور بيان كي ضرورت ہوتي، اور اس بات كي كوئي ضرورت نہ تھي كہ اس بے آب و گياہ اور جلتے ہوئے بيابان ميں اس عظيم قافلہ كو دوپہر كي دھوپ ميں روك كرايك طويل و مفصل خطبہ ديا جائے اور سب لوگوں سے اس دوستي كا اقرارليا جائے۔
قرآن مجيد نے پہلے ہي وضاحت كے ساتھ يہ اعلان فرديا ہے: < إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ>(4)”مومنين آپس ميں ايك دوسرے كے بھائي ہيں“
ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:< وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ اٴَوْلِيَاءُ بَعْض>(5) ”مومن مرد اور مومن عورتيں ايك دوسرے كے ولي اور مددگار ہيں“۔
خلاصہ يہ كہ اسلامي اخوت اور مسلمانوں كي ايك دوسرے سے دوستي اسلام كے سب سے واضح مسائل ميں سے ہے جو پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ سے چلي آرہي ہے، اور خود آنحضرت (ص) نے اس بات كو بارہا بيان فرمايا اوراس سلسلہ ميں تاكيد فرمائي ہے، اور يہ كوئي ايسا مسئلہ نہيں تھا جس سے آيت كا لب و لہجہ اس قدر شديد ہوجاتا، اور پيغمبر اكرم (ص) اس راز كے فاش ہونے سے كوئي خطرہ محسوس كرتے۔ (غور كيجئے )
۲۔ ”اٴلَسْتُ اٴوليٰ بِكُمْ مِنْ اٴنفُسِكم“ (كيا ميں تم لوگوں پر تمہارے نفسوں سے زيادہ اولي اور سزاور نہيں ہوں؟) حديث كا يہ جملہ بہت سي كتابوں ميں بيان ہوا ہے جو ايك عام دوستي كو بيان كرنے كے لئے بے معني ہے، بلكہ اس جملہ كا مفہوم يہ ہے كہ جس طرح مجھے تم پر اولويت و اختيار حاصل ہے اور جس طرح ميں تمہارا رہبر اور سرپرست ہوں بالكل اس طرح علي عليہ السلام كے لئے بھي ثابت ہے، اورہمارے عرض كئے ہوئے اس جملے كے معني كے علاوہ دوسرے معني انصاف اور حقيقت سے دور ہيں، خصوصاً ”من انفسكم“ كے پيش نظر يعني ميں تمہاري نسبت تم سے اوليٰ ہوں۔
۳۔ اس تاريخي واقعہ پرتمام لوگوں كي طرف سے خصوصاً حضرت ”عمر “ اور حضرت ”ابوبكر“ كا امام علي عليہ السلام كي خد مت ميں مباركباد پيش كرنا اس بات كي عكاسي كرتا ہے كہ يہ مسئلہ صرف خلافت كا مسئلہ تھا، جس كي وجہ سے تبريك و تہنيت پيش كي جارہي تھي، كيونكہ حضرت علي عليہ السلام سے دوستي كا مسئلہ تو سب كو معلوم تھا اس كے لئے تبريك كي كيا ضرورت تھي؟!!
مسند احمد ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے اعلان كے بعد حضرت عمر نے حضرت علي عليہ السلام كو ان الفاظ ميں مبارك باد دي:
”ھنئياً يا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسيتَ مولي كُلّ موٴمن و موٴمنةٍ“(6) 
”مبارك ہو مبارك! اے ابو طالب كے بيٹے! آج سے تم ہر مومن اور مومنہ كے مولا بن گئے“۔
علامہ فخر الدين رازي نے < يَااٴَيُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ >كے ذيل ميں تحرير كيا ہے كہ حضرت عمر نے كہا: ”ھنئياً يا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسيتَ مولي كُلّ موٴمن و موٴمنةٍ“جس سے معلوم ہو تا ہے كہ حضرت علي عليہ السلام كوخود حضرت عمر اپنااور ہر مومن و مومنہ كا مولا سمجھتے تھے۔
تاريخ بغداد ميں روايت كے الفاظ يہ ہيں: ”بخٍ بخٍ لك يا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسيتَ مولاي و مولاكُلّ مسلم“(7) ”اے ابو طالب كے بيٹے مبارك ہو مبارك! آپ آج سے ميرے اور ہر مسلمان كے مولا ہوگئے“۔
فيض القدير اور صواعق محرقہ دونوں كتابوں ميں نقل ہوا ہے كہ حضرت ابوبكر اور عمر دونوں نے حضرت علي عليہ السلام سے كہا:”وَاٴَمسيتَ يابن اٴبي طالبٍ مولي كُلّ موٴمن و موٴمنةٍ“
يہ بات واضح ہے كہ ايك عام دوستي تو سبھي مومنين كے درميان پائي جاتي تھي، تو پھر اتنا اہتمام كيسا؟! لہٰذا معلوم يہ ہوا كہ يہ اس وقت صحيح ہے جب مولي كے معني صرف اور صرف حا كم اور خليفہ ہوں۔
۴۔ حسان بن ثابت كے مذكورہ اشعار بھي اس بات پر بہترين گواہ ہيں كہ جن ميں بلند مضامين اور واضح الفاظ ميں خلافت كے مسئلہ كو بيان كيا گيا ہے، جن كي بنا پر مسئلہ كافي واضح ہے (آپ حضرات ان اشعار كو ايك مرتبہ پھر پڑھ كر ديكھيں)
۲۔ قرآن كي آيات واقعہ غدير كي تائيد كرتي ہيں
بہت سے مفسرين اورراويوں نے سورہ معارج كي ابتدائي چند آيات: <سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ # لِلْكَافِرينَ لَيْسَ لَہُ دَافِعٌ # مِنْ اللهِ ذِي الْمَعَارِجِ > (ايك سائل نے واقع ہونے والے عذاب كا سوال كيا جس كا كافروں كے حق ميں كوئي دفع كرنے والا نہيں ہے، يہ بلنديوں والے خدا كي طرف سے ہے،)كي شان نزول كو بيان كيا ہے جس كا خلاصہ يہ ہے:
”پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت علي عليہ السلام كو غدير خم ميں خلافت پر منصوب كيا، اوران كے بارے ميں فرمايا: ”مَن كُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ“۔ تھوڑي ہي دير ميں يہ خبر عام ہوگئي، نعمان بن حارث فہري (8)(جو كہ منافقوں ميں سے تھا ) پيغمبر اكرم (ص) كي خدمت ميں حاضر ہوكر عرض كرتا ہے: آپ نے ہميں حكم ديا كہ خدا كي وحدانيت اور آپ كي رسالت كي گواہي ديں ہم نے گواہي دي، ليكن آپ اس پر بھي راضي نہ ہوئے يہاں تك كہ آپ نے (حضرت علي عليہ السلام كي طرف اشارہ كركے كہا) اس جوان كو اپني جانشيني پر منصوب كرديا اور كہا : ”مَن كُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ“۔كيا يہ كام اپني طرف سے كيا ہے يا خدا كي طرف سے؟ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: اس خداكي قسم جس كے علاوہ كوئي خدا نہيں ہے، يہ كام ميں نے خدا كي طرف سے انجام ديا ہے“۔
نعمان بن حارث نے اپنا منھ پھير ليا اور كہا: خداوندا! اگر يہ كام حق ہے اور تيري طرف سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا!۔
اچانك آسمان سے ايك پتھر آيا اور اس كے سر پر لگا ، جس سے وہ وہيں ہلاك ہوگيا،اس موقع پر آيہٴ <سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِع>نازل ہوئي ۔
(قارئين كرام!) مذكورہ روايت كي طرح مجمع البيان ميں بھي يہ روايت ابو القاسم حسكاني سے نقل ہوئي ہے(9)، اور اسي مضمون كي روايت بہت سے اہل سنت مفسرين اور راويان حديث نے مختصر سے اختلاف كے ساتھ نقل كي ہے، منجملہ: قرطبي نے اپني مشہور تفسيرميں(10) آلوسي نے اپني تفسير روح المعاني ميں(11)، اور ابو اسحاق ثعلبي نے اپني تفسير ميں۔(12)
علامہ اميني عليہ الرحمہ نے كتاب الغدير ميں تيس علمااہل سنت سے ( معہ منابع )اس روايت كو نقل كيا ہے، جن ميں سے: سيرہٴ حلبي، فرائد السمطين حمويني، درر السمطين شيخ محمد زرندي، السراج المنيرشمس الدين شافعي، شرح جامع الصغير سيوطي، تفسير غريب القرآن حافظ ابوعبيد ہروي، اور تفسير شفاء الصدور ابو بكر نقّاش موصلي ، وغيرہ بھي ہيں۔(13)
 

(1) سورہ مائدہ ، آيت 67
(2)سورہٴ مائدہ ، آيت3
3) فخر رازي اس آيت كے ذيل ميں تحرير كرتے ہيں: بہت سے علما(محدثين اور مورخين) نے لكھا ہے كہ اس آيت كے نازل ہونے كے بعد پيغمبر اكرم (ص) صرف ۸۱ /دن يا ۸۲/ دن زندہ رہے، (تفسير كبير ، جلد ۱۱، صفحہ ۱۳۹) ، تفسير المنار اور بعض ديگر كتابوں ميں يہ بھي تحرير ہے كہ پورا سورہ مائدہ حجة الوداع كے موقع پر نازل ہوا ہے، (المنار ، جلد ۶ صفحہ ۱۱۶) البتہ بعض موٴلفين نے مذكورہ دنوں كي تعداد كم لكھي ہے.
(4)سورہٴ حجرات ، آيت ۱۰
(5)سورہٴ توبہ ، آيت73
(6) مسند احمد ، جلد ۴، صفحہ ۲۸۱ ،(فضائل الخمسہ ، جلد اول، صفحہ ۴۳۲ كي نقل كے مطابق )
(7) تاريخ بغداد ، جلد ۷، صفحہ ۲۹۰
(8) بعض روايات ميں ”حارث بن نعمان“ اور بعض روايات ميں ”نضر بن حارث“ آيا ہے
(9) مجمع البيان ، جلد ۹و۱۰، صفحہ ۳۵۲
(10) تفسير قرطبي ، جلد ۱۰، صفحہ ۶۷۵۷
(11) تفسير آلوسي، ، جلد ۲۹، صفحہ ۵۲
(12) نور ا لابصار شبلنجي ، صفحہ ۷۱ كے نقل كے مطابق
(13) تفسير پيام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۸۱
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك