سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:363

اہل بيت سے مراد كون حضرات ہيں؟

سورہ ٴمباركہٴ احزاب ميں ارشاد ہوتا ہے:
< إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيرًا>(1)
”بس اللہ كا ارادہ يہ ہے كہ( اے اہل بيت پيغمبر!) تم سے ہر برائي كو دور ركھے اور اس طرح پاك و پاكيزہ ركھے جو پاك و پاكيزہ ركھنے كا حق ہے“۔
آيہٴ شريفہ كے پيش نظر ،يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اہل بيت سے مراد كون لوگ ہيں؟
يہ بات اپني جگہ صحيح ہے كہ يہ آيہٴ شريفہ ازواج پيغمبر كي شان ميں نازل ہو نے والي آيات كے درميان واقع ہے، ليكن اس آيت كا انداز بدلا ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے كہ اس آيت كا ايك دوسرا مقصد ہے، كيونكہ اس سے پہلي اور بعد والي آيات ميں ”جمع موٴنث“ كے صيغے استعمال ہوئے ہيں ليكن اس آيت ميں ”جمع مذكر“ كا صيغہ استعمال ہوا ہے!
آيت كے شروع ميں ازواج پيغمبر (ص) كو خطاب كيا گيا اور ان كو حكم ديا گيا كہ وہ اپنے اپنے گھروں ميں رہيں ،اور عرب كي جاہليت كے رسم و رواج كي طرح لوگوں كے سامنے نہ نكليں، عفت كي رعايت كريں، نماز قائم كريں اور زكوٰة ادا كريں نيز خدا اور رسول كي اطاعت كريں،
<وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّةِ الْاٴُولَي وَاٴَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَاٴَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَہُ>
آيت كے اس حصہ ميں تمام چھ ضميريں ”جمع موٴنث“ كي استعمال ہوئي ہيں۔ (غور كيجئے ) 
اس كے بعد لہجہ بدل جاتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے كہ اللہ كا ”صرف“ ارادہ يہ ہے كہ تم اہل بيت سے رجس كو دور ركھے اور تمہيں مكمل طور پر پاك ركھے“،< إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيرًا>(2)
آيت كے اس حصہ ميں دونوں ضميريں جمع مذكر كے لئے استعمال ہوئي ہيں۔
يہ بات صحيح ہے كہ عام طور پر آيت كا سياق و سباق ايك مطلب كو بيان كرتا ہے ليكن يہ اس وقت ہوتا ہے جب اس كے برخلاف كوئي قرينہ اور شاہد نہ ہو، لہٰذا جو لوگ آيت كے اس حصہ كو بھي ازواج پيغمبر (ص) كي شان ميں سمجھتے ہيں ان كا نظريہ ظاہر آيت اور اس ميں موجود قرينہ كے برخلاف ہے، يعني ان دونوں حصوں ميں ضميريں مختلف ہيں لہٰذا دو جدا جدا مطلب ہيں۔
اس كے علاوہ مذكورہ آيت كي تفسير ميں بڑے بڑے سني اور شيعہ علمانے خود پيغمبر اكرم (ص) سے متعدداحاديث نقل كي ہيں، اور فريقين كے معتبر منابع و مآخذ ميں اس كو قبول كيا گيا ہے، اور ان روايات كي تعداد بھي بہت زيادہ ہے۔
يہ تمام روايات اس بات كي حكايت كرتي ہيں كہ مذكورہ آيہٴ شريفہ پيغمبر اكرم (ص)، حضرت علي،حضرت فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين عليہم السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے، (نہ كہ ازواج پيغمبر كي شان ميں) جيسا كہ بعد ميں تفصيل كے ساتھ بيان كيا جائے گا۔
آيت ميں لفظ ”انّما“ استعمال كيا گيا جو حصر كے معني ميں ہے جس كے معني ”صرف“ ہوتے ہيں جو اس بات كي دليل ہے كہ اس آيہٴ شريفہ ميں آل ِنبي (ص)كے لئے جو خاص عظمت قرار دي گئي ہے وہ كسي دوسرے كے لئے نہيں ہے۔
بعض مفسرين اہل سنت نے اہل بيت ميں ازواج نبي كو بھي شامل كيا ہے، ليكن جيسا كہ ہم نے بيان كيا ہے كہ اس آيت كا سياق اور آيت كے پہلے اور بعد والے حصے ميں استعمال ہونے والي ”جمع مونث“ كي ضميروں كي جگہ اس حصہ ميں ”جمع مذكر“ كي ضميروں كا استعمال كيا گيا ہے جوايك واضح دليل ہے كہ اس حصہ كا ايك الگ مطلب ہے، اور اس سے مراد ايك دوسري چيز ہے، كيا خداوندعالم ”حكيم“ نہيں ہے، اور كيا قرآن مجيد كي فصاحت و بلاغت بلند وبالا نہيںہے اور اس كے تمام الفاظ كوئي حساب و كتاب نہيں ركھتے؟
ليكن مفسرين كي ايك جماعت نے آيہ تطہير كو پيغمبر اكرم، علي، فاطمہ، حسن و حسين (عليہم السلام) سے مخصوص كيا ہے، اس سلسلہ ميں ہم شيعہ سني منابع ميں وارد ہونے والي روايات ميں سے چند نمونے پيش كرتے ہيں جواس تفسيرپر گواہ ہيں۔
اور شايد انھيں روايات كي وجہ سے بعض لوگوں نے آيہٴ شريفہ كو اہل بيت سے مخصوص نہيں مانا، ليكن انھوں نے مذكورہ آيت كے ايك وسيع معني بيان كئے ہيں جس ميں اہل بيت بھي شامل ہوں اور ازواج رسول بھي، يہ آيت كي ايك تيسري تفسير ہے۔
جو روايات اس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ يہ آيت پيغمبر اكرم (ص) ، حضرت علي مرتضيٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسين عليہم السلام سے مخصوص ہے، ان كي تعداد بہت زيادہ ہے، صرف تفسير ”الدر المنثور“ ميں ۱۸/ حديث نقل ہوئي ہيں، جن ميں سے پانچ روايت امّ سلمہ سے ، تين ابو سعيد خدري سے، ايك عائشہ سے، ايك انس سے، دو روايت ابن عباس سے، دو روايت ابي الحمراء سے، ايك روايت وائلہ بن اسقع سے، ايك روايت سعد سے ، ايك روايت ضحاك بن مزاحم سے اور ايك روايت زيد بن ارقم سے نقل كي گئي ہے۔(3)
جناب علامہ طباطبائي رحمة اللہ عليہ نے تفسير ”الميزان“ ميں اس سلسلہ ميں بيان ہونے والي روايات كي تعداد ۷۰ / تك بيان كي ہے، موصوف فرماتے ہيں: اہل سنت كے ذريعہ اس سلسلہ ميں نقل ہونے والي روايات شيعہ طريقہ سے بيان ہونے والي روايات سے بھي زيادہ ہيں! اس كے بعد موصوف نے مذكورہ ناموں كے علاوہ بہت سے نام شمار كرائے ہيں، يعني تفسير الدر المنثور كے علاوہ دوسري كتابوں ميں بيان ہونے والے راويوں كے نام بيان كئے ہيں۔
بعض حضرات نے ان روايات اور جن كتابوں ميں يہ روايات نقل ہوئي ان كي تعداد سيكڑوں تك بتا ئي ہے اور ايسا ہونا بعيد بھي نہيں ہے۔
ہم يہاں پر ان روايات كے چند نمونے مع منابع و مآخذ نقل كرتے ہيں تاكہ”اسباب النزول “ ميں ”واحدي“ كي بات روشن ہوجائے، جو واقعاً ايك حقيقت ہے، چنانچہ موصوف فرماتے ہيں: 
<إنَّ الٓا يةَ نَزَلَتْ فِي النَّبيِّ(ص) ،وعَليّ و فَاطِمَةَ والحَسنين (ع) خاصة لايشاركھُم فيھا غيرَھُم>
”يہ آيہٴ شريفہ پيغمبر اكرم (ص) ، حضرت علي مرتضيٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسين عليہم السلام سے مخصوص ہے اور كوئي دوسرا اس ميں شامل نہيں ہے“۔(4)
چنا نچہ ان احاديث كا خلاصہ چار حصوں ميں كيا جاسكتا ہے:
۱۔ جن احاديث كو پيغمبر اكرم (ص) كي بعض ازواج نے نقل كيا ہے جو واضح طور پر كہتي ہيں 
كہ جس وقت آنحضرت (ص) نے اس آيہٴ شريفہ كي گفتگو فرمائي تو آپ سے سوال كيا كہ كيا ہم لوگ بھي اس آيت ميں شامل ہيں؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمايا: تم خير پر ہو ليكن اس آيت ميں شامل نہيں ہو!
جيسا كہ ثعلبي اپني تفسير ميں ”ام سلميٰ ( زوجہ پيغمبر)سے نقل كرتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) اپنے حجرے ميں تشريف فرما تھے كہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) كي خدمت ميں كھا نالائيں تو آپ نے فرمايا: اپنے شوہر نامدار اور دونوں بيٹوں حسن و حسين (عليہم السلام) كو بھي بلالاؤ، اور جب يہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ ميں كھانا تناول كيا اس كے بعد پيغمبر اكرم (ص) نے ان پر اپني عبا ڈالي اور فرمايا:
”اَللَّھُمَ! إِنَّ ھولاء اٴہلَ بَيتِي وَ عِتْرتِي فَاَذْھِب عَنھُم الرَّجس وطھّرھُم تَطْھِيْراً“
”خداوندا! يہ ميرے اہل بيت اور ميري عترت ہيں، ان سے رجس اور برائي كو دور فرما، اور ہر طرح كے رجس سے پاك و پاكيزہ قرار دے“۔
اسي موقع پر آيہ ٴ < إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَيْتِ> نازل ہوئي ، ميں (امّ سلميٰ) نے كہا يا رسول اللہ! كيا ميں آپ كے ساتھ ہوں؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمايا: انكِ إلي خَيرٍ ”تم خير پر ہو“ (ليكن ان ميں شامل نہيں ہو) (5)
نيز اہل سنت كے مشہور و معروف عالم دين”ثعلبي“ (6) جناب عائشہ سے اس طرح نقل 
كرتے ہيں : جب لوگوں نے جنگ جمل اور اس جنگ ميں آپ كي دخالت كے بارے ميں سوال كيا تو (بہت افسوس كے ساتھ) جواب ديا: يہ ايك تقدير الٰہي تھي! اور جب حضرت علي عليہ السلام كے بارے ميں سوال كيا تو كہا:
” تساٴليني عن اٴحبِ النَّاسِ كان إليٰ رسولِ الله وَ زوجٌ اٴحب النَّاسِ كانَ إليٰ رسولِ الله، لقد راٴيْت علياً و فَاطمَة و حسناً وحسيناً و جمع رسول الله بثوبٍ عليھم ثم قال:اللّٰھم ھولاء اٴہل بيتي و حامتي فاذّھب عنھم الرِّجس و طھّرھم تطھيراً، قالت : فقلتُ يا رسولَ الله ! اٴنا من اٴھلك قال تنحّي فَإنَّكِ إليٰ خَير“(7)
”كيا مجھ سے اس شخص كے بارے ميں سوال كرتے ہو جو پيغمبر اكرم (ص) كے نزديك سب سے زيادہ محبوب تھا ،اور اس كے بارے ميں سوال كرتے ہو جو رسول اللہ (ص) كي چہيتي بيٹي كا شوہر ہے، ميں نے خود اپني آنكھوں سے ديكھا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے علي، فاطمہ ،حسن وحسين (عليہم السلام ) كو ايك چادر كے نيچے جمع كيا اور فرمايا: پالنے والے! يہ ميرے اہل بيت اور ميرے حامي ہيں ان سے رجس اور برائي كو دور فرما، اوران كو پاك و پاكيزہ قرار دے، اس وقت ميں نے كہا: يا رسول اللہ (ص) كيا ميں بھي ان (اہل بيت) ميں شا مل ہوں تو آنحضرت نے فرمايا: تم يہاں سے چلي جاؤ تم خير پر ہو (ليكن ان ميں شامل نہيں ہو، اس طرح كي حديثيں صراحت كے ساتھ بيان كررہي ہيں كہ ازواج پيغمبر اہل بيت ميں شامل نہيں تھيں)“۔
۲۔ حديث كسا بہت ،سي كتابوں ميں مختلف الفاظ ميں بيان ہوئي ہے، جن كا مشترك بيان يہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت علي مرتضيٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسين عليہم السلام كو ايك جگہ جمع كيا (يا يہ حضرات خود آپ كي خدمت ميں آئے) پيغمبر اكرم (ص) نے ان 
پر اپني عبا (يا چادر) اڑھائي اور دعا كي: خداوندا! يہ ميرے اہل بيت ہيں ان سے ہر قسم كے رجس اوربرائي كو دور فرما، چنانچہ اسي موقع پر يہ آيت نازل ہوئي: < إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيرًا>
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اس حديث كو صحيح مسلم ، مستدرك حاكم ، سنن بيہقي، تفسير ابن جرير اور تفسيرسيوطي الد ر المنثور ميں نقل كيا گيا ہے۔(8)
حاكم حسكاني نے بھي ”شواہد التنزيل“ ميں اس حديث كو بيان كيا ہے(9) ”صحيح ترمذي“ ميں بھي يہ حديث بارہا بيان ہوئي ہے، جن ميں سے ايك جگہ ”عمر بن ابي سلمہ“ اور دوسري جگہ ”ام سلمہ“ سے نقل كيا گيا ہے۔(10)
ايك دوسرا نكتہ يہ ہے كہ ”فخر رازي“ نے آيہ مباہلہ (سورہ آل عمران ، آيت ۶۱) كے ذيل ميں اس حديث (حديث كساء) كو نقل كرنے كے بعد اضافہ كيا ہے:
”وَاعلمْ إنَّ ھٰذِہِ الرِّوايةُ كالمُتَّفقِ عَليٰ صحتِھا بَين اٴہلَ التَفْسِيرِ وَالْحَدِيثِ“(11)
”معلوم ہونا چاہئے كہ يہ اس روايت كي طرح ہے جوتمام مفسرين اور محد ثين كے نزديك متفق عليہ ہو“۔
يہ بات بھي قابل توجہ ہے كہ امام ”احمد بن حنبل“ نے اپني مسند ميں اس حديث كو مختلف طريقوں سے نقل كيا ہے۔(12)
۳۔ بہت سي روايات ميں يہ بھي بيان ہوا ہے كہ اس آيہ ٴ شريفہ كے نازل ہونے كے بعد چندمہينے تك (بعض روايات ميں ۶ مہينے، بعض ميں ۸ مہينے اور بعض ميں ۹ مہينے ذكر ہوئے ہيں) نماز صبح كے وقت پيغمبر اكرم (ص) جب در ِفاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا سے گزرتے تھے تو فرمايا كرتے تھے:
”الصلاة! يا اٴہلَ البيتِ! < إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيرًا>
”اے اہل بيت نماز كا وقت ہے، خداوندعالم كا ارادہ ہے كہ تم سے ہر قسم كے رجس اور برائي كو دور ركھے اور ايسا پاكيزہ قرار دے جيسا پاكيزہ ركھنے كا حق ہے“!
اس حديث كو مشہور و معروف مفسر حاكم حسكاني نے اپني تفسير ”شواہد التنزيل“ ميں ”انس بن مالك“ سے نقل كيا ہے۔(13)
اسي مذكورہ كتاب ميں ايك دوسري حديث كے ضمن ميں ”سات مہينے“ كي روايت ”ابي الحمراء“ سے نقل كي ہے،(يعني پيغمبر اكرم (ص) سات مہينے تك درِ فاطمہ پر آكر مذكورہ جملے فرمايا كرتے تھے)
نيز اسي كتاب ميں آٹھ مہينے كي روايت ”ابو سعيد خدري“ سے نقل كي گئي ہے۔(14)
قار ئين كرام! مدت ميں فرق ہونا كوئي اہم بات نہيں ہے كيونكہ ہوسكتا ہے كہ انس نے چھ ماہ، ابوسعيد خدري نے آٹھ ماہ اور ابن عباس نے نو ماہ تك اس چيز كا مشا ہد ہ كيا ہو(15)
جس نے جتني مدت ديكھا ہے اسي اعتبار سے نقل كيا ہے حالانكہ ان كي روايت ميں كوئي
دوسرا اختلاف نہيں ہے۔
بہر حال اتني مدت تك پيغمبر اكرم (ص) كا ہر روز اسي عمل كي تكرار كرنا ايك طے شدہ مسئلہ تھا، كيونكہ آنحضرت (ص) اپنے اس عمل سے يہ بات بالكل واضح كرناچاہتے تھے كہ ”اہل بيت“ سے مراد صرف اس گھر كے رہنے والے ہيں، تاكہ آنے والے زمانہ ميں كسي كے لئے كوئي شك و شبہ باقي نہ رہے، اور يہ باتسب كو معلوم ہوجائے كہ يہ آيت صرف اور صرف ان حضرات كي شان ميں نازل ہوئي ہے، ليكن واقعاً تعجب كي بات ہے كہ اس قدر تاكيد كے باوجود بھي بعض لوگوں كے نزديك يہ مسئلہ واضح نہ ہوسكا، كيا واقعاً يہ تعجب كا مقام نہيں ہے!!
خصوصاً جب مسجد النبي (ص) كي طرف كھلنے والے تمام دروازے بند كرادئے گئے ،صرف پيغمبر اكرم (ص) اور حضرت علي عليہ السلام كے دروازے كھلے رہے (كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمان جاري كيا تھا كہ ان دو دروازوں كے علاوہ تمام دروازے بند كردئے جائيں)
يہ بات واضح ہے متعدد افراد پيغمبر اكرم (ص) كي زبان مبارك سے يہ كلمات سنتے ہوں گے، ليكن پھر بھي بعض مفسرين يہ كوشش كرتے ہيں كہ آيت كے معني ميں وسعت كے قائل ہوجائيں تاكہ ازواج پيغمبر كو بھي شامل كرليا جائے، كيا يہ تعجب كا مقام نہيں ہے، اور جيسا كہ ہم نے عرض بھي كيا كہ تاريخي شواہد كے مطابق خود حضرت عائشہ پيغمبر اكرم (ص) سے متعلق اپنے تمام فضائل كو بيان كرنے سے نہيں كتراتي تھيں بلكہ چھوٹي چھوٹي چيزوں كو بھي بيان كرديا ہے، وہ خود كو اس آيت ميں شامل نہيں جانتي، بلكہ وہ خود كہتي ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) نے مجھ سے فرمايا: ”تم اس آيت ميں شامل نہيں ہو“!
۴۔ وہ متعدد روايات جو پيغمبر اكرم (ص) كے مشہور و معروف صحابي ابوسعيد خدري كے ذريعہ نقل ہوئي ہيں اور آيہٴ تطہير كي طرف اشارہ ہيں، ان ميں واضح طور پر بيان ہوا :
”نَزلَتْ فِي خَمسةٍ فِي رَسولِ اللهِ وَ عَليّ وفاطمة والحَسنِ وَالحُسَينِ علَيھُمَ السّلام“(16) 
”يہ آيہٴ شريفہ رسول خدا،مولائے كائنات،فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور حسنين عليہما السلام كي شان ميں نازل ہوئي ہے“
المختصر: آيہٴ تطہيركي شان ِنزول كے سلسلہ ميں بيان ہونے والي وہ احاديث جو پيغمبر اكرم ، حضرت علي عليہ السلام، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور امام حسن و امام حسين عليہم السلام سے مخصوص ہيں، اور يہ احاديث اسلامي معتبر كتابوں ميں اس قدر زيادہ ہيں كہ ان كو متواتر حديثوں ميں شمار كيا جاتا ہے، اور اس لحاظ سے ان ميں شك و شبہ كي كوئي گنجائش باقي نہيں رہ جاتي، يہاں تك كہ كتاب شرح احقاق الحق ميں (شيعہ منابع كے علاوہ) خوداہل سنت كي مشہور و معروف ۷۰/ معتبر كتابوں سے اس حديث كو نقل كيا گيا ہے، اس كے بعد صاحب كتاب فرماتے ہيں: ”اگر ان تمام منابع و مدارك كو جمع كيا جائے تو ان كي تعداد ہزار سے بھي زيادہ ہوجائے گي“۔(17)(18)

(1)سورہ احزاب ، آيت ۳۳ 
(2)سورہ احزاب ، آيت ۳۳
(3)الدرالمنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۶و ۱۹۹
(4) الميزان ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۱۱
(5) علامہ طبرسي نے مجمع البيان ميں مذكورہ آيت كے ذيل ميں،اورحاكم حسكاني نے شواہد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۵۶ ميں مذ كورہ حديث كو ذكر كيا ہے
(6) يہ چوتھي صدي كے آخر اور پانچوي صدي كے شروع ميں زندگي بسر كرتے تھے ، جن كي تفسير ”تفسير كبير“ كے نام سے مشہور ہے
7) مجمع البيان ، سورہٴ احزاب آيت ۳۳كے ذيل ميں
(8) صحيح مسلم ، جلد ۴، صفحہ ۱۸۸۳، حديث۲۴۲۴، (باب فضائل اہل بيت النبي (ص))
(9) شواہد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۳۳، حديث ۳۷۶
(10) صحيح ترمذي ، جلد ۵، صفحہ ۶۹۹، حديث ۳۸۷۱، (باب فضل فاطمہ)مطبو عہ احياء التراث 
(11) تفسير فخر رازي ، جلد ۸، صفحہ ۸۰
(12) مسند احمد ، جلد اول، صفحہ ۳۳۰، جلد ۴، صفحہ ۱۰۷ ، اور جلد ۶، صفحہ ۲۹۲ ( نقل از فضائل الخمسة ، جلد اول، صفحہ ۲۷۶)
(13) شواہد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۱۱، ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ ،۹۲ ،(توجہ كريں كہ شواہد التنزيل نے اس روايت كو متعدد طريقہ سے نقل كيا ہے)
(14) شواہد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۲۸ واحقا ق الحق، جلد ۲، صفحہ ۵۰۳ سے ۵۴۸ تك
(15) الدر المنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۹
(16) شواہد التنزيل ميں اس سلسلے ميں چار حديثيں موجود ہيں ،جلد ۲، صفحہ ۲۴ سے ۲۷ تك (حديث ۶۹۵ و۶۶۰ و۶۶۱ و۶۶۴)
(17) اقتبا س از جلد دوم احقاق الحق ، صفحہ ۵۰۲ تا ۵۶۳ 
(18) تفسير پيام قرآن ، جلد ۹ ،صفحہ ۱۳۷
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك