سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:333

اولوا الامر سے مراد كون ہيں؟

جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: <يَااٴَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اٴَطِيعُوا اللهَ وَاٴَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِي الْاٴَمْرِ مِنْكُم>(1) ”اے ايمان والو! اللہ كي اطاعت كرو، رسول اور صاحبان امر كي اطاعت كروجو تمہيں ميں سے ہيں“۔
يہاں پر يہ سوال اٹھتا ہے كہ اولوا الامر سے مراد كون حضرات ہيں؟
اولوا الامر كے بارے ميں اسلامي مفسرين كے درميان بہت زيادہ اختلاف پايا جاتا ہے، ذيل ميں ہم اس كا خلاصہ پيش كرتے ہيں:
۱۔ بعض اہل سنت مفسرين اس بات كا عقيدہ ركھتے ہيں كہ ”اولوا الامر “ سے مراد ہر زمانہ اور ہر مقام كے حكام وقت اور بادشاہ ہيں،اور اس ميں كسي طرح كا كو ئي استثنا نہيں ہے جس كے نتيجہ ميں مسلمانوں كي ذمہ داري ہے كہ وہ ہر حكومت كي پيروي كريں اگرچہ وہ مغل حكومت ہي كي كيوں نہ ہو۔
۲۔ صاحب تفسير المنار اور صاحب تفسير في ظلال القرآن وغيرہ اس بات پر عقيدہ ركھتے ہيں كہ اولوا الامر سے مراد عوام الناس كے نمائندے، حكام وقت، علمااور صاحبان منصب ہيں ،ليكن اس شرط كے ساتھ كہ ان كا حكم اسلامي قوانين كے برخلاف نہ ہو۔ 
۳۔ بعض ديگر علماكے نزديك اولوا الامر سے معنوي اور فكري حكّام يعني علمااور دانشورمراد ہيں، ايسے دانشور جو عادل اور قرآن و سنت سے مكمل طور پر آگاہ ہوں۔
۴۔ اہل سنت كے بعض مفسرين كا كہنا ہے كہ اولوا الامر سے مراد صرف ابتدائي چار خلفاء ہيں، ان كے علاوہ كوئي دوسرا اولوا الامر ميں شامل نہيں ہے لہٰذا ان كے بعد دوسرے زمانہ ميں كوئي اولواالامر نہيں ہوگا۔
۵۔بعض دوسرے مفسرين نے پيغمبر اكرم (ص) كے اصحاب اور ان كے ناصروں كو اولواالامر مانا ہے۔
۶۔ بعض مفسرين نے ايك يہ بھي احتمال ديا ہے كہ اولوا الامر سے مراد اسلامي لشكركا سردار ہے۔ 
۷۔ تمام شيعہ مفسرين اس بات پر متفق ہيں كہ اولوا الامر سے مراد ”ائمہ معصومين عليہم السلام“ ہيں جن كو خدا اور رسول كي طرف سے اسلامي معاشرے ميں مادي اور معنوي رہبري كي ذمہ داري عطا كي گئي ہے، ان كے علاوہ كوئي دوسرا شخص اولوا الامر ميں شامل نہيں ہے، البتہ جو افراد ان كي طرف سے منصوب كئے جاتے ہيں اور اسلامي معاشرہ ميں ان كو كوئي عہدہ ديا جاتا ہے تو معين شرائط كے ساتھ ان كي اطاعت بھي لازم ہے، البتہ اولوا الامركے عنوان سے نہيں بلكہ ان كي اطاعت اس لئے ضروري ہوتي ہے كہ وہ اولوا الامر كے نائب اور نمائندے ہوتے ہيں۔
اب ہم يہاں مذكورہ تفاسير كے سلسلہ ميں تحقيق و تنقيد كرتے ہيں:
اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ پہلي تفسيركا آيت كے مفہوم اورتعليمات اسلامي سے كو ئي تعلق نہيںہے ، اور يہ بات ممكن نہيں ہے كہ كوئي بھي حكومت ،خدا اور رسول كے برابر قرار دے دي جائے اور اس كي اطاعت كي جائے اور اس ميں كسي بھي طرح كي كوئي قيد و شرط نہ ہو، اسي وجہ سے شيعہ مفسرين كے علاوہ خود اہل سنت كے مفسرين نے اس پہلي تفسير كو قبول نہيں كيا ہے۔
دوسري تفسير بھي آيہٴ شريفہ سے ہم آہنگ نہيں ہے، كيونكہ آيت ميں اولوا الامر كي اطاعت كو بغير كسي قيد و شرط كے واجب قرار ديا گيا ہے۔
تيسري تفسير يعني جس ميں عادل اور قرآن و سنت سے واقف علمااور دانشوروں كو اولوا الامر قرار ديا گيا ہے، وہ بھي آيت كے اطلاق سے ہم آہنگ نہيں ہے، كيونكہ علمااو ردانشوروں كي پيروي كي شرط يہ ہے كہ ان كا حكم قرآن و سنت كے برخلاف نہ ہو، لہٰذا اگر وہ كسي خطا كے مرتكب ہوجائيں (كيونكہ وہ معصوم تو ہيں نہيں ان سے خطا ہوسكتي ہے) يا كسي دوسري وجہ كي بنا پر حق سے منحرف ہوجائيں تو پھر ان كي اطاعت ضروري نہيں ہے، ليكن آيہٴ شريفہ ميں اولوا الامر كي اطاعت كو مطلق اور پيغمبر اكرم كي طرح ضروري قرار ديا گيا ہے، اس كے علاوہ وہ علمااو ردانشور افراد جنھوں نے قرآن و سنت سے احكام حاصل كئے ہيں ان كي اطاعت خداو رسول كي اطاعت ہوگي، اور الگ سے بيان كرنے كي ضرورت نہيں ہے۔
چوتھي تفسير ( جس ميں چاروں خلفا ہي كو اولوا الامر قرار ديا گيا) كا مطلب يہ ہے كہ آج مسلمانوں كے درميان كوئي اولوا الامرنہ ہو، اس كے علاوہ اولوا الامر كو چاروں خلفا سے مخصوص كرنے پر بھي كوئي دليل نہيں ہے۔
پانچويں اور چھٹي تفسير يعني صحابہ اور سرداران لشكر سے مخصوص كرنے ميں بھي يہي مشكل ہے، يعني ان لوگوں سے مخصوص كرنے پر بھي كوئي دليل نہيں ہے۔
بعض علمااہل سنت جيسے مصر كے مشہور و معروف دانشور”شيخ محمد عبدہ“ نے مشہور و معروف مفسر ”فخر الدين رازي“ كي پيروي كرتے ہوئے دوسرے احتمال ( كہ اولوا الامر سے مراد، عوام الناس كے نمائندے، حاكم وقت، علمااور صاحب منصب افراد ہيں ،ليكن اس شرط كے ساتھ كہ ان كا حكم اسلامي قوانين كے برخلاف نہ ہو)ميں چند شرائط كا اضافہ كرتے ہوئے قبول كيا ہے ، ان ميں سے ايك شرط يہ بيان كي ہے كہ حاكم وقت مسلمان ہو (جيسا كہ لفظ ”منكُم“ سے نتيجہ نكلتا ہے) اور اس كا حكم قرآن اور سنت كے برخلاف نہ ہو، مزيد يہ كہ اس كا حكم اپنے اختيار سے ہو نہ كہ اس نے مجبوري كي حالت ميں حكم ديا ہواور يہ كہ مسلمانوں كي فلاح و بہبود كے لئے حكم كرے، نيز ايسے مسائل ميں حكم كرے جس ميں دخالت كا حق ركھتا ہو (نہ عبادت جيسي چيزوں ميں كہ جس كا حكم اسلام ميں معين ہے) مزيد يہ كہ جس مسئلہ ميں حكم كررہا ہو اس ميں شريعت كي طرف سے كوئي خاص نص موجود نہ ہو ، ان تمام چيزوں كے علاوہ اتفاقي طور پر نظريہ دے(يعني ايسا نہ ہو كہ ايك حاكم كچھ كہہ رہا ہے تو دوسرا كچھ)۔
اور چونكہ يہ لوگ اس بات پر عقيدہ ركھتے ہيں كہ تمام امت يا امت كے تمام نمائندے خطا اور غلطي نہيں كرسكتے ،يعني معصوم ہوتے ہيں، اور ان شرائط كا نتيجہ يہ ہوتا ہے كہ ايسا حكم جس ميں كوئي قيد و شرط نہ ہوپيغمبر اكرم (ص) كي اطاعت كي طرح ہوجاتا ہے، (جس كا نتيجہ ”اجماع“ كو حجت ماننا اور اس كو قبول كرنا ہے)، ليكن اس تفسير پر بھي بہت سے اعتراضات ہيں، كيونكہ:
۱۔ اجتماعي مسائل ميں بہت ہي كم مقامات پر اتفاق ہوتاہے جس كي بنا پر امت مسلمہ كے اكثر امور ميں ہميشہ ايك بے نظمي با قي رہے گي، اور اگر لوگ كثريت كے نظريہ كو قبول كرنا چاہيں تو اس پر اعتراض يہ ہے كہ اكثريت معصوم نہيں ہے بلكہ پوري امت كا اجماع معصوم ہے، لہٰذا ان ميں سے كسي ايك كي بھي اطاعت ضروري نہ ہوگي۔
۲۔ علم اصول ميں يہ بات ثابت ہوچكي ہے كہ بغير امام معصوم كے”تمام امت “ كے معصوم ہونے پر كوئي دليل نہيں ہے، (اگر امام معصوم اجماع ميں شامل نہ ہو تو اس اجماع كا كوئي فائدہ نہيں ہے)
۳۔ اس تفسير كے حاميوں كي ايك شرط يہ تھي كہ ان كا حكم قرآن و سنت كے برخلاف نہ ہو، ليكن قرآن اور سنت كے خلاف ہے يا نہيں اس كو ديكھنے كي ذمہ داري كس پر ہوگي، تو يہ ذمہ داري مجتہد اور قرآن و سنت سے آگاہ علماكي ہوگي جس كا نتيجہ يہ ہوگا كہ مجتہدين اور علماكي اجازت كے بغير اولوا الامر كي اطاعت جائز نہ ہوگي، بلكہ علماكي اطاعت اولوا الامر سے بلند ہوگي، جبكہ يہ نظريہ بھي آيت سے ہم آہنگ نہيںہے۔
يہ ٹھيك ہے كہ انھوں نے علمااور دانشوروں كو بھي اولوا الامر ميں شمار كيا ہے ليكن حقيقت يہ ہے كہ اس تفسير كي بنا پر علمااور مجتہدين كا مرتبہ ان نمائندوں سے بلند ہوگا نہ كہ ان كے ہم پلہ، كيونكہ علماو دانشورحضرات اولوا الامر كے امور كے نگراں ہيں كہ كہيں ان كے نظريات قرآن و سنت كے مخالف تو نہيں ہيں، لہٰذا وہ ان سے بلند مرتبہ پر فائز ہيں جو كہ مذكورہ تفسير سے ہم آہنگ نہيں ہے۔
لہٰذامذكورہ تفسير پر متعدد اعتراض ہوئے ہيں۔
صرف ساتويں تفسير مذكورہ اعتراضات سے خالي ہے يعني اولوا الامر سے مراد ائمہ معصومين عليہم السلام ہے، كيونكہ يہ تفسير مذكورہ آيت ميں موجود ہ وجوبِ اطاعت كے اطلاق سے مكمل طور پر ہم آہنگ ہيں، كيونكہ ”عصمت“ ان كو ہر طرح كي خطا و غلطي سے محفوظ ركھتي ہے، اسي لئے امام كا حكم پيغمبر اكرم (ص) كے حكم كي طرح بغير كسي قيد و شرط كے واجب الاطاعت ہے، اور انھيں آنحضرت (ص) كي اطاعت كي صف ميں قرار ديا جانا مناسب ہے، جيسا كہ لفظ ”اطيعوا“ كي تكرار كے بغير ”رسول“ پر عطف ہوا ہے۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اہل سنت كے بعض مشہور و معروف علماجيسے فخر الدين رازي نے مذكورہ آيت كے ذيل ميں اس حقيقت كا اعتراف كيا ہے، جيسا كہ موصوف تحرير كرتے ہيں:
”خداوندعالم نے جس كي اطاعت كو قاطعانہ اور بغير چون و چرا كے لازم اور ضروري قرار ديا ہے اس كا معصوم ہونا ضروري ہے، كيونكہ اگر خطا اور غلطي سے معصوم نہ ہو ، اور گنا ہوں كے وقت خدا اس كي اطاعت كو لازم قرار دے اور خطا كي صورت ميں بھي اس كي پيروي لازم ہو تو يہ تو خود خداوندعالم كے حكم ميں تضاد اور ٹكراؤ ہوگا، كيونكہ ايك طرف تو خداوندعالم نے كسي كام كو ممنوع قرار ديا ہے اور دوسري طرف ”اولوا الامر “ كي پيروي لازم قرار دي ہے ، لہٰذا يہاں ”امر“ اور ”نہي“ دونوں جمع ہوجائيں گے، (يعني ايك طرف خدا كہہ رہا ہے كہ اس كام كو انجام دو، دوسري طرف اسي كام سے روك بھي رہا ہے)
ايك طرف خداوندعالم اولوا الامر كي اطاعت كا مطلق طور پر حكم دے رہا ہے، دوسري طرف اگر اولوا الامر معصوم نہ ہو اور خدا اس كي اطاعت كا حكم دے تو يہ حكم صحيح نہيں ہے، اس مقدمہ سے يہ بات واضح ہوتي ہے كہ مذكورہ آيت ميں جس اولوا الامر كي طرف اشارہ كيا گيا اس كا معصوم ہونا ضروري ہے۔
اس كے بعد فخر الدين رازي تحرير كرتے ہيں كہ يہ معصوم يا تو تمام امت ہے يا امت كے كچھ افراد ہيں ،دوسرا احتمال صحيح نہيں ہے، كيونكہ ہم امت كے ان بعض افراد كو پہچانيں اور اس تك رسائي ممكن ہو، جبكہ ايسا نہيں ہے،(يعني وہ معصوم كو ن ہے ہميں معلوم نہيں ہے) اور جب يہ احتمال ردہوجاتا ہے تو صرف پہلا احتمال باقي رہتا ہے كہ پوري امت معصوم ہے، اور يہ خود اس بات كي دليل ہے كہ امت كا اجماع اور اتفاق حجت و قابل قبول ہے، اور يہ بہترين دليل ہے۔(2)
(قارئين كرام!) جيسا كہ آپ حضرات جانتے ہيں كہ فخر رازي مختلف علمي مسائل پر اعتراضات كرنے كے شوقين ہيں يہاں مذكورہ آيت ميں اولوا الامر كے معصوم ہونے كو قبول كرتے ہيں، ليكن مكتب اہل بيت اور ائمہ عليہم السلام سے آشنائي نہ ركھنے كے سبب اس احتمال سے چشم پوشي كرليتے ہيں كہ امت كے معين حضرات اولوا الامر ہيں، اور مجبوراً اولوا الامر كے معني تمام امت (يا عام مسلمانوں كے نمائندے) مرادليتے ہيں، جبكہ يہ احتمال قابل قبول نہيں ہے كيونكہ ہم نے پہلے بھي عرض كيا كہ اولوا الامر اسلامي معاشرہ كے لئے رہبر ہے اور اسلامي حكومت نيز امت مسلمہ كي مشكلات كے فيصلے اسي كے ذريعہ ہوتے ہيں، جبكہ ہم يہ بات بھي جانتے ہيں كہ تمام حكومتي عہدہ داروں ميں اتفاق ہونا ممكن نہيں ہے، كيونكہ مسلمانوں كو درپيش اجتماعي ، سياسي، ثقافتي، اخلاقي اور اقتصادي مسائل ميں سب لو گوں كاہونا غالباً ممكن نہيں ہے، اور اكثريت كي پيروي اولوا الامر كي پيروي شمار نہيں ہوگي، 
لہٰذا فخر الدين رازي اور ان كي پيروي كرنے والے معاصرين كے عقيدہ كا لازمہ يہ ہوگا كہ اولوا الامر كي اطاعت كي جگہ باقي نہ رہے، اور صرف استثنائي صورت اختيار كرلے۔
(قارئين كرام!) ہماري تمام باتوں كا خلاصہ يہ ہوا كہ آيہٴ شريفہ صرف ان معصوم حضرات كي رہبري كو ثابت كرتي ہے جوامت كا ايك حصہ ہيں۔ (غور كيجئے )
چند اعتراضات اور ان كے جوابات
مذكورہ تفسير پر كچھ اعتراضات ہوئے ہيں،جن كو ہم بغير طرفداري كے بيان كرتے ہيں:
۱۔ اگر ”اولوا الامر“ سے مراد ائمہ معصومين عليہم السلام ہوں تو چونكہ لفظ ”اولي“ جمع كا صيغہ ہے، لہٰذا آيت سے ہم آہنگ نہيں ہے، كيونكہ ہر زمانہ ميں امام معصوم صرف ايك ہوتا ہے۔
اس اعتراض كا جواب يہ ہے كہ ہر زمانہ ميں امام معصوم ايك سے زيادہ نہيں ہوتا ليكن ہر زمانہ ميں ايك ہي امام ہوتا ہے اس كے بعد دوسرا امام،تاآخر، اور ہم جانتے ہيں كہ آيہٴ شريفہ ہر زمانہ كے افراد كو امام كي اطاعت كے لئے حكم دے رہي ہے۔
۲۔ اس معني كے لحاظ سے پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں اولوا الامر موجود نہيں تھے ، تو پھر كس طرح ان كي اطاعت كا حكم ديا گيا؟
اس اعتراض كا جواب بھي مذكورہ جواب سے واضح اور روشن ہوجاتا ہے كيونكہ آيہٴ شريفہ كسي خاص زمانہ سے مخصوص نہيں ہے، لہٰذا ہر صدي كے مسلمانوں كا وظيفہ معين كرتي ہے، اور دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ خود پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں خود آنحضرت (ص) اولوا الامر تھے ، كيونكہ اس وقت پيغمبر اكرم (ص) كے پاس دو منصب تھے ايك منصب ”رسالت“ جيسا كہ آيہٴ شريفہ ميں ”اٴطَيعُوا الرَّسوُلَ“ آياہے ، دوسرے ”امت اسلامي كي رہبري اور سرپرستي“ اس آيت ميں ”اولوا الامر“ سے ياد كيا گيا ہے، اس بنا پر پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں معصوم رہبر اور پيشوا خود آنحضرت تھے ، يعني منصب رسالت اور احكام اسلام كي تبليغ كے علاوہ اس منصب پر بھي فائز تھے، اور شايد ”رسول“ اور ”اولوا الامر“ كے درميان ”اطيعوا“ كي تكر ار نہ ہو نا اس بات كي طرف اشارہ ہے، دوسرے الفاظ ميں يوں سمجھئے كہ منصب ”رسالت“ اور منصب ”اولوا الامر“ دو مختلف منصب ہيں جو پيغمبر اكرم (ص) ميں ايك ساتھ جمع تھے، ليكن امام كے سلسلہ ميں جدا مسئلہ ہے اور امام صرف دوسرا منصب ركھتا ہے۔
۳۔ اگر ”اولوا الامر“ سے مراد ائمہ معصومين اور معصوم رہبر ہوں تو درج ذيل آيہٴ شريفہ ميں مسلمانوں كے اختلاف كي صورت ميں صرف خدا و رسول كي طرف رجو ع كرنے كا حكم كيو ں ديا گياہے، ارشاد ہوتا ہے: < فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَي اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَاٴَحْسَنُ تَاٴْوِيلًا>(3)
”پھر اگر آپس ميں كسي بات ميں اختلاف ہوجائے تو اُسے خدا و رسول كي طرف پلٹادو، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ايمان ركھنے والے ہو، يہي تمہارے حق ميں خير اور انجام كے اعتبار سے بہترين بات ہے“۔
جيسا كہ آپ نے ملا حظہ كيا كہ اس آيت ميں اولوا الامر كي بات نہيں كي گئي ہے، اور اختلاف دوركرنے كے لئے صرف خدا و رسول كي طرف رجوع كرنے كا حكم دياگيا ہے، يعني كتاب خدا ، (قرآن كريم) اور سنت پيغمبر كے ذريعہ اختلاف حل كيا جائے گا۔
اس سوال كے جواب ميں ہم عرض كرتے ہيں كہ اولاً يہ اعتراض شيعہ مفسرين پر نہيں ہے بلكہ اگر ذرا غور كريں تو دوسري تفسيروں پر بھي يہي اعتراض وارد ہوتا ہے، اور دوسرے يہ كہ اس بات ميں كوئي شك نہيں ہے كہ مذكورہ آيت ميں اختلاف اور تنازع سے مراد احكام كا اختلاف ہے، مسلمانوں 
كي رہبري اور حكومت كے جزئي مسائل كا اختلاف مراد نہيں ہے ،كيونكہ ان مسائل ميں قطعي طور پر اولوا الامر كي اطاعت ہوني چاہئے، (جيسا كہ آيت كے پہلے فقرہ ميں بيان ہوا ہے) لہٰذا اختلاف سے مراد اسلام كے عام قوانين اور احكام كا اختلاف مراد ہے جس كا جواز خدااور پيغمبر سے مخصوص ہے، كيونكہ امام صرف احكام كو نافذ كرتا ہے، احكام كو وضع نہيں كرتا، اور نہ ہي اسلام كے كسي قانون كو نسخ كرتا، بلكہ ہميشہ احكام خدا اور سنت پيغمبر كو نافذ كرتا ہے، اور اسي وجہ سے اہل بيت عليہم السلام سے منقول احاديث ميں بيان ہوا ہے كہ اگر(كسي راوي كے ذريعہ) ہم سے كوئي بات كتاب خدا اور سنت پيغمبر كے برخلاف سنو تو اس كو ہرگز قبول نہ كرو ،كيونكہ ہمارے لئے قرآن اور سنت پيغمبر كے برخلاف حكم كرنا محال اور ناممكن ہے۔
مختصر يہ كہ احكام اور اسلامي قوانين لوگوں كے اختلاف كو حل كرنے كا پہلا مرجع خدا اور پيغمبر اكرم (ص) ہيں، كيونكہ پيغمبر پر وحي ہوتي ہے، اور اگر امام معصوم كوئي حكم بيان كرتا ہے تو وہ اپني طرف سے نہيں ، بلكہ قرآن كريم يا پيغمبر اكرم (ص) سے حاصل ہوئے علم كي بناپر ہوتا ہے، لہٰذا اختلاف حل كرنے والوں كي صف ميں اولوا الامركو ذكر نہ كرنے كي وجہ روشن ہوجاتي ہے۔(4)
 

(1) سورہٴ نساء ، آيت 59
(2) تفسير كبير فخر رازي ، جلد ۱۰، صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ئھ  ش
(3) سورہ نساء ، آيت ۵۹
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۴۳۵
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك