سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:370

امامت كي بحث كب سے شروع ہوئي؟

واضح رہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے فوراً بعد ہي آپ كي خلافت كے سلسلہ ميں گفتگو شروع ہوگئي تھي ، چنا نچہ ايك گروہ كا كہنا تھا كہ آنحضرت (ص) نے اپنے بعد كے لئے كسي كو خليفہ يا جانشين نہيں بنايا ہے، بلكہ اس چيز كو امت پر چھوڑ ديا ہے لہٰذا امت خود اپنے لئے كسي رہبر اور خليفہ كا انتخاب كرے گي ، جو اسلامي حكومت كي باگ ڈور اپنے ہاتھوں ميں لے اور لوگوں كي نمائندگي ميں ان پر حكومت كرے، ليكن وفات رسول كے بعد نمائندگي كي صورت پيدا ہي نہيں ہوئي بلكہ چند اصحاب نے بيٹھ كر پہلے مرحلہ ميں خليفہ معين كرليا اوردوسرے مرحلہ ميں خلافت انتصابي ہو گئي، اور تيسرے مرحلہ ميں انتخاب كا مسئلہ چھ لوگوں پر مشتمل ايك كميٹي كے سپر د كيا گياتاكہ وہ آئندہ خلافت كے مسئلہ كو حل كريں۔
چنانچہ اس طرز فكر ركھنے والوں كو ”اہل سنت“ كہا جاتا ہے۔
ليكن اس كے مقابل دوسرے گروہ كا كہنا تھا كہ پيغمبر (ص) كے جانشين كو خدا كي طرف سے معين ہونا چاہئے، اور وہ خود پيغمبر اكرم (ص) كي طرح ہر خطا اور گناہ سے معصوم اور غير معمولي علم كا مالك ہونا چاہئے، تاكہ مادي اور معنوي رہبري كي ذمہ داري كو نبھاسكے، اسلامي اصول كي حفاظت كرے، احكام كي مشكلات كو برطرف كرے ، قرآن مجيد كے دقيق مطالب كي تشريح فرمائے اور اسلام كو داوم بخشے۔
اس گروہ كو ”اماميہ“ يا ”شيعہ“ كہتے ہيں اور يہ لفظ پيغمبر اكرم (ص) كي مشہور و معروف حديث سے اقتباس كيا گيا ہے۔
تفسير الدر المنثور (جس كا شمار اہل سنت كے مشہور منابع ميں ہوتا ہے) ميں آيہٴ شريفہ <اٴُوْلَئِكَ ہُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ > كے ذيل ميں جابر بن عبد اللہ انصاريۺ سے اس طرح نقل كيا ہے:
”ہم پيغمبر اكرم (ص) كے پاس بيٹھے ہوئے تھے كہ حضرت علي عليہ السلام تشريف لائے، اس وقت آنحضرت (ص) نے فرمايا: يہ اور ان كے شيعہ روز قيامت كامياب ہيں، اور اس موقع پر يہ آيہٴ شريفہ نازل ہوئي:
<إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِكَ ہُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ >(1) (2)
حاكم نيشاپوري (يہ چوتھي صدي كے مشہور و معروف سني عالم ہيں)بھي اسي مضمون كو اپني مشہور كتاب ”شواہد التنزيل“ ميں پيغمبر اكرم (ص) سے مختلف طريقوں سے نقل كرتے ہيں جس كے راويوں كي تعداد ۲۰ /سے بھي زيادہ ہے۔
منجملہ ابن عباس سے نقل كرتے ہيں كہ جس وقت يہ آيہٴ شريفہ <إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِكَ ہُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ >(3) نازل ہوئي تو پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا: ”ہُوَ اَنْتَ وَ شِيْعَتُكَ“ ( اس آيت سے مراد آپ اور آپ كے شيعہ ہيں۔)(4)
ايك دوسري حديث ميں ابوبرزہ سے منقول ہے كہ جس وقت پيغمبر اكرم (ص) نے اس 
آيت كي تلاوت فرمائي تو فرمايا:”ہُوَ اَنْتَ وَ شِيْعَتُكَ يَاعَلِيّ“ (وہ تم اور تمہارے شيعہ ہيں)(5)
اس كے علاوہ بھي اہل سنت كے ديگرعلمااور دانشوروں نے بھي اس حديث كو ذكر كيا ہے جيسے صواعق محرقہ ميں ابن حجراور نور الابصار ميں محمد شبلنجي نے۔(6)
لہٰذا ان تمام روايات كے پيش نظر خود پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت علي عليہ السلام كے پيرووٴں كا نام ”شيعہ“ ركھا ہے، ليكن اس كے باوجود بھي بعض لوگ اس نام سے خفا ہوتے ہيں اور اس كو بُرا سمجھتے ہيں نيز اس فرقہ كو رافضي كے نام سے ياد كرتے ہيں، كيا يہ تعجب كا مقام نہيں كہ پيغمبر اكرم تو حضرت علي عليہ السلام كے فرمانبرداروں كو ”شيعہ“ كہيں اور دوسرے لو گ اس فرقہ كو برے برے ناموں سے ياد كريں!!۔
بہر حال يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ لفظ شيعہ كا و جود پيغمبر اكرم (ص) كي وفات كے بعد نہيں ہوابلكہ خود آنحضرت (ص)كي زندگي ميں ہي ہو چكا تھا، اور آپ نے حضرت علي عليہ السلام كے دوستوں اور پيرووٴں پر اس نام كا اطلاق كيا ہے، جو لوگ پيغمبر اكرم (ص) كو ”خدا كا رسول“ مانتے ہيں اور يہ جانتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) اپني مرضي سے كلام نہيں كرتے بلكہ وہي كہتے ہيں جو وحي ہوتي ہے،<وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْھَويٰ#إنْ ھُوَ إلاَّ وَحيٌ يُوحيٰ>(7) لہٰذا اگر آنحضرت (ص) فرمائيں كہ اے علي آپ اور آپ كے شيعہ روز قيامت ،كامياب ہيں تو يہ ايك حقيقت ہے۔(8)

(1) سورہٴ بينہ ، آيت ۷  
(2) الدر المنثور ، جلد ۶، صفحہ ۳۷۹ (ذيل آيہ ۷ سورہٴ بينہ) 
(3)سورہ بينہ، آيت ۷ 
(4) شواھد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷
(5) شواھد التنزيل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۹
(6) صواعق محر قہ، صفحہ ۹۶،نور الابصار، صفحہ ۷۰ و۱۰۱، اس حديث كے راويوں كي تعداد اور جن كتابوں ميں يہ حديث بيان ہوئي ہے، اس سلسلہ ميں مزيد معلوما ت كے لئے احقاق الحق ،جلد سوم، صفحہ ۲۸۷، اور جلد۱۴، صفحہ ۲۵۸ كي طرف رجوع فرمائيں 
(7)سورہ نجم آيت ۶، و ۷
(8) تفسير پيام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۲۲
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك