سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:314

امامت سے مراد كيا ہے؟ اور امامت اصول دين ميں ہے يا فروع دين ميں ؟

امامت كي تعريف كے سلسلہ ميں بہت زيادہ اختلاف پايا جاتا ہے، اور اختلاف ہونا بھي چاہئے كيونكہ شيعہ نظريہ (جو كہ مكتب اہل بيت عليہم السلام كے پيروكار ہيں) كے مطابق امامت اصول دين ميں سے ہے ، جبكہ اہل سنت كے يہاں امامت كو فروع دين اور عملي احكام ميں شمار كيا جاتا ہے۔
اسي وجہ سے فريقين امامت كو ايك نگاہ سے نہيں ديكھتے لہٰذا اس كي تعريف الگ الگ كرتے ہيں
اسي وجہ سے ہم ديكھتے ہيں كہ ايك سني عالم دين ،امامت كي تعريف اس طرح كرتے ہيں:
”اٴلإمَامَةُ رياسةٌ عَامةٌ فِي اٴمورِ الدِّينِ وَالدُّنيا، خلافةٌ عَنِ النَّبِي“(1) 
” پيغمبر اكرم (ص) كي جانشيني كے عنوان سے دين و دنيا كے امور ميں عام سرپرستي كا نام ”امامت “ہے۔
اس تعريف كے لحاظ سے امامت، حكومت كي حد تك ايك ظاہري ذمہ داري ہے، ليكن ديني 
اور اسلامي حكومت كي شكل ميںپيغمبر اكرم (ص) كي جانشيني كا عنوان (آنحضرت كي جانشيني يقيني حكومتي امور ميں ) ركھتي ہے، اور يہ بات ظاہر ہے كہ ايسے امام كو لوگوں كي طرف سے منتخب كيا جاسكتا ہے۔
ليكن بعض حضرات نے امامت كي تعريف اس طرح كي ہے: ”امامت يعني پيغمبر اكرم كي طرف سے ديني احكام و قوانين نافذكرنے اور دين كي محافظت كرنے ميں جانشين ہونا، اس طرح كہ تمام امت پر اس كي اطاعت واجب ہو“۔(2)
چنانچہ يہ تعريف بھي پہلي تعريف سے الگ نہيں ہے بلكہ مفہوم و معني كے لحاظ سے تقريباً ايك ہي ہے۔
ابن خلدون نے بھي اپني تاريخ (ابن خلدون) كے مشہور و معروف مقدمہ ميں امامت كي تعريف اسي طرح كي ہے۔(3)
شيخ مفيد (رحمة اللہ عليہ) كتاب ”اوائل المقالات“ ميں عصمت كي بحث كرتے ہو ئے فرماتے ہيں: ”وہ ائمہ جو ديني احكام كے نافذ كرنے، حدود الٰہي كو قائم كرنے، شريعت كي حفاظت كرنے اور لوگوں كي تربيت كرنے ميں پيغمبر اكرم (ص) كے جانشين ہيں، ان كو (ہر گناہ اور خطا سے) معصوم ہونا چاہئے، جس طرح انبياء عليہم السلام معصوم ہوتے ہيں۔(4)
چنانچہ اس تعريف كے لحاظ سے امامت، حكومت و رياست سے بالاتر ہے بلكہ انبياء عليہم السلام كي طرح تمام ذمہ دارياں امام كي بھي ہوتي ہيں سوائے وحي كے،اسي وجہ سے جس طرح نبي كا معصوم ہونا ضروري ہوتا ہے اسي طرح امام كا بھي معصوم ہوناضروري ہے۔ 
اسي وجہ سے شرح احقاق الحق ميں شيعہ نقطہ نظر سے امامت كي تعريف يوں كي گئي ہے:
”ھِيَ مَنصَبٌ إلٰھيّ حَائزٌ لِجَميعِ الشوٴونِ الكريمةِ وَالفَضَائلِ إلاَّ النَّبوة و مايلازم تلك المرتبة السّامية“(5)
”امامت ايك الٰہي منصب اور خدا كي طرف سے ايك ذمہ داري كا نام ہے جونبوت اور اس سے متعلق دوسرے امور كے علاوہ تمام بلند امور اور فضائل كو شامل ہے“۔
چنانچہ اس تعريف كے مطابق ”امام“ خداوندعالم كي طرف سے پيغمبر اكرم (ص) كے ذريعہ معين ہوتاہے اور (مقام نبوت كے علاوہ) پيغمبر اكرم (ص) كے تمام امتيازات و خصوصيات ركھتا ہے، اور اس كا كام ديني حكومت كي رياست ميں منحصر نہيں ہے، اسي دليل كي بنا پر امامت اصول دين ميں شمار ہوتي ہے نہ كہ فروع دين اور عملي فرائض ميں۔
امامت اصول دين ميں سے ہے يا فروع دين ميں سے؟
مذكورہ بحث سے اس سوال كا جواب واضح ہوجاتا ہے ، كيونكہ امامت كے سلسلہ ميں نظريات مختلف ہيں،متعصب سني عالم ”فضل بن روزبہان“”نہج الحق“ (جس كا جواب ”احقاق الحق“ ہے ) اس طرح كہتاہے: اشاعرہ كے نزديك امامت اصول دين ميں سے نہيں ہے بلكہ فروع دين ميں سے ہے اور اس كا تعلق مسلمانوں كے افعال او راعمال سے ہے۔(6)
اس لحاظ سے اہل سنت كے دوسرے فرقوں ميں بھي كو ئي فر ق نہيں ہے كيو نكہ ان سب كے يہاں امامت عملي فرائض ميں شمارہوتي ہے، اور يہ لوگوں كي ذمہ داري ہوتي ہے كہ امام يا خليفہ كا انتخاب كرليں، صرف مكتب اہل بيت عليہم السلام كے ماننے والے اور اہل سنت كے بہت كم افراد جيسے قاضي بيضاوي، اور ان كا اتباع كرنے والے، امامت كو اصول ميں شمار كرتے ہيں۔(7)
ان كي دليل بھي واضح اور روشن ہے ، كيونكہ ان كے نزديك امامت ايك الٰہي منصب ہے، يعني امام خدا كي طرف سے منصوب ہوتا ہے، جس كي ايك شرط معصوم ہونا ہے اور خدا كے علاوہ كوئي اس (كے معصوم ہونے ) كو نہيں جانتا، اور ائمہ عليہم السلام پر ايمان ركھنا اسي طرح ضروري ہے جس طرح پيغمبر اكرم (ص) پر ايمان ركھنا ضروري ہے كيونكہ امامت ،نبوت كي طرح شريعت كا اصلي ستون ہے، ليكن اس كے يہ معني نہيں ہيں كہ شيعہ ، امامت كے سلسلہ ميں اپنے مخالفوں كو كافر شمار كرتے ہوں، بلكہ شيعہ تمام اسلامي فرقوں كو مسلمان شمار كرتے ہيں، اورانھيں اسلامي برادر سمجھتے ہيں، اگرچہ امامت كے سلسلے ميں ان كے ہم عقيدہ نہيں ہيں ،اسي وجہ سے كبھي پنجگانہ اصول دين كو دو حصوں ميں تقسيم كرتے ہيں: پہلے تين اصول يعني خدا، پيغمبر اسلام (ص) اور قيامت كو اصول دين شمار كرتے ہيں اور ائمہ عليہم السلام كي امامت اور عدل الٰہي كو اصول مذہب شمار كرتے ہيں۔
ہم اپني اس گفتگو كو حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہما السلام كي حديث پر ختم كرتے ہيں جو امامت كے مسئلہ ميں ہمارے لئے الہام بخش ہے، ”امامت يعني زمام دين ،نظام مسلمين، دنيا كي صلاح اور مومنين كي عزت ہے، امامت ، اسلام كي بنياد اور بلند شاخيں ہيں، امام كے ذريعہ نماز روزہ، حج ،زكوٰة اور جہاد كامل ہوتے ہيں،بيت المال ميں اضافہ ہوتا ہے اور ضرورتمندوں كے لئے خرچ كيا جاتا ہے، احكام اور حدود الٰہي نافذ ہوتے ہيں امام ہي كے ذريعہ اسلامي ملك كے سرحدي علاقوں كي حفاظت ہوتي ہے۔
امام، حلال خدا كو حلال اور حرام خدا كو حرام شمار كرتا ہے (اور ان كو نا فذكرتا ہے) حدود الٰہي كو قائم كرتا ہے، دين خدا كا دفاع كرتا ہے، اور اپنے علم و دانش اوروعظ و نصيحت كے ذريعہ لوگوں كو راہ خدا كي دعوت ديتا ہے۔ (8)(9)
 

(1) شرح تجريد قوشنچي ، صفحہ ۴۷۲ 
(2) شرح قديم تجريد، شمس الدين اصفہاني اشعري( توضيح المراد تعليق بر شرح تجريد عقائد، تاليف سيد ہاشم حسيني تہراني صفحہ ۲۷۲ كي نقل كے مطابق)
(3) مقدمہ ابن خلدون، صفحہ ۱۹۱ 
(4) اوائل المقالات ، صفحہ ۷۴، طبع مكتبة الداوري
(5) احقاق الحق ،، جلد ۲، صفحہ ۳۰۰، (حاشيہ نمبر ايك)
(6) احقاق الحق ، جلد ۲، صفحہ ۲۹۴۔ دلائل الصدق ،جلد ۲، صفحہ ۴
(7) دلائل الصدق ،جلد ۲، صفحہ 8
(8) اصول كافي ، جلد اول، صفحہ ۲۰۰ (9) تفسير پيام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۸
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك