سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:378

كيا بسم اللہ تمام سوروں كا جز ہے؟

اس مسئلہ ميں شيعہ علمااور دانشوروں كے درميان كوئي اختلاف نہيں ہے كہ ”بسم اللہ “سورہ حمد اور بقيہ دوسرے سوروں كا جز ہے، اور قرآن مجيد كے تمام سوروں كے شروع ميں ”بسم اللہ “ كا ذكر ہونا خود اس بات پر محكم دليل ہے، كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ قرآن مجيد ميں كوئي چيز اضافہ نہيں ہوئي ہے، اور پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ سے آج تك ہر سورہ كے شروع ميں بسم اللہ كا ذكر ہوتا رہا ہے۔
ليكن اہل سنت علماميں سے مشہور و معروف موٴلف صاحب تفسير المنار نے اس سلسلہ ميں مختلف علماكے اقوال نقل كئے ہيں:
علماكے درميان يہ بحث ہے كہ كيا ہر سورے كے شروع ميں بسم اللہ سورہ كا جز ہے يا نہيں؟ مكہ كے قديمعلما (فقہا اور قاريان قرآن) منجملہ ابن كثير اور اہل كوفہ سے عاصم اور كسائي قاريان قرآن، اور اہل مدينہ ميں بعض صحابہ اور تابعين اور اسي طرح امام شافعي اپني كتاب جديد ميں اور ان كے پيروكار ، نيز ثوري اور احمد (بن حنبل) اپنے دوقول ميں سے ايك قول ميں ؛ اسي نظريہ كے قائل ہيں كہ بسم اللہ تمام سوروں كا جز ہے، اسي طرح شيعہ علمااور (ان كے قول كے مطابق) اصحاب ميں (حضرت ) علي، ابن عباس، عبد اللہ بن عمر اور ابوہريرہ ، اور تابعين ميں سے سعيد بن جبير، عطاء، زہري اور ابن المبارك نے بھي اسي عقيدہ كو قبول كيا ہے۔
اس كے بعد مزيد بيان كرتے ہيں كہ ان كي سب سے اہم دليل صحابہ اور ان كے بعد آنے والے حكمران كا اتفاق اور اجماع ہے كہ ان سب لوگوں نے سورہ توبہ كے علاوہ تمام سوروں كے شروع ميں ”بسم اللہ“ كو ذكر كيا ہے، جبكہ يہ سبھي حضرات اس بات پر تاكيد كرتے تھے كہ جو چيز قرآن مجيد كا جز نہيں ہے اس سے قرآن كو محفوظ ركھو ، اور اسي وجہ سے ”آمين“ كو سورہ حمد كے آخر ميں ذكر نہيں كيا ہے۔
اس كے بعد (امام) مالك اور ابو حنيفہ كے پيرو نيز دوسرے لوگوں سے نقل كيا ہے كہ وہ لوگ ”بسم اللہ“ كو ايك مستقل آيت مانتے تھے جو ہر سورے كے شروع ميں سوروں كے درميان فاصلہ كرنے كے لئے نازل ہوئي ہے۔
اور احمد (بن حنبل) (اہل سنت كے مشہور و معروف فقيہ) اور بعض كوفي قاريوں سے نقل كرتے ہيں كہ وہ لوگ ”بسم اللہ“ كو صرف سورہ حمد كا جز مانتے تھے نہ كہ دوسرے سوروں كا،(1)
(قارئين كرام!) مذكورہ اقوال سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ اہل سنت كے علماكي اكثريت بھي اسي نظريہ كي قائل ہے كہ بسم اللہ سورہ كا جز ہے، ہم يہاں شيعہ اور سني دونوں فريقوں كي كتابوں ميں منقول روايات كو بيان كرتے ہيں (اور اس بات كا اعتراف كرتے ہيں كہ ان تمام كا يہاں ذكر كرنا ہماري بحث سے خارج ہے، اور مكمل طور پر ايك فقہي بحث ہے)
۱۔ ”معاويہ بن عمار“ جوامام صادق عليہ السلام كے چاہنے والوں ميں سے ہيں، كہتے ہيں كہ ميں نے امام عليہ السلام سے سوال كيا كہ جب ميں نماز پڑھنے كے لئے تيار ہوجاؤں تو كياسورہ حمد كے شروع ميں بسم اللہ پڑھوں؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ہاں، ميں نے پھر سوال كيا كہ جس وقت سورہ حمد تمام ہوجائے اور اس كے بعد دوسرا سورہ پڑھنا چاہوں تو كيا بسم اللہ كا پڑھنا ضروري ہے؟ تو آپ نے فرمايا: ہاں۔(2)
۲۔سني عالم دين دار قطني صحيح سند كے ساتھ حضرت علي عليہ السلام سے نقل كرتے ہيں كہ ايك شخص نے آپ سے سوال كيا كہ ”السبع المثاني“ سے مراد كيا ہے؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا: اس سے مراد سورہ حمد ہے، تو اس نے سوال كيا كہ سورہ حمد ميں تو چھ آيتيں ہيں؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا: بسم اللہ الرحمن الرحيم بھي اس كي ايك آيت ہے۔(3)
۳۔ اہل سنت كے مشہور و معروف عالم بيہقي، صحيح سند كے ساتھ ابن جبير اور ابن عباس سے اس طرح نقل كرتے ہيں:”استرَقَ الشَّيْطَان مِنَ النَّاسِ، اٴعظم آية من القرآن بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “(4) شيطان صفت لوگوں نے قرآن كريم كي سب سے بڑي آيت يعني ”بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“كو چوري كرليا ہے“ (اس بات كي طرف اشارہ ہے كہ سوروں كے شروع ميں بسم اللہ نہيں پڑھتے)
اس كے علاوہ ہميشہ مسلمانوں كي يہ سيرت رہي ہے كہ ہر سورے كو شروع كرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہيں اور تواتر كے ساتھ يہ بات ثابت ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) بھي ہر سورے كے شروع ميں بسم اللہ الرحمن الرحيم پڑھا كرتے تھے، اس صورت ميں كيسے ممكن ہے كہ جو چيز قرآن كا حصہ نہ ہو خود پيغمبر اكرم (ص) اور آپ كي امت اسے قرآن كے ساتھ ہميشہ پڑھا كريں؟!۔
ليكن جيسا كہ بعض لوگوں كا خيال ہے كہ بسم اللہ ايك مستقل آيت ہے اور قرآن كا جز ہے مگر سوروں كا جز نہيں ہے، يہ نظريہ بھي بہت ضعيف ہے، كيونكہ بسم اللہ كے معني كچھ اس طرح كے ہيں جس سے معلوم ہوتا ہے كہ كام كي ابتدا اور آغاز كے لئے ہے، نہ يہ كہ ايك مستقل اور الگ معني ، درحقيقت اس طرح كا شديد تعصب كہ اپني بات پر اڑے رہيں اور كہيں كہ بسم اللہ ايك مستقل آيت 
ہے ،جس كاما قبل مبا لغہ سے كوئي ربط نہيں ہے، ليكن بسم اللہ كے معني بلند آواز ميں يہ اعلان كرتے ہيں كہ بعد ميں شروع ہونے والي بحث كا سر آغاز ہے۔
صرف مخالفين كا ايك اعتراض قابل توجہ ہے اور وہ يہ ہے كہ قرآن مجيد كے سوروں ميں (سورہ حمد كے علاوہ) بسم اللہ كو ايك آيت شمار نہيں كيا جاتا بلكہ اس كے بعد والي آيت كو پہلي آيت شمار كيا جاتا ہے۔
 اس اعتراض كا جواب”فخر الدين رازي“ نے اپني تفسير كبير ميں واضح كرديا كہ كوئي ممانعت نہيں ہے كہ بسم اللہ صرف سورہ حمد ميں ايك آيت شمار كي جائے اور قرآن كے دوسرے سوروں ميں پہلي آيت كا ايك حصہ شمار كيا جائے، ( اس لحاظ سے مثلاً سورہ كوثر ميں <بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ إِنَّا اٴعطينكَ الكَوْثَر> ايك آيت شمار ہو۔ 
بہر حال يہ مسئلہ اتنا واضح اور روشن ہے كہ تاريخ نے لكھا ہے كہ معاويہ نے اپني حكومت كے زمانہ ميں ايك روز نماز جماعت ميں بسم اللہ نہيں پڑھي، تو نماز كے فوراً بعد مہاجرين اور انصار نے مل كر فرياد بلند كي : ”اسرقت اٴم نسيت“ (اے معاويہ! تو نے بسم اللہ كي چوري كي ہے يا بھول گيا ہے؟)(5)(6)  

(1)تفسير المنار ، جلد ۱ صفحہ۳۹۔۴۰
(2) اصول كافي ، ، جلد ۳،صفحہ & (3) الاتقان ، جلد اول، صفحہ ۱۳۶
(4) بيہقي ، جلد ۲، صفحہ ۵۰
(5) بيہقي نے جزء دوم كے صفحہ ۴۹ پر اور حاكم نے بھي مستدرك ميں جزء اول كے صفحہ ۲۳۳ پر اس حديث كو نقل كيا ہے اور اس حديث كوصحيح جانا ہے
(6) تفسير نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۱۷
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك