سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:365

كيوں بعض قرآني آيات متشابہ ہيں؟

ليكن اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ قرآن مجيد ميں متشابہ آيات كي وجہ كيا ہے؟ جبكہ قرآن مجيد نور، روشني، كلام حق اور واضح ہے نيزلوگوں كي ہدايت كے لئے نازل ہوا ہے تو پھر قرآن مجيد ميں اس طرح كي متشابہ آيات كيوں ہيں اور قرآن مجيد كي بعض آيات كا مفہوم پيچيدہ كيوں ہے كہ بعض اوقات شرپسندوں كو ناجائز فائدہ اٹھانے كا مو قع مل جا تا ہے ؟
يہ موضوع در حقيقت بہت اہم ہے جس پر بھر پورتوجہ كرنے كي ضرورت ہے، كلي طور پر درج ذيل چيزيں قرآن ميں متشابہ آيات كا راز اور وجہ ہو سكتي ہيں :
۱۔ انسان جو الفاظ اور جملے استعمال كرتا ہے وہ صرف روز مرّہ كي ضرورت كے تحت ہوتے ہيں ، اسي وجہ سے جب ہم انسان كي مادي حدود سے باہر نكلتے ہيں مثلاً خداوندعالم جو ہر لحاظ سے نامحدود ہے، اگر اس كے بارے ميں گفتگو كر تے ہيں تو ہم واضح طور پر ديكھتے ہيں كہ ہمارے الفاظ ان معاني كے لئے كما حقہ پورے نہيں اترتے، ليكن مجبوراً ان كو استعمال كرتے ہيں ، كہ الفاظ كي يہي نارسائي قرآن مجيد كي بہت سي متشابہ آيات كا سرچشمہ ہيں ، <يَدُ اللهِ فَوقَ اٴيدِيہم>(سورہ فتح/۱۰) يا <الرَّحمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ استَويٰ>(سورہ طٰہ/۵) يا <إليٰ رَبِّہَا نَاظِرَةِ>(سورہ قيامت/۲۳) يہ آيات اس چيز كا نمونہ ہيں نيز ”سميع“ اور ”بَصِيرٌ“ جيسے الفاظ بھي اسي طرح ہيں كہ آيات محكمات پر رجوع كرنے سے ان الفاظ اور آيات متشابہات كے معني بخوبي واضح اور روشن ہوجاتے ہيں۔
۲۔ بہت سے حقائق دوسرے عالم يا ماورائے طبيعت سے متعلق ہوتے ہيں جن كو ہم سمجھنے سے قاصر ہيں، چونكہ ہم زمان و مكان ميں مقيد ہيں لہٰذا ان كي گہرائي كو سمجھنے سے قاصر ہيں، اورہمارے افكار كي نارسائي اور ان معاني كا بلند و بالا ہونا ان آيات كے تشابہ كا باعث ہے جيسا كہ قيامت وغيرہ سے متعلق بعض آيات موجود ہيں۔
يہ بالكل اسي طرح ہے كہ اگر كوئي شخص شكم مادر ميں موجود بچہ كو اس دنيا كے مسائل كي تفصيل بتانا چاہے، تو بہت ہي اختصار اور مجمل طريقہ سے بيان كرنے ہوں گے كيونكہ اس ميں صلاحيت اور استعداد نہيں ہے۔ 
۳۔ قرآن مجيد ميں متشابہ آيات كا ايك راز يہ ہو سكتا ہے كہ اس طرح كا كلام اس لئے پيش كيا گيا تاكہ لوگوں كي فكر و نظر ميں اضافہ ہو ، اور يہ دقيق علمي اور پيچيدہ مسائل كي طرح ہيں تاكہ دانشوروں كے سامنے بيان كئے جائيں اور ان كے افكار پختہ ہوں اور مسائل كي مزيد تحقيق كريں ۔ ۴۔قرآن كريم ميں متشابہ آيات كے سلسلہ ميں ايك دوسرا نكتہ يہ ہے كہ جس كي تائيد اہل بيت عليہم السلام كي احاديث سے بھي ہو تي ہے:قرآن مجيد ميں اس طرح كي آيات كا موجود ہونا انبياء اور ائمہ عليہم السلام كي ضرورت كو واضح كرتا ہے تاكہ عوام الناس مشكل مسائل سمجھنے كے لئے ان حضرات كے پاس آئيں، اور ا ن كي رہبري و قيادت كو رسمي طور پر پہچانيں، اور ان كے تعليم دئے ہوئے دوسرے احكام اور ان كي رہنمائي پر بھي عمل كريں ، اور يہ بالكل اس طرح ہے كہ تعليمي كتابوں ميں بعض مسائل كي وضاحت استاد كے اوپر چھوڑدي جا تي ہے تاكہ شاگرد استاد سے تعلق ختم نہ كرے اور اس ضرورت كے تحت دوسري چيزوں ميں استاد كے افكار سے الہام حاصل كرے ، خلاصہ يہ كہ قرآن كے سلسلہ ميں پيغمبر اكرم (ص) كي مشہور وصيت كے مصداق پر عمل كريں كہ آنحضرت (ص) نے فرمايا:
”إنِّي َتاركٌ فِيكُمُ الثَّقلين كتابَ اللهِ وَ اٴہلَ َبيتي وَ إنّہما لن يَفترقا حتّٰي يَرِدَا عَليَّ الْحَوضِ“۔ 
” يقيناميں تمہارے درميان دو گرانقدر چيزيں چھوڑے جارہا ہوں: ايك كتاب خدا اور دوسرے ميرے اہل بيت، اور (ديكھو!) يہ دونوں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوں گے يہاں تك كہ حوض كوثر پر ميرے پاس پہنچ جائيں“(1)(2)

(1) مستدرك حاكم ، جلد ۳، صفحہ ۱۴۸
(2)تفسير نمو نہ ، جلد ۲،صفحہ ۳۲۲
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك