سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:374

قرآن مجيد كي آيات ميں محكم اور متشابہ سے كيا مراد ہے؟

جيسا كہ ہم سورہ آل عمران ميں پڑھتے ہيں: < ہُوَ الَّذِي اٴَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ ہُنَّ اٴُمُّ الْكِتَابِ وَاٴُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ> (1)
”اس نے آپ پر وہ كتاب نازل كي ہے جس ميں سے كچھ آيتيں محكم ہيں جو اصل كتاب ہيں اور كچھ متشابہ ہيں“۔
يہاں پر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ ”محكم“ اور ”متشابہ“ سے كيا مراد ہے؟
لفظ ”محكم“ كي اصل ”احكام“ ہے اسي وجہ سے مستحكم او رپائيدار موضوعات كو ”محكم“ كہا جاتا ہے، كيونكہ وہ خود سے نابودي كے اسباب كو دور كرتے ہيں، اور اسي طرح واضح و روشن گفتگوجس ميں احتمال خلاف نہ پايا جاتا ہو اس كو ”محكم“ كہا جاتا ہے، اس بنا پر ”محكمات“ سے وہ آيتيں مراد ہيں جن كا مفہوم اور معني اس قدر واضح اور روشن ہو كہ جس كے معني ميں بحث و گفتگو كي كوئي گنجائش نہ ہو، مثال كے طور پر درج ذيل آيات :
<قُلْ ھُوَ اللهُ اٴحدٌ > <لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيءٌ> <اللهخَالِقُ كُلّ شَيءٍ> <لِلذَكَرِ مِثْلُ حَظَّ الاٴنْثَيَينِ> 
اور اس كي طرح دوسري ہزاروں آيات جو عقائد، احكام، وعظ و نصيحت اور تاريخ كے بارے 
ميں موجود ہيں يہ سب آيات ”محكمات“ ہيں، ان محكم آيات كو قرآن كريم ميں ”امّ الكتاب“ كانام ديا گيا ہے، يعني يہي آيات اصل ،اور مرجع و مفسر ہيں اور يہي آيات ديگر آيات كي وضاحت كرتي ہيں۔
لفظ ”متشابہ“ كے لغوي معني يہ ہيں كہ اس كے مختلف حصے ايك دوسرے كے شبيہ اور مانند ہوں، اسي وجہ سے ايسے جملے جن كے معني پيچيدہ ہوں اور جن كے بارے ميں مختلف احتمالات دئے جاسكتے ہوں ان كو ”متشابہ“ كہا جاتا ہے، اور قرآن كريم ميں بھي يہي معني مراد ہيں، يعني ايسي آيات جن كے معني ابتدائي نظر ميں پيچيدہ ہيں شروع ميں كئي احتمالات دئے جاتے ہيں اگرچہ آيات ”محكمات“ پر توجہ كرنے سے اس كے معني واضح اور روشن ہوجاتے ہيں۔
اگرچہ ”محكم“ اور ”متشابہ“ كے سلسلہ ميں مفسرين نے بہت سے احتمالات دئے ہيں ليكن ہمارا پيش كردہ مذكورہ نظريہ ان الفاظ كے اصلي معني كے لحاظ سے بھي مكمل طور پر ہم آہنگ ہے اور شان نزول سے بھي، آيت كي تفسير كے سلسلہ ميں بيان ہونے والي روايات سے بھي،اورمحل بحث آيت سے بھي، كيونكہ مذكورہ آيت كے ذيل ميں ہم پڑھتے ہيں كہ بعض خود غرض لوگ ”متشابہ“ آيات كو اپني دليل قرار ديتے تھے، يہ بات واضح ہے كہ وہ لوگ آيات سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے تھے كہ متشابہ آيات سرسري نظر ميں متعدد معني كئے جانے كي صلاحيت ركھتي ہيں جس سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ ”متشابہ“ سے وہي معني مراد ہيں جو ہم نے اوپر بيان كئے ہيں۔
”متشابہ“ وہ آيات ہيں جو خداوندعالم كے صفات اور معاد كي كيفيت كے بارے ميں ہيں ہم يہاں پر چند آيات كو نمونہ كے طور پر بيان كرتے ہيں:<يَدُ اللهِ فُوقَ اَيْدِيْہِم> (خدا كا ہاتھ ان كے ہاتھوں كے اوپر ہے) جو خداوندعالم كي قدرت كے بارے ميں ہے، اسي طرح<وَاللهُ سَمِيْعُ عَلِيْمُ> (خدا سننے والا اور عالم ہے) يہ آيت خداوندعالم كے علم كے بارے ميں دليل ہے، اسي طرح <وَنَضَعُ المَوَازِينَ القِسْطِ لِيَومِ القَيَامَةِ>( ہم روزِ قيامت عدالت كي ترازو قائم كريں گے) يہ آيت اعمال كے حساب كے بارے ميں ہے۔يہ بات ظاہر ہے كہ نہ خداوندعالم كے ہاتھ ہيں اور نہ ہي وہ آنكھ اور كان ركھتا ہے، اور نہ ہي اعمال كے حساب و كتاب كے لئے ہمارے جيسي ترازو ركھتا ہے بلكہ يہ سب خداوندعالم كي قدرت اور اس كے علم كي طرف اشارہ ہيں۔
يہاں اس نكتہ كي ياد دہاني كرانا ضروري ہے كہ قرآن مجيد ميں محكم اور متشابہ دوسرے معني ميں بھي آئے ہيں جيسا كہ سورہ ہود كے شروع ميں ارشاد ہوتا ہے: <كتاب احكمت آياتہ>اس آيت ميں تمام قرآني آيات كو ”محكم“ قرار ديا ہے، جس كا مطلب يہ ہے كہ قرآن كريم كي آيات آپس ميں ايك دوسرے سے تعلق ركھتي ہيں ،اور سورہ زمر ميں آيت نمبر ۲۳ ميں ارشاد ہوتا ہے: <كتاباً متشابہ>اس آيت ميں قرآ ن كي تمام آيات كو متشابہ قرارديا گيا ہے كيو نكہ يہاں متشابہ كے معني حقيقت ،صحيح اور درست ہونے كے لحاظ سے تمام آيات ايك دوسرے جيسي ہيں۔
لہٰذا محكم اور متشابہ كے حوالہ سے ہمارے بيان كئے ہو ئے مطالب كے پيش نظر معلوم ہوجاتا ہے ايك حقيقت پسند اور حق تلاش كرنے والے انسان كے لئے خداوندعالم كے كلام كو سمجھنے كا يہي ايك راستہ ہے كہ تمام آيات كو پيش نظر ركھے اور ان سے حقيقت تك پہنچ جائے ،چنانچہ اگر بعض آيات ميں ابتدائي لحاظ سے كوئي ابہام اور پيچيدگي ديكھے تو دوسري آيات كے ذريعہ اس ابہام اور پيچيدگي كو دور كركے اصل تك پہنچ جائے، درحقيقت ”آيات محكمات“ ايك شاہراہ كي طرح ہيں اور ”آيات متشابہات“ فرعي راستوں كي طرح ہيں ، كيونكہ يہ بات واضح ہے كہ اگر انسان فرعي راستوں ميں بھٹك جائے تو كوشش كرتا ہے كہ اصلي راستہ پر پہنچ جائے، اور وہاں پہنچ كرصحيح راستہ كو معين كرلے۔
چنا نچہ آيات محكمات كو ”امّ الكتاب“ كہا جانا بھي اس حقيقت كي تاكيد كرتا ہے، كيونكہ عربي ميں لفظ ”امّ“ كے معني ”اصل اور بنياد“ كے ہيں، اور اگر ماں كو ”امّ“ كہا جاتا ہے تو اسي وجہ سے كہ بچوں كي اصل اور اپني اولاد كي مختلف مشكلات اور حوادث ميں پناہ گاہ ہوتي ہے، اسي طرح آيات محكمات دوسري آيات كي اصل اور ماں شمار ہوتي ہيں۔(2)

(1)سورہ آل عمران ، آيت ۷
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۰
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك