سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:391

قرآن مجيد پيغمبر اكرم كے زمانہ ميں مرتب ہوچكا تھا يا بعد ميں ترتيب ديا گيا؟

جيسا كہ ہم جانتے ہيں كہ قرآن مجيد كے پہلے سورے كا نام”فاتحة الكتاب“ ہے ، ”فاتحة الكتاب“ يعني كتاب (قرآن) كي ابتدااور پيغمبر اكرم (ص) سے منقول بہت سي روايات كے پيش نظر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ خود آنحضرت (ص) كے زمانہ ميں اس سورہ كو اسي نام سے پكارا جاتا تھا۔
يہيں سے ايك دريچہ اسلام كے مسائل ميں سے ايك اہم مسئلہ كي طرف وا ہوتا ہے اور وہ يہ كہ ايك گروہ كے درميان يہ مشہور ہے كہ ( پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں قرآن پراكندہ تھا بعد ميں حضرت ابوبكر يا عمر يا عثمان كے زمانہ ميں مرتب ہوا ہے)، قرآن مجيد خود پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں اسي ترتيب سے موجود تھا جو آج ہمارے يہاں موجود ہے، اور جس كا سر آغاز يہي سورہ حمد تھا، ورنہ تو يہ پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہونے والاسب سے پہلا سورہ نہيں تھا اور نہ ہي كوئي دوسري دليل تھي جس كي بناپر اسے ”فاتحة الكتاب“ كے نام سے ياد كيا جاتا۔
اس كے علاوہ اور بہت سے شواہد اس حقيقت كي تائيد كرتے ہيں كہ قرآن كريم اسي موجودہ صورت ميں پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں جمع ہوچكا تھا۔
”علي بن ابراہيمۺ“ حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل كرتے ہيں كہ حضرت رسول خدا نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا: قرآن كريم حرير كے كپڑوں ،كاغذ اور ان جيسي دوسري چيزوں پر متفرق ہے لہٰذا اس كو ايك جگہ جمع كرلو“ اس كے بعد مزيد فرماتے ہيں كہ حضرت علي عليہ السلام اس نشست سے اٹھے اور قرآن كو ايك زرد رنگ كے كپڑے پر جمع كيا اور اس پر مہر لگائي: 
”وَانطلقَ عَليَّ (ع)فَجمعہُ فِي ثوبٍ اٴصفرٍ ثُمَّ خَتَم علَيْہِ“(1) 
ايك دوسرا گواہ: ”خوارزمي“ اہل سنت كے مشہور و معروف موٴلف اپني كتاب ”مناقب“ ميں ”علي بن رياح“ سے نقل كرتے ہيں كہ قرآن مجيد كو حضرت علي بن ابي طالب اور ابيّ بن كعب نے پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ہي ميں جمع كرديا تھا۔
تيسرا گواہ: اہل سنت كے مشہور و معروف موٴلفحاكم نيشاپوري اپني كتاب ”مستدرك“ ميں زيد بن ثابت سے نقل كرتے ہيں:
زيد كہتے ہيں: ” ہم لوگ قرآن كے مختلف حصوں كو پيغمبر اكرم (ص) كي خدمت ميں جمع كرتے تھے اور آنحضرت (ص) كے فرمان كے مطابق اس كي مناسب جگہ قرار ديتے تھے، ليكن پھر بھي يہ لكھا ہوا قرآن متفرق تھا ،حضرت رسول خدا (ص) نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا كہ اس كو ايك جگہ جمع كرديں ، اور ہميں اس كي حفا ظت كے لئے تا كيد كياكرتے تھے“۔
عظيم الشان شيعہ عالم دينسيد مرتضيٰ كہتے ہيں:قرآن مجيد پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں اسي موجودہ صورت ميں مرتب ہوچكا تھا“(2)
طبراني اور ابن عساكر دونوں ”شعبي“ سے نقل كرتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں انصار كے چھ افراد نے قرآن كو جمع كيا۔ (3) اور قتادہ نقل كرتے ہيں كہ ميں نے انس سے سوال كيا 
كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں كن لوگوں نے قرآن جمع كيا تھا؟ تو انھوں نے :ابيّ بن كعب، معاذ،زيد بن ثابت اور ابوزيد كا نام ليا جو سبھي انصار ميںسے تھےاس كے علاوہ بھي بہت سي روايات ہيں جو اسي مطلب كي طرف اشارہ كرتي ہيں كہ اگر ہم ان سب كو بيان كريں تو ايك طولاني بحث ہوجائے گي۔
بہر حال شيعہ اور سني كتب ميں نقل ہونے والي روايات جن ميں سورہ حمد كو ”فا تحة الكتاب“ كا نام ديا جانا، اس موضوع كو ثابت كرنے كے لئے كافي ہے۔
سوال:
يہاں ايك سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ كس طرح اس بات پر يقين كيا جاسكتا ہے جبكہ بہت سے علماكے نزديك يہ بات مشہور ہے كہ قرآن كريم كو پيغمبر اكرم (ص) كي وفات كے بعد ترتيب ديا گيا ہے (حضرت علي كے ذريعہ يا دوسرے لوگوں كے ذريعہ)
اس سوال كے جواب ميںہم يہ كہتے ہيں : حضرت علي عليہ السلام كا جمع كيا ہوا قرآن خالي قرآن نہيں تھا بلكہ قرآن مجيد كے ساتھ سا تھ اس كي تفسير اورشان نزول بھي تھي۔
البتہ كچھ ايسے قرائن وشواہد بھي پا ئے جا تے ہيں جن سے پتہ چلتا ہے كہ حضرت عثمان نے قرائت كے اختلاف كودور كرنے كے لئے ايك قرآن لكھا جس ميں قرائت اور نقطوں كا اضافہ كيا (چونكہ اس وقت تك نقطوں كا رواج نہيں تھا) بعض لوگوں كا يہ كہنا كہ پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں كسي بھي صورت ميں قرآن جمع نہيں كيا گيا تھا بلكہ يہ افتخار خليفہ دوم يا حضرت عثمان كونصيب ہوا، تو يہ بات فضيلت سازي كا زيادہپہلو ركھتي ہے لہٰذا اصحاب كي فضيلت بڑھا نے كے لئے نسبت ديتے ہيں اورروايت نقل كرتے ہيں۔
بہر حال اس بات پركس طرح يقين كيا جاسكتا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) اتنے اہم كام پر كوئي توجہ نہ كريں جبكہ آنحضرت (ص) چھوٹے چھوٹے كاموں كو بہت اہميت ديتے تھے،كيا قرآن كريم اسلام كے بنيادي قوانين كي كتاب نہيں ہے؟! كيا قرآن كريم تعليم و تربيت كي عظيم كتاب نہيں ہے؟! كيا قرآن كريم اعتقادات نيز اسلامي منصوبوں كي بنيادي كتاب نہيں ہے؟! كيا پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں قرآن كريم كے جمع نہ كرنے سے يہ خطرہ درپيش نہ تھا كہ اس كا كچھ حصہ نابود ہوجائے گايا مسلمانوں كے درميان اختلاف ہوجائے گا؟!
اس كے علاوہ مشہور و معروف حديث ”ثقلين“ جس كو شيعہ اور سني دونوں فر يقوں نے نقل كيا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: ”ميں تمہارے درميان دو گرانقدر چيزيں چھوڑے جارہا ہوں :ايك كتاب خدا (قرآن) اور دوسرے ميري عترت (اہل بيت )“ اس حديث سے بھي ظاہر ہوتا ہے كہ قرآن كريم ايك كتاب كي شكل ميں موجود تھا۔
اور اگر ہم ديكھتے ہيں كہ بعض روايات ميں بيان ہوا ہے كہ خود آنحضرت (ص) كي زيرنگراني بعض اصحاب نے قرآن جمع كيا ، اوروہ تعداد كے لحاظ سے مختلف ہيں تواس سے كوئي مشكل پيدا نہيں ہوتي، كيو نكہ ممكن ہے كہ ہر روايت ان ميں سے كسي ايك كي نشاندہي كرتي ہو۔(4)

(1) تاريخ القرآن ، ابو عبداللہ زنجاني صفحہ ۲۴
(2) مجمع البيان ، جلد اول، صفحہ ۱۵ 
(3) منتخب كنز العمال ، جلد ۲، صفحہ  ۵۲
(4) صحيح بخاري ، جلد ۶، صفحہ ۱۰۲
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك