سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:349

قرآن كے حروف مقطّعات سے كيا مراد ہے؟

قرآن مجيد كے ۲۹ سوروں كے شروع ميں حروف مقطّعات آئے ہيں، اور جيسا كہ ان كے نام سے ظاہر ہے كہ يہ الگ الگ حروف ہيں اور ايك دوسرے سے جدا دكھائي ديتے ہيں، جس سے كسي لفظ كا مفہوم نہيں نكلتا۔
قرآن مجيد كے حروف مقطّعات، ہميشہ قرآن كے اسرار آميز الفاظ شمار ہوئے ہيں، اور مفسرين نے اس سلسلہ ميں متعدد تفسيريں بيان كي ہيں، آج كل كے دانشوروں كي جديد تحقيقات كے مد نظر ان كے معني مزيد واضح ہوجاتے ہيں۔
يہ بات قابل توجہ ہے كہ كسي بھي تاريخ نے بيان نہيں كيا ہے كہ دورِ جاہليت كے عرب يا مشركين نے قرآن كے بہت سے سوروں ميں حروف مقطّعات پر كوئي اعتراض كيا ہو، يا ان كا مذاق اڑايا ہو، جو خود اس بات كي بہترين دليل ہے كہ وہ لوگ حروف مقطّعات كے اسرار سے بالكل بے خبر نہيں تھے۔
بہر حال مفسرين كي بيان كردہ چند تفسيريں موجود ہيں، سب سے زيادہ معتبراوراس سلسلہ ميں كي گئي تحقيقات سے ہم آہنگ دكھائي دينے والي تفاسيركي طرف اشارہ كرتے ہيں:
۱۔ يہ حروف اس بات كي طرف اشارہ ہيں كہ يہ عظيم الشان آسماني كتاب كہ جس نے تمام عرب اور عجم كے دانشوروں كو تعجب ميں ڈال ديا ہے اور بڑے بڑے سخنور اس كے مقابلہ سے عاجز ہوچكے ہيں، نمونہ كے طور پر يہي حروف مقطّعاتہيں جو سب كي نظروں كے سامنے موجود ہيں۔
جبكہ قرآن مجيد انھيں الفابيٹ اور معمولي الفاظ سے مركب ہے، ليكن اس كے الفاظ اتنے مناسب اور اتنے عظيم معني لئے ہوئے ہے جو انسان كے دل و جان ميں اثر كرتے ہيں، روح پر ايك گہرے اثر ڈالتے ہيں ، جن كے سامنے افكار اور عقول تعظيم كرتي ہوئي نظر آتي ہيں، اس كے جملے عظمت كے بلند درجہ پر فائز ہيں اور اپنے اندر معني كا گويا ايك سمندر لئے ہوٴئے ہيں جس كي كوئي مثل و نظير نہيں ملتي۔
حروف مقطّعات كے سلسلے ميں اس بات كي تا ئيد يوں بھي ہوتي ہے كہ قرآن مجيد كے جہاں سوروں كے شروع ميں حروف مقطّعاتآئے ہيں ان ميں سے ۲۴ /مقامات پر قرآن كي عظمت بيان كي گئي ہے، جو اس بات كي بہترين دليل ہے كہ ان دونوں (عظمت قرآن اور حروف مقطّعہ) ميں ايك خاص تعلق ہے۔
ہم يہاں پر چند نمونے پيش كرتے ہيں:
۱۔ <اٰلٰرٰ# كِتَابٌ اٴُحْكِمَتْ آيَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِير>(1)
الرٰيہ وہ كتاب ہے جس كي آيتيں محكم بنائي گئي ہيں اور ايك صاحب علم و حكمت كي طرف سے تفصيل كے ساتھ بيان كي گئي ہيں“۔
۲۔ <طٰس# تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ >(2) 
”طٰس ،يہ قرآن اور روشن كتاب كي آيتيں ہيں“۔
۳۔ <اٰلٰم # تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ >(3)
” الم ، يہ حكمت سے بھري ہوئي كتاب كي آيتيں ہيں“۔
۴۔ <اٰلٰمص# كِتَابٌ اٴُنزِلَ إِلَيْكَ>(4)
”المص، يہ كتاب آپ كي طرف نازل كي گئي ہے“۔
ان تمام مقامات اور قرآن مجيد كے دوسرے سوروں كے شروع ميں حروف مقطّعہ ذكر ہونے كے بعد قرآن اور اس كي عظمت كي گفتگو ہوئي ہے۔(5)
۲۔ ممكن ہے قرآن كريم ميں حروف مقطّعات بيان كرنے كا دوسرا مقصد يہ ہو كہ سننے والے متوجہ ہوجائيں اور مكمل خاموشي كے ساتھ سنيں، كيونكہ گفتگو كے شروع ميں اس طرح كے جملے عربوں كے درميان عجيب و غريب تھے، جس سے ان كي تو جہ مزيد مبذول ہو جا تي تھي، اور مكمل طور سے سنتے تھے، اور يہ بھي اتفاق ہے كہ جن سوروں كے شروع ميں حروف مقطّعاتآئے ہيں وہ سب مكي سورے ہيں، اور ہم جانتے ہيں كہ وہاں پر مسلمان اقليت ميں تھے، اور پيغمبر اكرم (ص) كے دشمن تھے، آپ كي باتوں كو سننے كے لئے بھي تيار نہيں تھے، كبھي كبھي اتنا شور و غل كيا كرتے تھے كہ پيغمبر اكرم (ص) كي آواز تك سنائي نہيں ديتي تھي، جيسا كہ قرآن مجيد كي بعض آيات (جيسے سورہ فصلت ، آيت نمبر ۲۶) اسي چيز كي طرف اشارہ كرتي ہيں۔
۳۔ اہل بيت عليہم السلام كي بيان شدہ بعض روايات ميں پڑھتے ہيں كہ يہ حروف مقطّعات، اسماء خدا كي طرف اشارہ ہيں جيسے سورہ اعراف ميں ”المص“ ، ”انا الله المقتدر الصادق“ (ميں صاحب قدرت اور سچا خدا ہوں) اس لحاظ سے چاروں حرف خداوندعالم كے ناموں كي طرف اشارہ ہيں۔
مختصر شكل ( يا كوڈ ورڈ) كو تفصيلي الفاظ كي جگہ قرار دينا قديم زمانہ سے رائج ہے، اگرچہ دورحاضر ميں يہ سلسلہ بہت زيادہ رائج ہے، اور بہت ہي بڑي بڑي عبارتوں يا اداروں اور انجمنوں كے نام كا ايك كلمہ ميں خلاصہ ہوجا تا ہے۔
ہم اس نكتہ كا ذكرضروري سمجھتے ہيں كہ ”حروف مقطّعات“ كے سلسلہ ميں يہ مختلف معني آپس ميں كسي طرح كا كوئي ٹكراؤ نہيں ركھتے، اور ممكن ہے كہ يہ تمام تفسيريں قرآن كے مختلف معني كي طرف اشارہ ہوں۔(6)
۴۔ ممكن ہے كہ يہ تمام حروف يا كم از كم ان ميں ايك خاص معني اور مفہوم كا حامل ہو، بالكل اسي طرح جيسے دوسرے الفاظ معني و مفہوم ركھتے ہيں۔
اتفاق كي بات يہ ہے كہ سورہ طٰہٰ اور سورہ يٰس كي تفسير ميں بہت سي روايات اور مفسرين كي گفتگو ميں ملتا ہے كہ ”طٰہ“ كے معني يا رجل (يعني اے مرد) كے ہيں ، جيسا كہ بعض عرب شعرا كے شعر ميں لفظ طٰہ آياہے اور اے مرد كے مشابہ يا اس كے نزديك معني ميں استعمال ہوا ہے ، جن ميں سے بعض اشعار يا تو اسلام سے پہلے كے ہيں يا آغاز اسلام كے ۔(7)
يہاں تك كہ ايك صاحب نے ہم سے نقل كيا كہ مغربي ممالك ميں اسلامي مسائل پر تحقيق كرنے والے دا نشوروں نے اس مطلب كو تمام حروف مقطّعات كے بارے ميں قبول كيا ہے اوراس بات كا اقرار كيا ہے كہ قرآن مجيد كے سوروں كي ابتداء ميں جو حروف مقطّعات بيان ہوئے ہيں وہ اپنے اندر خاص معني لئے ہوئے ہيں جو گزشتہ زمانہ ميں متروك رہے ہيں، اور صرف بعض ہم تك پہنچے ہيں، ورنہ تو يہ بات بعيد ہے كہ عرب كے مشركين حروف مقطّعات كو سنيں اور ان كے معني كو نہ سمجھيں اور 
مقابلہ كے لئے نہ كھڑ ے ہوں، جبكہ كوئي بھي تاريخ يہ بيان نہيں كرتي كہ ان كم دماغ والے اور بہانہ باز لوگوں نے حروف مقطّعات كے سلسلہ ميں كسي ردّ عمل كا اظہار كيا ہو۔
البتہ يہ نظريہ عام طور پر قرآن مجيد كے تمام حروف مقطّعات كے سلسلے ميں قبول كيا جانا مشكل ہے، ليكن بعض حروف مقطّعات كے بارے ميں قبول كيا جاسكتا ہے، كيونكہ اسلامي منابع ومصادر ميں اس موضوع پر بحث كي گئي ہے۔
يہ مطلب بھي قابل توجہ ہے كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں بيان ہوا ہے كہ ”طٰہ“ پيغمبر اكرم (ص) كا ايك نام ہے ،جس كے معني ”يا طالب الحق، الہادي اليہ“ ( اے حق كے طالب اور حق كي طرف ہدايت كرنے والے)
اس حديث سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ لفظ ”طٰہٰ “ دو اختصاري حرف سے مركب ہے ايك ”طا“ جو ”طالب الحق“ كي طرف اشارہ ہے اور دوسرے ”ھا“ جو ”ہادي اليہ“ كي طرف اشارہ ہے۔
اس سلسلہ ميں آخري بات يہ ہے كہ ايك مدت گزرنے كے بعد لفظ ”طٰہ“ ، لفظ ”يٰس“ كي طرح آہستہ آہستہ پيغمبر اكرم (ص) كے لئے ”اسم خاص“ كي شكل اختيار كرگيا ہے، جيسا كہ آل پيامبر (ص) كو ”آل طٰہ“ بھي كہا گيا، جيسا كہ دعائے ندبہ ميں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالي فرجہ ‘ كو ”يابن طٰہ“ كہا گيا ہے۔(8)
۵۔ علامہ طباطبائي ( عليہ الر حمہ) نے ايك دوسرا احتمال ديا ہے جس كو حروف مقطّعات كي ايك دوسري تفسير شمار كيا جاسكتا ہے، اگرچہ موصوف نے اس كو ايك احتمال اور گمان كے عنوان سے بيان كيا ہے۔ 
ہم آپ كے سامنے موصوف كے احتمال كا خلاصہ پيش كررہے ہيں:
جس وقت ہم حروف مقطّعات سے شروع ہونے والے سوروں پر غور و فكر كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ مختلف سوروں ميں بيان ہو ئے حروف مقطّعات سورہ ميں بيان شدہ مطالب ميں مشترك ہيں مثال كے طور پر جو سورے ”حم“ سے شروع ہوتے ہيں اس كے فوراً بعد جملہ <تَنْزِيْلُ الكِتَابِ مِن الله> (سورہ زمر آيت۱) يا اسي مفہوم كا جملہ بيان ہوتا ہے اور جو سورے ”الر“ سے شروع ہوتے ہيں ان كے بعد <تِلْكَ آياتُ الكتابِ> يا اس كے مانند جملے بيان ہوئے ہيں۔
اور جو سورے ”الم“ سے شروع ہوتے ہيں اس كے بعد <ذٰلك الكتابُ لاريبَ فِيْہ> يا اس سے ملتے جلتے كلمات بيان ہوئے ہيں۔
اس سے يہ اندازہ لگايا جاسكتا ہے كہ حروف مقطّعات اور ان سوروں ميں بيان ہوئے مطالب ميں ايك خاص رابطہ ہے مثال كے طور پر سورہ اعراف جو ”اٴلمٰص“ سے شروع ہوتا ہے اس كا مضمون اور سورہ ”الم“ اور سورہ ”ص“ كا مضمون تقريباً ايك ہي ہے۔
البتہ ممكن ہے كہ يہ رابطہ بہت عميق اور دقيق ہو، جس كو ايك عام انسان سمجھنے سے قاصر ہو۔
اور اگر ان سوروں كي آيات كو ايك جگہ ركھ كر آپس ميں موازنہ كريں تو شايد ہمارے لئے ايك نيا مطلب كشف ہوجائے۔(9)(10

(1) سورہ ہود ، آيت ۱
(2) سورہٴ نمل ، آيت
(3) سورہٴ لقمان ، آيت ۱و۲
(4) سورہٴ اعراف ، آيت ۱و۲
(5) تفسير نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۶۱
(6) تفسير مجمع البيان ،سورہٴ طہ كي پہلي آيت كے ذيل ميں
(7) تفسير نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۵7      
(8) تفسير نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۸     
(9) تفسير الميزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۵و۶
(10) تفسير نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۳۴۶
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك