سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:389

قرآن كي مثل كيسے نہ لاسكے؟

جيسا كہ ہم سورہ بقرہ ميں پڑھتے ہيں:< وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَي عَبْدِنَا فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِہِ > (1)
”اگر تمہيں اس كلام كے بارے ميں كو ئي شك ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل كيا ہے تو اس كے جيسا ايك ہي سورہ لے آؤ“۔
يہاں پر يہ سوال اٹھتا ہے كہ دشمنان اسلام قرآن كي مثل كيسے نہ لاسكے؟
اگر ہم اسلامي تاريخ پر ايك نظر ڈاليں تو اس سوال كا جواب آساني سے روشن ہوجاتا ہے، كيونكہ اسلامي ممالك ميں پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں اور آپ كي وفات كے بعد خود مكہ اور مدينہ ميں بہت ہي متعصب دشمن، يہود اور نصاريٰ رہتے تھے جو مسلمانوں كو كمزور بنانے كے لئے ہر ممكن كوشش كرتے تھے، ان كے علاوہ خود مسلمانوں كے درميان بعض ”مسلمان نما“ افراد موجود تھے جن كو قرآن كريم نے ”منافق“ كہا ہے، جو غيروں كے لئے ”جاسوسي“ كا رول ادا كررہے تھے ( جيسے ”ابوعامرراہب “ اور اس كے منافق ساتھي، جن كا رابطہ روم كے بادشاہ سے تھا اور تاريخ نے اس كو نقل 
كيا ہے يہاں تك كہ انھوں نے مدينہ ميں ”مسجد ضرار“ بھي بنائي ، اور وہ عجيب و غريب واقعہ پيش آيا جس كا اشارہ سورہ توبہ نے كيا ہے)۔
مسلّم طور پر منافقين كا يہ گروہ اور اسلام كے بعض دوسرے بڑے بڑے دشمن مسلمانوں كے حالات پر نظر ركھے ہوئے تھے اور مسلمانوں كے ہو نے والے نقصان پر بہت خوش ہوا كرتے تھے، نيز مسلمانوں كو كمزور كرنے كے لئے اپني پوري طاقت سے ان واقعات كو نشر كرتے تھے، يا كم از كم ان واقعات كو حفظ كرنے كي كوشش كرتے تھے۔
لہٰذا ہم ديكھتے ہيں كہ جن لوگوں نے ذرا بھي قرآن سے مقابلہ كرنے كا ارادہ كيا ہے، تاريخ نے ان كانام نقل كيا ہے، چنانچہ ان ميں درج ذيل افراد كا نام ليا جاتا ہے:
”عبد اللہ بن مقفع“ كا نام تاريخ نے بيان كيا ہے كہ اس نے ”الدرة اليتيمة“ نامي كتاب اسي وجہ سے لكھي ہے۔
جبكہ مذكورہ كتاب ہمارے يہاں موجود ہے اور كئي مرتبہ چھپ بھي چكي ہے ليكن اس كتاب ميں اس طر ف ذرا بھي اشار ہ نہيں ہے، ہميں نہيں معلوم كہكس طرح اس شخص كي طرف يہ نسبت دي گئي ہے؟
احمد بن حسين كوفي ”متنبي“ جو كہ كوفہ كا مشہور شاعر تھا اس كا نام بھي اسي سلسلہ ميں بيان كيا ہے كہ اس نے نبوت كا دعويٰ كيا ہے، جب كہ بہت سے قرائن اس بات كي گواہي ديتے ہيں كہ اس كي بلندپروازي، خانداني پسماندگي اور جاہ و مقام كي آرزو اس ميں سبب ہوئي ہے۔
ابو العلاي معري پر بھي اسي چيز كا الزام ہے ، اگرچہ اس نے اسلام كے سلسلہ ميں بہت سي نازيبا حركتيں كي ہيں ليكن قرآن سے مقابلہ كرنے كا تصور اس كے ذہن ميں نہيں تھا، بلكہ اس نے قرآن كي عظمت كے سلسلہ ميں بہت سي باتيں كہي ہيں۔
ليكن ”مسيلمہ كذاب“ اہل يمامہ ميں سے ايك ايسا شخص تھا جس نے قرآن كا مقابلہ كرتے ہوئے اس جيسي آيات بنانے كي ناكام كوشش كي ، جس ميں تفريحي پہلو زيادہ پايا جاتا ہے، يہاں پر اس كے چند جملے نقل كرنا مناسب ہوگا:
۱۔ سورہ ”الذاريات“ كے مقابلہ ميں يہ جملے پيش كئے:
”وَالمُبذراتِ بذراً والحاصداتِ حَصداً والذَّاريات قَمحاً والطاحناتِ طحناً والعاجناتِ عَجناً والخَابِزاتِ خُبزاً والثارداتِ ثَرداً واللاقماتِ لَقماً إھالة وسَمناً“(2) 
”يعني قسم ہے كسانوں كي، قسم ہے بيج ڈالنے والوں كي، قسم ہے گھاس كو گندم سے جدا كرنے والوں كي اورقسم ہے گندم كو گھاس سے جدا كرنے والوں كي، قسم ہے آٹا گوندھنے واليوں كي اور قسم ہے روٹي پكانے واليوں كي اور قسم ہے تر اور نرم لقمہ اٹھانے والوں كي“!!
۲۔يا ضفدع بنت ضفدع، نقيّ ما تنقين، نِصفك في الماء و نِصفك فِي الطين لا الماء تكدّرين ولا الشارب تمنعين“(3) (4)
” اے مينڈك بنت مينڈك! جو تو چاہے آواز دے! تيرا آدھا حصہ پاني ميں اور آدھا كيچڑ ميں ہے، تو نہ پاني كوخراب كرتي ہے اور نہ كسي كو پاني پينے سے روكتي ہے“
 

(1)سورہ بقرہ ، آيت ۲۳
(2) اعجاز القرآن رافعي3
(3) قرآن و آخرين پيغمبر 
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۱۳
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك