سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:434

كيا قرآن كا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت ميں منحصرہے؟

اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ قرآن مجيد كا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت اور شيريں بياني سے مخصوص نہيں ہے (جيسا كہ بعض قديم مفسرين كا نظريہ ہے) بلكہ اس كے علاوہ ديني تعليمات ، اور ايسے علوم كے لحاظ سے جو اس زمانہ تك پہچانے نہيں گئے تھے، احكام و قوانين، گزشتہ امتوں كي تاريخ ہے كہ جس ميں كسي طرح كي غلط بياني اور خرافات نہيں ہے، اور اس ميں كسي طرح كا كوئي اختلاف اور تضاد نہيں ہے ، يہ تمام چيزيں اعجاز كا پہلو ركھتي ہيں۔
بلكہ بعض مفسرين كا تو يہ بھي كہنا ہے كہ قرآن مجيد كے الفاظ اور كلمات كا مخصوص آہنگ اور لہجہ بھي اپني قسم ميں خود معجز نما ہے۔
اوراس موضوع كے لئے مختلف شواہد بيان كئے ہيں، منجملہ ان ميں مشہور و معروف مفسر سيد قطب كے لئے پيش آنے والے واقعات ہيں،موصوف كہتے ہيں: 
ميں دوسروں كے ساتھ پيش آنے والے واقعات كے بارے ميں گفتگو نہيں كرتا بلكہ صرف اس واقعہ كو بيان كرتا ہوں جو ميرے ساتھ پيش آيا، اور ۶ /افراد اس واقعہ كے چشم ديد گواہ ہيں ( خود ميں اور پانچ دوسرے افراد )
ہم چھ مسلمان ايك مصري كشتي ميں” بحراطلس“ ميں نيويورك كي طرف سفر كر رہے تھے، كشتي ميں ۱۲۰/ عورت مرد سوار تھے، اور ہم لوگوں كے علاوہ كوئي مسلمان نہيں تھا، جمعہ كے دن ہم لوگوں كے ذہن ميں يہ بات آئي كہ اس عظيم دريا ميں ہي كشتي پر نماز جمعہ ادا كي جائے، ہم چاہتے تھے كہ اپنے مذہبي فرائض كو انجام دينے كے علاوہ ايك اسلامي جذبہ كا اظہار كريں، كيونكہ كشتي ميں ايك عيسائي مبلغ بھي تھا جو اس سفر كے دوران عيسائيت كي تبليغ كررہا تھا يہاں تك كہ وہ ہميں بھي عيسائيت كي تبليغ كرنا چاہتا تھا!۔
كشتي كا ”ناخدا “ايك انگريز تھا جس نے ہم كو كشتي ميں نماز جماعت كي اجازت ديدي، اور كشتي كا تمام اسٹاف افريقي مسلمان تھا، ان كو بھي ہمارے ساتھ نماز جماعت پڑھنے كي اجازت ديدي ، اور وہ بھي اس بات سے بہت خوش ہوئے كيونكہ يہ پہلا موقع تھا كہ جب نماز جمعہ كشتي ميں ہورہي تھي!
حقير (سيد قطب) نے نماز جمعہ كي امامت كي ، اور قابل توجہ بات يہ ہے كہ سبھي غير مسلم مسافر ہمارے چاروں طرف كھڑے ہوئے اس اسلامي فريضہ كے ادائيگي كو غور سے ديكھ رہے تھے۔
نماز جمعہ تمام ہونے كے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آئے اور اس كاميابي پر ہميں مبارك باد پيش كي، جن ميں ايك عورت بھي تھي جس كو ہم بعد ميں سمجھے كہ وہ عيسائي ہے اور يوگو سلاويہ كي رہنے والي ہے اور ٹيٹو او ركميونيزم كے جہنم سے بھاگي ہے!!
اس پر ہماري نماز كا بہت زيادہ اثر ہوايہاں تك كہ اس كي آنكھوں سے آنسو جاري تھے اور وہ خود پر قابو نہيں پارہي تھي۔
وہ سادہ انگريزي ميں گفتگو كررہي تھي اور بہت ہي زيادہ متاثر تھي ايك خاص خضوع و خشوع ميں بول رہي تھي، چنانچہ اس نے سوال كيا كہ يہ بتاؤ كہ تمہارا پادري كس زبان ميں پڑھ رہا تھا، ( وہ سوچ رہي تھي كہ نماز پڑھانے والا پادري كوئي روحاني ہونا چاہئے، جيسا كہ خود عيسائيوں كے يہاں ہوتا ہے ، ليكن ہم نے اس كو سمجھايا كہ اس اسلامي عبادت كو كوئي بھي باايمان مسلمان انجام دے سكتا ہے) آخر كار ہم نے اس سے كہا كہ ہم عربي زبان ميں نماز پڑھ رہے تھے۔
اس نے كہا: ميں اگرچہ ان الفاظ كے معني كو نہيں سمجھ رہي تھي، ليكن يہ بات واضح ہے كہ ان الفاظ كا ايك عجيب آہنگ اور لہجہ ہے اور سب سے زيادہ قا بل تو جہ بات مجھے يہ محسوس ہو ئي كہ تمہارے امام كے خطبوں كے درميان كچھ ايسے جملے تھے جو واقعاً دوسروں سے ممتاز تھے، وہ ايك غير معمولي اور عميق انداز كے محسوس ہورہے تھے، جس سے ميرا بدن لرز رہاتھا، يقينا يہ كلمات كوئي دوسرے مطالب تھے، ميرا نظريہ يہ ہے كہ جس وقت تمہارا امام ان كلمات كو اداكرتا تھا تو اس وقت ”روح القدس“ سے مملو ہوتا تھا!!
ہم نے كچھ غور و فكر كيا تو سمجھ گئے كہ يہ جملے وہي قرآني آيات تھے جو خطبوں كے درميان پڑھے گئے تھے واقعاً اس موضوع نے ہميں ہلاكر ركھ ديا اور اس نكتہ كي طرف متوجہ ہوئے كہ قرآن مجيد كا مخصوص لہجہ اتنا موٴثر ہے كہ اس نے اس عورت كو بھي متاثر كرديا جو ايك لفظ بھي نہيں سمجھ سكتي تھي ليكن پھر بھي اس پر بہت زيادہ اثر ہوا۔(1)(2)
 

(1) تفسير في ضلال ، جلد ۴، صفحہ ۴۲۲
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۲۸۹
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك