سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:623

قرآن كريم كس طرح معجزہ ہے؟

ہم پہلے قرآن كريم كي عظمت كے سلسلہ ميں چند نامور افراد يہاں تك كہ ان لوگوں كے اقوال بھي نقل كريں گے كہ جن لوگوں پر قرآن كريم سے مقابلہ كرنے كا الزام بھي ہے :
۱۔ ابو العلاء معرّي (جس پر قرآن كريم سے مقابلہ كرنے كا الزام بھي ہے) كہتا ہے: اس بات پر سبھي لو گ متفق ہيں (چاہے وہ مسلمان ہوں يا غير مسلمان) كہ حضرت محمد (ص) پر نازل ہونے والي كتاب نے لوگوں كي عقلوں كو مغلوب اور مبہوت كرديا ہے، اور ہر ايك اس كي مثل و مانند لانے سے قاصر ہے، اس كتاب كا طرز ِبيان عرب ماحول كے كسي بھي طرز بيان سے ذرہ برابر بھي مشابہت نہيں ركھتا ، نہ شعر سے مشابہ ہے، نہ خطابت سے، اور نہ كاہنوں كے مسجع سے مشابہ ہے،اس كتاب كي كشش اور اس كا امتياز اس قدرعالي ہے كہ اگر اس كي ايك آيت دوسرے كے كلام ميں موجود ہو تو اندھيري رات ميں چمكتے ہوئے ستاروں كي طرح روشن ہوگي!“۔
۲۔ وليد بن مغيرہ مخزومي، ( جو شخص عرب ميں حسن تدبير كے نام سے شہرت ركھتا تھا)اور دور جاہليت ميں مشكلات كو حل كرنے كے لئے اس كي فكر اور تدبير سے استفادہ كيا جاتا تھا، اسي وجہ سے اس كو ”ريحانہ قريش“ (يعني قريش كا سب سے بہترين پھول) كہا جاتا تھا، يہ شخص پيغمبر اكرم (ص) سے سورہ غافر كي چند آيتوں كو سننے كے بعد قبيلہ ”بني مخزوم“ كي ايك نشست ميں اس طرح كہتا ہے:
” خدا كي قسم ميں نے محمد ( (ص)) سے ايسا كلام سنا ہے جو نہ انسان كے كلام سے شباہت ركھتا ہے اور نہ پريوں كے كلام سے، ”إنَّ لَہُ لحلاوة، و إِنَّ عليہ لطلاوة و إنَّ اعلاہ لمُثمر و إنَّ اٴسفلہ لمغدِق، و اٴنَّہ يَعلو و لا يُعلي عليہ“ (اس كے كلام كي ايك مخصوص چاشني ہے، اس ميں مخصوص خوبصورتي پائي جاتي ہے، اس كي شاخيں پُر ثمر ہيں اور اس كي جڑيں مضبوط ہيں، يہ وہ كلام ہے جو تمام چيزوں پر غالب ہے اور كوئي چيز اس پر غالب نہيں ہے۔)(1)
۳۔ كارلائل۔ يہ انگلينڈ كا مورخ اور محقق ہے جو قرآن كے حوالہ سے كہتا ہے: ”اگر اس مقدس كتاب پر ايك نظر ڈالي جائے تو اس كے مضا مين بر جستہ حقائق اور موجودات كے اسراراس طرح موجزن ہيں جس سے قرآن مجيد كي عظمت بہت زيادہ واضح ہوجاتي ہے، اور يہ خود ايك ايسي فضيلت ہے جو صرف اور صرف قرآن مجيد سے مخصوص ہے، اور يہ چيز كسي دوسري علمي، سائنسي اور اقتصادي كتاب ميں ديكھنے تك كو نہيں ملتي، اگرچہ بعض كتابوں كے پڑھنے سے انسان كے ذہن پر اثر ہوتا ہے ليكن قرآن كي تاثير كا كوئي موازنہ نہيں ہے، لہٰذا ان باتوں كے پيش نظر يہ كہا جائے كہ قرآن كي ابتدائي خوبياں اور بنيادي دستاويزات جن كا تعلق حقيقت، پاكيزہ احساسات، برجستہ عنوانات اور اس كے اہم مسائل و مضامين ميں سے ہے ہر قسم كے شك و شبہ سے بالاتر ہيں، وہ فضائل جو تكميل انسانيت اور سعادت بشري كا باعث ہيں اس ميں ان كي انتہا ہے اور قرآن وضاحت كے ساتھ ان فضائل كي نشاندہي كرتا ہے۔(2)
۴۔ جان ڈيون پورٹ: يہ كتاب ”عذر تقصير بہ پيش گاہ محمد و قرآن“ كا مصنف ہے، قرآن كے بارے ميں كہتا ہے: ”قرآن نقائص سے اس قدر مبرا و منزہ ہے كہ چھوٹي سي چھوٹي تصحيح اور اصلاح كا بھي محتاج نہيں ہے، ممكن ہے كہ انسان اسے اول سے آخر تك پڑھ لے اور ذرا بھي تھكان و افسردگي بھي محسوس نہ كرے“۔(3)
اس كے بعد مزيد لكھتا ہے: سب اس بات كو قبول كرتے ہيں كہ قرآن سب سے زيادہ فصيح و بليغ زبان اور عرب كے سب سے زيادہ نجيب اور اديب قبيلہ قريش كے لب و لہجہ ميں نازل ہوا ہے اور يہ روشن ترين صورتوں اور محكم ترين تشبيہات سے معمور ہے“۔(4)
۵۔ گوئٹے: جرمني شاعر اور دانشور كہتا ہے:
”قرآن ايسي كتاب ہے كہ ابتدا ميں قاري اس كي وزني عبارت كي وجہ سے روگرداني كرنے لگتا ہے ليكن اس كے بعد اس كي كشش كا فريفتہ ہوجاتا ہے او ربے اختيار اس كي متعدد خوبيوں كا عاشق ہوجاتا ہے“۔
يہي گوئٹے ايك اور جگہ لكھتا ہے: 
”سالہا سال خدا سے نا آشنا پوپ ہميں قرآن اور اس كے لانے والے محمدكي عظمت سے دور ركھے رہے مگر علم و دانش كي شاہراہ پر جتنا ہم نے قدم آگے بڑھاياتو جہالت و تعصب كے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس كتاب نے جس كي تعريف و توصيف نہيں ہوسكتي دنيا كو اپني طرف كھينچ ليا اور اس نے دنيا كے علم و دانش پر گہرا اثر كيا ہے او رآخر كار يہ كتاب دنيا بھر كے لوگوں كے افكار كا محور قرار پائے گي“۔
مزيد لكھتا ہے: ”ہم ابتدا ميں قرآن سے روگرداں تھے ليكن زيادہ وقت نہيں گزرا كہ اس كتاب نے ہماري توجہ اپني طرف جذب كرلي اور ہميں حيران كرديا يہاں تك كہ اس كے اصول اور عظيم علمي قوانين كے سامنے ہم نے سرِتسليم خم كرديا۔(5)
۶۔ول ڈيورانٹ: يہ ايك مشہور مورخ ہے ، لكھتا ہے:  
”قرآن نے مسلمانوں ميں اس طرح كي عزت نفس، عدالت اور تقويٰ پيدا كيا ہے جس كي مثال دنيا كے دوسرے ممالك ميں نہيں ملتي“۔
۷۔ ژول لابوم: يہ ايك فرانسيسي مفكر ہے اپني كتاب ”تفصيل الآيات“ ميں كہتا ہے: ”دنيا نے علم و دانش مسلمانوں سے ليا ہے اور مسلمانوں نے يہ علوم قرآن سے لئے ہيں جو علم و دانش كا دريا ہے اور اس سے عالم بشريت كے لئے كئي نہريں جاري ہوتي ہيں“۔
۸۔ دينورٹ : يہ ايك اور مستشرق ہے، لكھتا ہے: ”ضروري ہے كہ ہم اس بات كا اعتراف كريں كہ علوم طبيعي و فلكي اور فلسفہ و رياضيات جو يورپ ميں رائج ہيں زيادہ تر قرآن كي بركت سے ہيں اور ہم مسلمانوں كے مقروض ہيں بلكہ اس لحاظ سے يورپ ايك اسلامي شہر ہے“۔(6)
۹۔ ڈاكٹر مسز لورا واكسياگليري: يہ ناٹل يونيورسٹي كي پروفيسر ہے، ”پيش رفت سريع اسلام“ ميں لكھتي ہے: ”اسلام كي كتاب آسماني اعجاز كا ايك نمونہ ہے قرآن ايك ايسي كتاب ہے جس كي نظير پيش نہيں كي جاسكتي، قرآن كا طرز و اسلوب گزشتہ ادبيات ميں نہيں پايا جاتا، اور يہ طرز روحِ انساني ميں جو تاثير پيدا كرتا ہے وہ اس كے امتيازات اور بلنديوں سے پيدا ہوتي ہے كس طرح ممكن ہے كہ يہ اعجاز آميز كتاب ،محمدكي خود ساختہ ہو جب كہ وہ ايك ايسا عرب تھا جس نے تعليم حاصل نہيں كي، ہميں اس كتاب ميں علوم كے خزانے اور ذخيرے نظر آتے ہيں جو نہايت ہوش مند اشخاص، بزرگ ترين فلاسفہ اور قوي ترين سياست مدارو اور قانون داں لوگوں كي استعداد اور ظرفيت سے بلند ہيں، اسي بنا پر قرآن كريم كسي تعليم يافتہ مفكر اور عالم كا كلام نہيں ہوسكتا“۔(7)(8) 
قرآن مجيد كي حقانيت كي ايك دليل يہ ہے كہ پورے قرآن ميں كوئي تضاد اور اختلاف نہيں پايا جاتا، اس حقيقت كو سمجھنے كے لئے درج ذيل مطالب پر توجہ فرمائيں:
” انساني خواہشات ميں ہميشہ تبديلي آتي رہتي ہے، تكامل اور ترقي كا قانون عام حالات ميں انسان كي فكر و نظر سے متاثر رہتا ہے، اور زمانہ كي رفتار كے ساتھ اس ميں بھي تبديلي آتي رہتي ہے، اگر ہم غور كريں تو ايك موٴلف كي تحرير ايك جيسي نہيں ہوتي، بلكہ كتاب كے شروع اورآخر ميں فرق ہوتاہے، خصوصاً اگر كوئي شخص ايسے مختلف حوادث سے گزرا ہو، جو ايك فكري ، اجتماعي اور اعتقادي انقلاب كے باعث ہوں، تو ايسے شخص كے كلام ميں يكسوئي اور وحدت كا پايا جانا مشكل ہے، خصوصاً اگر اس نے تعليم بھي حاصل نہ كي ہو، اور اس نے ايك پسماندہ علاقہ ميں پرورش پائي ہو۔
ليكن قرآن كريم ۲۳ /سال كي مدت ميں اس وقت كے لوگوں كي تربيتي ضرورت كے مطابق نازل ہوا ہے، جبكہ اس وقت كے حالات مختلف تھے، ليكن يہ كتاب موضوعات كے بارے ميں متنوع گفتگو كرتي ہے، اور معمولي كتابوں كي طرح صرف ايك اجتماعي يا سياسي يا فلسفي يا حقوقي يا تاريخي بحث نہيں كرتي ، بلكہ كبھي توحيد اور اسرار خلقت سے بحث كرتي ہے اور كبھي احكام و قوانين اور آداب و رسوم كي بحث كرتي ہے اور كبھي گزشتہ امتوں اور ان كے ہلا دينے والے واقعات كو بيان كرتي ہے ، ايك موقع پر وعظ و نصيحت ، عبادت اور انسان كے خدا سے رابطہ كے بارے ميں گفتگو كرتي ہے۔ او رڈاكٹر ”گوسٹاولبن“ كے مطابق مسلمانوں كي آسماني كتاب قرآن مجيد صرف مذہبي تعليمات اور احكام ميں منحصر نہيں ہے بلكہ مسلمانوں كے سياسي اور اجتماعي احكام بھي اس ميں درج ہيں۔
عام طور پر ايسي كتاب ميں متضاد باتيں، متناقض گفتگو اور بہت زيادہ اتار چڑھاؤپايا جاتاہے، ليكن اس كے باوجود بھي ہم ديكھتے ہيں كہ اس كي آيات ہر لحاظ سے ہم آہنگ او رہر قسم كي تناقض گوئي سے خالي ہيں، جس سے يہ بات اچھي طرح سمجھ ميں آتي ہے كہ يہ كتاب كسي انسان كا نتيجہٴ فكر نہيں ہے بلكہ خداوندعالم كي طرف سے ہے جيسا كہ خود قرآن كريم نے اس حقيقت كو بيان كيا ہے“۔(9) (10)
سورہ ہود كي آيت نمبر ۱۲سے ۱۴ تك ايك بار پھر قرآن مجيد كے معجزہ ہونے كو بيان كررہي ہيں يہ ايك عام گفتگو نہيں ہے، اور كسي انسان كا نتيجہ فكر نہيں ہے، بلكہ يہ آسماني وحي ہے جس كا سرچشمہ خداوندعالم كا لا محدود علم و قدرت ہے ،اور اسي وجہ سے چيلنج كرتي ہے اور تمام دنيا والوں كو مقابلہ كي دعوت ديتي ہے ، ليكن خود پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ كے لوگ بلكہ آج تك بھي، اس كي مثل لانے سے عاجز ہيں ، چنانچہ انھوں نےبہت سي مشكلات كو قبول كيا ہے ليكن قرآني آيات سے مقابلہ نہ كيا، جس سے نتيجہ نكلتا ہے كہ نوع بشر اس كا جواب نہيںلا سكتا تو اگر يہ معجزہ نہيں ہے تو اور كيا ہے؟
قرآن كي يہ آواز اب بھي ہمارے كانوں ميں گونج رہي ہے، اور يہ ہميشہ باقي رہنے والا معجزہ اب بھي دنيا والوں كو اپنے مقابلہ كي دعوت دے رہا ہے اور دنيا كي تمام علمي محفلوں كو چيلنج كررہا ہے ، اور يہي نہيں كہ صرف فصاحت و بلاغت يعني تحرير كي حلاوت،اس كي جذابيت اور واضح مفہوم كو چيلنج كيا ہے بلكہ مضامين كے لحاظ سے بھي چيلنج ہے ايسے علوم جو اس وقت كے لوگوں كے سامنے نہيں آئے تھے، ايسے قوانين و احكام جو انسان كي سعادت اور نجات كا باعث ہيں، ايسا بيان جو ہر طرح كے تناقض او رٹكراؤ سے خالي ہے، ايسي تاريخ جو ہر طرح كے خرافات اور بےہو دہ باتوں سے خالي ہو۔(11)
يہاں تك سيد قطب اپني تفسير ”في ظلال“ ميں بيان كرتے ہيں كہ (سابق) روس كے مستشرقين نے ۱۹۵۴ءء ميں ايك كانفرس كي تو بہت سے ماديوں نے قرآن مجيد ميں عيب نكالنا چاہے 
تو كہا:يہ كتاب ايك انسان (محمد) كا نتيجہ فكر نہيں ہوسكتي بلكہ ايك بڑے گروہ كي كاوشوں كا نتيجہ ہے! يہاں تك كہ اس كے بارے ميں يہ بھي يقين نہيں كيا جاسكتا كہ يہ جزيرة العرب ميں لكھي گئي ہے بلكہ يقين كے ساتھ يہ بات كہي جاسكتي ہے كہ اس كا كچھ حصہ جزيرة العرب سے باہر لكھا گيا ہے!!(12)
چونكہ يہ لوگ خدا اور وحي كا انكار كرتے ہيں ،دوسري طرف قرآن مجيد كو جزيرة العرب كے انساني افكار كا نتيجہ نہ مان سكے، لہٰذا انھوں نے ايك مضحكہ خيز بات كہي اور اس كو عرب اور غير عرب لوگوں كا نتيجہ فكر قرار دے ديا، جبكہ تاريخ اس بات كا بالكل انكار كرتي ہے۔(13)

(1) مجمع البيان ، جلد۱۰ ،سورہٴ مدثر  (2) مقدمہ سازمانہاي تمدن امپراطوري اسلام
(3) مقدمہ سازمانہاي تمدن امپرا طوري اسلام، صفحہ ۱۱۱
(4) مقدمہ سازمانہاي تمدن امپرطوري اسلام، صفحہ ۹۱
(5)كتاب ”عذر تقصير بہ پيش گاہ محمد و قرآن“ 
(6) المعجزة الخالدہ،بنا بر نقل از قرآن بر فراز اعصار
(7)پيش رفت سريع اسلام، اعجاز قرآن كے سلسلہ ميں مذكورہ بحث ميں ”قرآن و آخرين پيامبر“ سے استفادہ كيا گيا ہے
(8) تفسير نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۱۳۵
(9) قرآن وآخرين پيغمبر صفحہ۳۰۹
(10) تفسير نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۸
(11) تفسير نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۴۲
(12) تفسير في ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۲
(13) تفسير نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۴۱۰
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك